26/09/2025
بانیٔ انجمن طلباء اسلام، استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی جمیل احمد نعیمی نوَّر اللّٰہ مرقدہٗ 🥀
"ولادت و مولد":- 12فروری 1936ء بمطابق18 ذیقعدہ 1354ء کو انبالہ میں آپ کی ولادت ہوئی، جبکہ آپ کا آبائی شہر سہارنپور ہے مگر آپ کے جد امجد نے خواجہ توکل شاہ انبالوی رحمہ اللّٰہ کی سرزمین مشرقی پنجاب انبالہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ والد کا نام جناب قادر بخش تھا اور شیخ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
"حصولِ علم":- پانی پت کے مشہور قاری جناب علامہ قاری محمد اسماعیل رحمہ اللّٰہ سے ناظرہ قران مجید پڑھا، مڈل تک دنیاوی تعلیم حاصل کی، مولانا مسعود احمد دہلوی رحمہ اللہ سے بہار شریعت حصہ اول پڑھا، مولانا قاضی زین العابدین نقشبندی ، مولانا ارشاد صاحب اور مولانا وارث چشتی رحمہم اللّٰہ سے صرفِ میر اور نحوِمیر وغیرہ دیگر کتب پڑھیں، بعد ازاں 1952ءتا1960ء جامعہ مخزن عربیہ بحرالعلوم آرام باغ میں تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی رحمہ اللّٰہ سے بقیہ کتب و فنون اور علم حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی (اسی مدرسے میں پاکستان کے سابق صدر ممنون حسین صاحب نے بھی اپ کے ساتھ موقوف علیہ تک کتب پڑھیں)
15ءجون1960ء کو سند الفراغ اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔
"تدریسی خدمات":- آپ نے زمانۂ طالب علمی سے ہی تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا ، دارالعلوم مظہریہ آرام باغ اور دارالعلوم قادریہ کراچی میں ایک ایک سال تدریس فرمائی، پھر اپنے مادر علمی دارالعلوم مخزن عربیہ آرام باغ میں اپنے استاذ محترم حضرت تاج العلماء رحمہ اللّٰہ کے حکم پر تدریس شروع کی اور موقوف علیہ تک کتب پڑھاتے رہے، بعد ازاں 1973 میں دارالعلوم نعیمیہ ٹرسٹ قائم ہوا تو اس جامعہ میں مسند تدریس کو زینت بخشتے ہوئے ناظم تعلیمات اور استاذالحدیث کے منصب پر فائز رہے ۔
"بیعت":- قطب مدینہ علامہ ضیاء الدین مدنی رحمہ اللّٰہ سے شرف بیت حاصل تھا اور انہی سے ہی دلائل الخیرات شریف کی اجازت بھی پائی۔
"قلمی خدمات":- تدریسی سیاسی اور دیگر بہت سی مصروفیات کے باوجود مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا تقریبا 30 سے زائد کتب وسائل مطبوع ہیں، بلکہ متعدد لکھنے والوں سے بھی کتابیں لکھوا کر ان کے ناموں کے ساتھ شائع کروائیں۔
"سعاتِ حج و زیارت":- 1963ء میں پہلا حج ادا کیا۔
(اُسی سال غلاف کعبہ پاکستان سے گیا تھا، جو علماء علامہ عبدالحامد بدایونی رحمہ اللّٰہ کی زیر قیادت ایک وفد کی صورت میں غلاف کعبہ لے کر گئے تھے ان میں آپ بھی شامل تھے)
دوسری مرتبہ 1980ء میں حج و زیارت کی سعادت حاصل ہوئی نیز آپ نے تقریباً10 مرتبہ بغرضِ عمرہ سفرِ زیارت حرمین شریفین کی سعادت حاصل کر چکے ہیں
"امامت و خطابت":- 1956ء سے تاحیات سبز مسجد صرافہ بازار میں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے، علاوہ ازیں بے شمار محافل و مجالس میں بھی اپنی خطابت کے جوہر دکھائے۔
"انجمن طلباء اسلام کا قیام"
•1962ء میں انجمن محبان اسلام کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دی، بعدازاں 1968ء کو اس تحریک کا نام بدل کر انجمن طلبہ اسلام ( ATI ) رکھ دیا
(الحمدللّٰہ تعالی یہ تنظیم پاکستان کے کالجز اور یونیورسٹیز میں اسلام کی بہترین تحریک بن چکی ہے، اللّٰه کریم اس تحریک کو مزید عروج اور ترقی عطا فرمائے)
"عـہدے اور منـاصب":-
•جنوری 1971ء تا مارچ1974ء جماعت اہل سنت کے ناظم اعلی رہے •1971ءتا1972ء جمیعت علماء پاکستان سندھ کے ناظم رہے نیز جمیعت علماء پاکستان کی مجلس عاملہ شوری کے رکن رہے۔
• آپ ایک عرصہ تک سپریم کونسل جمعیت علماء پاکستان کے چیئرمین جبکہ 1987ءتا1995ء مرکزی صدر رہے۔
•ماہنامہ ترجمان اہل سنت کے مدیر اعلی بھی رہے۔
•1997ء میں قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمہ اللہ نے اپ کو ورلڈ اسلامک مشن کا ٹرسٹی مقرر کیا۔
•دارالعلوم نعیمیہ کراچی کے مینیجنگ ٹرسٹی، ناظم تعلیمات اور استاذ الحدیث کے مناصب پر فائز رہے۔
علاوہ ازیں تحریک ختم نبوت1974ء میں بھی اپنے پرجوش خطابات کے ذریعے بہترین خدمات سر انجام دیں نیز تحریک نظامِ مصطفیٰﷺ میں بھی قائدانہ کردار کرتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
"تبلیغی دورے":- •1961ء میں دیومن اور گواکو کا تین ماہ کا تبلیغی دورہ کیا (اس دورے میں اپ کے دست مبارک پر متعدد ہندو اور عیسائی مشرف باسلام ہوئے)، •1965ء میں جہاد کشمیر کے حوالے سے مجاہدین کی مالی اعانت کے لیے علامہ عبدالحامد بدایونی رحمہ اللّٰہ کی زیر قیادت چونڈا اور کشمیر کے مختلف شہروں کا دورہ کیا، •1981ء میں سری لنکا، •1982ء کو ایران، •اگست 1984ء کو انگلینڈ اور •1985ء کو مظفرآباد کشمیر کا دورہ فرمایا۔
•1987 کو علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمہ اللّٰہ کی قیادت میں منعقد بغداد کی کانفرنس میں شریک ہوئے، اس کے علاوہ ہر سال رمضان المبارک میں عرب امارات کے تبلیغی دورے پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔
آپ کی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں ہی محترم جناب ملک محبوب الرسول قادری صاحب نے جوھر آباد سے "سہ ماھی انوارِ رضا" کا خصوصی شمارہ بعنوان: "حضرت مفتی جمیل احمد نعیمی نمبر" شائع کر دیا تھا،
"وصال پر ملال":- یکم ربیع الثانی1442ھ بمطابق 17نومبر 2020ء کو وصال فرمایا
2ربیع الثانی بروز بدھ مفتئ اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب حفظہ اللّٰہ کی اقتدا میں دن 2بجے دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں اپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی، محمد شاہ قبرستان کراچی میں سپرد خاک ہوئے(سقى اللّٰه ثراہُ وجعل الجنة مثواه و نَوَّرَاللّٰه مرقده)
(مأخذ: ضیاء جمیل, تعارف علماء اہلسنت از مفتی محمد صدیق ہزاروی حفظہ اللّٰہ، زاویۂ نظر مفتئ اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن26.11.2020،
حضرت مفتی جمیل احمد نعیمی نمبر" سہ ماھی انوار رضا، جوھرآباد))
#پیراعجازاشرفی