11/01/2026
وہ ہر صبح وقت پر اٹھتی تھی، بال سنوارتی، مسکراہٹ اوڑھتی اور دنیا کو یقین دلا دیتی کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔ اتنی ٹھیک کہ کسی کو سوال کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔
مگر سچ یہ تھا کہ وہ ٹھیک دکھائی دیتی تھی، ہوتی نہیں تھی۔
اس کے اندر شور تھا، ایسا شور جو رات کے سناٹے میں تیز ہو جاتا۔ خیالات کی قطاریں، یادوں کی سرگوشیاں، اور وہ جملے جو کبھی کہے نہیں گئے—سب اس کے ذہن میں جاگتے رہتے۔ وہ تھک جاتی تھی، مگر آرام مانگنے کی ہمت نہیں کرتی تھی۔
آخر عورتوں کو تھکنے کی اجازت کب دی جاتی ہے؟
وہ سب کا خیال رکھتی رہی، بس اپنا نہیں۔ اس نے سیکھ لیا تھا کہ مضبوط عورت وہ ہوتی ہے جو روئے نہیں، اور اگر رو بھی لے تو کسی کو نظر نہ آئے۔ مگر آنسو جو بہہ نہ سکیں، وہ دل پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
ایک دن وہ اچانک رک گئی۔ نہ کام سے، نہ ذمہ داریوں سے—بلکہ خود کو نظرانداز کرنے سے۔ اس نے پہلی بار
مان لیا کہ “میں ٹھیک نہیں ہوں۔”
یہ جملہ کمزوری نہیں تھا، یہ اس کی سب سے بہادر بات تھی۔
اس دن کے بعد وہ ہر مسئلہ حل نہیں کر پائی، مگر اس نے خود کو سننا شروع کر دیا۔ اور جب ایک عورت خود
کو سن لے، تو شفا آہستہ آہستہ راستہ بنا لیتی ہے۔
پیغام:
ہر مسکراتا چہرہ پرسکون نہیں ہوتا۔ عورتوں کی ذہنی صحت پر بات کریں، کیونکہ “میں ٹھیک ہوں” کے پیچھے اکثر ایک خاموش چیخ چھپی ہوتی ہے۔
مصنف: Bilal HuzoOr | Social Activist