15/04/2026
علامہ اقبال: ایک تعارف (نشر مکرر)
شیخ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد کشمیری برہمن تھے جو بعد ازاں اسلام قبول کر کے سیالکوٹ میں آباد ہوئے۔ ان کے والد شیخ نور محمد اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے، مگر دینداری اور صحبتِ علما کا ذوق رکھتے تھے۔ میر حسن سیالکوٹی نے انہیں ’’ان پڑھ فلسفی‘‘ کہا تھا۔
اقبال نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور تمام امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران پروفیسر ٹی۔ ڈبلیو آرنلڈ سے ملاقات نے ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان گئے، کیمبرج اور میونخ سے فلسفہ میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں اور ’’ایران میں ما بعد الطبیعات کا ارتقاء‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
اقبال: عہد شناس بھی، عہد ساز بھی
اقبال ایک طرف اپنے عہد کے نبّاض تھے تو دوسری طرف اس کے معمار بھی۔ ان کی شاعری ایک مخصوص اور منظم نظامِ فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کے عمیق مشاہدے کا نتیجہ ہے۔ اقبال اس نتیجے پر پہنچے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کا زوال دونوں تہذیبوں میں مختلف صورتوں میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اور اس زوال کا تدارک ناگزیر ہے۔
خصوصاً مشرق کی زبوں حالی انہیں بے چین رکھتی تھی۔ وہ نہ صرف اس انحطاط کے اسباب سے آگاہ تھے بلکہ اس کے علاج سے بھی واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے انسانی زندگی کی اصلاح اور اس کی ترقی کو اپنی شاعری کا مقصد بنایا۔
عظمتِ آدم اور خودساختہ جنت کا تصور
اقبال عظمتِ آدم کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ وہ کسی عطا کردہ یا وراثتی جنت کے قائل نہیں بلکہ اس جنت کو زیادہ زندگی آفریں سمجھتے ہیں جو انسان اپنے خونِ جگر سے خود تخلیق کرے۔ ان کے نزدیک زندگی میں حقیقی انقلاب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان کے باطن میں انقلاب برپا نہ ہو، اور کوئی نئی دنیا اس وقت تک خارجی وجود اختیار نہیں کر سکتی جب تک وہ انسانوں کے ضمیر میں تشکیل نہ پا جائے۔
مغرب پر تنقید اور سوزِ عشق کی ضرورت
اقبال مغربی تہذیب کو روحانی اعتبار سے بیمار تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مغرب کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی عقل، ہوس و حرص کی غلامی سے آزاد ہو کر ادب خوردۂ دل نہ بن جائے۔ اور یہ منزل سوزِ عشق کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔
اقبال کا تصورِ عشق
اقبال کا عشق، اردو شاعری اور صوفیانہ روایت کے مروجہ عشق سے مختلف ہے۔ وہ اس عشق کے قائل ہیں جو آرزوؤں کو وسعت دے، عمل کو جنم دے اور حیات و کائنات کو مسخر کرنے کی قوت رکھتا ہو۔ ان کے نزدیک عشق کو عمل سے استحکام ملتا ہے، عمل کے لئے یقین ضروری ہے، اور یقین علم سے نہیں بلکہ عشق سے پیدا ہوتا ہے۔
اقبال عشق، علم اور عقل کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں یعنی ایک کے بغیر دوسرا نامکمل ہے۔
خودی: اقبال کا مرکزی تصور
عشق کے بعد اقبال کی سب سے اہم شعری اصطلاح خودی ہے۔ خودی سے مراد وہ اعلیٰ انسانی صفات ہیں جن کی بنا پر انسان اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز ہوا۔ اس خودی کی تکمیل عشق کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ عشق ہی خودی کو جِلا بخشتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے قوت حاصل کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق اور علم کی آمیزش سے فرد کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر ممکن ہوتی ہے۔
حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد
اقبال کی شاعری بنیادی طور پر حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتی ہے۔ بعض مقامات پر تو یہ جدوجہد حصولِ مقصد کا ذریعہ نہیں بلکہ خود مقصد بن جاتی ہے:
اقبال: شاعر بھی، فلسفی بھی
اقبال بیک وقت شاعر، فلسفی، مصلحِ قوم، سیاست دان اور عالم تھے، مگر ان کی شاعرانہ شخصیت نے ان کے تمام اوصاف کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ انہوں نے اردو شاعری کی لسانیات میں گراں قدر اضافہ کیا۔ نظم ہو یا غزل—دونوں اصناف میں اقبال نے نیا ذائقہ، نیا آہنگ اور نیا قرینہ متعارف کرایا۔
ان کے شعری مضامین کبھی ان کے غنائی حسن پر غالب نہیں آئے۔ ان کی نظموں میں نغمگی، والہانہ پن اور روحانی حرارت نمایاں ہے۔ اقبال کی روایت ایسی توانائی رکھتی ہے جس میں آج بھی امکانات کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔
ادبی سفر اور قومی شاعری
اقبال نے کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا۔ انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں ان کی نظموں نے انہیں شہرت بخشی۔ ’’نالۂ یتیم‘‘، ’’شکوہ‘‘، ’’خضرِ راہ‘‘، ’’طلوعِ اسلام‘‘ اور فارسی مثنویات اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی نے ان کے فکری مقام کو مستحکم کر دیا۔
آخری ایام اور وفات
زندگی کے آخری برس بیماری اور گھریلو مشکلات میں گزرے۔ 21 اپریل 1938ء کو یہ مردِ درویش اس دنیا سے رخصت ہوا، مگر اپنی فکر، شاعری اور پیغام کو ہمیشہ کے لئے زندہ چھوڑ گیا۔
اقبال کا ادبی و فکری مقام
اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو یأس و قنوط سے نکال کر رجائیت، ولولہ اور حیات آفرینی عطا کی۔ ان کے یہاں فکر اور جذبہ اس طرح یکجا ہیں کہ فلسفہ بھی دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
میرؔ اگر قاری کو اپنا معتقد بناتے ہیں، غالبؔ مرعوب و مسحور کرتے ہیں تو اقبالؔ اپنے قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔۔۔
- ضیاءالرحمن
علامہ اقبال: ایک تعارف
شیخ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد کشمیری برہمن تھے جو بعد ازاں اسلام قبول کر کے سیالکوٹ میں آباد ہوئے۔ ان کے والد شیخ نور محمد اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے، مگر دینداری اور صحبتِ علما کا ذوق رکھتے تھے۔ میر حسن سیالکوٹی نے انہیں ’’ان پڑھ فلسفی‘‘ کہا تھا۔
اقبال نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور تمام امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران پروفیسر ٹی۔ ڈبلیو آرنلڈ سے ملاقات نے ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان گئے، کیمبرج اور میونخ سے فلسفہ میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں اور ’’ایران میں ما بعد الطبیعات کا ارتقاء‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
اقبال: عہد شناس بھی، عہد ساز بھی
اقبال ایک طرف اپنے عہد کے نبّاض تھے تو دوسری طرف اس کے معمار بھی۔ ان کی شاعری ایک مخصوص اور منظم نظامِ فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کے عمیق مشاہدے کا نتیجہ ہے۔ اقبال اس نتیجے پر پہنچے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کا زوال دونوں تہذیبوں میں مختلف صورتوں میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اور اس زوال کا تدارک ناگزیر ہے۔
خصوصاً مشرق کی زبوں حالی انہیں بے چین رکھتی تھی۔ وہ نہ صرف اس انحطاط کے اسباب سے آگاہ تھے بلکہ اس کے علاج سے بھی واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے انسانی زندگی کی اصلاح اور اس کی ترقی کو اپنی شاعری کا مقصد بنایا۔
عظمتِ آدم اور خودساختہ جنت کا تصور
اقبال عظمتِ آدم کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ وہ کسی عطا کردہ یا وراثتی جنت کے قائل نہیں بلکہ اس جنت کو زیادہ زندگی آفریں سمجھتے ہیں جو انسان اپنے خونِ جگر سے خود تخلیق کرے۔ ان کے نزدیک زندگی میں حقیقی انقلاب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان کے باطن میں انقلاب برپا نہ ہو، اور کوئی نئی دنیا اس وقت تک خارجی وجود اختیار نہیں کر سکتی جب تک وہ انسانوں کے ضمیر میں تشکیل نہ پا جائے۔
مغرب پر تنقید اور سوزِ عشق کی ضرورت
اقبال مغربی تہذیب کو روحانی اعتبار سے بیمار تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مغرب کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی عقل، ہوس و حرص کی غلامی سے آزاد ہو کر ادب خوردۂ دل نہ بن جائے۔ اور یہ منزل سوزِ عشق کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔
اقبال کا تصورِ عشق
اقبال کا عشق، اردو شاعری اور صوفیانہ روایت کے مروجہ عشق سے مختلف ہے۔ وہ اس عشق کے قائل ہیں جو آرزوؤں کو وسعت دے، عمل کو جنم دے اور حیات و کائنات کو مسخر کرنے کی قوت رکھتا ہو۔ ان کے نزدیک عشق کو عمل سے استحکام ملتا ہے، عمل کے لئے یقین ضروری ہے، اور یقین علم سے نہیں بلکہ عشق سے پیدا ہوتا ہے۔
اقبال عشق، علم اور عقل کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں یعنی ایک کے بغیر دوسرا نامکمل ہے۔
خودی: اقبال کا مرکزی تصور
عشق کے بعد اقبال کی سب سے اہم شعری اصطلاح خودی ہے۔ خودی سے مراد وہ اعلیٰ انسانی صفات ہیں جن کی بنا پر انسان اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز ہوا۔ اس خودی کی تکمیل عشق کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ عشق ہی خودی کو جِلا بخشتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے قوت حاصل کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق اور علم کی آمیزش سے فرد کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر ممکن ہوتی ہے۔
حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد
اقبال کی شاعری بنیادی طور پر حرکت، عمل اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتی ہے۔ بعض مقامات پر تو یہ جدوجہد حصولِ مقصد کا ذریعہ نہیں بلکہ خود مقصد بن جاتی ہے:
اقبال: شاعر بھی، فلسفی بھی
اقبال بیک وقت شاعر، فلسفی، مصلحِ قوم، سیاست دان اور عالم تھے، مگر ان کی شاعرانہ شخصیت نے ان کے تمام اوصاف کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ انہوں نے اردو شاعری کی لسانیات میں گراں قدر اضافہ کیا۔ نظم ہو یا غزل—دونوں اصناف میں اقبال نے نیا ذائقہ، نیا آہنگ اور نیا قرینہ متعارف کرایا۔
ان کے شعری مضامین کبھی ان کے غنائی حسن پر غالب نہیں آئے۔ ان کی نظموں میں نغمگی، والہانہ پن اور روحانی حرارت نمایاں ہے۔ اقبال کی روایت ایسی توانائی رکھتی ہے جس میں آج بھی امکانات کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔
ادبی سفر اور قومی شاعری
اقبال نے کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا۔ انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں ان کی نظموں نے انہیں شہرت بخشی۔ ’’نالۂ یتیم‘‘، ’’شکوہ‘‘، ’’خضرِ راہ‘‘، ’’طلوعِ اسلام‘‘ اور فارسی مثنویات اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی نے ان کے فکری مقام کو مستحکم کر دیا۔
آخری ایام اور وفات
زندگی کے آخری برس بیماری اور گھریلو مشکلات میں گزرے۔ 21 اپریل 1938ء کو یہ مردِ درویش اس دنیا سے رخصت ہوا، مگر اپنی فکر، شاعری اور پیغام کو ہمیشہ کے لئے زندہ چھوڑ گیا۔
اقبال کا ادبی و فکری مقام
اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو یأس و قنوط سے نکال کر رجائیت، ولولہ اور حیات آفرینی عطا کی۔ ان کے یہاں فکر اور جذبہ اس طرح یکجا ہیں کہ فلسفہ بھی دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
میرؔ اگر قاری کو اپنا معتقد بناتے ہیں، غالبؔ مرعوب و مسحور کرتے ہیں تو اقبالؔ اپنے قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔۔۔
- ضیاءالرحمن