The Prince of Lahore

The Prince of Lahore Lahore —🇵🇰 a vibrant blend of history, culture, and hospitality. A city of heritage, gardens, and colorful streets that warmly welcomes every traveler.
(7)

"لاہور — دل والوں کا شہر، سیاحوں کی پہلی پسند"لاہوری شہزادہ 🌎


17/08/2026

اَلْحَمْدُلِلّٰه

اچھی خاصی عزت تھی لوگوں نے اسے بہت بڑا سکالر سمجھ رکھا تھا، بڑی بڑی تقریبات میں لاکھوں روپے لے کر لوگوں کو کامیابی اور پ...
16/08/2026

اچھی خاصی عزت تھی لوگوں نے اسے بہت بڑا سکالر سمجھ رکھا تھا، بڑی بڑی تقریبات میں لاکھوں روپے لے کر لوگوں کو کامیابی اور پیسہ کمانے کا گر سکھاتا تھا، حتیٰ کہ ڈاکٹرز اپنے پروگرامز میں اسے بلواتے اور اسکے لیکچرز سن کر سر دھنتے اور یہ موصوف بنا کسی میڈیکل ڈگری کے انہیں اچھا ڈاکٹر بننے کے گرسکھاتے۔ موصوف واصف علی واصف اور چند مغربی سکالرز کی کتابیں پڑھ کر ان سکالرز اور واصف علی واصف کو انٹلیکچل کریڈٹ دئیے بغیر گیان پیلتے رہے اور لاکھوں روپے ایک ایک شو کے کماتے رہے۔ میں نے ایکدفعہ فیسبک پر ہی ازراہ مذاق لکھا تھا کہ جتنا واصف علی واصف سے پیسہ اس نے کمایا ہے اتنا تو واصف علی واصف نہیں کما سکے سو اسے اپنی کمائی میں سے زیادہ نہیں دو دس فیصد رائلٹی ہی ان کی خامدان والوں کو دینی چاہئیے، اتنی شہرت ملنے کے بعد موصوف کا دماغ خراب ہوا ان دنوں عمران دشمنی عروج پر تھی اور “پروجیکٹ عمران” والے تب “پروجیکٹ اینٹی عمران” چلا رہے تھے تو انہوں نے اس کی چرب زبانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور انہیں الحمرا آرٹس کونسل کا سربراہ لگادیا اور عمران خان کیخلاف ہرزہ سرائی کی فرمائش کی جو جناب نے فوراً پوری کردی حالانکہ موصوف اس ہرزہ سرائی سے چند ماہ یا سال پہلے عمران خان کو عالم اسلام کا بہت بڑا لیڈر اور پاکستان کی آخری امید حتیٰ کہ پیرومرشد کہہ چکے تھے لیکن عہدے کا لالچ اور پروجیکٹ والوں کی قربت ہوتی ہی اتنی نشیلی ہے کہ بندے سے انکار ہوتا ہی نہیں اور نہ ہی وہ کرنے دیتے ہیں سو اس قربت و کرم فرمائی کے ہیر پھیر میں پھنس کر موصوف نے عمران خان کے خلاف ایک دو پوڈکاسٹس میں ایک دو بیان داغ دئیے بس پھر اس کی بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی پھر موصوف اتنا ٹرول ہوۓ کہ الامان الحفیظ اسی ٹرولنگ، میمز، غیرمقبولیت اور نفرت کی وجہ سے موٹیوشنل سپیکر صاحب کو شو یعنی “فنکشن” ملنے بند ہوگئے اس سے بھی زیادہ ظلم یہ ہوا کہ پروجیکٹ والوں نے جب اس کی اتنی ذلالت ہوتی ہوئی دیکھی تو الحمرا کی سربراہی بھی چھین لی بس پھر وہ دن جاۓ اور یہ دن آۓ موصوف ٹکے ٹوکری ہوگئے۔ آج انہوں فیسبک پر لکھا “میرے واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے نکلنے کی وجہ” اور وجہ یہ بتائی کہ میں اپنے انٹلیکچول کام کو وقت نہیں دے پا رہا اسلئیے یہ سب سوشل میڈیا کی موہ مایا چھوڑ رہا ہوں۔
حضور!
جھوٹ مت بولئے اسی سوشل نے آپ کو رائٹر، سکالر، موٹیویشنل سپیکر اور پھر اتنا مغرور بنادیا تھا کہ آپ سچ مچ اپنے آپ کو واصف علی واصف اور اشفاق احمد کے ہم پلہ سمجھنا شروع ہوگئے تھے بلکہ آپ تو اپنے آپ کو پاکستان کا نجات دہندہ سمجھنے لگے تھے اور وہ سب اسی سوشل میڈیا کی بدولت ہواتھا اب بھی آپ سچ نہیں بول رہے کہ اسی سوشل میڈیا کی بدولت آپ کی دوکانداری چل رہی تھی لیکن آپ اتنے جھوٹے اور منافق ہیں کہ وجہ سوشل میڈیا بتارہے ہیں حالانکہ وجہ وہی ہے کہ “جنے عمران نوں ستایا اونے جلد یا بدیر رکشہ ای چلایا”
باقی اب چونکہ آپ سوشل میڈیا چھوڑ ہی رہے ہیں تو آپ کو مشورہ ہے کہ آپ براہ کرم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیساتھ ساتھ پاکستان سے بھی غائب ہوجائیں تو اس قوم پر بڑا احسان ہوگا۔ آپ وہ چلے ہوۓ کارتوس ہیں جنہیں پروجیکٹ والوں نے بھی استعمال کرکے پھینک دیا ہے اور آپ کی تمام تر باریک وارداتیں عمران خان کیخلاف کارگر ثابت نہ ہوسکیں اور نتیجتاً آپ ذلت و فراموشی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔ اب سجدۂ سہو کریں جو آپ کریں گے نہیں اور چونکہ واصف علی واصف کی سب کتابیں اور چند مغربی موٹیویشنل سپیکرز کی کتابیں آپ عوام کو سنا چکے ہیں سو آپ کے پاس کوئی منجن رہا نہیں جو بک سکے سو آپ کیلئیے صائب مشورہ یہی ہے کہ بیرون ملک جائیں اور کوئی دیسی کھانوں کا ریسٹورنٹ بنالیں اور اپنی باقی ماندہ زندگی سکون سے گزاریں اور ہاں وہاں پر سینڈو بنیان میں اپنی کراہت سے بھری تصویر مت بنائیے گا جس میں آپ اپنی طرف سے اپنے مسل دکھا رہے تھے لیکن اس میں آپ ایک کوموڈو ڈریگن لگ رہے تھے۔
باۓ باۓ ۔۔۔
———
وسیم عبداللہ

16/08/2026

مجانب :آؤ کتاب پڑھیں فاؤنڈیشن
فاؤنڈر: شاہد فرید شاہد منج
اخوت کے بانی اور معروف سماجی مصلح
ڈاکٹر محمد امجد ثاقب
کی کتاب
"مولو مصلّی"
محض افسانوں یا کہانیوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے پسے ہوئے، نظر انداز کیے گئے اور خاموش طبقات کی سچی داستانوں کا ایک دردناک آئینہ ہے۔ کتاب کا عنوان "مولو مصلّی" علامت ہے اس عام انسان کی جسے زندگی کی بنیادی آسائشوں نے تو ٹھکرا دیا، مگر اس کے اندر کا ایمان، غیرت اور انسانیت کا جذبہ زندہ رہا۔ یہ کتاب قاری کو غربت کی تلخیوں سے ملواتے ہوئے مادی فائدوں سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا درد محسوس کرنے کی دعوت دیتی ہے۔


MolooMusalli #

03/08/2026



03/08/2026


03/08/2026

17/06/2026

لاہور کا شہزأدہ ❣️

17/06/2026

Lahore 🌳🇵🇰❣️

17/06/2026

مجھے لاہور سے عشق ہے ❣️

Address

Shahid Fareed Street
Lahore
5400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Prince of Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share