محنت کش عورت محاذ

محنت کش عورت محاذ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from محنت کش عورت محاذ, Nonprofit Organization, Lahore.

19/04/2026

Reception for “Talib-e-Ilm” Magazine

پریس ریلیزآج بلاول پارک ٹنڈو باگو میں NSF Pakistan کی جانب سے منعقدہ ایک اہم اجلاس میں خواتین فرنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے...
29/03/2026

پریس ریلیز

آج بلاول پارک ٹنڈو باگو میں NSF Pakistan کی جانب سے منعقدہ ایک اہم اجلاس میں خواتین فرنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے سندھ کی آرگنائزر کامریڈ افسرا پنہور نے خصوصی شرکت کی۔ اس اجلاس میں ٹنڈو باگو اور بدین کے ساتھیوں نے بھرپور شرکت کی۔

اجلاس میں شریک ساتھیوں میں وقار جت، زریاب شاہ، فیصل مشتاق، جُمن شاہ، الستی سجاد، گلشاد عمرانی، فاضل رشید، شبیر چانڈیو، کامریڈ راجا، شعبان، محسن لاشاری، فرحان گل، احسان خاصخیلی اور دیگر شامل تھے۔

اجلاس کے دوران مختلف اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں تنظیمی سرگرمیوں، مستقبل کی منصوبہ بندی اور مشترکہ جدوجہد کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر خواتین فرنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کامریڈ افسرا پنہور نے خواتین کو درپیش بنیادی مسائل پر جامع گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ تنظیمی سطح پر خواتین کی شمولیت کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔
کامریڈ افسرا نے خواتین کے درج ذیل اہم مسائل کو اجاگر کیا:
تعلیم تک مساوی رسائی اور شرح خواندگی میں اضافہ
گھریلو و معاشرتی تشدد کے خلاف مؤثر اقدامات
روزگار کے مواقع اور معاشی خودمختاری
صحت کی بنیادی سہولیات، خصوصاً دیہی علاقوں میں
سیاسی و سماجی میدان میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سندھ بھر میں تنظیمی کام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور خواتین سمیت تمام مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کو تیز کیا جائے گا۔

آج رائیونڈ کے 4 بھٹہ پر ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس میں بھٹہ مزدور ساتھیوں نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران دو یونٹس کا باقاعدہ ...
12/03/2026

آج رائیونڈ کے 4 بھٹہ پر ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس میں بھٹہ مزدور ساتھیوں نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران دو یونٹس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔

دھوندے گاؤں یونٹ کے عہدیداران درج ذیل ہیں:

دلدار — صدر

راشد — نائب صدر

قاسم — جنرل سیکریٹری

ارسلان — انفارمیشن سیکریٹری

اشرف — فنانس سیکریٹری

جھوڈو دھیر یونٹ کے عہدیداران درج ذیل ہیں:

دلدار مسیح — صدر

سلامت — نائب صدر

محمد بوٹا — جنرل سیکریٹری

اشرف مسیح — فنانس سیکریٹری

محمد اعجاز — ممبر

میٹنگ میں بھٹہ مزدوروں کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سب سے پہلے شناختی کارڈز (ID Cards) کے مسئلے پر بات کی گئی اور اسے حل کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا تاکہ جن مزدوروں کے شناختی کارڈ نہیں ہیں ان کے کارڈ بنوائے جا سکیں۔
اس کے بعد بھٹہ پر بنیادی سہولیات کے مسائل زیر بحث آئے جن میں خاص طور پر واش رومز اور صاف پانی کے انتظام کا مسئلہ شامل تھا۔ اس حوالے سے بھی آئندہ اقدامات پر مشاورت کی گئی۔
میٹنگ کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ باقاعدہ میٹنگز ہر جمعہ کے دن منعقد کی جائیں گی تاکہ تنظیمی کام کو مسلسل آگے بڑھایا جا سکے اور مزدوروں کے مسائل کو منظم طریقے سے اٹھایا جا سکے۔

09/03/2026



On International Working Women's Day, National Students Federation Pakistan dedicates this day to the two of our comrades whose dedication and courage have left a lasting mark on our movement, Comrade Sumbal Maqsood, former President of NSF Pakistan, and Comrade Aena Akmal, current Vice President.

In a society where the structures of capitalism and patriarchy continue to push women to the margins of political life, these comrades have stood at the forefront of struggle. Their work within the student movement and beyond reflects the determination and conviction required to challenge injustice and build spaces where women lead, organize, and shape the direction of collective resistance.

During her tenure as President, Comrade Sumbal Maqsood provided steadfast leadership to the organization, strengthening its foundations and reaffirming the importance of principled and committed student politics. Her role within NSF stands as an important example of how women continue to play a decisive part in advancing progressive and democratic struggles.

Today, Comrade Aena Akmal carries this responsibility forward with dedication and resolve. Through her work, she continues to mobilize students, challenge patriarchal barriers, and contribute to the growth of a movement that believes in equality, justice, and collective struggle.

Their journeys remind us that the fight for a just society cannot move forward without the active participation and leadership of women. For many young women within and beyond the student movement, they stand as examples of courage, commitment, and political-revolutionary clarity.

On this day, we salute their contributions and dedicate this 'Day' to them and to all the women who continue to struggle for dignity, equality, and liberation.

Long Live NSF! 🚩



08/03/2026

محنت کش عورت محاذ کی جانب سے 8 مارچ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ ایک سادہ مگر بامعنی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر محنت کش عورت محاذ کی کوآرڈینیشن سیکرٹری کامریڈ سمبل نے بھٹہ مزدور خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن دنیا بھر میں خواتین اپنے حقوق کے لیے مارچ اور تقاریب کا حصہ بنتی ہیں، لیکن ہم صرف رسمی تقاریب تک محدود رہنے کے بجائے آج کا دن ان خواتین کے ساتھ منانے آئے ہیں جو واقعی دن رات محنت کرتی ہیں اور سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھٹہ مزدور خواتین دن رات سخت محنت کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات یعنی بجلی، پانی، گیس اور تعلیم جیسی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کامریڈ سمبل نے اس بات پر زور دیا کہ محنت کش خواتین کی جدوجہد اپنے مردوں کے خلاف نہیں بلکہ اس استحصالی نظام کے خلاف ہے جو نہ صرف خواتین بلکہ ان کے مرد ساتھیوں کی محنت کا بھی استحصال کرتا ہے۔ نشست کے دوران بھٹہ مزدور خواتین نے بھی اپنے مسائل اور مشکلات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محنت کش عورتوں کے حقوق اور بہتر زندگی کے لیے مشترکہ جدوجہد کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

08/03/2026

محنت کش عورت محاذ کی جانب سے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں محنت کش عورتوں کی محنت اور ان کے استحصال کے مسئلے پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر محنت کش عورت محاذ کی ممبر کامریڈ کنزا نے خطاب کرتے ہوئے محنت کش عورت کی غیر مرئی محنت کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سماج میں صرف اسی کام کو کام سمجھا جاتا ہے جس کی اجرت بازار میں طے ہو اور جس سے منافع حاصل کیا جا سکے، جبکہ عورت کی بڑی محنت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بھٹہ مزدور خواتین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ صبح سے شام تک مٹی گوندھنے، اینٹیں بنانے اور انہیں اٹھانے جیسے سخت کام کرتی ہیں، مگر اکثر ان کی مزدوری ان کے شوہروں کے نام پر لکھی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی محنت کی الگ شناخت سامنے نہیں آتی۔ کامریڈ کنزا نے اس بات پر زور دیا کہ بھٹہ مالکان اسی طریقے سے محنت کش عورتوں کے استحصال کو برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ جب عورت کی محنت کو الگ مزدوری کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا تو اس کا فائدہ براہِ راست مالکان کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش عورت اور مرد کو آپس میں تقسیم کر کے دراصل اصل مسئلے یعنی استحصالی نظام کو چھپا دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھٹہ مالکان مرد اور عورت دونوں کی محنت سے منافع کماتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محنت کش عورت کی محنت کو تسلیم کرنا اور اس کی مزدوری کو الگ شناخت دینا ضروری ہے تاکہ استحصال کے اس نظام کو بے نقاب کیا جا سکے اور محنت کش طبقہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر سکے۔

08/03/2026

In colonial societies, oppression is not enforced only through state power; it permeates the mind, culture, and everyday life. In a society like Pakistan, oppression of women is an extension of this colonial-capitalist structure. Whether it is a brick kiln laborer, a factory worker, a peasant, or a domestic worker, women’s labor is rendered invisible. For example, a woman working at a brick kiln shapes bricks from morning to evening, yet her wages are often recorded under her husband’s name. A factory girl stands at a machine for ten to twelve hours, yet she is not fully compensated for overtime. A rural peasant woman sows seeds and harvests crops, yet the land titles are not in her name. A domestic woman spends her entire day cooking, cleaning, and caring for children, yet her labor is not recognized as work. She is placed at the bottom of the economic hierarchy, even though the entire system depends on her.

Mao said that women hold up half the sky, but half the sky can only be free when the whole society is liberated from class chains. The question of women is not to be treated as separate or merely based on identity; it is produced by semi-colonial and semi-feudal society. Women in agriculture are deprived of land because ownership is controlled by landlord and capitalist classes. If a husband dies in a village, a woman must fight her own family’s men for land rights. Factory women work for low wages because a profit-driven system exploits their cheap labor. They come home to cook and care for younger siblings or children. Domestic women’s unpaid labor fuels the capitalist economy as free energy. If they fall ill for a day, the whole household stops, yet there is no wage or social recognition for their work.

Neoliberal free markets have forced women outside the home but given them double slavery: work outside while still managing the household. Media, cosmetics, and fashion industries commodify women’s bodies for profit. Television ads often link women to beauty or kitchen work, and if they are shown as employed, the message still implies that the household responsibility remains theirs. Colonial mentality forces the local population to see itself through a certain lens; here, too, women are made to measure their worth by the mirror of the market. Their political identity is dissolved into beauty, shopping, and consumerism.

In Pakistan, much of feminism has been confined within NGO structures. Funding and project culture have reduced women’s issues to paper reports. Seminars are often held in hotels in major cities, yet the brick kiln worker or rural peasant woman is absent. The language is English, and the issues remain confined to reports. This is the “comprador” layer: a local elite linked to the global capitalist system, rendering popular movements ineffective. As a result, the voice of the working-class woman has been largely excluded from the central narrative.

Maoist feminism offers an alternative. In China’s revolutionary struggle, women’s liberation was tied to agrarian revolution and class struggle. In Vietnam, women participated in armed and political struggles against imperialism. In Nepal, rural women joined guerrilla units and popular organizations. In all these cases, women were not mere victims; they became active revolutionary forces.

Our position is clear. The primary enemy of women is the imperialist-capitalist system, which exploits them through local landlords and state structures. Freedom will not come through legal reforms or performative equality alone. True liberation will come only when labor, land, and state power are under the control of the working class.

The aim of the Working Women’s Front is to remove women from charity-based or project-based politics and link them to public and revolutionary politics. It seeks to give factory, farm, brick kiln, and university women a common platform. If factory women organize to demand higher wages or village women unite for water and land rights, that is genuine political action. It politicizes domestic labor and cultivates leadership from the ground up, rather than imposing it from above.

The process of liberation transforms the individual. Women’s participation does not only change society; it also gives them new political consciousness. Therefore, without class struggle, women’s freedom remains incomplete.

نوآبادیاتی معاشروں میں جبر صرف ریاستی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ ذہن، ثقافت اور روزمرہ زندگی میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔ پاکس...
08/03/2026

نوآبادیاتی معاشروں میں جبر صرف ریاستی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ ذہن، ثقافت اور روزمرہ زندگی میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔ پاکستان جیسے سماج میں عورت پر جبر اسی نوآبادیاتی سرمایہ دارانہ ڈھانچے کی توسیع ہے۔ بھٹہ مزدور عورت ہو یا فیکٹری ورکر، کسان ہو یا گھریلو محنت کرنے والی، اس کی محنت کو غیر مرئی بنایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بھٹے پر کام کرنے والی عورت صبح سے شام تک اینٹیں بناتی ہے، مگر مزدوری اکثر شوہر کے نام لکھی جاتی ہے۔ فیکٹری میں کام کرنے والی لڑکی دس بارہ گھنٹے مشین پر کھڑی رہتی ہے، مگر اوور ٹائم کی پوری ادائیگی نہیں ملتی۔ دیہی کسان عورت بیج ڈالتی ہے، فصل کاٹتی ہے، مگر زمین کے کاغذات اس کے نام نہیں ہوتے۔ گھریلو عورت پورا دن کھانا، صفائی اور بچوں کی دیکھ بھال میں گزار دیتی ہے، مگر اس کی محنت کو کام ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اسے معاشی ڈھانچے میں سب سے نیچے رکھا جاتا ہے، جبکہ اس سے پورا نظام چلتا ہے۔
ماؤ نے کہا کہ عورت آدھا آسمان سنبھالتی ہے، مگر آدھا آسمان اسی وقت آزاد ہو سکتا ہے جب پورا سماج طبقاتی زنجیروں سے آزاد ہو۔ عورت کا سوال علیحدہ یا صرف شناخت کی بنیاد پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اسے نیم نوآبادیاتی اور نیم جاگیردارانہ سماج کی پیداوار سمجھا جاتا ہے۔ زرعی شعبے کی خواتین زمین سے محروم ہیں کیونکہ زمین پر قبضہ جاگیردار اور سرمایہ دار طبقات کا ہے۔ اگر کسی گاؤں میں شوہر کی وفات ہو جائے تو عورت کو زمین پر حق کے لیے خاندان کے مردوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ فیکٹری کی خواتین کم اجرت پر کام کرتی ہیں کیونکہ منافع کی بنیاد پر چلنے والا نظام ان کی سستی محنت کو استعمال کرتا ہے۔ وہ گھر آ کر بھی کھانا پکاتی ہیں اور چھوٹے بہن بھائی یا بچوں کو سنبھالتی ہیں۔ گھریلو خواتین کی غیر ادا شدہ محنت سرمایہ دار معیشت کے لیے مفت ایندھن کا کام کرتی ہے۔ اگر وہ ایک دن بیمار ہو جائیں تو پورا گھر رک جاتا ہے، مگر ان کے کام کی کوئی تنخواہ یا سماجی قدر طے نہیں۔
نیولبرل فری مارکیٹ نے عورت کو گھر سے باہر نکالا، مگر آزادی کے نام پر اسے دوہری غلامی دی۔ باہر مزدوری کرو، گھر بھی سنبھالو۔ میڈیا، کاسمیٹک اور فیشن انڈسٹری عورت کے جسم کو شے بنا کر منافع کماتے ہیں۔ ٹی وی اشتہارات میں عورت کو زیادہ تر خوبصورتی یا کچن کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اگر وہ ملازمت پیشہ دکھائی جائے تو ساتھ یہ پیغام بھی دیا جاتا ہے کہ گھر کی مکمل ذمہ داری اسی کی ہے۔ نوآبادیاتی ذہنیت مقامی آبادی کو اپنی نظر سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہاں بھی عورت کو اپنی قدر بازار کے آئینے میں دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کی سیاسی شناخت کو خوبصورتی، خریداری اور صارفیت میں تحلیل کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں فیمنزم کا بڑا حصہ این جی او ڈھانچے میں قید ہو گیا۔ فنڈنگ اور پراجیکٹ کلچر نے عورت کے سوال کو کاغذی رپورٹوں تک محدود کر دیا۔ اکثر بڑے شہروں کے ہوٹلوں میں سیمینار ہوتے ہیں، مگر بھٹے کی مزدور یا کھیت کی کسان عورت وہاں موجود نہیں ہوتی۔ زبان انگریزی ہوتی ہے، مسائل رپورٹ تک رہ جاتے ہیں۔ یہ وہی “comprador” پرت ہے ، ایک مقامی ایلیٹ جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ہوتی ہے اور عوامی تحریکوں کو غیر مؤثر بناتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محنت کش عورت کی آواز مرکزی بیانیے میں شامل نہ ہو سکی۔
ماؤسٹ فیمنزم اس کا متبادل پیش کرتا ہے۔ چین کی انقلابی جدوجہد میں عورت کی آزادی کو زرعی انقلاب اور طبقاتی جنگ سے جوڑا گیا ۔ ویتنام میں خواتین نے سامراج کے خلاف مسلح اور سیاسی جدوجہد میں حصہ لیا۔ نیپال میں دیہی خواتین گوریلا دستوں اور عوامی تنظیموں میں شامل ہوئیں۔ ان مثالوں میں عورت صرف مظلوم نہیں رہی، وہ انقلابی عمل کی فعال قوت بنی۔
ہمارا مؤقف واضح ہے۔ عورت کا پہلا دشمن سامراجی سرمایہ دارانہ نظام ہے جو مقامی جاگیردار اور ریاستی ڈھانچوں کے ساتھ مل کر اس کا استحصال کرتا ہے۔ اس لیے آزادی صرف قانونی اصلاحات یا نمائشی برابری سے نہیں آئے گی۔ حقیقی آزادی تب آئے گی جب زمین، محنت اور ریاستی طاقت پر محنت کش طبقے کا کنٹرول ہو۔
محنت کش عورت محاذ کا مقصد یہی ہے کہ وہ عورت کو خیراتی یا پراجیکٹ بیسڈ سیاست سے نکال کر عوامی اور انقلابی سیاست سے جوڑے۔ فیکٹری، کھیت، بھٹہ اور یونیورسٹی کی خواتین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم دے۔ اگر فیکٹری کی خواتین مل کر تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کریں یا گاؤں کی عورتیں پانی اور زمین کے حق کے لیے اکٹھی ہوں، تو یہ حقیقی سیاسی عمل ہوگا۔ گھریلو محنت کو سیاسی مسئلہ بنائے۔ اور عورت کی قیادت کو نیچے سے ابھارے، اوپر سے مسلط نہ کرے۔
آزادی کا عمل خود انسان کو بدلتا ہے۔ عورت کی شمولیت صرف سماج کو نہیں بدلتی، وہ خود بھی نئے سیاسی شعور کے ساتھ جنم لیتی ہے۔ اسی لیے طبقاتی جدوجہد کے بغیر عورت کی آزادی ادھوری رہے گی۔

خواتین کا عالمی دن، بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ6 مارچ 2026 کو ورکنگ ویمن فرنٹ (محنت کش عورت محاذ) کی جانب سے بھٹہ مزدور خو...
06/03/2026

خواتین کا عالمی دن، بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ
6 مارچ 2026 کو ورکنگ ویمن فرنٹ (محنت کش عورت محاذ) کی جانب سے بھٹہ مزدور خواتین کے درمیان محنت کش خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ جس کا مقصد نیم نوآبادیاتی اور نیم جاگیردارانہ سماج میں محنت کش عورتوں پر مسلط طبقاتی، معاشی اور صنفی جبر کو سمجھا جائے اور اس کے خلاف منظم انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔
اس سرگرمی میں ورکنگ ویمن فرنٹ کی کوآرڈینیشن سیکریٹری کامریڈ سمبل، ممبر کامریڈ کنزا، محنت کش محاذ کے کوآرڈینیشن سیکریٹری کامریڈ احسان اور این ایس ایف پاکستان کے مرکزی آرگنائزرز کامریڈ پرویز سلطانی اور سینٹرل آرگنائزر کامریڈ حسنین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین کا عالمی دن دراصل محنت کش عورتوں کی انقلابی جدوجہد کی تاریخ کا دن ہے۔ یہ دن ان خواتین مزدوروں کی قربانیوں اور مزاحمت کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے سرمایہ دارانہ استحصال اور جبر کے خلاف تاریخی لڑائیاں لڑی تھیں۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ موجودہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام نہ صرف محنت کش طبقے کا معاشی استحصال کرتا ہے بلکہ پدر شاہی ڈھانچے کے ذریعے عورتوں کو دوہری غلامی میں بھی جکڑ کر رکھتا ہے۔
سرگرمی کے دوران عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل کو سمجھنے کے اصول کے تحت ایک سماجی تحقیق بھی کی گئی۔ اس عمل میں بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ براہ راست گفتگو کی گئی تاکہ ان کے حالات زندگی، محنت کے استحصالی رشتے اور روزمرہ مسائل کو قریب سے سمجھا جا سکے۔ اس گفتگو سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ بھٹہ مزدور خواتین انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھٹوں پر رہنے والے مزدور خاندان بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں۔ کئی جگہوں پر واش رومز موجود نہیں جس کی وجہ سے خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بجلی، صاف پانی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ سرمایہ دار طبقہ محنت کش انسان کی زندگی کو کسی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ صرف منافع کو ترجیح دیتا ہے۔
چائلڈ لیبر کا مسئلہ بھی شدت کے ساتھ سامنے آیا۔ بھٹہ مزدوروں کے بچے تعلیم سے محروم رہتے ہیں اور کم عمری میں ہی مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح سرمایہ دارانہ نظام محنت کش خاندانوں کی غربت کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کی محنت کو بھی اپنے منافع کا ذریعہ بناتا ہے اور استحصال کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہتا ہے۔
مزدور خواتین نے یہ بھی بتایا کہ بھٹہ مالکان مزدوروں کو پیشگی رقم دیتے ہیں جس پر بعد میں سود عائد کر دیا جاتا ہے۔ پھر یہ قرض مزدوری سے مسلسل کاٹا جاتا رہتا ہے۔ اس طرح پورا مزدور خاندان قرض اور غلامی کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس جاتا ہے۔ یہ دراصل جدید شکل میں مسلط قرضی غلامی ہے جو جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ مفادات کے اتحاد کے ذریعے قائم رکھی جاتی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محنت کش خواتین کا استحصال صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا طبقاتی مسئلہ ہے۔ جب تک سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام قائم ہے، تب تک محنت کش عورتوں کی حقیقی آزادی ممکن نہیں۔ اس جبر کا خاتمہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب محنت کش عورتیں اور مرد منظم ہو کر اس پورے استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کریں۔
سرگرمی کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ورکنگ ویمن فرنٹ بھٹہ مزدور خواتین کے درمیان مستقل تنظیمی کام کو آگے بڑھائے گا۔ عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل کو سمجھنا، انہیں منظم کرنا اور ان کی جدوجہد کو ایک وسیع انقلابی تحریک میں تبدیل کرنا اس جدوجہد کا بنیادی راستہ ہے۔
محنت کش عورتوں کی آزادی محض اصلاحات یا خیرات سے ممکن نہیں بلکہ ایک بنیادی سماجی تبدیلی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کش خواتین کی جدوجہد کو سرمایہ داری، جاگیرداری اور ہر قسم کے استحصالی ڈھانچے کے خاتمے کی جدوجہد کے ساتھ جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انقلاب ہی محنت کش عورتوں اور پورے مزدور طبقے کی حقیقی آزادی کا راستہ ہے۔
محنت کش عورتوں کی آزادی، انقلاب کے بغیر ناممکن
جاگیرداری اور سرمایہ داری مردہ باد
محنت کش عورتوں کی جدوجہد زندہ باد
انقلاب زندہ باد

عالمی یوم خواتین پر محنت کش خواتین کے ساتھ یکجہتیمحنت کش عورت محاذ 6 مارچ، 2026 کو رائیونڈ کے بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ ...
02/03/2026

عالمی یوم خواتین پر محنت کش خواتین کے ساتھ یکجہتی
محنت کش عورت محاذ 6 مارچ، 2026 کو رائیونڈ کے بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ عالمی یوم خواتین منائے گا۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی آزادی اور حقوق طبقاتی جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔ ہم مزدور خواتین کے ساتھ ان کے مسائل اور مشکلات کو سامنے لائیں گے اور جدوجہد کے حق میں آواز بلند کریں گے۔
تمام خواتین اور نوجوان کارکنان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس دن ہمارے ساتھ شامل ہوں اور مزدور خواتین کے ساتھ یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔ اپنی موجودگی سے جدوجہد کو مضبوط بنائیں اور حقوق کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں۔

آج محنت کش محاذ اور محنت کش عورت محاذ کی جانب سے بھٹہ مزدوروں کے ساتھ میٹنگ منعقد کی گئی، جس میں مزدوروں کو درپیش معاشی ...
01/03/2026

آج محنت کش محاذ اور محنت کش عورت محاذ کی جانب سے بھٹہ مزدوروں کے ساتھ میٹنگ منعقد کی گئی، جس میں مزدوروں کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل پر گفتگو کی گئی۔
میٹنگ میں کم اجرت، طویل اوقاتِ کار اور استحصال کے مسائل کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کی کمی اور بچوں کی تعلیم کے سنگین مسائل پر بھی بات کی گئی۔ محنت کش عورت محاذ نے خاص طور پر خواتین کے دوہرے استحصال، زچگی و صحت کے مسائل اور بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کے مسئلے کو اجاگر کیا۔
میٹنگ میں مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا گیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ 6 مارچ کو بھٹہ مزدور خواتین کے ساتھ خواتین کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایسی میٹنگز کو باقاعدگی سے منعقد کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محنت کش عورت محاذ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to محنت کش عورت محاذ:

Share