Darul Falah International

Darul Falah International جہاں ملے آپ کو ایمان اور تقوی کی بہار

03/02/2025

مسلمانوں کے عملی زوال کے اسباب
طیب الرحمن

1. علمِ نافع سے دوری
مسلمانوں کی ترقی کا ایک بڑا راز علم میں تھا، لیکن آج وہ علمی میدان میں پیچھے ہیں۔ نہ دینی علوم کا گہرا فہم ہے اور نہ دنیاوی علوم میں مہارت حاصل کی جا رہی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ"
(کہو، کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟) [الزمر: 9]
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ"
(اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔) [بخاری: 71]
2. اعمال میں کمزوری اور غفلت
مسلمانوں کی عملی کمزوری کا ایک بڑا سبب دین پر عمل میں کمی ہے۔ نماز، صداقت، امانت، دیانت اور حسنِ اخلاق کی کمی عام ہو چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"
(بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔) [الرعد: 11]
نبی ﷺ نے فرمایا:
"بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ"
(آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے۔) [مسلم: 82]
3. دیانت اور امانت کا فقدان
مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں دیانت و امانت کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے معاشی اور سماجی مسائل بڑھ رہے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ"
(جب امانت ضائع ہو جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔) [بخاری: 59]
4. اتحاد کی کمی اور فرقہ واریت
مسلمان مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے اجتماعی طاقت کمزور ہو چکی ہے۔
قرآن میں حکم ہے:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"
(اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ نہ بنو۔) [آل عمران: 103]
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا"
(آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی بن جاؤ۔) [مسلم: 2563]
5. رزقِ حلال اور معیشت کی غفلت
معاشی کمزوری بھی زوال کی ایک بڑی وجہ ہے، کیونکہ امتِ مسلمہ نے حلال رزق اور خود کفالت پر توجہ نہیں دی۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْكَادُّ عَلَى عِيَالِهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"
*(جو شخص اپنے اہل و عیال کے لیے محنت کرتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔) [طبرانی: 142]۔
مسلمانوں کے عملی زوال کا حل
1. علم اور تعلیم کو فروغ دینا
مسلمانوں کو دینی اور دنیاوی دونوں علوم میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ"
(علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔) [ابن ماجہ: 224]
2. نماز، تقویٰ اور اعمالِ صالحہ پر زور دینا
عملی اصلاح کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
قرآن میں ہے:
"إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ"
(بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔) [العنکبوت: 45]
3. دیانت اور امانت کو عام کرنا
ہر شعبے میں ایمانداری کو فروغ دینا ضروری ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ"
(بے شک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔) [بخاری: 6094]
4. اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینا
مسلمانوں کو آپسی اختلافات کو ختم کر کے ایک امت بننا ہوگا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ"
(مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔) [مسلم: 2580]
5. حلال روزی اور معیشت میں خود کفالت
مسلمانوں کو معاشی میدان میں مضبوط ہونا چاہیے تاکہ دوسروں پر انحصار کم ہو۔
قرآن میں ہے:
"وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ"
(اور یہ کہ انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ کوشش کرے گا۔) [النجم: 39]
نتیجہ
مسلمانوں کے عملی زوال کی وجوہات میں علم سے دوری، اعمال کی کمزوری، دیانت کی کمی، فرقہ واریت، اور معاشی پسماندگی شامل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ہمیں قرآن و حدیث کے مطابق اپنی زندگیوں کو سنوارنا ہوگا، علم و عمل کا توازن پیدا کرنا ہوگا، اتحاد کو فروغ دینا ہوگا، اور معاشی میدان میں ترقی کرنی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر چلنے اور عملی طور پر ایک مضبوط امت بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

03/02/2025

جدید تعلیم اور اسلامی تربیت میں توازن کیسے؟

ازقلم: طیب الرحمن

دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور جدید تعلیم ہر شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ تعلیم اسلامی اقدار سے متصادم ہے؟ کیا ایک مسلمان جدید تعلیم حاصل کرتے ہوئے دین پر مضبوطی سے قائم رہ سکتا ہے؟ اس بلاگ میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں جدید تعلیم اور اسلامی تربیت کے درمیان توازن کا طریقہ سمجھیں گے۔
1. اسلامی تعلیم اور جدید علم کی ضرورت
اسلام نے ہمیشہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے، چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا
(اور کہو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔) [سورہ طہٰ: 114]
یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اسلام میں علم حاصل کرنا ایک فضیلت ہے، اور اس میں دنیاوی علوم بھی شامل ہیں جو انسانیت کی بھلائی کے لیے ہوں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ
(علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔) [ابن ماجہ: 224]
یہاں "علم" صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ علم جو انسان اور معاشرے کے لیے مفید ہو، اس میں شامل ہے۔
2. جدید تعلیم کی ضرورت مگر حدود کے ساتھ
آج کی دنیا میں ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، آئی ٹی ایکسپرٹ، اور دیگر پروفیشنلز کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو ان شعبوں میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ اسلامی اقدار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا
(اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے، اس میں آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔) [القصص: 77]
یہ آیت سکھاتی ہے کہ دنیاوی ترقی اور دینی تربیت کو ایک ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔
3. جدید تعلیم میں اسلامی تربیت شامل کرنے کے عملی طریقے
(1) دینی اور دنیاوی تعلیم کو یکجا کرنا
مسلمان بچوں کو ایسے اداروں میں تعلیم دینی چاہیے جہاں دینی ماحول ہو۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو گھر میں دینی تعلیم کے لیے خاص وقت مقرر کریں۔
(2) نصاب میں اسلامی اقدار شامل کرنا
اگر آپ کسی تعلیمی ادارے میں پڑھاتے ہیں یا اس سے جڑے ہیں تو نصاب میں اسلامی اقدار کو شامل کرنے کی کوشش کریں۔
(3) سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال
آج کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال بہت عام ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے صحیح اور مفید استعمال کی تربیت دیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ
(بے شک اللہ ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کرے گا۔) [بخاری: 893]
یہ حدیث والدین اور اساتذہ کو یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور بچوں کو دینی و دنیاوی دونوں لحاظ سے بہترین تربیت دیں۔
(4) کیریئر کے انتخاب میں اسلامی پہلو مدنظر رکھنا
مسلمانوں کو ایسے شعبے اختیار کرنے چاہئیں جو نہ صرف دنیاوی لحاظ سے فائدہ مند ہوں بلکہ دین کے مطابق بھی ہوں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللهَ يُحِبُّ إِذَا عَمِلَ أَحَدُكُمْ عَمَلًا أَنْ يُتْقِنَهُ
(اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب کوئی کام کرے تو اسے بہترین طریقے سے کرے۔) [مسند احمد: 8939]
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مسلمان کو اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرنی چاہیے، چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی۔
4. اسلامی تربیت کے بغیر جدید تعلیم کے نقصانات
اگر جدید تعلیم اسلامی تربیت کے بغیر دی جائے تو اس کے کئی نقصانات ہو سکتے ہیں، جیسے:
دین سے دوری: مغربی تعلیمی نظام میں سیکولر نظریات غالب ہوتے ہیں، جو ایمان کو کمزور کر سکتے ہیں۔
اخلاقی گراوٹ: دینی تربیت نہ ہونے سے نوجوان مغربی ثقافت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
صرف مادی ترقی کا رجحان: لوگ دنیاوی کامیابی کو ہی سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں، اور آخرت کی فکر ختم ہو جاتی ہے۔
نتیجہ: توازن کیسے ممکن ہے؟
1. والدین اور اساتذہ دینی و دنیاوی تعلیم میں توازن پیدا کریں۔
2. ایسے تعلیمی ادارے تلاش کریں جہاں دینی ماحول ہو۔
3. جدید علوم حاصل کریں لیکن اسلامی اقدار کو مقدم رکھیں۔
4. زندگی کے ہر پہلو میں دین کو شامل کریں، چاہے وہ کاروبار ہو، تعلیم ہو یا سوشل میڈیا۔
5. ہر کام میں نیت درست رکھیں اور اللہ سے مدد مانگیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین اور دنیا میں توازن قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

03/02/2025

مسلمان تاجر کی کامیابی کے اصول: قرآن و سنت کی روشنی میں

از قلم: طیب الرحمن

کاروبار اسلام میں صرف دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک مقدس عمل بھی ہے، کیونکہ ایک مسلمان تاجر جب دیانت داری اور انصاف کے ساتھ تجارت کرتا ہے، تو وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اجر پاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ خود ایک تاجر تھے اور آپ ﷺ کی تجارت ایمانداری، دیانت داری، اور حسنِ اخلاق کی اعلیٰ مثال تھی۔ اس مضمون میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ایک کامیاب مسلمان تاجر کے اصولوں پر بات کریں گے۔
1. حلال اور حرام میں تمیز
قرآن کی تعلیمات
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَا تَأْكُلُوا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ وَتُدْلُوا۟ بِهَآ إِلَى ٱلْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا۟ فَرِيقًۭا مِّنْ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ۔
"اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اسے حکام (ججوں) تک پہنچاؤ تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناحق طور پر کھا جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔" (البقرہ: 188)
حدیثِ مبارک
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص حرام کمائی میں پرورش پائے، جنت میں داخل نہ ہوگا۔" (مسند احمد)
ایک کامیاب مسلمان تاجر وہی ہوتا ہے جو صرف حلال کاروبار کرتا ہے اور سود، دھوکہ، رشوت، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ سے بچتا ہے۔
2. دیانت داری اور سچائی
قرآن کی تعلیمات
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
"اور انصاف کے ساتھ ناپ اور تول کو پورا کرو، ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔" (الانعام: 152)
حدیثِ مبارک
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔" (ترمذی: 1209)
سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا اور تول میں کمی نہ کرنا ایک کامیاب تاجر کی علامت ہے۔
3. نرمی اور حسنِ سلوک
حدیثِ مبارک
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ اُس شخص پر رحم کرے جو خریدتے، بیچتے اور قرض کی وصولی کے وقت نرمی اختیار کرتا ہے۔"
جو تاجر گاہکوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، نرم مزاج ہوتا ہے اور لین دین میں آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے کاروبار میں برکت ڈالتا ہے۔
4. رزق کا اصل مالک اللہ ہے، اس پر بھروسہ رکھنا
قرآن کی تعلیمات
وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ۔
"اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔" (الذاریات: 22)
ہر تاجر کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ناجائز طریقے اپنانے کے بجائے محنت، دیانت داری اور دعا پر توجہ دینی چاہیے۔
5. سود (ربا) سے اجتناب
قرآن کی تعلیمات
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود میں سے باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔" (البقرہ: 278)
سود سے اجتناب کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ تجارت کے لیے زہر ہے۔ اگر کوئی مسلمان سچا تاجر بننا چاہتا ہے، تو وہ اسلامی مالیاتی اصولوں کو اپنائے اور حلال ذرائع سے سرمایہ کاری کرے۔
6. زکوٰۃ اور صدقہ: برکت کا ذریعہ
قرآن کی تعلیمات
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ
"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔" (البقرہ: 276)
جو تاجر زکوٰۃ دیتا ہے اور صدقہ کرتا ہے، اللہ اس کے کاروبار میں برکت ڈال دیتا ہے۔
7. وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی سے بچنا
حدیثِ مبارک
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔" (مسلم: 102)
ایک مسلمان تاجر کو گاہکوں کے ساتھ دھوکہ نہیں کرنا چاہیے، غلط بیانی نہیں کرنی چاہیے، اور مال میں عیب چھپا کر نہیں بیچنا چاہیے۔
8. توکل کے ساتھ محنت کرنا
حدیثِ مبارک
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تم اللہ پر ویسے ہی بھروسہ کرو جیسے بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، جو صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔" (ترمذی: 2344)
کامیاب تاجر اللہ پر بھروسہ بھی رکھتا ہے اور محنت بھی کرتا ہے۔
نتیجہ
ایک مسلمان تاجر کو حلال کمائی، دیانت داری، نرمی، سود سے اجتناب، صدقہ و زکوٰۃ، اور اللہ پر بھروسہ جیسے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ یہی وہ اصول ہیں جو نہ صرف کاروبار میں کامیابی دیتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔
جو تاجر اسلام کے اصولوں پر عمل کرتا ہے، وہ صرف مالدار نہیں بنتا بلکہ اللہ کی رحمت اور برکت بھی حاصل کرتا ہے۔

02/02/2025

تنہائی کے گناہ
__________________________
تحریر: عمیر ریاض شاہین
__________________________
آج ہمارے ایمان کو انٹرنیٹ اور موبائیل کے ذریعے آزمایا گیا ہے، جہاں ایک کلک آپ کو وہ کچھ دکھا سکتا ھے جو ہم سے پہلے اباؤ اجداد ہیں نہیں دیکھ سکے۔
اکثر مسلم نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر خفیہ گروپ جوائن کیے ہوئے ہیں۔ جن سے برائی کا راستہ مزید ہموار ہوتا ہے۔

( یَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ وَ ہُوَ مَعَہُمۡ ) (النساء - 108)
" وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں ( لیکن ) اللہ تعالٰی سے نہیں چھپ سکتے اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے"

ہمارے خلوت میں کیے ہوئے گناھوں کو صرف سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے۔

تنہائی میں بھی ہماری آزمائش ہوتی ہے (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب) اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔
یہ گناہ کرنے والے ہاتھ اور آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے ،،
( الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (یسن – 165)
"آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے"۔

دوران گناہ اگر ہوا کا جھونکا بھی دروازہ ہلا دے تو ہماری پوری ہستی ہل کر رہ جاتی ھے ،، کیوں ؟ رسوائی کا ڈر ،اس دن کیا ہو گا جب دنیا کائینات کے سب لوگ دیکھ رہے ہونگے، ان میں ہمارے بیوی بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہونگے اور دوست واحباب بھی موجود ہونگے، اس دن رسوائی کی کیا کیفیت ہو گی،،،،،؟

اس متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث جس کو پڑھنے سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں:

( عَنْ ثَوْبَانَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ،‏‏‏‏ بِيضًا،‏‏‏‏ فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ،‏‏‏‏ قَالَ ثَوْبَانُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ صِفْهُمْ لَنَا،‏‏‏‏ جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ،‏‏‏‏ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ،‏‏‏‏ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ) (سنن ابن ماجہ-4245 )
"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے، جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے"

آج بھی ہم سچی توبہ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم کر لیں تو ہمارے پچھلے کیے ہوئے گناہ معاف ہوسکتے ہیں اور ہم اس رسوائی سے بچ سکتے ہیں۔

خلوت کے گناہ انسان کے ایمان پختہ نہیں ہونے دیتے بلکہ متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں. اس سے انسان کے معاملات میں شفافیت نظر نہیں آتی۔ اللہ تعالی سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ ہمارے باطن کو ظاہر سے بھی اچھا کردے۔ جہاں کہیں بھی ہوں ہمیں اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
اللہ تعالی ہمیں ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھے۔ ( آمین )

02/02/2025

اسلام میں قانون سازی کا اختیار
__________________________
ازقلم: عمیر ریاض شاہین
__________________________
قانون سازی کا اختیار صرف اللہ تعالی کی ذات کے پاس ہے۔
جو شخص بھی قانون سازی کا اختیار اللہ کے علاوہ بنی آدم میں سے کسی بھی انسان کو دیتا ہے وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ کس طرح قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

(سَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکۡنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ شَیۡءٍ) سورۃ الانعام: 148
"یہ مشرکین ( یوں ) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالٰی کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے ۔"

(اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ) سورۃ الشوری: 21
"کیا ان لوگوں نے ایسے ( اللہ کے ) شریک ( مقرر کر رکھے ) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں."

(وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ نَّحۡنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ) سورۃ النحل: 35
" مشرک لوگوں نے کہا اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے ، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے."

(وَ لَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمۡ یُذۡکَرِ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسۡقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ) سورۃ الانعام: 121
"اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہو جاؤ گے."

یہ آیات اس بات پر واضح دلیل ہیں کہ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ جس طرح انسانوں کو پیدا کرنا اور کائنات کو وجود بخشنا اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ خاص ہےتو قانون سازی کا اختیار بھی اسی ذات کو ہے جو خالق اور مالک ہے۔

(اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ) سورۃ الاعراف: 54
"یاد رکھو خالق ہونا اور حاکم ہونا اللہ تعالی کے لیے ہی خاص ہے۔"

حاکمیت اور بادشاہت صرف اللہ رب العزت کی ذات مبارکہ کے لئے ہے۔ انسان زمین پر اللہ تعالی کا نائب ہے اور اس کی شرعیت کا تابع ہے۔

(و اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً) سورۃ البقرۃ: 30
" اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔"

دین اسلام میں حاکمیت کا مفہوم اس بات کے اعتراف کرنے میں ہے کہ زمین اور جو کچھ اس پر ہے، آسمان اور جو کچھ اس میں ہے سب اللہ عزوجل کی ملکیت ہے۔ اس کائینات کی تدبیر کرنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے۔ وہی اپنی مخلوق کے نفع و نقصان کو زیادہ جانتا ہے۔ دائرہ اسلام میں انسان کا اختیار صرف یہی ہے کہ وہ اللہ کا نائب ہونے کے ناطے اس کی شریعت کی پیروی کرے اور اس کو نافذ کرے۔ تاکہ عند اللہ ماجور حاکم بن سکے۔ خلافت راشدہ دو بندوں میں سے ایک کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔
1: اللہ تعالی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہے۔ جس پر اللہ تعالی کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالی کی کلام کی وضاحت اور اس کی مراد کو واضح کرتا ہے۔ لوگوں کو اللہ عزوجل کی شرعیت کے تابع ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالی کے قوانین کو مقاصد شرع کے تحت لوگوں پر نافذ کرتا ہے۔
2: دوسرا وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی شریعت کے تابع ہو۔ کتاب و سنت کو بنیاد بنا کر نبوی منھج کے مطابق اسلامی قوانین کا نفاذ کرتا ہو۔ اس کی حکومت بھی خلافت راشدہ کے حکم میں آئے گی۔
ہر امت کے قوانین ان کی آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں اللہ تعالی نے مختلف انداز میں ذکر کیے ہیں۔ ان سب سے زیادہ شرعی قوانین کی وضاحت اللہ تعالی کی آخری کتاب قرآن پاک میں ہوئی ہے۔
کوئی بھی شخص قانون سازی کا اختیار اللہ عزوجل کی ذات کو چھوڑ اس کے بندوں میں سے کسی کو دیتا ہے تو وہ شرک کرتا ہے۔ گویا کہ اسی بندے کو ہی اس نے رب بنا لیا ہے۔ کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ایک مرتبہ عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت کر رہے تھے۔

(اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ) سورۃ التوبۃ: 31
"ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے."

عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ اللہ نے جب یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تو کہنے لگے کہ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات اسی طرح نہیں ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالی نے حلال بنایا ہے تمہارے علماء اس کو حرام کہتے تو تم بھی اسے حرام سمجھتے تھے، اور جس چیز کو اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے تمہارے علماء اس کو حلال کہتے تھے اور تم بھی اس کو حلال سمجھتے تھے؟ میں نے کہا کیوں نہیں یہ بات بالکل اسی طرح ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی ان کی عبادت کرنا ہے۔
اللہ تعالی ہر اس قانون کا انکار کرتے ہیں جو اس کے حکم سے نکل کر کیا جائے۔ چاہے اس قانون میں ظاہراً کتنی ہی خیر کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ کی شریعت کے علاوہ جو بھی قوانین ہوتے ہیں وہ صرف خواہشات، خیالات اور اصطلاحات ہوتی ہیں۔ جن کو انسان بغیر کسی دلیل کے خود ہی بناتے ہیں۔ جس طرح دور جاہلیت میں لوگ اپنی گمراہی اور لاعلمی کی وجہ سے اپنے خیالات اور خواہشات سے قوانین بناتے تھے۔ موجودہ دور میں بھی شریعت کو چھوڑ کر خود قانون سازی کرنا (افَحُکۡمَ الۡجَاہِلِیَّۃِ یَبۡغُوۡنَ) میں آتا ہے۔

*اللہ تعالی ہمیں انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنی شریعت کا تابع بنائے ( آمین)*

02/02/2025

جمہوری طرز سیاست
__________________________
نام: عمیر ریاض شاہین
__________________________
جمہوریت کا مطلب ہے : " عوام کے ذریعہ سے عوام پر عوام کی حکومت ، جس میں ہر قسم کی شخصی آزادی ہو ۔ یہ ایک خوشنما جملہ ہے، مگر اس کے اندرزہر بھرا ہوا ہے۔ یہود و نصاری کے نزدیک جمہوریت گویا ان کا ایسا مذہب ہے جس کے ذریعہ سے وہ دنیا کے تمام مذاہب کو منسوخ کرنا چاہتے ہیں ۔
از نظام کی چند ایک خرابیاں مندرجہ ذیل ہیں:
جمہوریت کی پہلی خرابی یہ ہے کہ اس میں عوام کی حکومت ہوتی ہے جب کہ اسلام میں اللہ ہی اس کائنات کے خالق و مالک ہیں اور اسی کی حکومت ہے۔
قانون سازی:
جمہوریت میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ جب کہ اسلام بذات خود ایک مکمل اور معتدل ضابطہ حیات ہے۔
اکثریت کے مطابق عہدے:
جمہوری نظام میں عہدے اکثریت کی بنیاد بنا کر دیے جاتے ہیں جب کہ اسلام میں صلاحیت کو دیکھا جاتا ہے۔ اسلام میں اکثریت حق کی دلیل نہیں ہو سکتی۔
علامہ اقبال ہی نےاس پر سخت تنقید کی ہے ، وہ فرماتے ہیں
،، جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں میں،،
،، بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ،،

،، جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو،،
،، جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی،،

02/02/2025

دین میں نئے احکام شامل کرنے کی حیثیت
__________________________
از قلم: عمیر ریاض شاہین
__________________________
لغوی معنی:
حدیث کے لغوی معنی نئی چیز یا واقع کے ہیں۔
اصطلاحی تعریف:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل یا ایسا کام جو آپ کے سامنے کیا گیا ہو اسے حدیث کہتے ہیں۔

وحی کی دو قسمیں ہیں
1: القرآن
الفاظ اور معنی و مفہوم دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوں۔
2: الحدیث
الفاظ تو اللہ تعالیٰ کے نہ ہو بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوں لیکن معنی و مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو۔
حدیث بھی وحی الہی ہے سورة نجم میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
ترجمہ: اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے بلکہ ان کا بولنا تو وہی کی بنا پر ہے کہ جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔
معلوم ہوا کہ حدیث بھی وحی الہی ہے۔
حدیث اسی طرح حجت ہے جس طرح قرآن مجید حجت ہے اس کے قرآن مجید میں بہت سے دلائل ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر جب اپنی اطاعت کا حکم دیا ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا، جو کہ حجیت حدیث کی بہت بڑی دلیل ہے۔
حجیت حدیث کی ایک دلیل قرآن مجید میں فرعون کا واقعہ ہے فرعون بھی منکر حدیث ہی تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی موسی علیہ السلام پر تورات بنی اسرائیل کے نجات پانے اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد نازل کی یعنی جب فرعون کو نبی
موسی علیہ السلام نے دعوت دین دی تب تورات نازل نہیں ہوئی تھی تو فرعون نے نبی موسی علیہ السلام کی دعوت کا انکار کر دیا جو کہ موسیٰ علیہ السلام کی حدیث کا انکار ہے اس سے معلوم ہوا کہ فرعون منکر حدیث تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ محمد آیت نمبر 33 میں ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ
ترجمہ ۔ اے ایمان والو اللہ تعالی کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہیں کرے گا اس کے اعمال ضائع ہو جائے گے یعنی منکر حدیث کے اعمال ضائع ہیں قابل قبول نہیں۔
سوره نساء آیت نمبر 80 میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَنْ تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا
ترجمہ ۔ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے در حقیقت اللہ تعالی ہی کی اطاعت کی ۔
اس آیت سے معلوم ہوا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی اور جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی
حدیث قرآن مجید کی تشریح اور وضاحت ہے اللہ تعالی نے سورة نحل آیت نمبر 43 میں فرمایا:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم) پر ذکر قرآن کریم) نازل فرمایا ہے تاکہ جو کچھ ان کے لیے نازل کیا گیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تشریح و وضاحت کر کے لوگوں کو بتا دیں اور تاکہ لوگ غور و فکر کریں۔
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو ذکر یعنی قرآن مجید نازل کیا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مفسر اور اس کی تشریح اور وضاحت کرنے والے ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھی قرآن کی طرح حجت ہے۔

02/02/2025

موضوع: علمی دورہ جات کی افادیت
__________________________
ازقلم:عمیر ریاض
__________________________
دینی مدارس میں چونکہ رمضان المبارک سے قبل دو ماہ کی چھٹیاں ہو جاتی ہیں، اس لیے طلبہ علم کے لیے فراغت کے ان دنوں میں ایک اہم علمی دورے کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ان خصوصیات کو پیش نظر رکھا گیا ہے:
1۔ دورے میں ان 5 اہم عناوین کا انتخاب کیا گیا ہے جو نہ صرف علم شرعی کی اساس ہیں اور ان پر طلبہ علم کو خاص ترکیز کرنی چاہیے، بلکہ یہ 5 موضوعات طلبہ علم کے لیے ان کے تمام تعلیمی مدارج میں لازماً شامل ہوتے ہیں اور ان میں مہارت و قابلیت کے بغیر طلبہ میں رسوخِ علمی کا حصول نا ممکن ہوتا ہے۔
2۔ اس دورے کا اہم امتیاز یہ ہے کہ اس میں تدریس کے لیے ان علوم کے ماہر مدرسین اور متخصص اساتذہ کا چناؤ کیا گیا ہے جنھوں نے برسہا برس ان علوم واصول کی تدریس کی ہے اور وہ ان فنون میں خاص تدریسی مہارت سے متصف ہیں۔
اور یہی وہ خصوصیت ہے جس سے طلبہ علم میں مہارت پیدا ہوتی اور حصول علم کی منزل سہل تر ہو جاتی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ امتیاز عموما ہمارے تعلیمی اداروں میں مفقود ہوتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ علم کو یہ دورہ غنیمت سمجھنا چاہیے۔
3۔ دورے کے 30 دنوں کا مکمل 24 گھنٹے کا شیڈول بڑی سوچ بچار کے بعد مرتب کیا گیا ہے جس میں صرف لیکچر ہی نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے ساتھ ہی سبق کے آخر میں طلبہ کو اساتذہ سے سوال جواب اور مناقشہ کا الگ سے وقت دیا جائے گا۔
پھر لازمی طور پر جو پڑھا پڑھایا جائے گا اس کے مذاکرہ، مراجعہ اور مطالعہ کی خاص پابندی کروائی جائے گی جو ہر طالب علم کے لیے ضروری ہو گی۔
کیوں کہ آج رسوخ علمی کے پیدا ہونے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ یا غلطی یہ ہے کہ طلبہ وطالبات دروس تو بہت سنتے اور لیکچر تو بہت لیتے ہیں، اور بڑے شوق سے ہر نئے کورس میں شرکت بھی کرتے ہیں، مگر جو پڑھا سنا ہے اس کے مطالعے، مذاکرے اور مراجعے کے عملی و درست طریقے سے وہ یا تو نا بلد ہوتے ہیں یا پھر اس میں کوتاہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی کئی کورسز کر کے بھی علمی رسوخ کی اپنی مقصود منزل سے وہ بہت دور رہتے ہیں اور نتیجتاً اپنی مطلوب منزل تک کبھی پہنچ نہیں پاتے، کیونکہ علم محض سننے اور لیکچر لینے سے نہیں، بلکہ اس کے بعد پیہم مذاکرے اور مطالعے کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔
اس لیے ہم نے اس دورے میں اس امر کا خاص اہتمام کیا ہے کہ لیکچر کے بعد نہ صرف طلبہ کو مذاکرے اور مطالعے کا درست طریقہ کار سکھلا کر اس کی پابندی کروائی جائے گی بلکہ یہ لیکچر ہی کی طرح متعلقہ مدرس کی ذمے داری ہو گی اور وہ اس کی نگرانی بھی کرے گا، تاکہ طلبہ دورانِ مذاکرہ استاد سے مزید استفادہ اور حلّ مشکلات میں مدد لے سکیں۔
4. علمی رسوخ چونکہ محض اساتذہ سے سننے اور خالی کتابیں پڑھنے ہی سے پیدا نہیں ہوتا جب تک اس میں کچھ حصہ حفظ کا نہ رکھا جائے۔
یعنی ہر فن وعلم میں کچھ چیزوں کو حفظ نہ کیا جائے، اس لیے ہم نے اس دورے میں بعض اہم متون کا حفظ بھی شامل کیا ہے جس کے سننے سنانے کی پابندی روزانہ کی بنیاد پر کروائی جائے گی، تاکہ ایک ماہ کے بعد طلبہ کو کچھ نئی چیزیں حفظ بھی ہوں جس کا اسے پہلے موقع نہیں مل سکا اور یوں اس کے ذخیرہ علمی میں بیش قیمت علمی متون کا اضافہ بھی ہو گا۔
5۔ بحمد اللہ چونکہ دورے میں شامل مدرسین اپنے زیر درس فنون میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں، اس لیے طلبہ علم کو ان شاءاللہ اس بات کا مکمل لائحہ عمل بھی سکھایا جائے گا کہ مختلف علوم میں بالعموم اور زیر درس علوم میں بالخصوص مہارت اور رسوخ پیدا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے کہ کس ترتیب اور منہج سے ان علوم کو پڑھا جائے، کس طرح سے انھیں لکھا اور پھر مذاکرہ ومراجعہ کیا جائے تو ایک طالب علم ان میں ماہر اور راسخ فی العلم بن جاتا ہے۔ تاکہ طالب علم اس دورے کے بعد بھی اس طریقہ کار کی پیروی کرے اور اپنی علمی منزل تک پہنچ سکے۔
6۔ دورے میں تمام اسباق کو سننے پڑھنے کے ساتھ ہی انھیں لکھنا اور علمی فوائد کا نوٹ کرنا لازمی کیا گیا ہے جس کے لیے ںیاض والی خاص کتب تیار کی گئی ہیں جو ان شاءاللہ طلبہ علم کو دورے میں مہیا کی جائیں گی۔ واللہ الموفق
علاوہ ازیں دورے میں مزید کئی تربیتی اور تعلیمی توجیہات بھی روزانہ کے شیڈول میں شامل کی گئی ہیں جن سے ان شاءاللہ ایک طالب علمانہ زںدگی میں دور رس نتائج مترتب ہوں گے۔ واللہ الموفق

02/02/2025

موضوع: والد کی عزت و احترام
__________________________
ازقلم:عمیر ریاض
__________________________
(قرآن) _وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا *
( بنی اسرائیل 24)
ترجمہ۔اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے ۔
الحدیث۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ:‏‏‏‏ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، ‏‏‏‏‏‏وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، ‏‏‏‏‏‏وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ ،( ترمذی 1905)
ترجمہ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور بیٹے کے اوپر باپ کی بد دعا۔
(1) باپ جنت کا دروازہ
الحدیث_وَعَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَضِيَ الربِّ فِي رضى الْوَالِدِ وَسُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ ( مشکوٰۃ4927)
ترجمہ۔حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ والد راضی تو رب راضی ، والد ناراض تو رب ناراض
(الحدیث النبوی)
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،‏‏‏‏ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی حفاظت کرو۔سنن ابن ماجہ:3663
الحدیث۔قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ،
(بخاری527)
ترجمہ۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
(2) میں کیا کروں
أَبُو الدَّرْدَاءِ:‏‏‏‏ أَوْفِ بِنَذْرِكَ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى وَالِدَيْكَ أَوِ اتْرُكْ .( ابنِ ماجہ 2089)
ترجمہ۔ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو، یا اسے نظر انداز کر دو
جب ماں چھوڑ جاتی ہے تو کوئی دعا دینے والا نہیں ہوتا۔۔۔۔ اور جب باپ چھوڑ جاتا ہے تو کوئی حوصلہ دینے والا نہیں ہوتا
(3) اولاد کا دکھ ایک دکھی باپ کی شکل میں
وَ تَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ وَ ابۡیَضَّتۡ عَیۡنٰہُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿یوسف84﴾
ترجمہ۔پھر ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! ان کی آنکھیں بوجہ رنج و غم کے سفید ہو چکی تھیں اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ .( بخاری6778)
ترجمہ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے ( اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو ) یہ کفر ہے۔
(4) باپ کی شکائت
عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ اَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((اَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدَیْکَ، اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَاِنَّ اَمْوَالَ اَوْلادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا۔)) (مسند احمد9013)
ترجمہ۔سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو
(5) کافر باپ کے لیے دعاءِ استغفار
قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَکَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِیۡ حَفِیًّا ﴿مريم 47﴾
ترجمہ۔ کہا اچھا تم پر سلام ہو ، میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا ، وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے ۔
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿اسراء 23﴾
( باپ کی نصیحت)
جابر بن عبداللہ کا باپ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی اپنی بہنوں کا خیال رکھنا الخ
حضرت جابر نے اپنی فوت ہوئے باپ کی وصیت کا احترام کیا اور ہمارا معاشر زندہ والدین کا احترام نہیں کرتے

Address

Band Road, Siraj Pura Daroghawala, Punjab
Lahore

Telephone

+923144477507

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Falah International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Darul Falah International:

Share