05/05/2026
پنجاب میں مقامی حکومتی اور سیاسی جما عتیں
آج مورخہ 5اپریل کو لاہور پنجاب یونیورسٹی میں پاکستان سٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام لاہور کی سیاسی جماعتوں کے قائدین سول سوسائٹی میڈیا کے نمائندے اور شعبہ سیاسیات کے اساتذہ اور لاہور کی دیگر یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت جناب پروفیسر ڈاکٹر امجد عباس خان ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سینٹر نے کی، جبکہ شعبہ سیاسیات کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر رانا اعجاز صاحب نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں قابل توجہ اور اصلاح کے حوالے سے چیدہ چیدہ نکات پیش کیے۔ اس اجلاس کا اہتمام لوکل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ سٹڈی کے شریک اداروں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ چند نکات جن پر حکومت پنجاب اور پنجابی اسمبلی ممبران سے فوری توجہ اور ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وہ درج ذیل ہیں۔ مجوزہ قانون کی منظور اور نفاذ کے بعد انتخابی عمل کی پیشرفت پر حکومت پنجاب اور اسمبلی ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں ایک طویل عرصے کے بعد پنجاب میں منتخب مقامی حکومت وجود میں آئیں گی ہم سب کا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد انتخابی عمل کو مکمل کیا جائے تاکہ ٓائندہ سال پنجاب میں منتخب مقامی حکومت وجود پائیں
ہم حکومت اور اسمبلی ممبران سے درخواست کرتے ہیں کہ قانون کے درج ذیل کمزور پہلوں کی فوری ا صلاح کی جائے۔
اول: قانون میں چند ڈھانچہ جاتی سٹرکچرل تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ پنجاب کے چند پڑے شہروں لاہور فیصل آباد ملتان بہاولپور سرگودھا راولپنڈی،سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں ٹاؤن کارپوریشن بنائی گئی ہیں۔جبکہ ان شہروں میں ضلعی اتھارٹیاں بھی تشکیل ہوں گی۔ اب صورتحال میں ایک ضلع سطح کی اتھارٹی ہوگی۔ جبکہ ٹاون کارپوریشن کئی کئی ہوں گی۔ یہ صورتحال مشکلات کو جنم دے گی یا پھر اتھارٹیوں کو بھی ٹاؤن کی سطح پر منتقل کرنا ہوگا۔ لیکن پھر انتظامی یونٹ ضلع ہی رہے گا۔ اس متضاد کیفیت کو بدلنا ضروری ہے۔ ان شہروں میں میٹرپولیٹن کارپوریشن بحال کی جائیں۔ جس کے تحت ٹاؤن کارپوریشنز ہوں تو انتظامیہ اور اتھارٹیوں کی فالیت مناسب ہو جائے گی۔
دوئم: یونین کونسلوں کی حلقہ بندیاں آبادی کی بنیاد پر کی جانی چاہییں، تاکہ دیگر اصولوں کے ساتھ آبادی کی نمائندگی کی شرح بھی یکساں رہ سکے۔ہر یونین کونسل 25 سے 30 ہزار آبادی کے لیے بنائی جائے۔ اس طرح یونین کونسل کو ملٹی ممبر وارڈ کی جگہ 9 وارڈوں میں تقسیم کیا جائے، اور انتخاب بھی سنگل ممبر وارڈ کی بنیاد پر ہو۔ انتخابی طریقہ کار میں پارٹی نشانات پر پینل تشکیل دیے جانے کی اجازت دی جائے۔ یونین کونسل کی 13 نشستوں کو 15 نشستوں تک بڑھایا جائے۔خواتین کی نمائندگی کم از کم تین کی جائے اور ان سب نشستوں پر انتخابات براہ راست بالغ رائے دہی کی بنیاد پر خفیہ بیلٹ کے ذریعے منعقد کیے جائیں۔ کارپوریشن،ٹاؤن میونسپل، میٹروپولیٹن،تحصیل کونسلوں میں خواتین کی نمائندگی 14 فیصد کی بجائے 25 فیصد کی جائے۔
سوئم: ضلع اتھارٹیوں میں ڈویلپمنٹ اتھارٹیوں کو شامل کیا جائے اور پرائیویٹ کمپنیاں جو میونسپل ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں کوبھی مقامی حکومتوں کے تحت کیا جائے۔
چہارم: ماضی کی طرح موصول چونگی اور ضلع برآمدی ٹیکس، ٹول ٹیکس کے مساوی وفاق سے ملنے والی گرانٹ کو بحال کیا جائے اور یہ گرانٹ پنجاب کنسالیٹیڈ فنڈ میں شامل نہ کیا جائے، بلکہ پنجاب کے کنسولیٹڈ فنڈ کا 25 فیصد فنانس کمیشن کی وساطت سے مقامی حکومتوں کو گرانٹ دی جائے۔
ہم زیر دستخطی حکومتی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ وزیراعلیٰ پنجا ب،اسپیکر پنجاب اسمبلی جناب ملک احمد خان صاحب اور دیگر ممبران اسمبلی سے درخواست کرتے ہیں کہ ہماری گزارشات کا فوری نوٹس لیا جائے، بذریعہ ترمیمی بل یا گورنر کے آرڈیننس کے ذریعہ درج ذیل ترامیم کی جائیں۔
-1: پنجاب کے 9 بڑے شہروں میں میٹروپولیٹن کارپوریشن قائم کی جائیں۔جس کی کونسل میں تمام ٹاؤنز کے میئر اور ڈپٹی میئر بطور جنرل ممبر شامل ہوں ان کے علاوہ مخصوص نشستوں کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
-2: یونین کونسلوں کو ملٹی ممبر حلقہ کی بجائے 9 وارڈوں میں تقسیم کیا جائے اور انتخابی طریقہ کار میں ترجیحی ووٹ کی جگہ سنگل ممبر انتخاب کو رائج کیا جائے،اور یونین کونسل میں خواتین کی نمائندگی ایک کی بجائے تین کی جائے اور تمام نشستوں پر براہ راست انتخاب اختیار کیا جائے۔ مقامی حکومتوں میں کسی بھی نشست کے لیے شو ہینڈ کا طریقہ تبدیل کیا جائے۔
-3: مقام حکومتوں کے مالیات میں اضافہ کی غرض سے صوبے کے کنسولیڈڈ فنڈکا کم از کم 25 فیصد فنانس کمیشن کے ایوارڈ کے ذریعے مقامی حکومتوں کو مہیا کیا جائے۔
اس اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹررانا اعجاز احمد چیئرپرسن شعبہ سیاسیات پنجاب یونیورسٹی۔بشری خالق ایزیکٹو ڈائریکٹر وائز،عبدالحالق کنسلٹنٹ وائز،زاہد اسلام ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنگت،سلمان عابد ایزیکٹو ڈائریکٹر آئیڈیا،فرید پراچہ جماعت اسلامی،تنویر ضیاء بٹ پاکستان مسلم لیگ ن،صائمہ جمشید لیکچرار،ڈاکٹر چمن پ پاکستان سٹڈی سینٹر، علیم احمد خان نیشنل پارٹی۔ڈاکٹر شمشاد اسسٹنٹ پروفیسر،نوید نواز رائٹر،حمیرا اسلم آواز سی ڈی ایس،شازیہ سعید،فرحین اختر،نازیہ نقوی حقوق خلق پارٹی،نور آمنہ،فرخ بشیر پاکستان پیپلز پارٹی،سجاد اقبال خان پاکستان پیپلز پارٹی،ارشد مرزا بیداری آرگنائزیشن،عابدہ چوہدری عوامی ورکرز پارٹی،فریحہ وسیم، نرمین وائز،افشاں نازلی سنگت،شہزاد حیدر خان سنگت،رفعت نواز،شکیلہ جٹ شرکت کی۔