03/02/2025
مسلمانوں کے عملی زوال کے اسباب
طیب الرحمن
1. علمِ نافع سے دوری
مسلمانوں کی ترقی کا ایک بڑا راز علم میں تھا، لیکن آج وہ علمی میدان میں پیچھے ہیں۔ نہ دینی علوم کا گہرا فہم ہے اور نہ دنیاوی علوم میں مہارت حاصل کی جا رہی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ"
(کہو، کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟) [الزمر: 9]
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ"
(اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔) [بخاری: 71]
2. اعمال میں کمزوری اور غفلت
مسلمانوں کی عملی کمزوری کا ایک بڑا سبب دین پر عمل میں کمی ہے۔ نماز، صداقت، امانت، دیانت اور حسنِ اخلاق کی کمی عام ہو چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"
(بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔) [الرعد: 11]
نبی ﷺ نے فرمایا:
"بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ"
(آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے۔) [مسلم: 82]
3. دیانت اور امانت کا فقدان
مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں دیانت و امانت کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے معاشی اور سماجی مسائل بڑھ رہے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ"
(جب امانت ضائع ہو جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔) [بخاری: 59]
4. اتحاد کی کمی اور فرقہ واریت
مسلمان مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے اجتماعی طاقت کمزور ہو چکی ہے۔
قرآن میں حکم ہے:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"
(اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ نہ بنو۔) [آل عمران: 103]
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا"
(آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی بن جاؤ۔) [مسلم: 2563]
5. رزقِ حلال اور معیشت کی غفلت
معاشی کمزوری بھی زوال کی ایک بڑی وجہ ہے، کیونکہ امتِ مسلمہ نے حلال رزق اور خود کفالت پر توجہ نہیں دی۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْكَادُّ عَلَى عِيَالِهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"
*(جو شخص اپنے اہل و عیال کے لیے محنت کرتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔) [طبرانی: 142]۔
مسلمانوں کے عملی زوال کا حل
1. علم اور تعلیم کو فروغ دینا
مسلمانوں کو دینی اور دنیاوی دونوں علوم میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ"
(علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔) [ابن ماجہ: 224]
2. نماز، تقویٰ اور اعمالِ صالحہ پر زور دینا
عملی اصلاح کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
قرآن میں ہے:
"إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ"
(بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔) [العنکبوت: 45]
3. دیانت اور امانت کو عام کرنا
ہر شعبے میں ایمانداری کو فروغ دینا ضروری ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ"
(بے شک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔) [بخاری: 6094]
4. اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینا
مسلمانوں کو آپسی اختلافات کو ختم کر کے ایک امت بننا ہوگا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ"
(مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔) [مسلم: 2580]
5. حلال روزی اور معیشت میں خود کفالت
مسلمانوں کو معاشی میدان میں مضبوط ہونا چاہیے تاکہ دوسروں پر انحصار کم ہو۔
قرآن میں ہے:
"وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ"
(اور یہ کہ انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ کوشش کرے گا۔) [النجم: 39]
نتیجہ
مسلمانوں کے عملی زوال کی وجوہات میں علم سے دوری، اعمال کی کمزوری، دیانت کی کمی، فرقہ واریت، اور معاشی پسماندگی شامل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ہمیں قرآن و حدیث کے مطابق اپنی زندگیوں کو سنوارنا ہوگا، علم و عمل کا توازن پیدا کرنا ہوگا، اتحاد کو فروغ دینا ہوگا، اور معاشی میدان میں ترقی کرنی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر چلنے اور عملی طور پر ایک مضبوط امت بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!