Chemistry Online Tutor

Chemistry Online Tutor I am lecturer in Chemistry in Govt. Girls College. I am also teaching online too to various Internat

10/03/2024

Map of Consciousness
(قاسم علی شاہ)
ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز معروف ماہر نفسیات، طبیب، مقرر اور روحانی استاد گزرا ہے۔ اس نے زندگی کا طویل عرصہ تحقیق وتصنیف میں گزارا اور روحانیت، سکون اور انسانی شعورکے موضوع پر شان دار خدمات سرانجام دیں۔ ویسے تو دنیا کے ہر مذہب میں روحانیت کاشعبہ موجود ہے لیکن یہ جاننا مشکل تھا کہ کوئی شخص روحانیت کے کس درجے پر فائز ہے۔ ہر مذہب کے پیشوا، گرو، صوفی او ربابے اس موضوع پر بات کرتے ہیں لیکن ایسا کوئی سائنسی طریقہ کار موجود نہیں تھا جس کی بدولت یہ جان لیا جاتا کہ فرد اس وقت روحانیت کے کس مرحلے پر موجود ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز نے یہ کمال کر دکھایا۔ اس نے 1995میں Power vs Force کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں Map of Consciousness کا نظریہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ہاکنز نے اس موضوع پر 25سال تحقیق کی۔ وہ جیل کے قیدیوں، کھلاڑیوں، منشیات استعمال کرنے والے لوگوں، کامیاب شخصیات، صوفیوں، پنڈتوں، تاجروں، سپاہیوں، طلبہ اور مزدوروں سے ملاا ور ان کے شعوری سطح سمجھنے کی کوشش کی۔ اس نے Map of Consciousness کے ذریعے واضح کیا کہ ہر انسان شعورکے ایک خاص مرحلے پر ہوتا ہے اور اسی (منفی، مثبت) سوچ کے ساتھ وہ خود کو، کائنات کو، انسانوں کو اور حتیٰ کہ اپنے رب کو دیکھتا ہے ۔ڈیوڈ ہاکنز نے شعور کو 16مرحلوں میں تقسیم کیا اور انھیں نمبر بھی دیے تاکہ فرد آسانی کے ساتھ اپنی کیفیت جان سکے اور خود کو اگلے مرحلے پر منتقل کرسکے۔ Map of Consciousness کے مطابق انسان شعورکے مراحل میں جس قدر بلند مرحلے پرہوتا ہے، اس کی توانائی کی لہریں بھی اتنی مضبوط ہوتی ہیں جو کہ اردگرد کے ماحول پر مثبت اثرات ڈالتی ہیں۔ اس کے برعکس کوئی شخص جس قدر نچلی سطح پر ہوتا ہے اس کے اثرات بھی اسی قدر کمزور اور منفی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز کے ”اختیار“ اور”جبر“ والے اس منفرد فلسفے کو بھرپور پذیرائی ملی اور اس کی بدولت انسانوں کو تعلیم، کاروبار، نفسیات، طب، قانون اور بین الاقوامی تعلقات جیسے شعبوں کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملی۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز کو آکسفورڈ یونی ورسٹی، نوٹری ڈیم یونی ورسٹی،مشی گن یونی ورسٹی، یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا اور اگاپے روحانی مرکز (لاس اینجلس) جیسے بڑے اداروں میں گفت گو کے لیے مدعو کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کینیڈا، میکسیکو، انڈیا، جنوبی کوریا، جرمنی، انگلینڈ، آئرلینڈ، جاپان اور دبئی میں بھی اس نے ہزاروں لوگوں سے خطاب کیا اور انھیں شعور کے متعلق رہنمائی فراہم کی۔ ان شان دار خدمات کی بدولت اسے کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر ہاکنز انسانوں میں ہمدردی، مہربانی، عاجزی اور معافی جیسی صفات پیدا کرنے کے لیے کوشاں تھا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ روشن خیالی کا ایسا راستہ ہے جس پر چل کر انسان مطمئن رہ سکتا ہے اور دنیا کو بھی پرسکون بناسکتا ہے۔ ڈاکٹر ہاکنز کا کہنا ہے کہ ہم دنیا کو اپنے کہنے یا کرنے سے نہیں بلکہ جو کچھ ہم بن چکے ہیں، اس نتیجے سے بدلتے ہیں۔
Map of Consciousness
کو ہم پانی کی مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ پانی اگر 100درجہ حرارت پر ہو تو وہ اُبلنا شروع ہوجاتا ہے اور بخارات کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس پانی کو اگر آپ صفر درجہ حرارت میں رکھ دیں تو یہ برف بن جاتاہے۔ پانی ایک ہے لیکن مختلف ماحول میں اس کی مختلف شکلیں بن جاتی ہیں۔اس طرح انسانی شعور کی بھی مختلف شکلیں ہیں۔ہم دوسرے انسانوں سے اپنی سوچ کی بدولت مختلف ہیں۔آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ بعض اوقات ہم کسی فرد کے ساتھ بیٹھتے ہیں لیکن بہت جلد بیزار ہوجاتے ہیں۔دراصل وہ شخص اس وقت جس شعوری سطح پر ہوتاہے، وہ ہماری شعوری سطح سے موافقت نہیں رکھتا۔اسی طرح ہم کسی فرد کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور بات چیت میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہیں کہ گھنٹوں گزرجاتے ہیں۔اس کی وجہ بھی شعوری سطح ہوتی ہے جو اس شخص کے ساتھ مطابقت کررہی ہوتی ہے۔

زندگی میں ہم شعور کے ان تمام مراحل سے گزرتے ہیں لیکن جس مرحلے پر قائم رہ کر جینا شروع کردیتے ہیں اس کے اثرات ہماری زندگی پر پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ منفی احساسات کی وجہ سے مشکلات و مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور کبھی مثبت خیالات کی بدولت زندگی اتنی خوش قسمت بن جاتی ہے کہ ترقیوں کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔

آئیے اب Map of Consciousness کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

Shame:شرم(نمبر20)
یہ Map of Consciousness کا سب سے نچلا اور انتہائی خطرناک درجہ ہے۔ جب کسی شخص کو مسلسل شرم دلائی جائے، اسے طعنے مار مار کرپاگل کر دیا جائے یا ماضی کا ایسا واقعہ یاد دلایا جائے جس کی وجہ سے وہ شخص انتہائی شرمندہ ہو تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اس کیفیت میں آجاتا ہے۔ قدیم رومی حکایات میں ایک حکایت ہے کہ بادشاہ ایک شخص سے ناراض ہوگیا اور سپاہیوں کوحکم دیا کہ اسے پہاڑ سے گرا دو۔ اہلکاروں نے ایساہی کیا لیکن وہ بچ گیا، دوسری بار گرایا گیا، وہ پھر بچ نکلا۔ وہ شخص دربار میں حاضر ہوا اور بولا: ”بادشاہ سلامت! اگر مجھے قتل کرنا ہے تو پہاڑ سے نہ گرائیں، نظروں سے گرا دیں،میں خود ہی مر جاؤں گا۔ “شرم دلانا اس قدرخطرناک چیز ہے کہ اگر آپ نے کسی بچے کو بار بار شرم دلائی تو اس کی شخصیت تباہ ہوکر رہ جائے گی۔ یہ ایسی کیفیت ہے جس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایسا شخص اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے۔

Guilt:پچھتاوا (نمبر 30)
اپنی غلطیوں پر پچھتانا چاہیے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کا ضمیر زندہ ہے۔ آپ سے جب بھی کوئی غلطی سرزد ہو تو فوری طورپر معافی مانگیں، کیوں کہ اللہ کا فرمان ہے کہ میں تمام گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ (سورہ زمر:53) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ’گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ ‘(سنن ابن ماجہ:4250) اگر آپ کے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف پہنچی ہے تواس سے بھی فوری طورپر معافی مانگیں۔ معافی مانگنے میں مت ہچکچائیں۔ ایک دانا کا قول ہے کہ ’جب غلطی کرتے وقت شرم نہیں تھی تو معافی مانگنے میں کیسی شرم۔ ‘البتہ مسلسل پچھتاوے کی کیفیت میں رہنا ذہنی صحت کے لیے ٹھیک نہیں، اس سے انسان نااُمید ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر منفی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں اور اس کی قوت ارادی کمزور ہوجاتی ہے۔

Apathy:بے حسی (نمبر50)
یہ ایسی کیفیت ہے جس میں انسان نکما بن جاتا ہے۔ وہ کام کرنا پسند نہیں کرتا اور دوسروں کے خرچے پر پلنا چاہتا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو دوسرو ں کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن خود کو نہیں بدلتے۔ یہ اپنی توانائی کو کام میں نہیں لاتے جو پریشر ککرکی گیس کی طرح جمع ہوتے ہوتے ایک دن پھٹ جاتی ہے۔ یہ لوگ اگر سست ہیں توبے کار پڑے رہتے ہیں اور متحرک ہیں تو غصہ کی حالت میں ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نفع نقصان او رحساب کتاب کے معاملے میں بعض اوقات جرم بھی کر ڈالتے ہیں۔ اس کیفیت میں انسان کی زندگی روز بروز غیر موثر اوربے مقصد ہوتی جاتی ہے۔اس حالت سے جلداز جلد نکلنا چاہیے۔

Grief:غم (نمبر75)
ہماری زندگی میں انجام پانے والے کام دوطرح کے ہوتے ہیں۔ کبھی یہ ہماری خواہش کے مطابق ہوتے ہیں، کبھی اللہ کی مرضی کے مطابق جب انسان کی خواہش پوری نہ ہو تو وہ غمگین ہوجاتا ہے۔اب جو عقل مند ہے وہ اس کیفیت پر قابو پاتا ہے اور اُداسی کے باوجود رب کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ غم کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پرتیں کھولتا ہے اور کچھ عرصہ بعد انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں میرے لیے خیر تھی۔ واصف علی واصف کا جملہ ہے کہ”غم چھوٹے انسان کو کھا جاتا ہے، بڑے انسان کو بناجاتا ہے۔“غم کو کسی کھونٹے سے باندھنا ضروری ہے، اسے کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جیسے پانی کے بہاؤ پر اگربند باندھ دیاجائے تو اس سے ڈیم بن جاتا ہے جو بجلی پیدا کرتا ہے اور اگرپانی کے آگے بند نہ ہو تو وہ سیلاب بن کر بستیاں اجاڑ دیتا ہے۔ اسی طرح غم کے آگے بھی اگربند نہ باندھا جائے تو انسان کو بہالے جاتا ہے۔

Fear:خوف (نمبر100)
آپ زندگی میں نیا قدم اٹھانا چاہتے ہیں لیکن دل میں موجود اندیشہ اس قدر مضبوط ہے کہ وہ آپ کو روک رہا ہے۔ اسے خوف کہتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ نے گاڑی سٹارٹ کرکے گیئر میں ڈال دی اور فوراً ہینڈ بریک بھی کھینچ دی۔ اب آپ ایکسیلریٹر دباتے جائیں، گاڑی آگے نہیں بڑھے گی۔ خوف بھی آپ کی زندگی کی گاڑی میں ہینڈ بریک کا کردار ادا کرتا ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ یہ کام ہوسکتا ہے لیکن دوسری طرف سے آواز آتی ہے کہ ”نہیں ہوسکتا“۔دوسرا خیال اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ آ پ کو قدم اٹھانے نہیں دیتا۔ المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں جو لوگ خوف کا شکار ہیں وہ دوسروں میں بھی خوف پیدا کر رہے ہیں۔ خوف سے آزاد ہونے کا سب سے بہترین طریقہ توکل ہے۔ جو شخص خوف کا حجم چھوٹا کرکے اپنے یقین کو بڑا کردے تو وہ ڈرکے چنگل سے آزاد ہوجاتا ہے۔ مثبت سوچ والے انسان کے سامنے بے شمار مواقع ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کی زندگی امکانات سے بھرپور ہوتی ہے۔

Desire:خواہش(نمبر125)
خواہش کا مطلب ہے اپنی مرضی کے مطابق قدم اٹھاکر نتیجہ حاصل کرنا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ بہادر انسان ہیں۔ انسان کی زندگی میں خواہش بھرپور اہمیت رکھتی ہے۔اگر اسے ختم کردیا جائے تو انسان جینا چھوڑ دیتا ہے۔ میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملا ہوں جن کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی۔ ان سب کے اندر قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے اپنی خواہش کو مرنے نہیں دیا۔ یہ لوگ فکرمندیاں نہیں پالتے اور نہ ہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔ یہ اپنے حصے کی محنت کرتے ہیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو ہر وقت متفکر رہتے ہیں اور کڑھتے رہتے ہیں ان کی عمر کم ہوتی ہے۔ اپنے دائرہ اختیار سے باہر والے کاموں کو اللہ کی ذات پر چھوڑ دینا ایسا عمل ہے جس کی بدولت انسان پرسکون ہوجاتا ہے اور اس کی ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے ۔یاد رکھیں کہ خواہش چھوٹے بچے کی طرح ہے جسے پالنا اور سنوارنا پڑتا ہے۔ جب یہ جوان ہوجائے تو جنون کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور انسان کے اندر اتنی توانائی پیدا کر دیتی ہے کہ وہ محنت کرتا ہے اور بڑے سے بڑ اہدف بھی حاصل کرلیتا ہے۔

Anger:غصہ (نمبر150)
غصہ ایسا جذبہ ہے جس میں تعمیر اور تخریب کی طاقت پائی جاتی ہے۔ یہ ایسی کیفیت ہے جس میں عقل ماؤف ہو جاتی ہے اور انسان دوسروں کوقتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ بڑے بڑے خاندان اسی وجہ سے اجڑے، طلاق کے اکثر واقعات اسی وجہ سے رونما ہوئے۔ مجھے بے شمار مرتبہ جیل کی قیدیوں سے گفت گو کرنے کا موقع ملا۔ ان میں سب سے زیادہ پشیمان میں نے قتل کرنے والوں کو دیکھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے چند منٹ کے غصے پر قابو نہیں پایا اور اب عمر بھر کے لیے پشیمانی کی بھٹی میں جل رہے تھے۔ انسان جب چالیس سال کی عمر میں پہنچتا ہے تو اس کے چہرے پر وہ علامات پیدا ہوتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اس نے پچھلی زندگی کیسی گزاری ہے۔ غصیلے اور جھگڑالو شخص کے چہرے پر منفی اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔

Pride:فخر (نمبر175)
یہ ایسا جذبہ ہے جو مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس چیز سے جوڑتے ہیں۔ بعض لوگوں کا فخر مادی چیزوں سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنا قیمتی لباس، گھڑی، موبائل اور گاڑی دکھا کر خوش ہوتے ہیں جب کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے عہدے، طاقت اور مادی چیزوں کی نمائش نہیں کرتے۔ وہ بلند مقام پر پہنچ کر بھی عاجزی اختیار کرتے ہیں اور دکھاوے سے پرہیز کرتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ کام یاب ہیں اور ان کی زندگی سکون سے بھرپور ہوتی ہے۔ مادی چیزوں پر فخر کرنے والے لوگ اسی بنیاد پر خوش ہوتے ہیں، اسی پر خفا ہوتے ہیں اور اسی پر دوسروں کے ساتھ تعلق رکھتے یا ختم کرتے ہیں۔ ان کی زندگی بے سکونی کا شکار ہوتی ہے۔
(جاری ہے)

10/03/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Tinku Patel, Mani Kumar, Ramjee Kharvar, Deepakthakur, Amit Kumar, Yogita Deshakar, Reema Saini, Zabi Shinwari, Chandan Singh, Arya Komre, Juspen Oraon, Bankim Kumar, Fatima Fajar, Sonushram Sonushram, Korode Korode, Mohammed Ashif Khan, BāBlī Mīßhrā, Khanam Khanam, Maravi Ji, Rama Jatav, Talha Arain, Anurag Gupta, Gyan Chand Kumar, Sonu Sinha, Uma Devi, Lovely Raj, Arpit Yadav

Address

Shalimar Town Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chemistry Online Tutor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Chemistry Online Tutor:

Share