03/03/2026
ہم نے مرغابیوں کا گریہ نہیں دیکھا۔ ہم نے زنجیرِ در کا دامن سے لپٹنا نہیں دیکھا۔ ہم نے مسجد نبوی کی دیواروں کا بلند ہونا نہیں دیکھا۔ جنازہ کی حرمت میں مسجد کا جھکنا نہیں دیکھا۔ عصر عاشوہ ٦١ ھ میں آسمان کا سرخ ہونا نہیں دیکھا نہ ہی زمین پر ہر پتھر کے نیچے سے خون کا ابلنا دیکھا ہے۔ یہ سب ہم نے کتابوں میں پڑھا، یقین کیا، منبروں سے سنا، بیان کیا یہ ہم نے آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ لیکن ہاں، ہم نے 11 ماہ رمضان کو علی علیہ السلام کے ایک پیروکار کی شہادت پر قلوب کی کیفیت بدلتے دیکھی ہے۔ ہم نے دنیا کے ہر کونے میں افسردہ چہرے دیکھے ہیں۔ ہم نے فضا میں درد محسوس کیا ہے ہم نے یہ سب دیکھا ہے۔
جب امیر المومنین ع کے ایک سچے پیروکار کی موت پر پر یہ سب ہوا، تو وہ جو خود امیر المومنین ہیں، امام العارفین ہیں۔ جن کا لقب سید الشہداء ہے۔ جو ضامنِ آہو ہیں۔ جو خدا کی برگزیدہ ترین مخلوق ہیں۔ خدا کے پاکیزہ ترین بشر ہیں، ان کی شہادتوں پر عالمین الٹ پلٹ گئے ہونگے۔ ہاں امام حسین علیہ السلام کے حلق پر خنجر چلنے سے افلاک میں زلزلے آئے ہونگے۔ علی اصغر ع کے ناحق خون پر زمین و آسمان نے گریہ کیا ہو گا۔ سیدہ زینب سلام علیھا کے واویلا پر تلہ زینبیہ بلند ہوا ہو گا۔ امیر المومنین ع کے سر پر ضربت سے ندائے آسمانی بلند ہوئی ہو گی۔
رہبر معظم کے ہزاروں احسانوں میں سے ایک احسان یہ بھی ہے۔ انہوں نے غیر معصوم ہوتے ہوئے، ہمیں یاد دہانی کروائی کہ ایک خاکی، خاطی انسان اگر ایسا ہے تو خدا کی حجتیں جب اس زمین پر سانس لیتی ہونگی، چلتی پھرتی ہونگی تو کیا جاہ و جلال، کیا حشم و جمال ہو گا۔ اپنی زندگی اور شہادت سے رہبر معظم نے ہم اکیسویں صدی کے، ہجر کے مارے لوگوں کو، دیدار کی لذت سےنا آشنا لوگوں کو، فراق میں تڑپتے عشاق کو اپنے ممدوح کی ایک ہلکی سی جھلک ضرور دی ہے۔ خدا رسول اکرم ص کے آخری بیٹے کو اذنِ ظہور دے، ہم نے اس زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ ہم امیر المومنین ع کے اس فرزند، خدا کی آخری حجت کو اس زمین پر اپنے درمیان دیکھنا چاہتے ہیں، خدا کی رضا سے دیکھنا چاہتے ہیں