Masaba-tul-Eelaaf Hafiz Iqbal

Masaba-tul-Eelaaf Hafiz Iqbal اس پلیٹ فارم کے قیام کا مقصد استاذی حافظ سائیں محمداقبا

24/05/2024
27/04/2022

الانسان ۔ 7

11۔ عَجَلٍ( امام محمد الجواد التقیؑ)۔
عجل مصدر میں تیزی اور نا مکمل پن کا مفہوم غالب ہے۔ امام محمد الجوادؑ آئمۂ طہارؑ میں ایسے الانسان ہیں جنہوں نے اس دارِ فانی میں سب سے کم وقت گزارا۔ عمر مبارک فقط پچیس(25) برس رہی۔ چار(4) برس کی عمر میں اپنے والد کی معیّت میں حج بیت اللہ کیا۔ نو(9) برس کی عمر میں منصبِ امامت کا بوجھ ان کے کاندھوں پر تھا۔ مامون الرشید کی بیٹی اُم الفضل ا ٓپؑ کے عقد میں تھی، جس نے باپ کے اشارہ پر پچیسویں(25) برس زہر دے کر عَجَلٍ کی تفسیر مستند کر دی۔

۱۲۔ ہَلُوۡعًا (امام علی النقیؑ)۔
ھَلَعَ مصدر میں گھبراہٹ، بے چینی اور کسی حد تک جلد بازی کا عنصر ملتا ہے۔ امام علی النقیؑ صرف آٹھ(8) برس کے تھے، جب اپنی ایک والدہ کو ہاتھوں سے امام تقیؑ کو زہر دیتے دیکھا جو، اُن کے والد کی شہادت کا باعث ہوا۔ کمسنی میں منصبِ امامت پر فائز ہونا امام نقیؑ کے لئے اضطرارکی مانند تھا۔ علمِ امامت کے تحت امام علی نقیؑ یہ جانتے تھے کہ سلسلۂ امامت زیادہ دیر جاری نہیں رہےگا، اس لئےاُن میں گھبراہٹ و اضطرار بمعنی ہَلُوۡعًا پایا جاتا ہے۔ اور یہی ان کا مادۂ تخلیق ہے۔

۱۳۔ ضَعِیۡفًا (امام حسن العسکریؑ)۔
ضعف، کمزوری کوکہتےہیں، چاہے رائے کی ہویا طاقت اور مال و دولت کی۔اس میں کئی گنا اضافہ کا معنی بھی شامل ہے۔ امام حسن العسکریؑ، جو گیارویں امام ہیں، کے دادا اور والد زہر دے کر شہید کئے گئے۔ آپؑ نے اپنی اٹھائیس برس کی زندگی گھر میں قید رہ کر گزاری اور صرف چھ(6) برس منصبِ امامت پر فائز رہے۔ علمِ امامت کے تحت جانتے تھے کہ ان کے بعد امامِ آخر الزمانؑ پردہ میں رہیں گے، اور زمانہ میں طویل مگر مقررمدّت تک امام ظاہری موجود نہ ہوں گے۔ جیسے نبوت کا پیڑ ایک لاکھ چوبیس ہزار فصلیں دے کر محمؐد کے بعد بار آور نہ ہو سکا، اسی طرح امامت کا منصب امام حسن العسکریؑ کے ساتھ ضعیف ہونا تھا، اس لئے’ضعف‘ بحیثیت انسان امام ؑ کا مادۂ تخلیق طے پایا۔ امامِ آخر الزمانؑ کے ظہور پر وہ ضعف کئی گنا اضافہ کے ساتھ مبعوث ہوگا۔

۱۴۔َ عَلَقٍ (امام محمد المہدیؑ)۔
علق کے مفہوم میں اپنے سے بلند تر کے ساتھ وابستگی اور دل سے چپک جانے والی محبت نمایاں ہے، اور وابستگی کی وجہ سے ادھورا پن اس میں شامل ہے۔ امام مہدیؑ صرف پانچ برس کے تھے جب اپنے والد ِ گرامی کا جنازہ خود پڑھایا۔ ازاں بعد غالبًا کسی نے آپؑ کو بالوجود نہیں دیکھا۔ آپؑ نے حکمتِ الہی کے تحت’سُرِّ مَنْ رِائ ‘کے غار میں خود کو پوشیدہ فرما لیا تھا۔ جیسے گھڑی کی سوئیاں بارہ گھنٹےکے بعد، ایک دوسرے سےاتصال کرتی ہیں، اسی طرح بارھویں امام محمد المہدیؑ اپنی ابتدا یعنی محمدؐرسول اللہ سے وابستہ ہوگئے۔ امامت، جورسالت سے جدا ہوئی تھی، پرانی وابستگی کی بنیاد پر واپس اُس سے چپک گئی۔ امامِ آخر الزمانؑ، نبیٔ آخر الزمانؐ کی طرح حاضر و ناظر ہیں، مگر بالوجود سامنے نہیں ہیں۔ یوں امامت کا منصب ادھورا تو محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت نام اور نسب کی بنیاد پر رسالاتِ مصطفویؐ کے بحرِ بے کراں میں غوطہ زن ہو چکا ہے۔ جب زمین پر پیغامِ مصطفوی کو ’نِشَاۃِ ثَانِیَہ‘ کی ضرورت ہوگی، اور فتنہ ٔ دجال جوبن پر ہوگا، تو امامِ آخر الزمانؑ، اَلْمُعَلَّقَہ کی حالت چھوڑ کراپنا ظہور فرمائیں گے۔ امامؑ کی وہ بعثت بمنزلہ بعثتِ محمدؐرسول اللہ ہوگی، کیونکہ علق سے خلق ہونے والا محمدالمہدیؑ، تب تک تاثیرِنبوت کا عملی طور پر حامل ہو چکا ہوگا، لہذا عیسیٰ ؑروح اللہ، آپؑ کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ پھرعَلَقٍ، اپنی وابستگی اورمحبت کے جوش میں ہر فتنہ کا قلع قمع کرے گا، جب کہ ذوالفقار آپؑ کے ہاتھ میں ہوگی۔

۱۵۔: وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ (عباسؑ)۔ خصوصی بیانI۔
علیؑ، امام ِ اوّل ہیں اور صفِ انسان میں نمایاں حیثیت کے مالک ہیں۔ عترتِؑ رسول اور علیؑ کی مشترکہ طبعی زندگی مکمل ہونے کے قریب تھی، امام حسنؑ اور امام حسین ؑ ظہور پذیر ہو چکے تھے، جب لختِ جگرِ رسول ؑنے علیؑ کو وصیت کی کہ، میرے بعد قبیلہ بنو اسد کی خاتون فاطمہ سے نکاح فرما لیں۔ آپؑ کو اس میں سے ایک بیٹا عطا ہو گا جو کائنات میں وفا کے کردار کا علمبردار ہوگا، اس کا نام عباس رکھ دیں۔ وہ زندہ رہے گا تو سیّدہ زینبؑ اور سیّدہ امِّ کلثومؑ کا رکھوالا ہوگا اور جان دینے کا وقت آئے گا تو حسینؑ پر واری ہوگا۔ روزِقیامت جب سیّدۃُ النساء ؑمیدانِ حشر میں تشریف لائیں گی تو ندا دی جائے گی کہ سب اپنی نگاہیں نیچی کر لیں۔ مالک ِ کائنات کو سیّدہ کریمہ ؑ کے ادب و عظمت کی خاطر ایک الانسان خاص طور پرخلق کرنا پڑا، اور خود کو اُس کی رگِ جان سے بھی قریب کرنا پڑا، کیونکہ وہ انتخابِ فخر النساءؑ ہے۔ امام رضاؑ کے حالات میں بیان ہوا ہے کہ رسالات کے فیوض، امامت کے نطفہ سے ملا کر، دونوں کی تاثیر تا قیامت برقرار رکھنےکا سامان کیاگیا تھا، جب امامؑ نے وہ فیوض معروف کرخی ؒ کو منتقل کرکے ولایت میں مدغم کئے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ فیوض و برکات کائنات میں جاری و ساری رہیں۔ اسی طرح مالکِ کائنا ت نے الانسان کے کردار کی خوشبو، عباسؑ کی وساطت سے بنی نوعِ آدم میں منتقل کی۔ کردارِ انسان کی وہ خوشبو مالک کو اتنی پسند آئی کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس ؑ کی رگِ جان سے بھی قریب ہوگیا۔ سو، ایک الانسان ایسا بھی تخلیق کیا گیا، جس کے وسواسِ نفس، یعنی عترتِ رسولؑ کی حرمت کی حفاظت اور حسینؑ سے وفاداری، کو خالق ازل سے جانتا ہے۔ اُن وسواس کی بجا آوری کے لئے مالک نے اُس الانسان کو متعلقہ خوبیوں سے نوازا، تا کہ نبھاہ میں دقّت محسوس نہ ہو۔ وہ ذمّہ داریاں مالک کو اتنی عزیز ہوئیں کہ وہ اُس الانسان کے قرب میں چلا گیا اور تب سے اُس کی رگِ جان کےقریب ہے۔ کائنات اللہ کا قرب چاہتی ہے، اور وہ عباس علمبردار ؑ کی رگِ جان کے قرب میں رہنے پر فخر کر رہا ہے۔

خصوصی بیان II ۔
سورۃُ السجدہ آیات ۷ تا ۹ :وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ۚثُمَّ سَوّٰىہُ وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ : اور خلقت کی ابتدا انسان کو طین سے بنا کر کی پھر اس کے لئے نسل مقرر کی جس کا سبب مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ کو بنایا، پھر اسے سنوارا اور اس میں اس کی روح میں سے نفخ کیا۔ عجب معلوم ہوتا ہے کہ کسی میں، اس کی اپنی روح میں سے نفخ کیا جائے، مگر قرآن میں فقط ایک دفعہ اس حقیقت کا اظہار بامعنی بھی ہے اور خصوصی اہمیت کا حامل بھی۔ وہ الانسان جسے طین سے تخلیق فرما کر خلقت کی ابتدا کی گئی، ذاتِ محمدؐ ہے، جن میں ان کی اپنی ہی روح میں سے نفخ کیا گیا۔ یہ راز کہ ان ؐ کی روح کیا ہے اور اس میں سے ان ؐ کی ذات میں کیا نفخ کیا گیا؟ ایسے سوالات ہیں، جن کے جوابات تحقیق اور عرق ریزی کے باوجود میسّر آنا مشکل ہوتے ہیں، لیکن قرآن میں ایسا نکتہ موجود ضرورہے۔



(اقتباس از ایلاف پی کے سنگ)

05/04/2022

الانسان ۔ 6

1۔ طِیۡنٍ (محمدؐ رسول اللہ)۔


طین کے بنیادی معنی گُندھی ہوئی نم دار مٹی کے ہوتے ہیں، لیکن مُہر بنانے کے لیے جو ٹھوس مٹی زمانہ ٴ ماضی میں استعمال کی جاتی تھی، وہ بھی طین ہی کہلاتی تھی۔ یہ طینت، جبلّت اور فطرت کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ کائنات کے اپنے قرار، اور کائنات میں پائی جانے والی ہر شے کے قرار کے لیے، ایک محل ضروری ہوتا ہے، جس میں وہ کائنات حال کی طرح قیام پذیر ہو۔ جہانِ امر اور جہانِ خلق اپنے قرار کے لیے طین کے مرہونِ منّت ہیں کیونکہ طین کے بغیرکسی ٹھوس محل کا تصور نا ممکن ہوتا ہے۔ سورۃ انبیاء آیت۱۰۷ :وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ: کے مطابق حضورؐ ، رحمتِ دو عالم قرار پائے ہیں۔ رحمت کا خاصہ قرار ہے، اس لیے آپ کی تخلیق’ مِن طِیۡنٍ‘ فرمائی گئی۔ سورۃ سجدہ آیت ۷: وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ: اور انسان کی تخلیق کی ابتداء طین سے کی گئی، میں بَدَاَ کا لفظ غور طلب ہے کیونکہ آپ ؐ ہی اوّل مخلوق ہونے کا شرف رکھتے ہیں۔ طین سے الانسان کی ابتدا، آپؐ کی اوّلیت کو بھی ثابت کر رہی ہے اور طین سے تخلیق کی نشاندہی بھی کر رہی ہے۔ طین بمعنی ٹھوس مٹی جو مہر کے طور پر استعمال ہوتی ہے ،بھی ا ٓپؐ کی طرف اشارہ کر رہی ہے، کیونکہ آپؐ سورۃ احزاب آیت ۴۰ کے مطابق خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ہیں۔ خاتم، مہر لگا کر تصدیق کرنے والے کوکہتےہیں۔ حضور ؐکی بعثت کا بہت اہم مقصد سابقہ انبیاء کی تعلیمات کو: مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ : مہر ثبت کرکےتصدیق کرنا ہے، لہذا آپؐ کے لئے تخلیق کا مادہ طین قرار پایا۔ سورۃُ احزاب آیت ۲۱: لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ : گواہی دے رہی ہےکہ رسولِ خداؐ کی جبلّت و طینت (اسوۃ) کُل کائنات کے لئے قابلِ تقلید ہے۔ اس طینت کی بے مثال خوبی کی بنیاد پر مانا جا سکتا ہے، کہ قرآن میں طین سے جس انسان کے خلق کرنے کی طرف اشارہ ہے وہ فقط محمد ؐرسول اللہ ہیں، جو طین کا اسم بامسمیٰ ہیں۔


۲۔ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ (زہراؑ،عترتِ رسولؐ اللہ)۔

اَلسَّلُّ کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے بآسانی نکال لینے کو کہتے ہیں، لہذا سُلٰلَۃٍ کسی شے میں سے نکلے حصہ کو کہتے ہیں۔ رسولؐ اللہ کی اکلوتی لخت ِ جگر، جو بعد میں آنے والے تمام امامینؑ کی امِّ جدٹھہریں، ان کے علاوہ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ہونے کا شرف اور کس کا ہو سکتا ہے؟بی بی زہراؑ ہی فطرتِ کائنات ہیں، اس لئےبھی طین( محمدؐ ) کی سُلٰلَۃٍ اور کسی کو نہیں کہا جا سکتا۔ لفظ سُلٰلَۃٍ ، مونث ہونا اس کی دلیل ہے ۔

۳۔ نُّطۡفَۃٍ (امام علیؑ وصیٔ رسولؐ اللہ)۔

لغت کی رُو سے نتھرے اور کشید کئے ہوئے پاکیزہ و مطہر پانی کو نطفہ کہتے ہیں۔ پانی ( ماءٍ) بنائے حیات کہا گیا ہے۔ سورۃ الانبیاء آیت ۳۰: وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ: اور ہم نے ہر چیز کی زندگی ماءٍ (پانی ) سے مقرر کی۔ پانی کا خالص ترین حاصل نطفہ کہلاتا ہے۔ بالا حوالہ میں نُّطۡفَۃٍ کے بعد ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ فرمایا جانا بامعنی ہے اور دو مرتبہ ورود بھی حکمت سے خالی نہیں۔ خصم میں جھگڑا کرنے اور فریق ثانی کا معنی پایا جاتا ہے، میاں بیوی کے جوڑے میں فریق ثانی خصم کہلاتا ہے، جو سورۃُ النساء آیت ۳۴ : اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ: کی شان رکھتا ہے۔ نطفہ اور خصم کےمعنی یکجا ہوں تو واضح ہوگا کہ الۡمَآءِ کی پاکیزہ ترین حالت میں سے ایک الانسان بنایا گیا۔فطری عمل میں خصم ہونے کے ناطے اُس کی حیثیت جہانِ خلق اور جہانِ امر یا جہانِ شہود اور جہانِ عقبیٰ، دونوں میں خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ کی ہے۔

۴۔ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ (امام حسنؑ نواسۂ رسولؐ اللہ)۔

امشاج ایسی ملی ہوئی چیزوں کو کہتے ہیں جو رچ بس جانے کے بعد ایک دوسرے سے جدا نہ ہو پائیں۔ نطفۂ امامت و ولایت کا جب سلالۂ طین سے امشاج ہوا تو امام حسنؑ کا ظہور ہوا جوعلیؑ اور زہرا کریمہ ؑ کے اوّل فرزند ہیں۔حکمتِ خداوندی کے تحت نبوت و رسالت کا پیڑ ایک لاکھ چوبیس ہزار فصلیں دینے کے بعد ہمیشہ کےلئےبے ثمر ہونے والا تھا، جب کہ منشائے ایزدی میں تھا کہ دورِ مصطفویؐ کے بعدبھی بنی آدم تک تاثیرِ رسالت پہنچتی رہے۔ لہذا عترتِ رسول ؐکا نطفۂ امامت و ولایت سے امشاج مقرر ہوا اور اس پیوند کاری میں جوثمر میسّر آیا، یہ ذمّہ داری اس کو تفویض کی گئی۔ رسالت نے امامت و ولایت کا بوجھ سہار کر، بنی آدم کا مقام عرش معلیٰ تک بلند کردیا۔ یہ احسانِ عظیم، اسی امشاج کی وجہ سے ہے۔

۵۔ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ (امام حسینؑ نواسۂ رسولؐ اللہ)۔

مادہ صلصل میں تری کا مفہوم پایا جانے کے علاوہ وابستگی اور اتباع کا معنی پایا جاتاہے، مگر پشت کا درمیانی حصہ اوردرمیانی فاصلہ کے بغیر اوّل نمبر کے پیچھے دوڑنا، اس میں شامل ہیں۔ پروان چڑھانے، نشوونما کرنے اور تعظیم کے پہلو کے علاوہ آگ میں بھوننے کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ حَمَاٍ ، میں سڑن، تغیّر اور حمیّت و غیرہ کا مفہوم ہے اور مَّسۡنُوۡنٍ
طریقہ و دستور پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں سہولت اور نرمی کے ساتھ روانی کا اشارہ بھی موجود ہے۔ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ سے حاصل کی گئی صلصال سے خلق ہونےوالا الانسان حمیّت و غیرت کے جوش کو خصوصی دستور بنا کر، کسی اوّل کے پیچھے اس طرح رہاکہ دو نوں میں فرق محسوس نہ ہوا۔ وہ پہلے سے ہمیشہ وابستہ رہا اور بے خطر آتشِ یزید میں کودبھی گیا۔ اس کی پرورش رسول ؐاللہ نے اپنے دوشِ مبارک پر بٹھاکرکی اور فرمایا :اَلْحُسَیْنُ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنَ الْحُسَیْنِ:۔ اجداد کا اولاد میں سے ہونا بہت عظمت کی نشاندہی ہے۔ اُس الانسان کو فرات کنارے ہونے کے باوجود ایک گھونٹ پانی میسّر نہ آسکا، مگرہونٹ اتنے خشک نہ ہوئے کہ پانی کی قلّت اسے جھکنے پر مجبور کرتی۔ وہ قوانینِ خداوندی میں بے جا ترامیم کی مذموم سازش کے خلاف آہنی دیوار بن جاتا ہے۔

۶۔ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ (امام علی زین العابدینؑ)۔

تقویم، متوازن ہو کراعتدال برقرار رکھنے کو کہتے ہیں، اس میں ہمواری اور درستگی پائی جاتی ہے۔ قوام، سامانِ رزق مہیا کرنے کوکہتے ہیں، اور’احسن‘ تناسب کی نشاندہی کرتا ہےجو آنکھوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔ امام زین العابدینؑ، ایران کے فرمانروا کی صاحبزادی، شہزادی شہر بانو کے بطن سے پیدا ہوئے، اور ظاہری و باطنی حُسن کا نہایت خوبصورت امتزاج تھے۔ سانحۂ کربلا کے بعد، جس متوازن اور محکم طریق سے انہوں نے حالات کا مقابلہ کیا، اس کی مثال تاریخ میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ عمر مبارک زیادہ نہ تھی اور مصائب کا ایک پہاڑ تھا، مگر پائے استقامت میں ذرّہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔خلیفۂ وقت حج کی نیّت سے خانۂ کعبہ گیا تو رش کی وجہ سے حجر ِ اسود کے بوسہ سے محروم رہ گیا اور بلندی پرجا کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد ایک روشن چہرے والا شخص خانۂ کعبہ میں آیا تو لوگوں نے اُس کےحجر اسود تک پہنچنے کے لئے راستہ کشادہ کردیا، وہ امام زین العابدینؑ تھے۔ اس واقعہ میں احسنِ تقویم واضح جھلکتی ہے۔

۷۔ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ (امام محمد الباقرؑ)۔

کَالۡفَخَّارِ کا مادہ فخر کا عندیہ دے رہا ہے۔ کائنات میں امام باقرؑ وہ اکیلی ہستی ہیں جن کو ’حَسْنِیْ حُسَیْنِیْ ‘ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ والدِ محترم امام زین العابدینؑ، امام حُسینؑ کے صاحبزادہ ہیں جب کہ والدہ ماجدہ فاطمہ بنت امام حَسنؑ ہیں۔ اس سے بڑا فخر کائنات میں کسی اور کا نصیب نہیں۔ مقامِ کربلا پر جب فوج نے قیدیوں کو حراست میں لے لیا، تو امام زین العابدینؑ اور ان کے تین سالہ بیٹے باقرؑ کو ایک ہی طوق سے اس طرح باندھا گیا، کہ وہ دونوں کی گردن میں تھا۔ اگر امام زین العابدینؑ اوپر اٹھتے تو باقرؑ کے لئے پھندہ بن جاتا ۔لہذا امام باقر ؑ شروع ہی سے اپنے والد سے آگے پیچھے بھی تھے اور دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ بھی نہ تھا ، جیسا کہ صَالٍ کے مفہوم میں نمبر ۵ پرلکھا جا چکا ہے۔

۸۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ (امام جعفر الصادقؑ)۔

ایک الانسان کو علم قرآن پہلے سکھایا گیا اور پھر اُس خمیر سے گوندھ کر اس کو خلق کیا گیا اور ازاں بعد اُس علمِ قرآن کو بیان کرنے پر قدرت عطا کی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ آئمہ طہارؑ میں سے رموز قرآن بیان کرنے کی گنجائش صرف امام جعفر صادقؑ ہی کو میسّر آسکی، وگرنہ باقی امامینؑ پر پابندیاں سخت رہیں اور ان کو مواقع بھی کم ملے۔ امام جعفر صادقؑ کے کئی نامور شاگرد ہیں، جنہیں آپؑ سے کسبِ علم کا دعویٰ ہے۔ معارفِ قرآن کو جس انداز سے آپؑ نےبیان فرمایا، وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔

۹۔ مَّآءٍ دَافِقٍ (امام موسیٰ الکاظمؑ)۔

دافق کے مادہ میں اچھل کر بہہ جانے کا مفہوم ہونے کے علاوہ دھّکا دے کر آگے بڑھانابھی شامل ہے۔ امام موسیٰ کاظمؑ، آئمہؑ میں سب سے زیادہ صاحبِ اولاد ہوئے ہیں۔ روایات کے مطابق وہ پچاس(50) بچّوں کے باپ بنے، جن میں تئیس(23) بیٹے اور ستائیس(27) بیٹیاں تھیں۔ ظالم حکمرانوں کا زور جب کچھ کم ہوا اور امام جعفر صادقؑ نے فصاحت کے ساتھ علمِ قرآن کی ترویج فرمائی تو ان کے صاحبزادہ امام موسیٰ کاظمؑ نے خیال کیا کہ کثیر اولاد ہونا چاہیے، تاکہ حق کا پیغام خالص شکل میں کائنات میں پھیل سکے۔ پچپن (55) برس کی زندگی میں چونتیس(34) برس منصبِ امامت نبھایا، اور حکمت ِ الہی کے تحت کثیر اولاد پیدا کی۔ اُنؑ کے لئے ازل سے تخلیق کا مادہ مَّآءٍ دَافِقٍ چنا گیا، تاکہ دھّکا دے کر اور جلد حمل ٹھہرا کر، اپنی نسل کو آگے بڑھائیں۔

۱۰۔ کَبَدٍ (امام علی الرضاؑ)۔

کبد، عربی میں جگر کو کہتے ہیں، مگریہ لفظ سختی جھیلنے اور شدّت و قوّت کے معنی میں مستعمل ہے۔ حاکمین ِ وقت کی طرف سے دی جانے والی سزا ؤں اور پابندیوں کی وجہ سے امام رضاؑ نے اپنے آباء و اجداد کی جائے سکونت سے ہجرت فرمائی اور خطۂ عرب چھوڑ کر، ملک فارس کےشہر مشہد میں مقیم ہو گئے۔ جلد وہاں کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ شہزادی شہر بانو کی اولاد میں سے ایک (امام) مشہد تشریف لائے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ کس طرح شہزادی کا سہاگ (امام حُسینؑ) اجاڑا گیا اور کیسے ان کی اولاد کو عرب حکمران زہر دے کر ہلاک کرتے رہے ہیں۔ اس بنیاد پر وہ امام رضاؑ کا ادب کرنے لگے۔ امامؑ کو یہ غم ستا رہا تھا کہ فصلِ نبوت کی طرح، منصبِ امامت بھی جلد پردہ پوش ہو جائے گا۔ تب سچی لگن رکھنے والے کیسے تاثیرِ نبوت و امامت سے فیض یاب ہو سکیں گے؟ ۔لہذا امام رضا ؑ نے بہت شدّت اور قوّت کے ساتھ نبوت و امامت کا بھاری بوجھ،نہایت نرمی سےمعروف کرخی ؒکے کندھوں پر منتقل کر دیا۔ نبوت و امامت کا خزانہ، اس طرح کسی کو تھما دینے کے لئے بہت بڑا ’’ جگرا ‘‘ چاہیے۔ (جاری ہے)

(اقتباس از ایلاف پی کے سنگ)

27/03/2022

الانسان ۔ 5

24. سورۃُ العلق آیت ۵: عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ : الانسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔ یہ پہلی وحی کے الفاظ، غماز ہیں کہ انسان کو غیب کے تمام علوم دیے گئے اور وہ کچھ سکھایا گیا جو کسی اور مخلوق کا مقدر نہ بن سکا۔ یہ مطلب بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہر وہ جو کچھ کہ جانا جا سکتا ہے الانسان کے علم میں لایا گیا۔ علم عین ذاتِ الہی ہے اس لئے اللہ نے اپنا تمام علم، الانسان کو، مشارکت(Sharing) کے طور پر تفویض کردیا۔ اگر الانسان کہیں بیعت لے رہا ہو تو فخر سے فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕیَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ :تحقیق جو لوگ آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کررہے ہیں، دراصل وہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں، آپؐ کے ہاتھ کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جب الانسان مٹی کی ایک مشت دشمنوں کی طرف پھینکتا ہے تو اللہ اسے اپنے ذمّہ لے کر کہتا ہے: وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی: اور جو خاک پھینکی گئی وہ اللہ ہی نے پھینکی، آپؐ نے نہیں پھینکی۔ ایک الانسان کا اس طرح مذکور کرکے، کردارِ انسان کےتمام حاملان کو اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اپنے اپنے دور میں ہر انسان حاملِ علم ِالہی رہا ہے، اور وہ سب کچھ جانتا تھا جو کچھ جانا جا سکتا ہے۔

25. سورۃزلزال ابتدائی آیات: اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَہَا ۙوَ اَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَہَا ۙ وَ قَالَ الۡاِنۡسَانُ مَا لَہَا ۚ یَوۡمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَہَا ۙبِاَنَّ رَبَّکَ اَوۡحٰی لَہَا: جب تھرتھرائے گی زمین جیسے تھر تھرانے کا حق ہے اور زمین اپنے تمام چقل خارج کر ے گی، اور انسان کہے گا تجھے کیا ہوا؟ اس روز اس کی تمام خبریں بیان کرے گا جوتیرے رب نے اس کی طرف وحی کی ہوں گی۔ حقیقت ہے کہ اجل وارد ہونے پر ارض تھرتھرانے لگے گی، اتنی شدت کے زلزلے آئیں گے کہ الامان و الحفیظ۔ بنی آدم جو چاند، مریخ اور دیگر سیّاروں پر اپنی رہائش کا بندوبست کر رہے ہیں، اُن کے دلوں میں اسی آیت کا خوف ہوگا اور وہ چاہتے ہوں گے کہ اُس وقت سے قبل زمین سے نقل مکانی کرکے اُس خوفناک گھڑی سے محفوظ ہو سکیں۔ زلزلوں کی وجہ سے زمین اپنی تمام قوتیں، خزانے اور معدنیات اُگل کر اپنی سطح پر ڈال دے گی۔ اس وقت باقی مخلوقات کا وزن سہارنا تو کُجا، خود اپنا آپ بھی نہ سنبھال پائے گی۔ جو انسان اس وقت موجود ہو گا، فرمائے گا تجھے کیا ہوا؟ ابھی جلدی نہ کر کہ میرے پاس میرے رب کی وحی میں سے بے شمار خبریں موجود ہیں، اور مجھے ان کا اظہار کرنا ہے۔ معلوم ہو ا انسان کو اس کے رب کی طرف سے وحی ملتی ہے اور حاملِ وحی، انبیاء و مرسلینؑ کے درجہ کا حامل ہوتا ہے۔

بالا پچیس (25) مقامات کے علاوہ قرآن میں انسان اور شیطان کا اکٹھا مذکور ،درج ذیل ہے۔

1: سورۃ یوسف آیت ۵: اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ:
2: سورۃ بنی اسرائیل ۵۳آیت:اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا :
3: سورۃُ الفرقان آیت۲۹: وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا :
4: سورۃُ الحشر آیت ۱۶: کَمَثَلِ الشَّیۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اکۡفُرۡ:
بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو انسان کے لئے عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ اور خَذُوۡلًا کہا گیا ہے۔ چونکہ عدو اور خذل مصادر میں دوری اور پرے رہنے کا مفہوم ہوتا ہے اس لئے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شیطان، انسا ن سے پرے رہنے کے لئے پابند کیا گیا ہے۔ اس کی واضح مراد یہی ہے کہ انسان کو شیطان کے وسوسہ اور بہکاوہ سے ازلی طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔

قرآن میں جن سولہ(16) مقامات پر تخلیقِ انسان کا ذکر موجود ہے وہ ذیل میں دوبارہ لکھے جاتے ہیں۔
۱۔ ضَعِیۡفًا ( سورۃُ النساء ۲۸ )
۲۔ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ (سورۃُ الحجر ۲۶)
۳ ۔ نُّطۡفَۃٍ (سورۃُ النحل ۴ )
۴۔ عَجَلٍ (سورۃُ الانبیاء۳۷)
۵۔ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ (سورۃُ المومنون ۱۲)
۶۔ طِیۡنٍ ( سورۃُ السجدہ ۷)
۷۔ نُّطۡفَۃٍ ( سورۃ یٰس ۷۷)
۸۔ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ (سورۃ ق ۱۶)
۹۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ (سورۃُ الرحمان۲)
۱۰۔صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ( سورۃُ الرحمان۱۴)
۱۱۔ ہَلُوۡعًا (سورۃُ المعارج۱۹)
۱۲۔ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ (سورۃُ الدھر۲)
۱۳۔مَّآءٍ دَافِقٍ (سورۃ طارق۵)
۱۴۔ کَبَدٍ ( سورۃُ البلد۴)
۱۵۔ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ (سورۃُ التین۴)
۱۶۔عَلَقٍ (سورۃُ العلق۲)

نمبر ۳ اور نمبر۷ ایک ہی مادہ ٔ تخلیق ِ انسان ہیں، انہیں مشترک مان کرایک گن لیا جائے اورنمبر ۸ کو خصوصی بیان کے لئے جدا کرلیا جائے ،تو بالا ترتیب،ترتیب ذیل میں بدل جائے گی۔

۱۔ طِیۡنٍ
۲۔ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ
۳۔ نُّطۡفَۃٍ
۴۔ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ
۵۔ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ
۶۔ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ
۷۔ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ
۸۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ
۹۔ مَّآءٍ دَافِقٍ
۱۰۔ کَبَدٍ
۱۱۔ عَجَلٍ
۱۲۔ ہَلُوۡعًا
۱۳۔ ضَعِیۡفًا
۱۴۔ عَلَقٍ
۱۵۔ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ

ہماری بساط کے مطابق درج بالا ہر مادہ ٔتخلیق ایک الانسان کے لئے مقرر ہے،جو ذیل میں درج ہے۔

طِیۡنٍ ۔۔۔ محمدؐ رسول اللہ
عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ۔۔۔ امام جعفر الصادقؑ
سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ۔۔۔ زہراؑ،عترتِ رسولؐ اللہ
مَّآءٍ دَافِقٍ ۔۔۔ امام موسیٰ الکاظمؑ
نُّطۡفَۃٍ ۔۔۔ امام علیؑ وصیٔ رسولؐ اللہ
کَبَدٍ ۔۔۔۔ امام علی الرضاؑ
نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ۔۔۔ امام حسنؑ نواسۂ رسولؐ اللہ
عَجَلٍ ۔۔۔۔ امام محمد الجواد التقیؑ
صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ۔۔ امام حسینؑ
ہَلُوۡعًا ۔۔۔۔۔۔ امام علی النقیؑ
اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۔۔ امام علی زین العابدینؑ
ضَعِیۡفًا ۔۔۔۔۔ امام حسن العسکریؑ
صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ۔۔ امام محمد الباقرؑ
عَلَقٍ ۔۔۔۔۔۔۔ امام محمد المہدیؑ
نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کردارِ وفا،عباسؑ، علمبردارِ امام حسینؑ

(جاری ہے)

(اقتباس از ایلاف پی کے سنگ)

18/03/2022

الانسان ۔ 4

17- سورۃ حم سجدہ آیت ۵۱ : وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍعَرِیۡضٍ :اور جب ہم انسان کودنیوی نعمت دیتے ہیں، تو اعراض و پہلو تہی کرتا ہے اور جب اس کو تکلیف اور برائی مَس کرتی ہے تو اس کی دعا عرض کی طرح ہوتی ہے ۔ انسان حصولِ نعمتِ دنیوی سے کبھی خوش نہیں ہوا بلکہ اسے اپنے لئے غیریت کا بوجھ سمجھتا ہے۔ جہانِ اسباب میں کچھ مِل جائے تو اپنا دامن اس سے بچا کر رکھتا ہے، وگرنا جلد از جلد تقسیم کرکے فارغ ہو جاتا ہے۔ حبشہ سے ایک دفعہ چار کلو مشک، حضورؐ کی خدمت میں بھیجی گئی۔ ان دنوں ساٹھ، ستّر ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے چار کلو کا مول دو کروڑ روپے بنتا ہے۔ اتنی مالیت کی اُس نعمت کو آقاؐ نے ایک ہی دفعہ پانی میں ملا کر سب اصحابؓ کے اجسام پر ملنے کا حکم دیا۔ فتح خیبر کے وقت علیؑ کو اس قدر مالِ غنیمت عطا ہوا کہ بانٹنے میں تین روز صرف ہوئے، مگر حقیقت ہے کہ ایک سوئی بھی مدینہ منوّرہ نہیں لائے۔ گھر تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ گزشتہ سات دنوں سے چولہا نہیں جلا۔ شاید گھر والے منتظر تھے کیونکہ مالِ غنیمت کی خبر شہر مدینہ میں پھیل چکی تھی۔ کشف المحجوب میں علی ؒالہجویری راقم ہیں کہ امام حسنؑ نے گالیاں دینے والے اعرابی کو درہموں کی تھیلی عنایت فرمائی۔ امام حسینؑ نے پانچ ہزار دینارضرورت مند سوالی کو عطا کر دیے، اورانتظار کروانے کی معذرت بھی کی۔ امام زین العابدینؑ نے فرزوق شاعر کے لئے بارہ ہزار درہم بھیجے۔ یہ اس لئے ہے کہ الانسان جب کسی کو مشکل میں دیکھتا ہے تو حتی المقدور عملی دعا کرتا ہے، فقط ہاتھ اٹھا کر منہ سے الفاظ ادا نہیں کرتا۔ عملی دعا، مشکل کشائی کی عملی معاونت ہے جو دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ کہلاتی ہے۔

18- سورۃُ النجم آیات ۳۹۔۴۰: وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ۙوَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی : اور انسان کے لئےنہیں مگرجو وہ سعی کرتا ہے، اور بے شک اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی۔ الانسان کی تمام سعی مخلوقاتِ کائنات کی فلاح اور بہتری کے لئے ہے۔ اس نے کائنات میں سے اپنا حصہ اٹھا رکھا ہے اور قُوْتِ لَا یَمُوْتْ پربھروسہ کرتا ہے۔ وحی کے ذریعہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ انسان کی سعی آخر کار رنگ لائے گی اور ایک روز کائنات اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ کرے گی۔ عام خیال کے مطابق وہ نظارہ قیامت کے بعد ممکن ہوگا، مگرحافظ سائیںؒ کہا کرتے وحی کا یہ دعویٰ جہانِ خلق میں پہلے سچ ہوگا، جہانِ ابد میں یہ منظر دوبارہ دیکھا جائے گا۔

19- سورۃُ النجم آیت ۲۴ : اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰی : کیا انسان کےلئے نہیں جس کی تمنّا کرتا ہے۔ وہ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ جانتا ہےانسان کی تمنّا کیا ہے؟ لازم نہیں کہ انسان کی طبعی زندگی میں اس کی تمنّا پوری ہو، لیکن عنقریب کائنات اس کی سعی کی تعبیر اپنی آنکھوں سے دیکھے گی۔

20- سورۃُ النازعات آیت ۳۵: یَوۡمَ یَتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰی: ایک روز انسان کی سعی کو یاد کیا جائے گا۔ مراد یہ کہ تمام مخلوقات مشکور ہوکر انسان کی سعی کا شکرانہ بجا لائیں گی۔

21- سورۃفجر آیت ۲۳ : وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی : اوراس روز جہنم لائی جائے گی، جس روز الانسان کا تذکرہ ہوگا اور وہ صرف اس کا ذکر ہوگا۔ ایک روز ایسا آنے والا ہے جب میدانِ حشر میں نامۂ اعمال کھلے گا، ہلکے اعمال والوں کو جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا تو جہنم کی دہشت سے ان لوگوں کو الانسان یاد آئے گا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ دنیوی زندگی میں انسان نے بنی نوعِ آدم کی بھلائی کے لئے جو تعلیم اسے دی، اُس روز اس کا مفہوم ان پر واضح ہوگا ۔یا وہ اس امید پر انسان کو یا د کرے گا کہ وہی رحمت کا پیکر ہےاورجہنم سے وہی رہائی دلوا سکتا ہے۔ الانسان کا جہنم سے دور کا بھی واسطہ نہیں اس لئے فقط تذکرہ کی حد تک اس کا ذکر ہوگا، اور وہ تذکرہ جہنمی لوگ، معافی کی امید پر کر رہے ہوں گے۔ یہاں بھی انسان کے لئےمحبت اور تکریم کا پہلو نظر آرہا ہے۔

22- سورۃ عبس آیت ۲۴ : فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖۤ : پس انسان کو چاہیے کہ اپنے سامانِ بود و باش پر نظر رکھے۔ طعم، سامانِ خورد و نوش ہے، جس سے وجود کو قوت حاصل ہوتی ہے اور اسی قوت کے طفیل کاروبارِ زندگی رواں دواں ہیں، لیکن اس میں بود و باش کے سامان بھی شامل ہوتے ہیں۔ استطاعت و قدرت بھی ان معنوں میں شامل ہے۔ الانسان کو خاص اشارہ دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے سامانِ خورد و نوش و بود و باش پر ہر دم گہری نگاہ رکھےاور لازم کرے کہ محنت کے بغیر حاصل کئے گئے اسباب سے اجتناب ہو۔ وہ فقط ان اشیاء کو اپنے استعمال میں لائے جس میں اس کی سعی شامل ہو اور محض قُوْتِ لَا یَمُوْتْ کے لئے ہو۔ حضورؐ نے اپنی تمام حیات میں صرف تئیس(23) سیر اناج استعمال فرمایا۔ علیؑ کا خلیفۂ وقت ہونے کے باوجود نانِ شعیر کے خشک ٹکڑوں پر گزر تھا۔ ہر الانسان کی زندگی کا عمل
اسی سادگی پر رہا۔

23- سورۃُ الفجر آیت ۱۵: فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ: پس جب الانسان کو اس کا رب ابتلا میں ڈالتا ہے تو وہ اس کے لئے تکریم اور نعمت ہوتی ہے، پس کہتا ہے یہ عزت میرے رب نے مجھے دی۔ انسان کسی آزمائش میں کبھی اپنے مالک سے بے زاری یا ناشکری نہیں کرتا، بلکہ ابتلا کو نعمتِ خداوندی مان کر باعثِ تکریم سمجھتا ہےاور برملا اس کا اظہار کرتا ہے۔ ابراہیمؑ نے جب ابتلا میں استقامت کا حق ادا کردیا تو انعام کے طور پر ان کو ’امام ُ النّاس‘ کی سند پیش کی گئی۔ ایسی ابتلا حضورؐ کو مقام ِ طائف پر جھیلنی پڑی۔ جبرائیلؑ آئے اور عرض کی کہ احد کا پہاڑ طائف والوں پر ڈالنے کا اذن لایا ہوں، کہ اس کے نیچے دب کر ہمیشہ کے لئے جہنم واصل ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر طائف میں قیامت تک بھی کوئی ایک ماننے والا پیدا ہوسکتا ہے، تو اس کی خاطرسب معاف کئے جاتے ہیں۔ مصطفوی ؐ دورکی طبعی تکمیل کے بعد یکے بعد دیگرے، آپ ؐ کےہم جنس بارہ امامین ؑ مبعوث ہوئے۔ شعبِ ابی طالبؑ میں ہاشمی مطلبی گھرانہ کو جن اذیتوں سے نمٹنا پڑا، تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے۔ مگر حقیقت ہے کہ ڈھائی برس کی اس مشترکہ ابتلا میں کسی کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔ اپنی خلافت کے دور میں علیؑ کو جن مشکلات میں مبتلا ہونا پڑا وہ بھی ایک عجب داستان ہے، مگر وہ : وَ اِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا کِرَامًا : کی عملی تفسیر بن کر تکریم سےاسے نبھاتے رہے ۔ امام حسینؑ کو میدانِ کربلا میں بچوں اور خواتین سمیت گھیر لیا گیا اور وہ بھانپ گئے کہ یہ ابتلا ہے تو انہوں نے اسے تکریم جانا اور قول و فعل کے ذریعہ ثابت کردیا کہ وہ ابتلا ان کے رب کی کرم نوازی تھی۔ انہوںؑ نے آیت متذکرہ بالا کی عملی تفسیر بن کردکھایا۔ (جاری ہے)

(اقتباس از ایلاف پی کے سنگ)

الانسان ۔ 316۔ سورۃ لقمان آیت ۱۴ :وَ وَصَّیۡنَاالۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ: اور ہم نے انسان کواُس کے والدین کے بارے میں ...
08/03/2022

الانسان ۔ 3

16۔ سورۃ لقمان آیت ۱۴ :وَ وَصَّیۡنَاالۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ: اور ہم نے انسان کواُس کے والدین کے بارے میں وصیت کی۔ اور سورۃُ الاحقاف آیت ۱۵: وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا: اور ہم نے الانسان کووصیّت کی کہ اپنے والدین سے حسنِ سلوک کرے۔ بالا آیات میں انسان کو جو وصیت کی جا رہی ہے، اس میں والدین سے احسان کا سلوک روا رکھنے کی ترغیب ہے۔ احسان، دراصل توازن برقرار رکھنے اور ممکنہ کمی پوری کر نے کا نام ہے۔ تکڑی کے ایک پلڑے میں باٹ ہوں، دوسرے پلڑے میں جنس ڈالی جائے، تو وزن برابر کرنے کے لئے آخر میں جو تھوڑے سے دانے ڈالے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے دونوں پلڑے متوازی ہو جاتے ہیں، انہیں احسان سے تعبیر کیا جاتا۔ لہذامفہوم یہ بن سکتا ہے کہ ہر الانسان کو اختیاری وصیت کی گئی ہے کہ وہ اپنے والدین یعنی آباءو اجداد کے وقار کا توازن برقرار رکھیں اور یہ کوشش کریں کہ بدلتے ہوئے حالات اور ضروریات کے تحت، ان اقدار کے توازن میں مزید نکھار پیدا کریں۔ یہ وصیت والدین کی طرف سے انسان کو نہیں ہورہی، بلکہ مالکِ کائنات کی طرف سے ہے، کیونکہ وہی صحیح معنوں میں انسان کی قدر کا واقف ہے۔ انسان کےلئےصرف وصیت کا مقام درج ہے، وراثت کاکوئی ذکر نہیں۔ وصیت انبیاء و مرسلینؑ کے لئے بھی مقرر ہے مگرانبیاءؑ اور عبادؒ اللہ کی شان میں وراثت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن الانسان کا وراثت سے دور کا واسطہ ظاہر نہیں کیا گیا۔


اس مفہوم کوبہتر سمجھنے کےلئے وصیّت اور وراثت کے فرق پر غور کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
(اقتباس از ایلاف پی کے سنگ)

24/02/2022

الانسان ۔ 2

16/02/2022

الانسان ۔ 1

Address

G. T Road, Tayj Garh Road, Opposite Manawan Hospital, Momin Pura Road, Nit Kalan
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Masaba-tul-Eelaaf Hafiz Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Masaba-tul-Eelaaf Hafiz Iqbal:

Share