Adept Women's Club

Adept Women's Club A club formed by Adept Women's Association
To empower women, and to teach each other of one's value.

A tale to be told.
26/05/2026

A tale to be told.

“لبیک، لیلةُ عرفہ رُدَّ معي”“لبیک، عرفہ کی رات میرے ساتھ دہراؤ”اے اللہ! ہمیں یومِ عرفہ سے اس حال میں واپس نہ لوٹانا مگر ...
26/05/2026

“لبیک، لیلةُ عرفہ رُدَّ معي”
“لبیک، عرفہ کی رات میرے ساتھ دہراؤ”

اے اللہ! ہمیں یومِ عرفہ سے اس حال میں واپس نہ لوٹانا مگر یہ کہ تو نے ہماری حالت سنوار دی ہو، ہمارے ایمان کو مضبوط کر دیا ہو، ہماری زندگی بدل دی ہو اور ہمارے خواب پورے فرما دیے ہوں۔
اے اللہ! یومِ عرفہ ختم نہ ہو مگر یہ کہ تو نے ہمارے نام جہنم سے آزاد کیے گئے لوگوں میں لکھ دیے ہوں۔

اے اللہ! میں تجھ سے پاک دل، تیرا ذکر کرنے والی زبان، قبول ہونے والا عمل اور ایسی دعا مانگتا ہوں جو رد نہ ہو۔
اے اللہ! میں تجھ سے وہ تمام بھلائیاں مانگتا ہوں جو تیرے نیک بندوں نے مانگیں، اور ہر اُس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس سے تیرے نیک بندوں نے پناہ مانگی۔

اے اللہ! زمین کے لشکروں اور اپنے فرشتوں کو میرے لیے مسخر فرما دے، اور مجھے دنیا کی بھلائی اور آخرت کی نعمتیں عطا فرما۔
اے اللہ! مجھے ہدایت دے جیسے تو نے اپنے ہدایت یافتہ بندوں کو دی، مجھے عافیت دے جیسے تو نے اپنے عافیت والے بندوں کو دی، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔

اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت بھر تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔
میں اپنے کیے ہوئے گناہوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اپنے اوپر تیرے احسانات کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں ،بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو،خدا کے بندوں سے پیار ہوگاعلامہ محمد ...
19/05/2026

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں ،بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو،خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
علامہ محمد اقبال
We extend our heartfelt gratitude to Areej Farouque and Amñąh Afťąb for providing such a noble opportunity. May Allah place abundant Barakah in this beautiful cause and enable us to serve our children in the best possible way. Ameen.
We proudly stand shoulder to shoulder with our .

میں تیرے صدقے جاوں!!!آج ماوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پہلے تو سوچا کہ اس بارے میں کیا لکھنا۔ کیونکہ میری کیا، ہم سب ...
11/05/2026

میں تیرے صدقے جاوں!!!
آج ماوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پہلے تو سوچا کہ اس بارے میں کیا لکھنا۔ کیونکہ میری کیا، ہم سب کی پوری زندگی ہماری ماوں کے ایسے احسان سے عبارت ہے کہ اس کا بوجھ ہمیں اس کے سامنے تا عمر جھکائے رکھتا ہے۔ ہمارا تو ہر دن ماں کا دن ہے۔
لیکن پھر سوچا کہ ایسی کوئی تحریر شاید ان بہت سی ماوں کے لئے زندگی کا باعث ہو جائے جن کی اولادیں ان کی قدر نہیں کرتیں۔
عورت کو اللہ نے مرد کی بائیں پسلی اور وہ بھی سب سے ٹیڑھی والی سے بنایا۔ ہم لوگوں نے تو بہت بعد میں جا کر جانا کہ گھی کبھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلتا۔ اور اس صنف نازک نے بہت سے مردوں کو سیدھا کرنا تھا۔ ان کی تربیت اور حفاظت کرنی تھی۔اپنے جیسی کئی اور ذمہ دار مائیں تیار کرنا تھیں۔
تو اللہ نے ایسی کجی کو وہ صراط مستقیم بخشی کہ وہ اس ہدایت کے باعث اور اپنی اسی خوبصورتی کی وجہ سے ہر درد سہہ گئی۔ خواہ وہ درد ولادت ہو، تربیت اولاد میں رت جگوں سے دکھتی آنکھوں کا، بہت سی جگہوں پر شکست کھانے کا، اپنی اولاد کے حقوق کی خاطر بے آبرو ہونے کا، دعاوں میں اپنے جگر گوشوں کے لئے اللہ کے سامنے دل رکھ کر بلکنے کا، یااپنی اولاد کی بیوفائی کا کڑوا گھونٹ ہنس کر حلق میں انڈیل لینے کا۔ وہ ٹیڑھی میڑھی جسے ایک وصف الہی کہاں سے کہاں لے گیا سب سے گزر گئی ۔ کئی آگ کے دریا جنت سے ٹپکے ایک قطرہء حیات نے پاٹ لئے۔ فقط ایک صفت نے اسے تن تنہا دنیا کے لق و دق صحرا میں آب زمزم پھوٹنے کا باعث بنا ڈالا۔
ایک خوبی ودیعت کر کے اس مظلوم و محکوم و معتوب جنس کو رحم کا بوجھ سہارنے کے عوض مرد سے تین گنا بلند کردیا۔
سوہنے اللہ کے من موہنے محبوب ، میرے اور آپ کے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں باپ کو جنت کا دروازہ کہا وہاں ماں کے پیروں تلے جنت بتادی۔
سعید بن ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا کہ
"ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کے پاس ایک یمنی شخص کو دیکھا جو اپنی ماں کو پیٹھ پر اٹھا کر طواف کروا رہا تھا۔ وہ شخص یہ شعر پڑھ رہا تھا:"میں اس (ماں) کے لیے تابع دار اونٹ ہوں، اگر اس کی سواری ڈر جائے تو میں نہیں ڈرتا"۔طواف کے بعد اس شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "اے ابن عمر! کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کر دیا؟"ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:"نہیں، ایک سانس (اس کی زچگی کی ایک تکلیف) کا بھی بدلہ نہیں، لیکن تو نے بہت اچھا کام کیا ہے اور اللہ اس تھوڑی سی خدمت پر تجھے بہت بڑا اجر دے گا" ( رواہ بخاری الادب المفرد کتاب الوالدین، حدیث نمبر 11) ۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سی ان عورتوں کو بھی اپنی اولاد کے حقوق کے لئے لڑتے اور بحث کرتے دیکھا جو کبھی بالکل خاموش طبع اور سیدھی سادھی سمجھی جاتی تھیں۔
میرا اور میری امی کا رشتہ بڑا مختلف رہا۔ آج سوچتی ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو میری سب سے پکی والی سہیلی تھیں۔
مضبوط، حسین، بلند حوصلہ اور علم دوست۔ انہوں نے ہم تینوں بہنوں کو عملا اپنے بہترین کردار سےمتاثر کیا۔
نہ تو انہوں نے ہمیں زمانے یا مرد سے ڈرایا نہ ہی ابا نے۔ بس ایک ہی بات سکھائی، ڈر اور در اللہ کا، باقی سب خیر ہے۔ انسان دوستی، عاجزی، انکساری، خدمت خلق اور مظلوم کے حقوق کے لئے ڈٹ جانا۔ ظالم کا ہاتھ ظلم سے روکنا۔ زندگی ایک مشن کے ساتھ گزارنا۔ خود کو اور خالق کو پہچاننا۔ اپنی جڑوں سے مضبوطی سے وابستہ رہنا۔ ہمدردی، جرآت اور ہمت یہ سب وہ خصائص ہیں جن کی عملی تفسیر ہم نے اپنے والدین میں پائی۔
2 سال کی عمر میں سری نگر کشمیر کے ایک مجاہد کی بیٹی ماں کی گود میں سمٹی پھلوں کے ٹرک میں چھپ کر پاکستان آئی۔ باپ سری نگر پر ہندو کے ناجائز قبضے کے صدمہ سے جانبر نہ ہو سکا اور وہیں اپنی دھرتی ماں میں پیوند خاک ہوا۔
نانی اماں اپنے 9 بچوں کے ساتھ عدت کے دنوں میں ملک بدر ہوئیں۔ سب چھوٹے بچے اور ایک جوان بیوہ۔ ان مجاہدوں نے اپنے وطن پر بہت کچھ قربان کردیا تھا۔
نیا وطن، نئے مسائل اور وقتی مگر شدید مالی مشکلات۔
ان سب میں اماں بہت برے طریقے سے پس کر رہ گئیں۔ جذباتی طور پر شدید تنہا بھی۔ بڑے بہن بھائیوں کے احسانات کا شدید بار، ماں پر بوجھ ہونے کا دکھ، بھائیوں کا ساتھ نہ دے پانے اور ان کے تنہا روزگار اور تعلیم کے لئے مسلسل کوشش یہ تمام عوامل ایسے تھے جنہوں نے ایک چھوٹے بچے کو جذباتی طور پر تنہا مگر مضبوط بھی کیا۔ بہت سے لوگوں، رویوں اور حالات کے بارے میں کچی پکی رائے بنتی گئی۔
اماں اکثر مجھ سے کہا کرتی تھیں۔ " جب تیرا باپ میری زندگی میں آیا تو میں جو ایک سیلاب تھی، منہ زور پانی کی طرح، میں پر سکون دریا بن گئی۔ میرے زندگی کے ساتھی نے مجھے شفقت، محبت، اعتماد اور خود شناسی جیسے تجربات سے متعارف کروایا۔ میں نے اس انسان سے فرشتوں جیسی عبادت اور پیغمبروں جیسی عاجزی سیکھی۔
اماں کا ہماری دادی سے بھی بہت پیارا رشتہ رہا۔ ان کے آنے سے ایک ماہ پہلے گھر دلہن کی طرح سجایا جاتا۔ ہر تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹائی جاتی کہ ان کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔ ہماری درویش صفت دادی کے لئے نئے جوتے، جوڑے، منقش چھڑی بنوائی جاتی جو وہ اللہ کی ولیہ مشکور ہو کر وصول کرتیں اور پھر کسی پوتی یا نواسی کو دے دیتیں کہ وہ دو جوڑوں اور دو ہی جوڑے جوتوں سے سوا کچھ اپنے پاس نہ رکھتیں۔ ہجرت انہوں نے بھی کی تھی، شوہر ان کے بھی ہجرت کے بعد چل بسے مگر ان کے بچے بہت با اختیار اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک بنے۔ دادی جان نے اماں کو ہماری تائی جان کے ساتھ چراغ لے کر ڈھونڈا تھا۔ ایک طرف ممتا اور دوسری طرف لاڈلے، ہر فن مولا محبت کرنے والے دیور اور ماموں زاد کا پیار تھا جو اماں کو دلہن بنا کر اس خاندان میں لے آیا۔ دلہن بھی ایسی کہ جس کے سرو قد، صورت اور سیرت کا چرچا چاروں اور ہوا۔
میرے تایا جان جو اپنے علاقے کے روحانی، سیاسی اور عوامی لیڈر تھے اماں کی شخصیت کے بہت بڑے مداح تھے۔ اکثر سیاسی فیصلہ کرنے سے پہلے اماں کو پردے کے پیچھے سے وہ شخصیت دکھائی جاتی اور پھر رائے لی جاتی۔ بات اتنی سی ہے کہ باوجود چھوٹے بھائی ہونے کے ابا کی عزت ان کے بے داغ کردار اور عقل و دانش کے باعث اپنے گھر میں بہت تھی۔ ابا نے اماں کو ہر لحاظ سے مضبوط اور خود مختار کیا۔ پندونصائح کے انبار نہیں لگائے بس ساتھ کھڑے رہے اور مواقع دیتے رہے۔ جہاں کجی دیکھی وہاں اپنی راست بازی سے اسے چھپا لیا۔ اماں کہتی تھیں کہ یہ نام کا محسن نہیں اس شخص نے مجھے سر سے پیر تک ڈھک دیا۔ یہ میرا عزت والا لباس بن گیا۔
ہمیں ابا سے محبت اور خاموش ریاضت سی خدمت بھی اماں نی سکھائی۔ بلا شبہ یہ وہ عملی اظہار تشکر تھا جو ایک عورت نے اپنے کفیل کو پیش کیا۔ جب ہم ابا سے لپٹتے اور ان کوچومتے، ان کے ساتھ پہروں باتیں کرتے تو خاموشی سے تکتی رہتیں پھر چپکے سے مجھ سے پوچھتیں، " کیسا محسوس ہوتا ہے، کیا باپ سے بھی پیار ہوسکتا ہے؟ میں نے تو صرف ماں کو دیکھا تھا مجھے محسوس نہیں ہوتا یہ رشتہ!" میری دعا ہے کہ اللہ ان کو اپنے باپ سے وہاں اپنی فردوس الاعلی میں ملوادے۔ آمین

اپنے بچپن کی ایک رات مجھے بھولتی نہیں۔ دسمبر کی یخ بستہ رات تھی، بارش اور طوفان۔ اچانک آدھی رات کو گھر کا گیٹ کسی نے اپنی پوری قوت سے دھڑدھڑایا۔ ابا کسی کام سے گھر پر نہیں تھے۔اماں نے گہری بھوری اونی چادر لپیٹی اور برآمدے میں کھڑی ہو کر چوکیدار کو بھیجا کہ دیکھے کیا معاملہ ہے۔ اس نے آکر بتایا کہ مالی نے اپنی بیوی کا پیر کلہاڑی سے زخمی کردیا ہے اور اس کو بری طرح پیٹ رہا ہے۔
اماں اونچی لمبی اور مضبوط بدن کی تھیں۔ یوں باہر کو لپکیں جیسے کوئی بجلی کا کوندا۔ میں بھی اماں کی پیچھے بھاگتی مالی کے کوارٹر میں گرتی پڑتی ذرا دیر سے پہنچی تو دیکھا کہ اماں نے اس کا ہاتھ مروڑ کر اس کے کمر سے لگا رکھا ہے۔ کلہاڑی اماں کے ہاتھ میں ہے اور وہ گرج رہی ہیں۔
اس کی بیوی بیچاری زمین پر بیہوش پڑی تھی۔ خون ہی خون بکھرا تھا۔ کمپاونڈرکی بیوی اس کے زخم پر اپنی چادر رکھے خون روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اماں کے ہونٹوں پر بس ایک ہی بات تھی۔ " تو نے ایک باہر کے آدمی پر یقین کیا؟ اپنی بیوی کی نہ سنی؟ تو ساتھ نہیں رکھ سکتا تو اس کو چھوڑ دے مگر مارا کیوں؟ " مالی ڈرا سہما معافیاں مانگ رہا تھا۔ میری ہیرو ماں نے غصے سے پاگل آدمی کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر بے بس کر رکھا تھا۔ اور کلہاڑی اب ان کے ہاتھ میں تھی اور پوچھ رہی تھیں کہ " بتا اب میں تیرا کونسا پیر کاٹوں کہ تو نے نا حق بہتان لگایا اور بے بس عورت پر ہاتھ اٹھایا۔"
اور بہت سے شجاعت کے قصے ہیں۔ اگر بیان کروں تو آپ پڑھتے جائیں گے اور میں لکھتی جاوں گی۔
ہمارا گھر کئی لاوارث اور بے بس عورتوں کا گھر بھی تھا۔ وہ کسی قریبی گاوں سے آتیں۔ مختلف مسائل، کورٹ کچہری کے چکر، اولاد کی کفالت کے مقدمات ہوں یا نوکری پیشہ اپنے گھر کی واحد کفیل خواتین، سب دوپہر کا کھانا کھاتیں ، سستاتیں، روتیں، دکھ سکھ کرتیں، ڈاکٹر صاحب (ابا) کو اپنی کتھا سناتیں، ابا ان کے لئے دنیا سے لڑنے نکل جاتے اور اماں ان کو سینے سے لگا کر سہلاتیں۔ ہنساتیں، امید دلاتیں۔
بھائی سیاسی قیدی ہوئے تو زندگی سے بیزار ہوئیں جب تک کہ ابا ماموں کو گھر نہ لے آئے۔ تین سے چار سال کا دور ابتلاء تھا۔ اسی غم میں نانی دنیا سے منہ موڑ گئیں۔ وہ تو اپنا دیس چھوڑ کر سلطنت اسلامیہ میں آئی تھیں۔ اب یہاں کون دشمن بنا یہ ان کا لہو اگلتا دل نہ سمجھ سکا اور نہ ہی سہہ سکا۔
پھر ہماری زندگیوں میں ابا کی بیماری کا دور آیا۔ اماں سر سے پیر تک بدل گئیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسی عورت دیکھی جو جیتے جی اپنے شوہر پر قربان ہو گئی۔ نفسیاتی طور پر بہت سے وسوسوں کے سانپ پھن لہراتے حصار باندھ کر کھڑے ہو گئے اور یہ اپنی مخروطی انگلیوں سے اپنے محسن کے گرد خدمت و وفا شعاری کی محفوظ فصیلیں اٹھاتی گئیں۔ ایک ہی کوشش کہ میری بچیاں میری طرح یتیم نہ کہلائیں۔
آخر کار ابا بھی چلے گئے۔ ان کے ساتھ کا وہ آخری دن کبھی نہ بھولنے والا تھا۔ابا کو میرے سینے سے لپٹے خون اگلتے دیکھ کربیہوش ہو کر گر گئیں۔ ابا کے ہونٹ کانپے، " ہوش کرو فرحت! میں ٹھیک ہوں!" میں ابا کو خود سے لپٹائے کھڑی تھی ، ایک خون کا تالاب تھا جس میں میں اور ابا نہا رہے تھے۔ میرا گل لالہ مجھے اپنا آخری خراج دے رہا تھا۔ میں نے تڑپ کر کہا، " امی اٹھیں!" جسم میں حرکت ہوئی اور کھڑی ہوگئیں۔ اور یوں ان کی زندگی سےابا کا باب بھی ختم ہوا۔
اکثر کہتیں مجھے مرد راس ہی نہیں۔ باپ نہ دیکھا، اللہ نے بیٹا نہ دیا اور پھر شوہر بھی چلا گیا۔
اپنی بیوگی کے 22 سال بھرپور عزت اور خود مختاری سے گزارے۔ کسی بیٹی کو کبھی کوئی ذمہ داری دینا تو کجا کبھی ہم سے اپنی کسی تکلیف کا ذکر بھی نہ کیا۔ محلے کی کئی عورتوں کی غم خوار، محبت کا مرکز، ہمدردی کا سوتا ، ہماری اماں تھیں۔
آخری دنوں میں میرے پاس تھیں۔ یہ میری خوش بختی تھی۔ سرطان ان کی ہڈیوں تک کو چاٹ گیا تھا۔ اچانک مجھےبخار ہوگیا۔پورے جسم میں شدید درد تھا۔ میں اماں کو کھانا کھلانے لگی تو چہرے سے ہی پہچان لیا کہ میں ٹھیک نہیں۔ چھو کر محسوس کیا اور اپنے کمزور ہاتھوں سے مجھے اپنے استخوانی سینے سے لگا کر دبانے لگیں۔ اف وہ جو درد جدائی میرے سینے میں اٹھا، کیا احساس شرمندگی تھا!!!!
ایسے عظیم جذبے کو کیسے سراہا جائے۔ موت سامنے کھڑی ہے مگر اب بھی اولاد ہی کی حفاظت ہو رہی ہے۔ ایک دن کہنے لگیں" میں تیرے صدقے جاوں!" اور میں ان کے مٹتے وجود کو دیکھ رہی تھی۔اور سوچ رہی تھی کہ میں کیسے اپنی ماں کی رگوں میں اتر جاوں کہ وہ پھر سے بھلی چنگی ہو جائیں۔ اماں میں کیسے تیرے صدقے جاوں؟
رب ارحمھما کما ربینی صغیرا
سیدہ نمیرہ محسن شیرازی۔
مئی 2026

I Sacrifice Myself for You!!!Today, the world is celebrating Mother’s Day. At first, I wondered what I could possibly wr...
11/05/2026

I Sacrifice Myself for You!!!

Today, the world is celebrating Mother’s Day. At first, I wondered what I could possibly write about it. Because not just mine, but all of our entire lives are indebted to our mothers in such a way that their favour keeps us bowed before them forever. For us, every day is Mother’s Day.

But then I thought that perhaps such a piece of writing could become a reason for hope and life for many mothers whose children fail to value them.

Allah created woman from the left rib of man and from the most curved one at that. Humanity learned much later that clarified butter never comes out with a straight finger. This delicate gender was meant to straighten many men, nurture and protect them, and prepare many more responsible mothers like herself.

So Allah granted this “crookedness” such a straight path that, because of this divine guidance and her own beauty of spirit, she endured every pain whether the pain of childbirth, sleepless nights raising children, repeated disappointments in life, humiliation suffered while fighting for her children’s rights, crying before Allah in prayers for the sake of her beloved children, or swallowing the bitter poison of her children’s betrayal with a smile.

That crooked, fragile being was elevated by a divine attribute to unimaginable heights. Many rivers of fire were bridged by a single drop of the water of life from Paradise. Just one quality transformed her into a source from which Zamzam springs forth in the barren deserts of this world.

By entrusting this oppressed, burdened, and often condemned gender with the weight of mercy, Allah raised her rank three times above man.

The beloved Messenger of Allah, my master and yours, ﷺ, said that while the father is a gateway to Paradise, Paradise lies beneath the mother’s feet.

Sa‘id ibn Abu Burdah narrated that he heard his father say:

“Ibn Umar (RA) saw a Yemeni man carrying his mother on his back while performing Tawaf around the Kaaba. The man was reciting poetry:
‘I am her obedient camel; if her mount becomes frightened, I do not.’
After completing the Tawaf, the man asked Ibn Umar:
‘O Ibn Umar! Have I fulfilled my mother’s rights?’
Ibn Umar replied:
‘No, not even for a single contraction of childbirth. But you have done well, and Allah will reward you greatly even for this little service.’”
(Al-Adab Al-Mufrad, Hadith 11)

In my own life, I have seen many women fight fiercely for their children’s rights women once thought to be quiet, simple, and submissive.

My relationship with my mother was unique. Today, when I reflect on it, I realize she was my truest and closest friend.

Strong, graceful, courageous, and deeply devoted to knowledge, she influenced all three of us sisters through the power of her own character.

Neither she nor my father taught us to fear the world or men. They taught us only one thing: fear Allah, and everything else is manageable. Love humanity, remain humble, serve creation, stand firmly for the oppressed, stop the oppressor from oppression, live life with purpose, know yourself and your Creator, stay connected to your roots Compassion, courage, and strength these were qualities we saw embodied in our parents.

At the age of two, my mother the daughter of a Kashmiri freedom fighter from Srinagar came hidden inside a fruit truck to Pakistan, clinging to her mother during migration Her father could not survive the grief of the unlawful occupation of Srinagar and was buried in the soil of his homeland.

My grandmother was exiled during her mourning period with nine children all young, and she herself a young widow. These freedom fighters had sacrificed everything for their homeland.

A new country, new struggles, and severe financial hardship followed.

My mother was crushed beneath all this. She was emotionally isolated too burdened by the favors of older siblings, by feeling like a weight on her mother, by being unable to support her brothers enough, and by their constant struggle for survival and education. These experiences made a small child emotionally lonely but strong. Gradually, she formed her own understanding of people, attitudes, and circumstances.

She often told me:
“When your father came into my life, I was like a flood wild and uncontrollable water. He transformed me into a peaceful river. My life partner introduced me to tenderness, love, trust, and self-awareness. From him, I learned worship like angels and humility like prophets.”

My mother also shared a beautiful bond with my grandmother. A month before grandmother’s arrival, the house would be decorated like a bride. Anything that might hurt her was removed from her path. New shoes, dresses, and beautifully carved walking sticks were prepared for our saintly grandmother, who would accept them gratefully and then gift them away to granddaughters, for she never kept more than two dresses and two pairs of shoes for herself.

She, too, had migrated. Her husband, too, had passed away after migration. Yet her children became influential leaders and strong personalities.

My paternal uncle, a spiritual, political, and social leader of his region, deeply admired my mother’s personality. Before making political decisions, he would sometimes ask for her opinion from behind a curtain after showing her the concerned person. Despite being the younger brother, my father was deeply respected within the family because of his spotless character and wisdom.

My father empowered my mother in every way. He never buried her under sermons and lectures he simply stood beside her and gave her opportunities. Wherever he saw flaws, he covered them with his own righteousness.

My mother used to say:
“He is not merely a benefactor by name; this man covered me from head to toe. He became the garment of my honour.”

She also taught us how to love and quietly serve our father. It was her practical expression of gratitude toward the man who had protected her.

Whenever we hugged and kissed our father and spent hours talking with him, she would quietly watch us. Then she would softly ask me:
“What does it feel like? Can one really love a father this way? I only knew a mother’s love. I can not fully comprehend this bond.”

I pray Allah reunites her with her father in the highest paradise. Ameen.

One night from my childhood can never leave my memory.

It was a freezing December night with storm and rain. Suddenly, someone began banging violently on our gate in the middle of the night. My father was away.

My mother wrapped herself in a dark brown woollen shawl and sent the watchman to investigate. He returned, saying that the gardener had attacked his wife with an axe and was beating her brutally.

My mother was tall and strong. She rushed out like lightning. I ran behind her and reached the servants’ quarters moments later.

There, I saw my mother twisting the man’s arm behind his back while holding the axe in her own hand. His wife lay unconscious on the floor in a pool of blood while another woman tried to stop the bleeding with her shawl.

My mother thundered:
“You trusted an outsider over your own wife? If you could not live with her, you could have left her, but why did you beat her?”

The terrified gardener begged forgiveness.

My heroic mother held the raging man helpless with one hand and shouted:
“Tell me now which leg of yours should I cut off for falsely accusing and abusing a defenceless woman?”

There are countless more stories of her courage. If I continue, you will keep reading, and I will keep writing.

Our home became a refuge for many abandoned and helpless women from nearby villages. Whether they were trapped in court cases, fighting for child support, or working women solely supporting their households they came to our house, ate lunch, rested, cried, shared their pain, told my father their stories, and he would go fight the world for them while my mother embraced them, comforted them, made them laugh, and restored their hope.

When my uncle became a political prisoner, she became deeply broken until my father finally brought him home. It was a trial lasting three to four years. During this grief, my grandmother also lost her will to live. She had migrated believing she was coming to the land of Islam she could not bear that enemies would arise here, too.

Then came my father’s illness.

My mother transformed completely. I saw with my own eyes a woman who sacrificed herself alive for her husband. Psychological fears surrounded her like venomous snakes, and she built fortresses of loyalty and service around the man who had protected her all her life. She had only one wish:
“May my daughters never become orphans like I did.”

Eventually, my father too passed away.

That final day is unforgettable.

I was holding him against my chest while he coughed blood. Seeing this, my mother collapsed unconscious. My father’s lips trembled:
“Compose yourself, Farhat! I am alright!”

There was blood everywhere a pool in which my father and I seemed drenched. My red tulip was giving me his final farewell.

I cried out:
“Mother, get up!”

She moved… and stood up.

And with that, the chapter of my father ended in her life too.

She often said:
“Men were never destined for me. I never saw my father. Allah did not grant me a son. And then my husband also left.”

She spent twenty-two years of widowhood with dignity and independence. Never once did she burden her daughters with responsibility or even speak of her own pain. She became a source of compassion and comfort for countless women in the neighbourhood.

In her final days, she stayed with me, my greatest blessing.

Cancer had eaten into even her bones.

One day, I developed a fever and severe body pain. While feeding her, she immediately sensed from my face that I was unwell. She touched me, then with her weak hands pulled me into her skeletal chest and tried comforting me.

Ah… the pain that rose within me at that moment what unbearable shame I felt!

How does one honour such greatness? Death stood before her, yet even then, she was concerned only about protecting her child.

One day, she said to me:
“I sacrifice myself for you.”

And I looked at her fading body, wondering how I could dissolve into my mother’s veins and restore her to health again.

Mother!!!!how can I sacrifice myself for you?

“My Lord, have mercy upon them as they raised me when I was small.”
Syeda Numera Mohsin Sherazi
May 2026

05/05/2026
01/05/2026
A peace songFrom turquoise vastness, wide and deep,A shell arose from silence’ sleep;From heaven’s blue, a trembling sea...
27/04/2026

A peace song

From turquoise vastness, wide and deep,
A shell arose from silence’ sleep;
From heaven’s blue, a trembling sea,
There fell a tear of penitent plea.
That pearl condemned through time to bear
The weight of sorrow, soft despair;
Though Eve’s own eyes have long grown dry,
Her tear still lives in every eye
In every daughter’s silent gleam,
A shard of that eternal dream.
Come, let us raise this tear above,
And shape it into hope and love;
A star that through the darkest night
Transforms the void to galaxies bright.
Let every wounded heart be won
For we are peace’s chosen ones;
The blooms of Eden, pure and fair,
That grace a scorched and broken sphere.
We are the keepers of the land,
With gentleness in steadfast hand;
Though shadows of the sword may fall,
We sow soft fields beneath them all.
The fireflies within our sight
Bring whispers of enduring light;
In death’s own dark, they softly say:
“Behold there dawns a living day.”
We are hopeful we believe,
That peace shall come, that grief shall leave;
And by our hands, its light shall rise
To heal the earth, to bless the skies.
The pride of all this boundless sphere,
We stand, unyielding, free from fear;
Oppression’s chains we shall undo,
And paint the world in justice true.
We, the women life’s sacred flame,
With womb’s seeds, in love’s pure name,
Shall teach the storm, so harsh and wild,
To bow before compassion mild.
Yes,we shall triumph, we shall prove
That even wrath must yield to love.
We are the women of IWPG

Lines by
Syeda Numera Mohsin Sherazi
April 2026
For

یہ ظلم ہمارا مذہب بن چکا ہے۔
18/04/2026

یہ ظلم ہمارا مذہب بن چکا ہے۔

جہاں ایک عورت کی پہچان شادی کے بعد آہستہ آہستہ ختم کر دی جاتی ہے۔ Kubra Khan کا کردار ثانی اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک پڑھی لکھی ڈاکٹر کو اپنے خوابوں اور کیریئر پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، صرف اس لیے کہ سسرال کی توقعات پوری کی جا سکیں۔سب سے دردناک بات؟ جب اپنی ہی فیملی اس سب کو نارمل سمجھ کر سپورٹ کرتی ہے۔ یہ کہانی صرف ایک ڈرامہ نہیں… بلکہ معاشرے کا وہ عکس ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔کیا واقعی زمانہ نہیں بدلا… یا ہم بدلنا ہی نہیں چاہتے؟

29/03/2026

دمام کی بلند و بالا رہائشی علاقے کی بغلی شاہراہ پر تین بڑے پلوں کے بیچ زندگی بہہ رہی ہے۔ ان کے دوسری جانب سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔
گھر کے سامنے تن کر کھڑے درخت چاندنی میں پتوں پر پھیلے آنسو ہوا کی تھپکیوں سے پی رہے ہیں۔ ایک دن پہلے کی ہوا نے ان سے ان کے بازو چھین لئے تھے۔
ان سادھووں کی کٹیا میں چھپا کوئی پرندہ اپنی نازک چونچ سے بہار کے نغمے بن رہا ہے۔ گھر تو اس کا بھی بگولوں میں اڑ گیا ہے مگر یہ درویش خالق سے مایوس نہیں۔ زندگی کا ہونا ہی اس کو شادی ہے۔ آوازیں ہیں، بہت سی آوازیں ہر سو پھیلی رات کی خاموشی پر ساز ہے۔سردی کی خنکی اپنے آخری دموں پر ہے۔
سڑک پر بچے کھیل رہے ہیں۔ اوپر والے اپارٹمنٹ سے کوئی چلا کر بجلی بجھانے کو کہہ رہا ہے۔ سامنے باغ میں سگریٹ کا دھواں ایک بینچ سے اٹھ رہا ہے۔
بلیاں درختوں کے نیچے لمبی گھاس میں پیر پسارے خودرو ننھے پھولوں کو سونگھ رہی ہیں۔
کسی بلڈنگ میں کوئی کانچ ٹوٹا ہے۔ کوئی دل جلا اپنی پرسوز آواز میں گا رہا ہے۔ گاڑیاں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں اور زندگی ہمارے پیچھے۔
ابھی چند روز پہلے کے خوفناک گردباد سے قبل ایسی ہی شام دل ہولائے دے رہی تھی۔ سرد، حبس زدہ، خاموش، بے روح شام۔
زندگی کہاں رکتی ہے؟ یہ تو موت سے پہلے ہر رگ سے پھوٹتی، لپکتی، چلتی جاتی ہے۔
جیتے رہئیے، سنئیے، پڑھئے،سوچئے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رہئیے۔ راز افشا ہونے کے لئے اور تالے کھلنے کے لئے ہوتے ہیں۔
سیدہ نمیرہ محسن شیرازی
مارچ 2026

Address

Lahore
54590

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adept Women's Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Adept Women's Club:

Share