Zia e Adab - ضیائے ادب

Zia e Adab - ضیائے ادب Best Page of Classical and Modern Day Poetry on Internet.
(1)

عید مبارک ! 💖
27/05/2026

عید مبارک ! 💖

ChatGPT trying to put my personality in one frame... 🤩Sb se ziada khushi es baat ki hui k ChatGPT ne Mirza Ghalib ko mer...
26/05/2026

ChatGPT trying to put my personality in one frame... 🤩
Sb se ziada khushi es baat ki hui k ChatGPT ne Mirza Ghalib ko meri shakhsiyat se jor k dikhaya ! 😍

12/05/2026

نشر مکرر۔۔۔

11/05/2026

نشر مکرر۔۔۔

علامہ اقبال: ایک تعارف (نشر مکرر)شیخ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد کشمیری برہمن تھے جو ...
15/04/2026

علامہ اقبال: ایک تعارف (نشر مکرر)

شیخ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد کشمیری برہمن تھے جو بعد ازاں اسلام قبول کر کے سیالکوٹ میں آباد ہوئے۔ ان کے والد شیخ نور محمد اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے، مگر دینداری اور صحبتِ علما کا ذوق رکھتے تھے۔ میر حسن سیالکوٹی نے انہیں ’’ان پڑھ فلسفی‘‘ کہا تھا۔

اقبال نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور تمام امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران پروفیسر ٹی۔ ڈبلیو آرنلڈ سے ملاقات نے ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان گئے، کیمبرج اور میونخ سے فلسفہ میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں اور ’’ایران میں ما بعد الطبیعات کا ارتقاء‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ مکمل کی۔

اقبال: عہد شناس بھی، عہد ساز بھی

اقبال ایک طرف اپنے عہد کے نبّاض تھے تو دوسری طرف اس کے معمار بھی۔ ان کی شاعری ایک مخصوص اور منظم نظامِ فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کے عمیق مشاہدے کا نتیجہ ہے۔ اقبال اس نتیجے پر پہنچے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کا زوال دونوں تہذیبوں میں مختلف صورتوں میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اور اس زوال کا تدارک ناگزیر ہے۔
خصوصاً مشرق کی زبوں حالی انہیں بے چین رکھتی تھی۔ وہ نہ صرف اس انحطاط کے اسباب سے آگاہ تھے بلکہ اس کے علاج سے بھی واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے انسانی زندگی کی اصلاح اور اس کی ترقی کو اپنی شاعری کا مقصد بنایا۔

عظمتِ آدم اور خودساختہ جنت کا تصور

اقبال عظمتِ آدم کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ وہ کسی عطا کردہ یا وراثتی جنت کے قائل نہیں بلکہ اس جنت کو زیادہ زندگی آفریں سمجھتے ہیں جو انسان اپنے خونِ جگر سے خود تخلیق کرے۔ ان کے نزدیک زندگی میں حقیقی انقلاب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان کے باطن میں انقلاب برپا نہ ہو، اور کوئی نئی دنیا اس وقت تک خارجی وجود اختیار نہیں کر سکتی جب تک وہ انسانوں کے ضمیر میں تشکیل نہ پا جائے۔

مغرب پر تنقید اور سوزِ عشق کی ضرورت

اقبال مغربی تہذیب کو روحانی اعتبار سے بیمار تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مغرب کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی عقل، ہوس و حرص کی غلامی سے آزاد ہو کر ادب خوردۂ دل نہ بن جائے۔ اور یہ منزل سوزِ عشق کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔

اقبال کا تصورِ عشق

اقبال کا عشق، اردو شاعری اور صوفیانہ روایت کے مروجہ عشق سے مختلف ہے۔ وہ اس عشق کے قائل ہیں جو آرزوؤں کو وسعت دے، عمل کو جنم دے اور حیات و کائنات کو مسخر کرنے کی قوت رکھتا ہو۔ ان کے نزدیک عشق کو عمل سے استحکام ملتا ہے، عمل کے لئے یقین ضروری ہے، اور یقین علم سے نہیں بلکہ عشق سے پیدا ہوتا ہے۔
اقبال عشق، علم اور عقل کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں یعنی ایک کے بغیر دوسرا نامکمل ہے۔

خودی: اقبال کا مرکزی تصور

عشق کے بعد اقبال کی سب سے اہم شعری اصطلاح خودی ہے۔ خودی سے مراد وہ اعلیٰ انسانی صفات ہیں جن کی بنا پر انسان اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز ہوا۔ اس خودی کی تکمیل عشق کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ عشق ہی خودی کو جِلا بخشتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے قوت حاصل کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق اور علم کی آمیزش سے فرد کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر ممکن ہوتی ہے۔

حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد

اقبال کی شاعری بنیادی طور پر حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتی ہے۔ بعض مقامات پر تو یہ جدوجہد حصولِ مقصد کا ذریعہ نہیں بلکہ خود مقصد بن جاتی ہے:

اقبال: شاعر بھی، فلسفی بھی

اقبال بیک وقت شاعر، فلسفی، مصلحِ قوم، سیاست دان اور عالم تھے، مگر ان کی شاعرانہ شخصیت نے ان کے تمام اوصاف کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ انہوں نے اردو شاعری کی لسانیات میں گراں قدر اضافہ کیا۔ نظم ہو یا غزل—دونوں اصناف میں اقبال نے نیا ذائقہ، نیا آہنگ اور نیا قرینہ متعارف کرایا۔
ان کے شعری مضامین کبھی ان کے غنائی حسن پر غالب نہیں آئے۔ ان کی نظموں میں نغمگی، والہانہ پن اور روحانی حرارت نمایاں ہے۔ اقبال کی روایت ایسی توانائی رکھتی ہے جس میں آج بھی امکانات کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔

ادبی سفر اور قومی شاعری

اقبال نے کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا۔ انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں ان کی نظموں نے انہیں شہرت بخشی۔ ’’نالۂ یتیم‘‘، ’’شکوہ‘‘، ’’خضرِ راہ‘‘، ’’طلوعِ اسلام‘‘ اور فارسی مثنویات اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی نے ان کے فکری مقام کو مستحکم کر دیا۔

آخری ایام اور وفات

زندگی کے آخری برس بیماری اور گھریلو مشکلات میں گزرے۔ 21 اپریل 1938ء کو یہ مردِ درویش اس دنیا سے رخصت ہوا، مگر اپنی فکر، شاعری اور پیغام کو ہمیشہ کے لئے زندہ چھوڑ گیا۔

اقبال کا ادبی و فکری مقام

اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو یأس و قنوط سے نکال کر رجائیت، ولولہ اور حیات آفرینی عطا کی۔ ان کے یہاں فکر اور جذبہ اس طرح یکجا ہیں کہ فلسفہ بھی دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
میرؔ اگر قاری کو اپنا معتقد بناتے ہیں، غالبؔ مرعوب و مسحور کرتے ہیں تو اقبالؔ اپنے قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔۔۔

- ضیاءالرحمن

علامہ اقبال: ایک تعارف

شیخ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد کشمیری برہمن تھے جو بعد ازاں اسلام قبول کر کے سیالکوٹ میں آباد ہوئے۔ ان کے والد شیخ نور محمد اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے، مگر دینداری اور صحبتِ علما کا ذوق رکھتے تھے۔ میر حسن سیالکوٹی نے انہیں ’’ان پڑھ فلسفی‘‘ کہا تھا۔

اقبال نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور تمام امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران پروفیسر ٹی۔ ڈبلیو آرنلڈ سے ملاقات نے ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان گئے، کیمبرج اور میونخ سے فلسفہ میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں اور ’’ایران میں ما بعد الطبیعات کا ارتقاء‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ مکمل کی۔

اقبال: عہد شناس بھی، عہد ساز بھی

اقبال ایک طرف اپنے عہد کے نبّاض تھے تو دوسری طرف اس کے معمار بھی۔ ان کی شاعری ایک مخصوص اور منظم نظامِ فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کے عمیق مشاہدے کا نتیجہ ہے۔ اقبال اس نتیجے پر پہنچے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کا زوال دونوں تہذیبوں میں مختلف صورتوں میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اور اس زوال کا تدارک ناگزیر ہے۔
خصوصاً مشرق کی زبوں حالی انہیں بے چین رکھتی تھی۔ وہ نہ صرف اس انحطاط کے اسباب سے آگاہ تھے بلکہ اس کے علاج سے بھی واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے انسانی زندگی کی اصلاح اور اس کی ترقی کو اپنی شاعری کا مقصد بنایا۔

عظمتِ آدم اور خودساختہ جنت کا تصور

اقبال عظمتِ آدم کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ وہ کسی عطا کردہ یا وراثتی جنت کے قائل نہیں بلکہ اس جنت کو زیادہ زندگی آفریں سمجھتے ہیں جو انسان اپنے خونِ جگر سے خود تخلیق کرے۔ ان کے نزدیک زندگی میں حقیقی انقلاب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان کے باطن میں انقلاب برپا نہ ہو، اور کوئی نئی دنیا اس وقت تک خارجی وجود اختیار نہیں کر سکتی جب تک وہ انسانوں کے ضمیر میں تشکیل نہ پا جائے۔

مغرب پر تنقید اور سوزِ عشق کی ضرورت

اقبال مغربی تہذیب کو روحانی اعتبار سے بیمار تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مغرب کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی عقل، ہوس و حرص کی غلامی سے آزاد ہو کر ادب خوردۂ دل نہ بن جائے۔ اور یہ منزل سوزِ عشق کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔

اقبال کا تصورِ عشق

اقبال کا عشق، اردو شاعری اور صوفیانہ روایت کے مروجہ عشق سے مختلف ہے۔ وہ اس عشق کے قائل ہیں جو آرزوؤں کو وسعت دے، عمل کو جنم دے اور حیات و کائنات کو مسخر کرنے کی قوت رکھتا ہو۔ ان کے نزدیک عشق کو عمل سے استحکام ملتا ہے، عمل کے لئے یقین ضروری ہے، اور یقین علم سے نہیں بلکہ عشق سے پیدا ہوتا ہے۔
اقبال عشق، علم اور عقل کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں یعنی ایک کے بغیر دوسرا نامکمل ہے۔

خودی: اقبال کا مرکزی تصور

عشق کے بعد اقبال کی سب سے اہم شعری اصطلاح خودی ہے۔ خودی سے مراد وہ اعلیٰ انسانی صفات ہیں جن کی بنا پر انسان اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز ہوا۔ اس خودی کی تکمیل عشق کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ عشق ہی خودی کو جِلا بخشتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے قوت حاصل کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق اور علم کی آمیزش سے فرد کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر ممکن ہوتی ہے۔

حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد

اقبال کی شاعری بنیادی طور پر حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتی ہے۔ بعض مقامات پر تو یہ جدوجہد حصولِ مقصد کا ذریعہ نہیں بلکہ خود مقصد بن جاتی ہے:

اقبال: شاعر بھی، فلسفی بھی

اقبال بیک وقت شاعر، فلسفی، مصلحِ قوم، سیاست دان اور عالم تھے، مگر ان کی شاعرانہ شخصیت نے ان کے تمام اوصاف کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ انہوں نے اردو شاعری کی لسانیات میں گراں قدر اضافہ کیا۔ نظم ہو یا غزل—دونوں اصناف میں اقبال نے نیا ذائقہ، نیا آہنگ اور نیا قرینہ متعارف کرایا۔
ان کے شعری مضامین کبھی ان کے غنائی حسن پر غالب نہیں آئے۔ ان کی نظموں میں نغمگی، والہانہ پن اور روحانی حرارت نمایاں ہے۔ اقبال کی روایت ایسی توانائی رکھتی ہے جس میں آج بھی امکانات کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔

ادبی سفر اور قومی شاعری

اقبال نے کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا۔ انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں ان کی نظموں نے انہیں شہرت بخشی۔ ’’نالۂ یتیم‘‘، ’’شکوہ‘‘، ’’خضرِ راہ‘‘، ’’طلوعِ اسلام‘‘ اور فارسی مثنویات اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی نے ان کے فکری مقام کو مستحکم کر دیا۔

آخری ایام اور وفات

زندگی کے آخری برس بیماری اور گھریلو مشکلات میں گزرے۔ 21 اپریل 1938ء کو یہ مردِ درویش اس دنیا سے رخصت ہوا، مگر اپنی فکر، شاعری اور پیغام کو ہمیشہ کے لئے زندہ چھوڑ گیا۔

اقبال کا ادبی و فکری مقام

اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو یأس و قنوط سے نکال کر رجائیت، ولولہ اور حیات آفرینی عطا کی۔ ان کے یہاں فکر اور جذبہ اس طرح یکجا ہیں کہ فلسفہ بھی دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
میرؔ اگر قاری کو اپنا معتقد بناتے ہیں، غالبؔ مرعوب و مسحور کرتے ہیں تو اقبالؔ اپنے قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔۔۔

- ضیاءالرحمن

15/04/2026

کلامِ غالب بہ زبانِ غالب

گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے

- مرزا غالب (1797 - 1869)

Mirza Ghalib Poetry | Mirza Ghalib AI Video Poetry | Urdu Classical Poetry | Zia e Adab

شاہ عالم ثانی: ایک تعارف۔۔۔شاہ عالم ثانی، جن کا اصل نام مرزا عبداللہ عرف علی گوہر تھا، 25 جون 1728ء کو دہلی (شاہجہان آبا...
14/04/2026

شاہ عالم ثانی: ایک تعارف۔۔۔

شاہ عالم ثانی، جن کا اصل نام مرزا عبداللہ عرف علی گوہر تھا، 25 جون 1728ء کو دہلی (شاہجہان آباد) میں پیدا ہوئے۔ وہ مغلیہ خاندان کے سترہویں بادشاہ اور عالمگیر ثانی کے فرزند تھے۔ ان کی پیدائش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں شاہی وقار تو موجود تھا مگر اقتدار کی حقیقت درباری سازشوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھی۔ بچپن میں انہیں لال میاں اور مرزا بلاقی بھی کہا جاتا تھا۔

اگرچہ وہ قید و بند کے ماحول میں پلے، مگر ان کی تعلیم شاہی روایت کے مطابق نہایت اعلیٰ درجے کی ہوئی۔ فارسی، اردو، ہندی اور ترکی زبانوں پر انہیں عبور حاصل تھا، جو بعد میں ان کی ادبی شخصیت کے لیے بنیاد بنا۔

ولی عہدی، سازشیں اور جلا وطنی

جب ان کے والد عالمگیر ثانی تخت نشین ہوئے تو مرزا عبداللہ ولی عہد قرار پائے، مگر دربار کے طاقتور امراء خصوصاً عمادالملک کی سازشوں نے ان کی زندگی کو خطرات سے بھر دیا۔ حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے وہ دہلی سے فرار ہو کر اودھ پہنچے، جہاں نواب شجاع الدولہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

بعد ازاں وہ الہ آباد گئے، جہاں محمد قلی خان نے انہیں بنگال پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا۔ پہلی مہم ناکام رہی، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور دوبارہ کوشش کی۔ اسی دوران انہیں اپنے والد کے قتل کی خبر ملی، جس کے بعد انہوں نے 1759ء میں خود کو بادشاہ اعلان کر دیا۔

تخت نشینی اور مسلسل ناکامیاں

شاہ عالم ثانی کی عملی حکومت کا آغاز 1760ء میں ہوا، مگر ان کی بادشاہت ابتدا ہی سے مشکلات میں گھری رہی۔ بہار اور بنگال میں انگریزوں کے خلاف ان کی مہمات کامیاب نہ ہو سکیں۔ پٹنہ کے قریب شکست کے بعد وہ انگریزوں کے زیر اثر آ گئے۔

1764ء کی جنگِ بکسر ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، جہاں انگریزوں کی مختصر فوج نے میر قاسم، شجاع الدولہ اور ان کے متحدہ لشکر کو شکست دی۔ اس شکست کے نتیجے میں انہیں بنگال، بہار اور اڑیسہ کے دیوانی حقوق انگریزوں کے حوالے کرنا پڑے۔ یوں ایک بادشاہ عملاً ایک وظیفہ خوار بن کر رہ گیا۔

دہلی واپسی اور مرہٹوں کا اثر

شاہ عالم ثانی تقریباً بارہ سال دہلی سے دور رہے۔ بالآخر 1772ء میں مرہٹوں کے سہارے دہلی واپس آئے، مگر یہاں بھی وہ آزاد نہ تھے بلکہ مرہٹوں کے زیر اثر رہے۔ انہوں نے روہیل کھنڈ پر حملہ کیا، مگر اس میں بھی انہیں کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔

اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو بعد میں ان کی زندگی کا بھیانک ترین انجام بنا۔ غلام قادر روہیلا، جسے شاہ عالم نے کبھی ذلیل کیا تھا، نے 1788ء میں دہلی پر قبضہ کر کے انہیں قید کر لیا اور ان کی آنکھیں نکال دیں۔ یہ واقعہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔

اندھا بادشاہ اور زوال کی انتہا

بینائی سے محرومی کے باوجود شاہ عالم ثانی کو تخت پر برقرار رکھا گیا، مگر اب ان کی حکومت صرف نام کی رہ گئی تھی۔ ان کے عہد کے بارے میں مشہور قول تھا:

"سلطنتِ شاہ عالم، از دلی تا پالم"

یعنی ان کی حکومت صرف دہلی سے پالم تک محدود تھی۔

1782ء میں میرزا نجف خان کی وفات کے بعد مغلیہ اقتدار کا آخری سہارا بھی ختم ہو گیا اور سلطنت مکمل طور پر بکھر گئی۔ 1803ء میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور شاہ عالم کو باقاعدہ پنشن پر رکھ لیا گیا۔

ذاتی زندگی اور ازدواجی تعلقات

شاہ عالم ثانی کی کئی بیویاں تھیں، جن میں تاج محل، جمیل النسا بیگم، مبارک محل، مراد بخت بیگم، قدسیہ بیگم، عزیزاں (ملکۂ عالم) اور دیگر شامل تھیں۔ ان کی اولاد میں اکبر ثانی، مرزا جہاندار شاہ، مرزا سلیمان شکوہ، مرزا سکندر شکوہ اور کئی شہزادیاں شامل تھیں۔

ادبی شخصیت: آفتابِ سخن

شاہ عالم ثانی صرف ایک بادشاہ ہی نہیں بلکہ ایک باکمال ادیب اور شاعر بھی تھے۔ وہ "آفتاب" تخلص اختیار کرتے تھے۔ فارسی، اردو اور ہندی میں شاعری کرتے تھے، جبکہ ہندی میں "شاہ عالم" کے نام سے بھی کلام کہتے تھے۔

ان کی شاعری کی خصوصیت سادگی اور سلاست ہے۔ وہ پیچیدہ خیالات اور مشکل تشبیہوں کے بجائے دل کی بات کو سادہ انداز میں بیان کرتے تھے۔ ان کے کلام میں تصنع کم مگر اثر انگیزی زیادہ ہے۔

نثری کارنامہ: عجائب القصص

شاہ عالم ثانی کی ایک اہم ادبی خدمت ان کی نثری تصنیف "عجائب القصص" ہے، جو اردو نثر کی ابتدائی اور اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ مکمل داستان نہیں، مگر اس کی زبان نہایت شستہ اور اپنے دور کی دیگر نثری کتابوں سے زیادہ نکھری ہوئی ہے۔

یہ کتاب 1792ء کے قریب لکھی گئی اور اسے شمالی ہند میں اردو نثر کے ارتقاء میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری "نادراتِ شاہی" میں بھی محفوظ ہے، جس میں اردو، فارسی اور ہندی کلام شامل ہے، حتیٰ کہ کچھ کلام دیوناگری رسم الخط میں بھی ملتا ہے۔

ادبی ماحول اور معاصرین

ان کے دور میں اردو زبان نے غیر معمولی ترقی کی۔ محمد حسین آزاد کے مطابق، اردو شاعری کا چراغ جو ولی دکنی نے روشن کیا تھا، وہ شاہ عالم کے دور میں آفتاب بن کر چمکا۔

اسی زمانے میں سید انشاء جیسے ادیب دربار سے وابستہ ہوئے۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ سودا ان کے استاد تھے، مگر تاریخی شواہد اس کی تائید نہیں کرتے کیونکہ سودا ان کی دہلی آمد سے پہلے ہی وہاں سے جا چکے تھے۔

آخری ایام اور وفات

شاہ عالم ثانی نے اپنی زندگی کے آخری انیس سال نابینائی کی حالت میں گزارے۔ وہ شاعری، موسیقی اور عیش و عشرت میں دل بہلاتے رہے۔ بالآخر 19 نومبر 1806ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا اور انہیں مہرولی کی موتی مسجد میں سپردِ خاک کیا گیا۔

شاہ عالم ثانی کی زندگی ایک ایسا داستان ہے جس میں اقتدار کی بے بسی، قسمت کی ستم ظریفی اور انسان کی داخلی قوت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ وہ ایک ایسے بادشاہ تھے جو تخت پر بیٹھ کر بھی قید میں رہے، اور آنکھیں کھو کر بھی بصیرت کے چراغ کو جلائے رکھا۔۔

ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب سلطنتیں بکھرتی ہیں تو کبھی کبھی ادب ان کے ملبے سے جنم لیتا ہے اور شاہ عالم ثانی اسی سچائی کا ایک روشن استعارہ ہیں، ایک ایسا "آفتاب" جو زوال کے اندھیروں میں بھی ادب کی روشنی بانٹتا رہا۔۔۔

- از ضیاءالرحمن

13/04/2026

کلامِ اقبال بہ زبانِ اقبال

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

- علامہ اقبال (1877 - 1938)

Allama Iqbal Poetry | Allama Iqbal AI Video Poetry | Urdu Classical Poetry | Zia e Adab

11/04/2026

کلامِ شاہ عالم بہ زبانِ شاہ عالم

کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو
کل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کرو

- آفتاب شاہ عالم ثانی (1728 - 1806)

Aftab Shah Aalam Poetry | Aftab Shah Aalam AI Video Poetry | Urdu Classical Poetry | Zia e Adab

تلوک چند محرومؔ: ایک تعارفتلوک چند محرومؔ اردو کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے کلام کے ذریعے دل...
08/04/2026

تلوک چند محرومؔ: ایک تعارف

تلوک چند محرومؔ اردو کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے کلام کے ذریعے دلوں کو مسخر کیا بلکہ اپنی سادہ طرزِ زندگی اور انسان دوستی کے سبب بھی ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کا اصل نام تلوک چند تھا اور "محرومؔ" آپ کا تخلص تھا۔ آپ ایک وسیع القلب، روادار اور صلح کل مزاج شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے ہمیشہ مذہب سے بالاتر ہو کر انسان کو اہمیت دی۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

محرومؔ کی پیدائش یکم جولائی 1887ء کو ضلع میانوالی (پنجاب، برطانوی ہند) کے ایک چھوٹے سے گاؤں موسٰی نور زمان شاہ میں ہوئی۔ یہ گاؤں دریائے سندھ کے کنارے واقع تھا اور اکثر سیلاب کی زد میں رہتا تھا، جس کے باعث بارہا تباہ اور آباد ہوتا رہا۔ بالآخر مسلسل خطرات کے پیشِ نظر ان کے خاندان نے وہاں کی زمین اور کاروبار چھوڑ کر عیسیٰ خیل منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

تعلیم و تربیت

بچپن ہی سے آپ نہایت ذہین طالب علم تھے۔ چھ سات برس کی عمر میں ورنیکیولر مڈل اسکول میں داخلہ لیا اور ہر جماعت میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پانچویں اور آٹھویں جماعت میں وظائف بھی حاصل کیے۔
1907ء میں ڈائمنڈ جوبلی اسکول، بنوں سے نمایاں پوزیشن کے ساتھ میٹرک پاس کیا۔ بعد ازاں لاہور کے سنٹرل ٹریننگ کالج میں داخلہ لے کر معلمی کی تربیت حاصل کی اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

اردو کے ساتھ ساتھ آپ نے عربی اور فارسی میں بھی مہارت حاصل کی، خصوصاً فارسی زبان میں آپ کو خاص درک حاصل تھا۔ انگریزی ادب سے بھی آپ بخوبی واقف تھے اور مغربی خیالات کو نہایت سلیقے سے اردو شاعری میں ڈھالتے تھے۔

پیشہ ورانہ زندگی

1908ء میں آپ نے ڈیرہ اسماعیل خان کے مشن ہائی اسکول میں انگریزی کے استاد کے طور پر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد گھریلو وجوہات کی بنا پر عیسیٰ خیل منتقل ہوگئے۔
صاف پانی کی عدم دستیابی جیسے مسائل کے باعث 1924ء میں کلوڑکوٹ جا کر وہاں کے مڈل اسکول کے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔

1933ء میں جب آپ کے فرزند جگن ناتھ آزاد اعلیٰ تعلیم کے لیے راولپنڈی منتقل ہوئے تو آپ نے بھی وہیں تبادلہ لے لیا اور کینٹونمنٹ بورڈ اسکول کے ہیڈماسٹر بن گئے۔ یہ ادارہ بعد ازاں ایف جی ٹیکنیکل ہائی اسکول (طارق آباد، لالکرٹی) کے نام سے مشہور ہوا۔
1943ء تک اس عہدے پر خدمات انجام دینے کے بعد آپ گورڈن کالج راولپنڈی میں اردو اور فارسی کے لیکچرر مقرر ہوئے۔

تقسیمِ ہند کے بعد آپ کو راولپنڈی چھوڑ کر دسمبر 1947ء میں دہلی منتقل ہونا پڑا۔ دہلی میں کچھ عرصہ "تیج" اخبار کے ادبی حصے سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی کے کیمپ کالج میں اردو و فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے، جہاں آپ نے دسمبر 1957ء تک تدریسی خدمات انجام دیں۔
1953ء میں گورڈن کالج کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت کے لیے دوبارہ راولپنڈی بھی گئے۔

ادبی سفر اور شاعری

محرومؔ کی شاعری کا سفر کسی باقاعدہ ادبی تربیت کے بغیر شروع ہوا، کیونکہ ان کے تعلیمی دور میں اسکولوں میں لائبریریوں کا فقدان تھا۔ بنوں میں قیام کے دوران انہیں
مرزا غالبؔ اور محمد ابراہیم ذوقؔ کے کلام تک رسائی ملی، جس نے ان کے ذوقِ شعر کو جلا بخشی۔

ابتدائی عمر میں ہی اشعار کہنا شروع کر دیے تھے، جبکہ 12–13 برس کی عمر میں لکھی گئی نظم "خدمتِ والدین" نے انہیں اساتذہ اور تعلیمی حکام کی داد دلائی۔
تعلیم مکمل کرنے تک ان کا کلام "مخزن" (لاہور) اور "زمانہ" (کانپور) جیسے رسائل میں شائع ہونے لگا تھا۔

راولپنڈی میں قیام کے دوران وہ لیلپور (موجودہ فیصل آباد) کے سالانہ مشاعروں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے، جہاں جگر مرادآبادیؔ اور حفیظ جالندھریؔ جیسے نامور شعرا بھی شریک ہوتے تھے۔

اہلیہ کی وفات کے بعد ان کی شاعری میں زندگی کی ناپائیداری اور رشتوں کی بے ثباتی کا گہرا احساس پیدا ہوا۔ اسی کیفیت کی عکاسی ان کی مشہور نظم "اشکِ حسرت" (مجموعہ: طوفانِ غم) میں ملتی ہے۔

ان کا پہلا بڑا مجموعہ "گنجِ معانی" ہے، جس میں 175 نظمیں، رباعیات، قصائد، سہرا اور نوحے شامل ہیں۔
ان کے کلام کو نیاز فتح پوری، علامہ محمد اقبالؔ، فراق گورکھپوریؔ، کیفی اعظمیؔ، جوش ملیح آبادیؔ اور دیگر ناقدین نے سراہا۔

اسلوب اور فنی خصوصیات

محرومؔ کی شاعری میں انسانی جذبات کی عکاسی بڑی مہارت سے کی گئی ہے۔ خوشی ہو یا غم، ان کا قلم ہر کیفیت کو دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔
فطرت کے مناظر کی تصویر کشی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔

ان کی زبان شستہ، شیریں اور اثر انگیز ہے، جس میں فارسی تراکیب کا برمحل استعمال پایا جاتا ہے۔ الفاظ کے صوتی اثرات پر ان کی خاص توجہ ان کے کلام کو مزید دلنشیں بنا دیتی ہے۔

انسان دوستی اور نظریات

ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود محرومؔ نے مسلم اکثریتی ماحول میں پرورش پائی، جس نے ان کی سوچ کو کشادہ بنایا۔
انہوں نے ہمیشہ مذہب کے بجائے انسان کو اہمیت دی۔

ان کی بیٹی شکنتلا کی تدفین ہندو رسم کے بجائے مسلم طریقے سے کی گئی، جو ان کے وسیع النظر ہونے کا ثبوت ہے۔
ان کے اپنے جنازے میں بھی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے، اور دسواں کے موقع پر وید، گیتا، قرآن اور سکھ مذہب کی مقدس کلام کی تلاوت کی گئی۔

اگرچہ وہ براہِ راست سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہیں تھے، لیکن ان کی شاعری میں اُس دور کے سیاسی حالات کی جھلک ملتی ہے۔ علامہ اقبالؔ سے گہری دوستی کے باوجود وہ بعض سیاسی معاملات میں اختلافِ رائے رکھتے تھے۔

اعزازات

1962ء میں حکومتِ پنجاب (بھارت) کے سالانہ "ساہتیہ سماروہ" میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں خصوصی نشست منعقد کی گئی، جہاں انہیں خلعت، تعریفی اسناد اور نقد انعام سے نوازا گیا۔
اس سے قبل بھی انہیں ادبی خدمات پر انعامات مل چکے تھے۔

وفات

محرومؔ طویل علالت کے بعد 6 جنوری 1966ء کو دہلی میں وفات پا گئے۔ ان کے صاحبزادے جگن ناتھ آزاد نے ان کا کتب خانہ جامعہ کشمیر کی علامہ اقبال لائبریری کو عطیہ کر دیا، جہاں یہ "تلوک چند محروم کلیکشن" کے نام سے محفوظ ہے۔

نمونۂ کلام
اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی

ہوں وہ برباد کہ قسمت میں نشیمن نہ قفس
چل دیا چھوڑ کر صیاد تہ دام مجھے

دام غم حیات میں الجھا گئی امید
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی

یوں تو برسوں نہ پلاؤں نہ پیوں اے زاہد
توبہ کرتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری

مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاک
مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی

بعد ترک آرزو بیٹھا ہوں کیسا مطمئن
ہو گئی آساں ہر اک مشکل بہ آسانی مری

اٹھانے کے قابل ہیں سب ناز تیرے
مگر ہم کہاں ناز اٹھانے کے قابل

عقل کو کیوں بتائیں عشق کا راز
غیر کو راز داں نہیں کرتے

حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا
جو دل کا مدعا تھا مرے دل میں رہ گیا

اے ہمرہانِ دشتِ محبت چلے چلو
اپنا تو پائے شوق سلاسل میں رہ گیا

محرومؔ دل کے ہاتھ سے جاں تھی عذاب میں
اچھا ہوا کہ یار کی محفل میں رہ گیا

نظر اٹھا دل ناداں یہ جستجو کیا ہے
اسی کا جلوہ تو ہے اور روبرو کیا ہے
کسی کی ایک نظر نے بتا دیا مجھ کو
سرور بادۂ بے ساغر و سبو کیا ہے
قفس عذاب سہی بلبل اسیر مگر
ذرا یہ سوچ کہ وہ دام رنگ و بو کیا ہے
گدا نہیں ہیں کہ دست سوال پھیلائیں
کبھی نہ آپ نے پوچھا کہ آرزو کیا ہے
نہ میرے اشک میں شامل نہ ان کے دامن پر
میں کیا بتاؤں انہیں خون آرزو کیا ہے
سخن ہو سمع خراشی تو خامشی بہتر
اثر کرے نہ جو دل پر وہ گفتگو کیا ہے

تلوک چند محرومؔ کا شمار اُن شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فن کو انسانیت کے پیغام سے جوڑا۔ ان کی زندگی اور شاعری آج بھی ہمیں رواداری، محبت اور فکری وسعت کا درس دیتی ہے۔

- از ضیاءالرحمن

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zia e Adab - ضیائے ادب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zia e Adab - ضیائے ادب:

Share