Minhaj-ul-Quran Thokar Niaz Baig

Minhaj-ul-Quran Thokar Niaz Baig Official page of Minhaj-ul-Quran Thokar Niaz Baig.

❤️
03/12/2025

❤️

اعلان برائے داخلہ — الشہادہ الثانویہ ایک سالہ اور الشہادہ العالیہ  (ویکنڈ ایوننگ پروگرام)جنکی کلاسز جمعہ، ہفتہ اور اتوار...
03/12/2025

اعلان برائے داخلہ — الشہادہ الثانویہ ایک سالہ اور الشہادہ العالیہ (ویکنڈ ایوننگ پروگرام)

جنکی کلاسز جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو منعقد ہوں گی۔ طالبات کے لیے ریجسٹریشن فیس 20,000 روپے۔ ماہانہ فیس 7000۔

اس پروگرام میں خصوصی طور پر قرآن، حدیث، صرف ،النحو اور فقہ پر توجہ دی جائے گی، اور دیگر تمام بنیادی اسلامی سلیبس بھی جامع انداز میں شامل ہوں گے تاکہ طالبات کو مضبوط دینی بنیاد فراہم کی جا سکے۔

یہ کورس یونیورسٹی اور کالجز میں زیرِ تعلیم طالبات خصوصاً سائنسز کے شعبے سے وابستہ لڑکیوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے جو دین اور قرآن کی صحیح سمجھ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ساتھ ہی یہ پروگرام اُن خواتین کے لیے بھی نہایت موزوں ہے جو گھریلو مصروفیات کے باعث باقاعدہ کلاسز نہیں لے سکتیں مگر دین سیکھنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

دلچسپی رکھنے والی طالبات بروقت ریجسٹریشن کروائیں۔

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSfcckZORps2mPsTcKmGyJU24NNwNWYLMvwNVHPndiXRJbULOA/viewform?usp=header

03/12/2025
03/12/2025

منہاج یوتھ لیگ فی زمانہ اصلاحِ احوال،فروغِ علم و امن اور خدمتِ انسانیت کی دعوت کی سب سے زیادہ منظّم اور مخلص سماجی و دینی تنظیم ہے، جس نے اپنے قیام سے اب تک لاکھوں نوجوانوں کے دلوں کو علم اور سیرتِ مصطفی ؐ کے ایمان افروز گوشوں سے منوّر کیا ہے۔ میں یومِ تاسیس کے تاریخی موقع پر جملہ ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور توفیقات میں اضافہ کے لیے دعا گو ہوں۔

خرم نواز گنڈا پور(ناظمِ اعلیٰ تحریک منہاج القرآن)

03/12/2025

ماحولیاتی عدم استحکام، چیلنجز اور حل
تحریر : پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات)

ابتدائے آفرینش سے زمین کی داستان انسان اور فطرت کے حسین رشتے سے بندھی ہوئی ہے۔ کبھی یہ دنیا سرسبز جنگلوں، صاف فضا، شفاف ندیوں ،ٹھنڈی بارشوں اور متوازن موسموں کا گھر تھی،جہاں زندگی پر سکون اور راحت کے ماحول میں رواں دواں رہتی تھی۔اس وقت انسان اور ماحول کے درمیان ایک خاموش توازن قائم تھا۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی، صنعتی دور نے رفتار پکڑی، اور انسانی سرگرمیوں نے فضا کو دھوئیں، شور اور آلودگی سے بھر دیا۔ قدرتی توازن بُری طرح متاثر ہوا اور گلوبل وارمنگ نے درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ کر دیا جس سےقطبین پر گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اورموسم اپنی پہچان کھو رہے ہیں۔بنی نوع انسان کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ زمین صرف ایک مسکن نہیں، ایک امانت ہے جس کی حفاظت آج ہمارا سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے۔عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہمارے سیارہ زمین کے بالائی فضائی حصے میں موجوداوزون کی حفاظتی تہہ کمزور پڑتی جارہی ہے۔ اس کمزوری کے باعث سورج کی تیز اور مضر شعاعیں براہِ راست انسانوں اور جانداروں تک پہنچتی ہیں۔

سائنسی نقطۂ نظر سے، اوزون تین آکسیجن ایٹموں پر مشتمل ایک نایاب مگر بے حد اہمیت کی حامل گیس ہے، جو سورج کی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جذب کر کے زندگی کو محفوظ رکھتی ہے۔ مگر جب فضاء میں کلورو فلورو کاربن، میتھائل برومائیڈ اور دیگر کیمیکلز بڑھ جائیں تو یہ مرکبات سورج کی شعاعوں کے زیرِ اثر ٹوٹ کر اوزون کے مالیکیول کو توڑ دیتے ہیں، جس سے اوزون میں شگاف پڑتا ہے۔ اس شگاف کی وجہ سے زیادہ الٹراوائلٹ شعائیں بغیر کسی رکاوٹ کے زمین تک پہنچتی ہیں، جس سے جلدی سرطان، آنکھوں کے امراض، قوتِ مدافعت کی کمزوری، فصلوں کی تباہی، درختوں کے جھلسنے، اور سمندری جانداروں کے مرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اوزون کی تہہ اپنے آپ کو بحال کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہے، اور اگر نقصان دہ کیمیکلز کی مقدار کم ہو جائے تو اوزون دوبارہ بننے لگتا ہے،،، مونٹریال پروٹوکول کے تحت مختلف ممالک نے گلوبل وارمنگ کے تدارک کے لیے سنجیدگی سے کام کیا ہے جس سے ماحولیاتی استحکام میں بتدریج بہتر ی نظر آرہی ہے ۔ لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔

فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے صحتِ عامہ پر بھی سنگین اثرات مرتب کیے ہیں۔ سانس کی بیماریوں، دمے، کھانسی، الرجی اور دل کے امراض میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ بچوں اور بوڑھوں میں بیماریوں کی حساسیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ سموگ کے دنوں میں آنکھوں میں جلن، سانس میں دشواری، سر درد، تھکن اور جلد کی خشکی عام ہو جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں فصلوں پر جمی سموگ کی تہہ دھوپ کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے پیداوار کم ہو جاتی ہے، اور کسان مزید مالی مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔ شہروں میں تعمیراتی کاموں، ٹریفک کے دھوئیں، پرانی گاڑیوں، کم معیار کے ایندھن اور فیکٹریوں کے بغیر فلٹر دھوئیں نے ہوا کو مزید خراب کر دیا ہے۔ زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کا رجحان صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

پاکستان اور اس کے ساتھ ملحقہ ممالک میں پچھلی دہائیوں میں فضائی آلودگی، سموگ اور دھوئیں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ماحولیاتی اداروں کی سالانہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ہوا میں باریک ذرات ( PM2*5 ) کی سالانہ اوسط تقریباً 83.7 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر ہے۔ اس کے ساتھ، عالمی سطح پر پاکستان کی ہوا کی آلودگی کتنی خطرناک ہے، اس کا اندازہ AQI (ایئر کوالٹی انڈیکس) کی طرف دیکھ کر بھی لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر لاہور میں ایک رپورٹ کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس کی سطح262 تک پہنچ چکی ہے کراچی میں بھی تقریباً 199 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔

نومبر 2025 ء میں دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں نئی دلی (بھارت) سر فہرست ہے جس کا ایئر کوالٹی انڈیکس 376، ہے۔ اور پاکستان کا شہر لاہور دوسری نمبر پر ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 213 ہے۔ اس طرح ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں186، بغداد (عراق) میں193، کویت سٹی (کویت) میں165، تاشقند (ازبکستان) میں 165، منامہ (بحرین) میں159، ریاض (سعودی عرب) میں153 اور دوحہ (قطر) میں 153 ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک سنگین چیلنج ہے، جو شہریوں کی صحت، فصلوں کی پیداوار اور ماحولیاتی توازن پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔

عالمی سطح پر، ماحولیاتی استحکام کے لیے اقوامِ متحدہ (UN) اور دیگر ممالک پہلے سے سرگرم ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے پائیدار ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals) کا فریم ورک بنایا ہے جن میں 13 SDG-خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی (Climate Action) سے متعلق ہے، اور اس کا مقصد عالمی پیمانے پر اخراجات کم کرنا، قابل تجدید توانائی کا فروغ اور موسمیاتی اثرات کے لیے موافقت (adaptation) پیدا کرنا ہے۔ مزید برآں، اقوامِ متحدہ کا ماحولیات پروگرام (UNEP) دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے، اور ممالک کو آلودگی کم کرنے، جنگلات کی حفاظت، کاربن اخراجات میں کمی اور موسمیاتی فنڈنگ میں مدد فراہم کرتا ہے۔ عالمی سطح پر ماحولیاتی کانفرنسیں جیسے COP اجلاس بھی منعقد کیےجاتے ہیں تاکہ تمام ممالک ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اپنے کیے گئے وعدوں (pledges) کو عملی جامہ پہنائیں اور اخراجات کو کم کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائیں۔ مثال کے طور پر، COP-29 اجلاس میں اقوامِ متحدہ نے میتھین (methane) گیسوں کو کم کرنے پر زور دیا ہے اور دنیا بھر میں ممالک کو اس سلسلے میں مشترکہ اقدامات کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

ماحولیاتی استحکام کے لیےسب سے پہلے توانائی کے شعبے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ کوئلے اور گندے ایندھن کے بجائے شمسی، ہوا اور پانی کے ذرائع کو ترجیح دی جائے۔ صنعتی اداروں کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ اپنے اخراج کو کم کرنے کیلئے جدید فلٹرنگ ٹیکنالوجی استعمال کریں۔ زراعت کے شعبے میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کی بجائے بائیو انرجی، کھاد یا چارے کے طور پر استعمال کرنے کے پروگرام متعارف کرائے جائیں اور کسانوں کو مالی مدد فراہم کی جائے۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری انتہائی ضروری ہے۔ اگر شہری علاقوں میں بس ریپڈ ٹرانزٹ، میٹرو ٹرین، شٹل سروسز اور الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جائے تو سڑکوں پر گاڑیوں کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے اور نئی گاڑیوں کے لئے اخراج کی سخت حدیں مقرر کرنے سے بھی مؤثر بہتری آئے گی۔شہروں میں درختوں اور سبز جگہوں کی تعداد میں اضافہ نہایت اہم ہے کیونکہ درخت فضا میں موجود نقصان دہ گیسوں اور ذرات کو فلٹر کرتے ہیں۔صحتِ عامہ کی سطح پر حکومت کو چاہیے کہ ہوا کے معیار کی معلومات اردو میں عوام تک روزانہ پہنچائی جائیں، تاکہ لوگ خطرناک دنوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ اسکولوں میں ماحولیاتی آگاہی کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور بچوں کو فطرت سے تعلق مضبوط کرنے کی تربیت دی جائے۔

ماحول کا تحفظ صرف ایک سائنسی یا حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی، دینی اور سماجی فریضہ بھی ہے۔ دین اسلام انسان کو ماحول صاف رکھنے،، پانی اور توانائی کی بچت کرنے، اور دوسروں کے حق میں آسانی پیدا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر معاشرے کے افراد اعتدال، صفائی اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنا لیں تو ماحول خود بخود بہتر ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ مساجد، مدارس اور کمیونٹی مراکز میں ماحولیات کے حوالے سے مہمات چلائی جائیں تو عوام میں شعور بڑے پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف، محفوظ اور خوشگوار ماحول قائم رکھنے کے لیے دنیا بھر میں مربوط اور جامع اقدامات کرنا ضروری ہیں کیونکہ ماحولیاتی استحکام میں ہی انسانیت کی بقاء کا راز مضمر ہے۔

03/12/2025
03/12/2025
20/09/2025
25/09/2023

Come Join Us❤️❤️

06/08/2023

Address

Thokar Niaz Baig, Multan Road
Lahore
53700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Minhaj-ul-Quran Thokar Niaz Baig posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Minhaj-ul-Quran Thokar Niaz Baig:

Share