08/10/2026
نیوز الرٹ: دریائے سندھ کا رخ بدلا، لاڑکانہ کے حفاظتی پشتوں کو خطرہ!
لاڑکانہ: دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر سکھر-لاڑکانہ (SL) بند اور موریا لوپ بند کے قریب دریائے سندھ کے حالیہ تیز بہاؤ اور بدلتے رخ کے باعث ایک بڑا جزیرہ بن گیا ہے، جو اب حفاظتی پشتوں کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق جزیرہ مسلسل بڑا ہورہا ہے اور خدشہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ حفاظتی بند کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
نارتھ دادو ڈویژن کے سپرنٹنڈنگ انجینئر جمیل احمد سانگی نے پاکستانی میڈیا ڈان نیوز کے نمائندے ایم بی کلہوڑو کو بتایا کہ یہ جزیرہ اب مزید بڑا ہوگیا ہے اور خدشہ یہ بھی ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ حفاظتی بند کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دریائے سندھ کے بہاؤ میں تبدیلی کے بعد محکمہ آبپاشی کو اُمید تھی کہ دریا اس جزیرے کو کاٹ کر اپنا راستہ بنا لے گا، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے جزیرہ یہ مزید پھیل گیا اور سیلابی موسم میں دریائی بہاؤ کے راستے میں ایک نئی رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر جمیل احمد سانگی
آبپاشی کے ماہرین کے مطابق عام طور پر پانی اترنے کے دوران دریا زیادہ نقصان پہنچاتا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے، جہاں سکھر-لاڑکانہ بند اور موریا لوپ بند ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
محکمہ آبپاشی کے اسسٹنٹ انجینئر ندیم جعفری کے مطابق ماہرین کی سفارش پر موریا لوپ بند کے قریب پانی کا رخ موڑنے کے لیے بنایا گیا ہاکی نما اسپَر بھی دریائے سندھ کے شدید دباؤ اور بہاؤ میں تبدیلی کے باعث ناکام ہوگیا۔
حکام کے مطابق نارتھ دادو ڈویژن میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر 86 میل حفاظتی پشتوں کے علاوہ 60 میل طویل دوسری دفاعی لائن بھی موجود ہے۔
ذرائع Dawn news کے مطابق موریا، آباد اور ہاکڑہ کے حفاظتی پشتے انتہائی کمزور ہیں، جبکہ موریا بند ایک دیرینہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ حفاظتی پشتوں میں شگاف یا ناکامی کی صورت میں زرعی زمینوں، دیہات اور شہری آبادیوں میں بڑے پیمانے پر سیلابی پانی داخل ہوسکتا ہے۔
دریائے سندھ کا بدلتا رخ کیا آنے والے دنوں میں بڑا خطرہ بن سکتا ہے؟
آپ کے خیال میں حکومت اور محکمہ آبپاشی کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کیا قدم اٹھانا چاہیے؟
اپنی رائے کمنٹ کریں اور یہ خبر متعلقہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے Share ضرور کریں۔