محنت کش عورت محاذ

محنت کش عورت محاذ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from محنت کش عورت محاذ, Nonprofit Organization, Lahore.

‎‎رپورٹ‎محنت کش عورت محاز ‎‎محنت کش عورت محاذ کے زیرِ اہتمام "محنت کش محاذ" کے موضوع پر ایک مطالعاتی نشست کا انعقاد کیا ...
31/07/2026


‎رپورٹ
‎محنت کش عورت محاز

‎محنت کش عورت محاذ کے زیرِ اہتمام "محنت کش محاذ" کے موضوع پر ایک مطالعاتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں کامریڈ اذکیٰ نے بطور مقرر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
‎کامریڈ اذکیٰ نے گفتگو کا آغاز محنت کش محاذ کے تعارف اور اس کی ضرورت سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش محاذ کا بنیادی مقصد مزدور، کسان اور دیگر محنت کش طبقات کو منظم کرکے طبقاتی جدوجہد کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سب سے زیادہ استحصال مزدور طبقے کا ہوتا ہے، اس لیے ان کی نظریاتی اور عملی تنظیم سازی انقلابی جدوجہد کا بنیادی تقاضا ہے۔
‎انہوں نے کسانوں کی تنظیم سازی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے سے وابستہ محنت کش عوام کو ان کے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کے لیے متحد کرنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مزدور اور کسان کا اتحاد ہی عوامی تحریک کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
‎گفتگو کے دوران کامریڈ اذکیٰ نے طلبہ کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ طلبہ کو محنت کش طبقے سے جڑ کر ان کے مسائل کو سمجھنا اور ان کی جدوجہد میں عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مزدور، کسان اور طلبہ کے درمیان مضبوط اتحاد ہی ایک انقلابی سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
‎نشست کے اختتام پر شرکاء نے موضوع سے متعلق سوالات کیے، جن کے جوابات کامریڈ اذکیٰ نے تفصیل سے دیے۔ یہ نشست شرکاء کے لیے محنت کش محاذ کی اہمیت، تنظیم سازی کے اصولوں اور مختلف عوامی طبقات کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں نہایت مفید ثابت ہوئی۔



30/07/2026

Organized by the Working Women Front, this introductory and theoretical session explores the history, political perspective, and organizational role of the National Students Federation (NSF) Pakistan.

The session discusses the historical significance of the student movement in Pakistan, the importance of democratic student politics, and the role of students in broader struggles for social justice and progressive change. It also examines the challenges facing students today, including the commercialization of education, restrictions on student organizing, unemployment, and the need for building a politically conscious student movement.

The discussion emphasizes the importance of ideological education, collective organization, and student participation in movements for democratic rights and social transformation.

Speakers: Comrade Maham & Comrade Dua

This recording is intended for students, young people, and anyone interested in understanding the role of student movements in Pakistan and the importance of organized political engagement.



Workers are the force that keeps society moving—but how can that force be transformed into organized collective power?Jo...
26/07/2026

Workers are the force that keeps society moving—but how can that force be transformed into organized collective power?

Join us for an important working women front's study circle", where we will discuss the significance of workers' unity, class struggle, and the role of collective organization in confronting exploitation and building a stronger movement.

🎙 Speaker: Azka Rashid
📅 Date: Sunday, July 26, 2026
🕘 Time: 9:00 PM (PKT)
💻 Venue: Online (Link will be shared)

Whether you are a student, worker, or someone interested in understanding the politics of labour and collective resistance, this session is an opportunity to deepen your perspective and engage in meaningful discussion.

Study. Organize. Transform.

محنت کش عورت محاذعورت کا سوال، فیمینسٹ تحریک اور انقلابی سیاستسیشن رپورٹمحنت کش عورت محاذ کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز "عورت...
22/07/2026

محنت کش عورت محاذ

عورت کا سوال، فیمینسٹ تحریک اور انقلابی سیاست

سیشن رپورٹ

محنت کش عورت محاذ کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز "عورت کا سوال، فیمینسٹ تحریک اور انقلابی سیاست" کے عنوان سے ایک تفصیلی نظریاتی و مطالعاتی سیشن منعقد کیا گیا۔ سیشن کی مقرر کامریڈ سمبل تھیں، جنہوں نے تاریخی مادیت، مارکسزم، ماؤازم اور کاروانِ ماؤازم کی نظریاتی دستاویز کی روشنی میں عورت کے سوال، فیمینسٹ تحریک کی تاریخ، پاکستان میں خواتین کی جدوجہد اور محنت کش عورت محاذ کی انقلابی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔

سیشن کا آغاز اس بنیادی نکتے سے کیا گیا کہ عورت کا سوال محض صنفی امتیاز یا قانونی برابری کا سوال نہیں بلکہ طبقاتی سماج، سرمایہ داری، جاگیرداری اور پدرشاہی کے باہمی تعلق سے جڑا ہوا ایک تاریخی اور سیاسی سوال ہے۔ مقرر نے واضح کیا کہ کاروانِ ماؤازم عورتوں کی تنظیم سازی کو مردوں کے خلاف جدوجہد کے طور پر نہیں بلکہ محنت کش مرد اور محنت کش عورت کی مشترکہ انقلابی جدوجہد کا لازمی حصہ سمجھتا ہے۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ محنت کش خواتین دوہرے استحصال کا شکار ہیں، اس لیے ان کی نظریاتی، سیاسی اور تنظیمی تعمیر ایک انقلابی ضرورت ہے، تاکہ وہ نہ صرف تحریک کا حصہ بنیں بلکہ اس کی قیادت بھی سنبھال سکیں۔

بعد ازاں عالمی فیمینسٹ تحریک کے تاریخی ارتقا کا جائزہ لیا گیا۔ پہلی لہر سے آغاز کرتے ہوئے خواتین کے قانونی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی، جبکہ دوسری لہر کے ابھار کو پہلی لہر کی کامیابیوں کے بعد پیدا ہونے والے نئے سماجی تضادات کے تناظر میں بیان کیا گیا۔ اس دوران انورادھا گاندھی کی کتاب Philosophical Trends in the Feminist Movement کو بنیادی حوالہ بناتے ہوئے لبرل، ریڈیکل، سوشلسٹ اور مارکسسٹ فیمینزم کے مختلف رجحانات، ان کی تاریخی خدمات اور طبقاتی حدود کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی اینجیلا ڈیوس، کلارا زٹکن، الیگزینڈرا کولونتائی اور فریڈرک اینگلز کے نظریات کی روشنی میں عورت کے سوال کو طبقاتی جدوجہد سے جوڑ کر سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مقرر نے صنعتی انقلاب، سرمایہ داری کے ارتقا اور عالمی جنگوں کے دوران عورت کی محنت کے بدلتے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ واضح کیا گیا کہ سرمایہ داری نے عورت کو اصولی برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ سستی محنت کے حصول کے لیے صنعت کا حصہ بنایا، جبکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ دارانہ ریاستوں نے "مثالی گھریلو عورت" اور "نیوکلیئر فیملی" کے تصور کو فروغ دے کر عورت کو دوبارہ گھریلو دائرے تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس پورے عمل کو سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی ضروریات اور عورت کی بلا اجرت گھریلو محنت سے جوڑتے ہوئے اس کا مارکسی تجزیہ پیش کیا گیا۔

سیشن کے اگلے حصے میں پاکستان میں خواتین کی تحریک کی تاریخ اور اس کے مختلف رجحانات پر گفتگو کی گئی۔ تقسیمِ ہند سے قبل کی اصلاحی تحریکوں، ویمن ایکشن فورم، عورت مارچ، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ، این جی اوز اور اسلامی فیمینزم سمیت مختلف رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ان تحریکوں نے خواتین کے کئی اہم مسائل کو نمایاں کیا، تاہم محنت کش خواتین کے طبقاتی سوال کو سرمایہ دارانہ اور نیم جاگیردارانہ نظام سے جوڑ کر حل کرنے میں ان کی نظریاتی و عملی حدود بھی موجود رہیں۔

سیشن کے اختتامی حصے میں کاروانِ ماؤازم کی دستاویز میں پیش کیے گئے محنت کش عورت محاذ کے تصور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ واضح کیا گیا کہ محنت کش عورت محاذ کا مقصد خواتین کو مردوں کے مقابل لا کھڑا کرنا نہیں بلکہ محنت کش خواتین کو نظریاتی طور پر منظم کرنا، ان میں سیاسی شعور پیدا کرنا، قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں طبقاتی انقلابی تحریک کا فعال اور فیصلہ کن حصہ بنانا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان جیسے نیم نوآبادیاتی اور نیم جاگیردارانہ سماج میں عورت کی حقیقی آزادی کو طبقاتی جدوجہد سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا، اور نہ ہی عورت کی مکمل نجات سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ممکن ہے۔

سیشن کے اختتام پر شرکاء کے ساتھ سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں فیمینزم، طبقاتی سیاست، عورتوں کی تنظیم سازی، انقلابی قیادت اور محنت کش عورت محاذ کے نظریاتی مؤقف پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ شرکاء نے سیشن کو انتہائی معلوماتی، نظریاتی اور فکری اعتبار سے مؤثر قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عورت کے سوال کو محض اصلاحات یا نمائندگی کے دائرے میں محدود رکھنے کے بجائے اسے طبقاتی جدوجہد اور انقلابی سیاست کے تناظر میں سمجھنے اور محنت کش خواتین کی منظم سیاسی قوت کی تعمیر کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔



Join us for an engaging circle "Working Women's Front", where we will discuss the role of working women in society, the ...
18/07/2026

Join us for an engaging circle "Working Women's Front", where we will discuss the role of working women in society, the forms of their exploitation, and the importance of building an organized movement capable of fighting for liberation and justice.
🗓 Date: Sunday, July 18, 2026
🕘 Time: 09:00 PM (PKT)
💻 Venue: Online (Link will be shared)
🎙 Speaker: Sumbal Maqsood
Come, study, organize, and transform.
NSF Pakistan
Study. Organize. Transform.

مزاحمتی ادبی محاذتعارفی و نظریاتی سیشنگزشتہ روز مزاحمتی ادبی محاذ کے زیرِ اہتمام "کاروانِ ماؤازم" کے موضوع پر ایک تفصیلی...
16/07/2026

مزاحمتی ادبی محاذ
تعارفی و نظریاتی سیشن
گزشتہ روز مزاحمتی ادبی محاذ کے زیرِ اہتمام "کاروانِ ماؤازم" کے موضوع پر ایک تفصیلی تعارفی و نظریاتی سیشن منعقد کیا گیا، جس سے کامریڈ منیر عباس نے خطاب کیا۔ سیشن کا مقصد شرکاء کو مزاحمتی ادبی محاذ کے نظریاتی مؤقف، ادبی ذمہ داریوں، تنظیمی سمت اور انقلابی ادب کے کردار سے روشناس کروانا تھا۔
کامریڈ منیر عباس نے اپنے سیشن میں واضح کیا کہ ادب کبھی بھی غیر جانبدار نہیں ہوتا بلکہ ہر عہد میں کسی نہ کسی طبقاتی مفاد کی نمائندگی کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام اپنے نظریات اور مفادات کو فروغ دینے کے لیے ادب اور ثقافت کو استعمال کرتا ہے، جبکہ انقلابی ادب محنت کش طبقے، محکوم قومیتوں، خواتین اور تمام مظلوم طبقات کی جدوجہد کو آواز دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی ادبی محاذ کا مقصد ایسے ادیبوں، شاعروں، مترجمین، محققین اور طلبہ کو منظم کرنا ہے جو ادب کو سماجی تبدیلی اور انقلابی جدوجہد کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ محاذ انقلابی نظریات کی ترویج، ترقی پسند ادبی روایت کی بحالی، نئی تخلیقی صلاحیتوں کی تربیت، مطالعے کے فروغ، ادبی نشستوں، مباحثوں، مطالعہ جاتی حلقوں اور اشاعتی سرگرمیوں کے ذریعے ایک مضبوط انقلابی ادبی تحریک کی تعمیر کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
سیشن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کے موجودہ سماجی، معاشی اور سیاسی بحران میں مزاحمتی ادب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس لیے نوجوان لکھنے والوں اور ادبی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل، طبقاتی استحصال، قومی جبر اور خواتین پر ہونے والے مظالم کو اپنی تحریروں کا موضوع بنائیں اور ادب کو عوامی مزاحمت کا ہتھیار بنائیں۔
سیشن کے اختتام پر شرکاء کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے گئے اور انہیں مزاحمتی ادبی محاذ کی آئندہ سرگرمیوں، مطالعاتی پروگراموں اور تنظیمی کام میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی۔

Join us for an inspiring Working Women front Study Circle on "Resistance Literary Forum."Literature has always been a po...
10/07/2026

Join us for an inspiring Working Women front Study Circle on "Resistance Literary Forum."
Literature has always been a powerful weapon in the struggle against oppression. This study circle will explore the relationship between literature, resistance, and revolutionary consciousness, examining how writers, poets, and intellectuals have contributed to movements for social change and liberation.
Whether you are passionate about literature, politics, or revolutionary ideas, this session offers an opportunity to read, discuss, and collectively deepen our understanding.
🗓 Sunday, July 12, 2026
🕘 9:00 PM
💻 Online (Link will be shared)
🎙 Speaker: Dr. Munir Abbas Sipra
Study. Organize. Transform. ✊

محنت کش عورت محاز سیشن؛ کاروان ماؤازم محنت کش عورت محاذ کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز "نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان (NSF Pak...
07/07/2026

محنت کش عورت محاز
سیشن؛ کاروان ماؤازم
محنت کش عورت محاذ کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز "نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان (NSF Pakistan)" کے تعارف اور طلبہ سیاست کے موضوع پر ایک تفصیلی نظریاتی و تنظیمی سیشن منعقد کیا گیا۔ سیشن کا مقصد شرکاء کو نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کی تاریخ، نظریاتی بنیادوں، تنظیمی ڈھانچے، طلبہ تحریک میں اس کے کردار اور موجودہ دور میں طلبہ سیاست کی اہمیت سے روشناس کروانا تھا۔ سیشن میں مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، نوجوانوں اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔

سیشن کا آغاز تعارفی گفتگو سے کیا گیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طلبہ کسی بھی معاشرے میں سماجی اور سیاسی تبدیلی کی ایک اہم قوت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ترقی پسند اور انقلابی تحریکوں میں طلبہ نے ہمیشہ ایک فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ اسی تناظر میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کی سیاسی و نظریاتی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ نشست منعقد کی گئی۔

سیشن کی مقررین کامریڈ ماہم اور کامریڈ دعا تھیں۔ کامریڈ ماہم نے اپنی گفتگو کا آغاز نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تاریخی روایت سے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ NSF پاکستان کی طلبہ تحریک کی ایک اہم اور تاریخی تنظیم ہے جس نے مختلف ادوار میں طلبہ کے جمہوری حقوق، تعلیمی مسائل، سماجی انصاف اور ترقی پسند سیاست کے فروغ کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ NSF صرف طلبہ کے فوری مسائل تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کو وسیع تر سماجی اور سیاسی جدوجہد سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔

کامریڈ ماہم نے موجودہ تعلیمی نظام کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں تعلیم مسلسل مہنگی اور عام عوام کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی، فیسوں میں اضافہ، تعلیمی سہولیات کی کمی، طلبہ یونینز پر پابندی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری جیسے مسائل طلبہ کی زندگی کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل کا مقابلہ صرف اجتماعی جدوجہد اور منظم طلبہ تحریک کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں کامریڈ دعا نے NSF پاکستان کے نظریاتی اور تنظیمی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان طلبہ کو محض تعلیمی مسائل تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں سماج، سیاست، معیشت اور طبقاتی تضادات کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ تحریک کا مقصد ایسے باشعور نوجوان تیار کرنا ہے جو مستقبل میں محنت کش عوام کی جدوجہد اور سماجی تبدیلی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

کامریڈ دعا نے طلبہ سیاست کے خلاف پھیلائے جانے والے مختلف تعصبات اور غلط فہمیوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طلبہ سیاست درحقیقت نوجوانوں کی سیاسی تربیت، قیادت سازی اور جمہوری شعور کی نشوونما کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں جمہوری ماحول کے قیام کے لیے طلبہ کی نمائندہ تنظیموں کا وجود ناگزیر ہے۔

سیشن کے دوران شرکاء نے مختلف سوالات بھی اٹھائے جن میں طلبہ یونینز کی بحالی، موجودہ طلبہ تحریک کے چیلنجز، خواتین طلبہ کا کردار، نظریاتی سیاست کی اہمیت اور نوجوانوں کی تنظیم سازی جیسے موضوعات شامل تھے۔ مقررین نے ان سوالات کے تفصیلی جوابات دیے اور شرکاء کے ساتھ بامعنی تبادلۂ خیال کیا۔

گفتگو کے بعد شرکاء کو NSF پاکستان کی سرگرمیوں، تنظیمی ڈھانچے اور مختلف شعبہ جات میں جاری کام کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ طلبہ کو صرف اپنی انفرادی کامیابیوں تک محدود رہنے کے بجائے سماجی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اجتماعی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

سیشن کے اختتام پر شرکاء کو مطالعے، نظریاتی تربیت اور تنظیمی سرگرمیوں میں فعال شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنے کے لیے باشعور، منظم اور متحرک طلبہ تحریک کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ شرکاء نے سیشن کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی نظریاتی اور تعلیمی نشستوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ نوجوان نسل میں سیاسی شعور اور تنظیمی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔

Join us for an engaging NSF Study Circle on "National Students Federation: An Introduction."This session will provide an...
04/07/2026

Join us for an engaging NSF Study Circle on "National Students Federation: An Introduction."
This session will provide an overview of the history, principles, objectives, and contemporary relevance of the National Students Federation. Participants will have the opportunity to learn about the organization’s role in student politics, democratic struggles, and social transformation.
🗓 Sunday, July 5, 2026
🕙 10:00 PM
💻 Online (Link will be shared)
🎙 Speakers: comrade Dua Zahra & comrade Maham Batool
Study. Organize. Transform. ✊

02/07/2026

Title:
Karwan-e-Maoism: Ideology, Organization and Social Change in Pakistan (Comrade Ahmad Khan Nadeem)

In this detailed educational session organized by (Working Women Front), Comrade Ahmad Khan Nadeem presents an introduction to Karwan-e-Maoism, its ideological foundations, political orientation, and organizational perspective in the context of contemporary Pakistan.
The discussion explores the principles of Marxism, Leninism, and Maoism, the nature of class struggle, historical materialism, and the socio-economic realities facing Pakistan today. The session also examines issues such as inflation, unemployment, exploitation of the working class, women's oppression, and the role of youth and students in social transformation.
Special attention is given to the women's question, highlighting the relationship between patriarchy, class exploitation, and the struggle for women's liberation. The speaker emphasizes the importance of political education, organization-building, and collective action in creating meaningful social change.
The session concludes with introductions to various mass fronts, including the Working Women Front, the Resistance Literary Front, and the Workers' Front, along with a discussion on their objectives and ongoing activities.
Speaker: Comrade Ahmad Khan Nadeem
Organized by: (Working Women Front)
Topic: Karwan-e-Maoism: Ideology, Organization and Social Change in Pakistan

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محنت کش عورت محاذ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to محنت کش عورت محاذ:

Shortcuts

Share