Wild Watch With Fahad

Wild Watch With Fahad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wild Watch With Fahad, Lahore.

(پاکستان کی مقامی جنگلی حیات، مقامی نباتات اور قدرتی ماحول کی کہانی، فہد کی زبانی)
Pakistan’s First Social Media Leader for Wildlife and Environmental Advocacy | Conservationist | Photographer

09/01/2026

جس نے یہ جنگلی توت لگوایا اس نے قومی جرم کیا، جس نے اسکا دفاع کیا اس نے بھی قومی جرم کیا، جس نے اس درخت کی کٹائی کے دوران دوسرے مقامی درخت کاٹے اس نے بھی قومی جرم کیا۔

30/12/2025

‎کوؤں اور شکرے کے درمیان جو تصادم ہمیں اکثر نظر آتا ہے، اسے عام طور پر ایک سادہ سی لڑائی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ سائنسی تحقیق کے مطابق یہ رویّہ نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی محض جارحیت پر مبنی۔ دراصل یہ فطرت میں پائے جانے والے ایک نہایت منظم اور ارتقائی طور پر ترقی یافتہ دفاعی عمل کا حصہ ہے، جسے حیاتیات کی زبان میں موبنگ بیہیویئر (Mobbing Behavior) کہا جاتا ہے۔

‎شکرہ ایک شکاری پرندہ ہے جو چھوٹے پرندوں، ان کے چوزوں اور دیگر چھوٹی جاندار انواع کو اپنی خوراک بناتا ہے۔ اس کا ماحولیاتی کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ کمزور اور غیر متوازن آبادیوں کو کنٹرول کر کے قدرتی توازن قائم رکھتا ہے۔ مگر یہی کردار افزائشِ نسل کے موسم میں دوسرے پرندوں، خصوصاً کوؤں، کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن جاتا ہے۔ کوّا چونکہ خود گھونسلہ بنانے والا اور چوزوں کی پرورش کرنے والا پرندہ ہے، اس لیے شکرے کی موجودگی کو وہ اپنے مستقبل کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

‎سائنسی مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ کوّے غیر معمولی ذہانت رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف شکاری پرندوں کو پہچانتے ہیں بلکہ انہیں یاد بھی رکھتے ہیں اور اجتماعی طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شکرہ ان کے علاقے میں داخل ہوتا ہے تو ایک کوّا اکیلا ردِعمل نہیں دیتا، بلکہ شور مچاتا ہے، اڑان بھر کر قریب جاتا ہے اور دوسرے کوؤں کو بھی متحرک کر دیتا ہے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے کئی کوّے مل کر شکرے کے گرد منڈلانے لگتے ہیں۔

‎یہ عمل شکرے کو مارنے کے لیے نہیں ہوتا۔ تحقیق واضح طور پر بتاتی ہے کہ موبنگ کا مقصد شکاری کو جسمانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اسے ذہنی دباؤ میں ڈالنا، اس کی توجہ منتشر کرنا اور اسے یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ یہ علاقہ محفوظ شکار گاہ نہیں۔ شور، جھپٹیں اور مسلسل تعاقب شکرے کے لیے توانائی کا ضیاع بن جاتے ہیں، اور اکثر صورتوں میں وہ کسی اور جگہ کا رخ کر لیتا ہے۔

‎شہری علاقوں میں یہ منظر زیادہ نمایاں نظر آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ قدرتی ماحول کی تباہی ہے۔ درختوں کی کمی، کھلے کوڑے کے ڈھیر، اور انسانی تعمیرات نے کوؤں کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، جبکہ شکاری پرندے بھی انہی محدود جگہوں پر سمٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جب فطرت کے درمیان فاصلے ختم ہو جائیں تو تصادم بڑھ جانا ایک فطری امر ہے۔

‎یوں کوؤں اور شکرے کا یہ تصادم دراصل فطرت کے نظام کا ایک متوازن پہلو ہے۔ شکرہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور کوّا اپنا۔ نہ کوئی ظالم ہے اور نہ کوئی مظلوم۔ یہ رویّہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ فطرت میں دکھائی دینے والی بظاہر افراتفری کے پیچھے بھی ایک گہرا نظم، ایک سائنسی منطق اور بقا کی خاموش حکمت چھپی ہوتی ہے۔

08/12/2025

Warning ⚠️ Graphic content + Animals cruelty
پاکستان میں جنگلی جانوروں کے ساتھ عدم برداشت کی بنیادی وجہ جانور نہیں بلکہ ہماری اپنی غلط فہمیاں، خوف پر مبنی رویّے، اور سائنسی شعور کی شدید کمی ہے۔ خصوصاً ہنومان لنگور (Semnopithecus entellus) ایک ایسا پرائمیٹ ہے جو عام طور پر غیر جارحانہ، انسانوں کے ساتھ باآسانی ہم آہنگ رہنے والا، اور ماحولیاتی طور پر انتہائی اہم کردار ادا کرنے والی نوع ہے۔

بھارت میں یہی نوع ثقافتی احترام، سماجی قبولیت اور عوامی آگاہی کی وجہ سے محفوظ ہے۔ وہاں:
• انہیں نقصان پہنچانا معاشرتی طور پر قابلِ قبول نہیں؛
• شہری آبادی ان کی موجودگی کو ایک قدرتی حقیقت سمجھ کر قبول کرتی ہے؛
• انسان اور لنگور کے درمیان پُرامن اور دیرپا بقائے باہمی قائم ہے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان میں ان جانوروں کو غیر ضروری طور پر خطرہ، نحوست یا نقصان دہ سمجھا جاتا ہے—حالانکہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔ یہ مخلوق اس وقت تک خطرہ نہیں بنتی جب تک انسان انہیں چھیڑنے، ڈرانے یا نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔
اصل نقصان خوف پر مبنی سوچ سے ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ انہیں بھگانے، زخمی کرنے یا مارنے تک چلے جاتے ہیں۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ماحولیاتی عدم توازن کی ایک بڑی وجہ ہماری اپنی لاعلمی ہے، نہ کہ wildlife۔
اگر ہم فطرت کو اپنی جگہ واپس دیں، رہائشی علاقوں میں space اور respect فراہم کریں، اور سائنسی بنیادوں پر آگاہی مہمات چلائیں تو ہنومان لنگور جیسے جانور:
• شہری ماحولیاتی نظام کو مستحکم کر سکتے ہیں،
• بیج پھیلاؤ (seed dispersal) کے ذریعے جنگلاتی بحالی کو تقویت دے سکتے ہیں،
• اور شہروں میں biodiversity کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کو فوری طور پر عوامی آگاہی، پالیسی اصلاحات اور محفوظ مقامات کی فراہمی پر کام کرنا ہوگا۔ جب تک ہم ذہنی طور پر ترقی نہیں کرتے، ہم اپنی wildlife کو ہمیشہ خطرے میں رکھیں گے—اور بالآخر خود اپنا ماحولیاتی مستقبل تباہ کریں گے۔

بالکل درست حشرات کی معدومی ہمارے دور کی ایک کڑوی حقیقت ہے، اور اس پر سنجیدہ تشویش نہ صرف اہم بلکہ ناگزیر ہے، کیونکہ ان ک...
23/11/2025

بالکل درست
حشرات کی معدومی ہمارے دور کی ایک کڑوی حقیقت ہے، اور اس پر سنجیدہ تشویش نہ صرف اہم بلکہ ناگزیر ہے، کیونکہ ان کے بغیر زمین پر موجود بیشتر قدرتی نظام اور بالآخر ہماری اپنی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔

تصویر: نامعلوم
جس بھی شخص یا ادارے کو اسکا کریڈٹ ملنا چاہیے، وہ واقعی اس کا اصل حق دار ہے۔

19/11/2025

ہماری اکلوتی جنگلی بلی 𓃠🐱
📍 شیخوپورہ

وہ لمحہ جس کا انتظار میں نے برسوں سے کیا تھا۔
ایک خاموش خواہش، جو دل کے کسی کونے میں برسوں سے چھپی ہوئی تھی، آج شاید حقیقت بننے والی تھی۔
وہ اکلوتی جنگلی بلی jungle cat (Felis chaus)
… جس کے قصّے بزرگوں اور مقامی لوگوں کی زبانی نسلوں سے چلتے آئے تھے، آج شاید پہلی بار میری آنکھوں کے سامنے آنے والی تھی۔

میں نے اسے کتابوں میں، روایتوں میں، لوگوں کی کہانیوں میں، فیس بک اور یوٹیوب کے کلپس میں ضرور دیکھا تھا،
مگر حقیقت میں کبھی اس کا سامنا نہیں ہوا تھا۔
آج لگ رہا تھا جیسے میں اس کی شکار کی چال، قدموں کا ٹھہراؤ اور ہر جنبش کا جادو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والا ہوں۔

سالوں کی فیلڈ وزٹس، دن رات کی تھکن، بے شمار پگڈنڈیاں،
دیہی راستے، کھیت، کچے نالے، جھاڑیاں، درختوں کے جھنڈ، جنگل، دریا۔
یہ سب شاید اسی ایک لمحے کی تیاری تھیں۔
ہر قدم پر امید، ہر لمحے میں صبر، اور دل یقین سے بھرا ہوا کہ فطرت ایک دن مجھے اپنی اصل شان ضرور دکھائے گی۔

پھر وہ دن آ ہی گیا،
جمعہ، 28 مارچ 2025 کی دوپہر۔
شہری آبادیوں سے دُور، دریا کے قریب، ہلکی دھوپ درختوں کے بیچ سے گزرتی ہوئی…
ہوا نرم، روشنی شفاف، اور ہر لمحہ کسی انجانی امید سے بھرا ہوا۔

دل کی دھڑکن بے ترتیب تھی۔
میں تھکا ہوا واپس آرہا تھا مگر دل کے اندر ایک چھوٹا سا چراغ مسلسل جل رہا تھا،
“شاید آج… شاید یہیں… شاید ابھی…”

اچانک، دو سمتوں سے دو خاکی جسم لمحہ بھر کو نظر آئے،
دو جنگلی بلیاں۔
اور اگلے ہی پل وہ جھاڑیوں میں گم ہو گئیں۔
دل کی دھڑکن نے جیسے ایک خوشی کا نیا باب کھول دیا۔

اتفاق سے وہاں سے کچھ سو میٹر آگے بڑھے شیخوپورہ کے قریب دریائے راوی کے کنارے،
ایک خاموش کچے راستے پر اچانک تیسری جنگلی بلی بیٹھی نظر آئی۔

یوں لگا جیسے قدرت نے اسے خاص طور پر وہیں بٹھایا ہو،
میرے سالوں کے صبر کا انعام دینے کے لیے۔
خاموش، مطمئن، اور باوقار،
بالکل ایسے جیسے فطرت خود کہہ رہی ہو:
“یہ لمحہ تمہارے لیے محفوظ ہے۔”

میں نے آہستہ سے موٹر سائیکل روکی، انجن بند کیا۔
دنیا جیسے رک گئی۔
ہوا کی ہر سرسراہٹ تک سنائی دے رہی تھی۔

بلی نے ایک لمحہ مجھے دیکھا، پھر نظر ہٹا لی،
جیسے کہنا چاہتی ہو:
“تم ہو یا نہیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

اس کی نظریں اس زمین پر جمی تھیں جہاں ایک چھوٹا جنگلی چوہا زندگی کی آخری دوڑ لگا رہا تھا۔
گھاس کی ہلکی آواز، پرندوں کی چہچہاہٹ، اور نرم ہوا،
سب مل کر ایک الگ ہی فضا بنا رہے تھے۔

بلی کے پاؤں مضبوطی سے زمین پر جما ہوئے،
اگلے پاؤں میں معمولی سی تھرتھراہٹ،
کان ہر آواز پر زاویہ بدلتے،
دم میں باریک سی ارتعاش،
وہ زمین کے نیچے دوڑتی زندگی کی سرگوشیاں سن رہی تھی۔

پھر… وقت ٹھہر گیا۔

جسم نے ہلکا سا خم لیا، طاقت سمٹی، پٹھے کھنچے،
اور اچانک وہ چار سے پانچ فٹ دور بجلی کی طرح اچھلی۔
نہ کوئی آواز، نہ کوئی ہلچل۔
بس ایک ایسا لمحہ جو ہمیشہ کے لیے ذہن میں نقش ہوگیا۔

حملہ بہترین، مکمل، اور جنگلی زندگی کا خالص نمونہ تھا،
مگر چوہا کسی طرح بچ نکلا۔
زمین کی اوٹ نے اسے زندگی واپس دے دی۔

بلی تھوڑی دیر ٹھہری، اردگرد دیکھا،
پھر کچے راستے کی طرف اسی باوقار انداز میں چل دی۔

یہ کوئی فلم کا فریم نہیں تھا،
یہ حقیقت تھی۔
سانس لیتی، دھڑکتی ہوئی…
ایک ایسا لمحہ جس میں انسان اور فطرت کے درمیان تمام فاصلے مٹ گئے۔

میں نے اسے صرف دل میں نہیں، کیمرے میں بھی محفوظ کیا،
تاکہ آپ سب بھی یہ نایاب نظارہ دیکھ سکیں۔
یہ یاد دہانی ہے کہ فطرت ہماری ملکیت نہیں،
وہ ہمیں صرف اجازت دیتی ہے کہ ہم اس کی دنیا میں کچھ دیر موجود رہیں۔

ہر سانس، ہر حرکت، ہر چھلانگ یہی سبق دیتی ہے،
زندگی کی اصل عظمت آزادی اور قدرتی توازن میں ہے۔

یہ منظر میرے لیے ایک دائمی سبق ہے،
حیرت، شجاعت، اور خوبصورتی کی حقیقی طاقت
فطرت کے ہر جاندار میں چھپی ہے،

اور انسان…

صرف ایک خاموش ناظر ہے۔

✏️🎥🎤 فہد ملک

(MAF)


14/11/2025

⚠️ Graphic content
وڈھ، تحصیل آرینجی، ضلع خضدار (بلوچستان) سے ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انتہائی نایاب ریچھ بلوچستان بلیک بیئر (Ursus thibetanus gedrosianus) کو سفاکی سے قتل کیا گیا۔
یہ منظر صرف ایک جانور کی موت نہیں ہے؛ بلکہ بلوچستان کی جنگلی حیات کے مستقبل پر ایک شدید دھچکا ہے۔

بلوچستان میں نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کے خاتمے میں حکومتی غفلت اب خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ نہ مؤثر نگرانی ہے، نہ ہی جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد اور نتیجہ یہ کہ ایسے بے رحمانہ واقعات روزانہ رونما ہو رہے ہیں۔

یہ ریچھ ایشیائی کالے ریچھ کی ذیلی نسل سمجھا جاتا ہے، تاہم بین الاقوامی ماہرین میں اس کی درجہ بندی پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی جینیاتی شناخت مکمل طور پر منفرد ہے، جبکہ دیگر اسے صرف ایشیائی کالے ریچھ کی مقامی آبادی سمجھتے ہیں۔
لیکن ایک حقیقت واضح ہے:
یہ ریچھ بلوچستان کا انتہائی نایاب خزانہ ہے اور ہم اسے اپنی آنکھوں کے سامنے مٹا رہے ہیں۔

یہ حکومت، وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک جاگنے والی وارننگ ہے۔ اگر آج بھی کارروائی نہ کی گئی تو کل ہمارے جنگلات، پہاڑ اور وادیاں اپنی قدرتی شناخت کھو بیٹھیں گے۔

جنگلی حیات کا قتل انسانیت کا قتل ہے
اور بلوچستان کی یہ چیخ پوری قوم کو جگانے کے لیے کافی ہے۔

13/11/2025

جنگلی حیات کے لیے سب سے خطرناک جملہ ہے: “غیر آباد زمین”
یہ ہمیشہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ کوئی اسے قبضے میں لینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

Warning: Graphic content ماں آهوران کے پہاڑوں میں 4 جنوری 2024 کو ایک فارسی تیندوا (Persian Leopard) لوگوں کے ہاتھوں مار...
11/11/2025

Warning: Graphic content
ماں آهوران کے پہاڑوں میں 4 جنوری 2024 کو ایک فارسی تیندوا (Persian Leopard) لوگوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، یہ علاقہ ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے اور وہاں ایرانی محکمے سرگرم ہیں۔
اس پوسٹ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ نِک‌شہر سے لے کر بیت، سرباز، سراوان اور کَسرکند تک کے پہاڑ اور وادیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔
اگر یہ فارسی تیندوا آهوران میں مارا گیا ہے، تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تیندوا صرف وہیں نہیں بلکہ زامران، تُمپ، مند اور دَشت جیسے علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے لیے یہ ایک سرحد ہے، لیکن ان جنگلی جانوروں کے لیے کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
احتیاط اور تحفظ بے حد ضروری ہے۔
Copy: Abdullah Rahim

ہم جتنا ہو سکے، قدرتی انداز میں جینے کی کوشش کرتے ہیں — جیسے لوگ پہلے زمانے میں جیتے تھے۔ آج کے لوگ بھول گئے ہیں کہ وہ خ...
11/11/2025

ہم جتنا ہو سکے، قدرتی انداز میں جینے کی کوشش کرتے ہیں — جیسے لوگ پہلے زمانے میں جیتے تھے۔ آج کے لوگ بھول گئے ہیں کہ وہ خود بھی فطرت کا حصہ ہیں۔ وہ فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، پھر بھی اسے بگاڑتے اور تباہ کرتے ہیں۔

انہیں لگتا ہے کہ وہ فطرت سے بہتر چیزیں بنا سکتے ہیں۔ خاص طور پر سائنس دان۔ وہ عقل مند تو ہیں، مگر اکثر فطرت کے دل کی آواز نہیں سنتے۔ وہ ایسی چیزیں بناتے ہیں جو انسان کو خوشی کے بجائے بے سکونی دیتی ہیں، اور پھر اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔

اس سے بھی بُری بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ان بےوقوفانہ ایجادات کو معجزہ سمجھ کر ان کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ نہیں دیکھتے کہ فطرت ختم ہو رہی ہے، اور وہ خود اپنی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

انسان کے لیے سب سے ضروری چیزیں صاف ہوا، صاف پانی، اور وہ درخت اور گھاس ہیں جو یہ سب پیدا کرتے ہیں۔ مگر لوگ سب کچھ آلودہ کر دیتے ہیں، اور یہ نعمتیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہیں۔ آلودہ ہوا اور پانی آخرکار انسان کے دل کو بھی گندا کر دیتے ہیں۔”**

— خواب (Dreams), 1990
اکیرا کوروساوا

📍 ننکانہ
🗓️ مارچ 28, 2025

یہ عمل اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے؟
10/11/2025

یہ عمل اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے؟

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wild Watch With Fahad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share