Faqeer Dost Welfare Association

Faqeer Dost Welfare Association Faqeer Dost Welfare Association (Pakistan) have a develpoment agenda for the positive change in society by empowering people towards prosperity.

21/09/2026

🌍 اے لوگو!

زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اور نہ اپنے ساتھی انسانوں سے جھگڑا کرو، کیونکہ یہ اُن کو زیبا نہیں دیتا جو اپنے رب کے سائے تلے یکتا برحق خدا کے وفادار بندوں کے مقام پر فائز ہیں۔ جب بھی کسی پیاسی روح سے ملو، اُسے جامِ حیاتِ جاوداں سے پلاؤ؛ اور جب بھی کوئی سننے والا کان پاؤ، اُسے خدا کی آیات سناؤ، جو قادر، مقتدر اور مہربان ہے۔ اپنی زبانوں کو مہربان الفاظ سے کھول دو، اور اگر تم لوگوں کو حرمِ الٰہی کی طرف مائل پاؤ تو اُنہیں حق کی طرف بلاؤ؛ ورنہ اُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ دو اور اُس حالت پر جو اسفل ترین آگ کی حقیقت ہے۔ خبردار! ایسا نہ ہو کہ تم معانیِ باطنی کے موتی اندھوں اور دل کے بنجروں کے سامنے ڈال دو، کیونکہ وہ نور دیکھنے سے محروم ہیں اور بے قیمت کنکر کو قیمتی اور چمکدار موتی سے پہچان نہیں سکتے۔ اگر تو ہزار برس تک پتھر کو جلالِ حیرت انگیز کی آیات سناتا رہے، تو کیا وہ اُن سے کبھی متاثر ہوگا یا اُن کا مفہوم سمجھ سکے گا؟ ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم، جو بے حد رحم فرمانے والا، نہایت مہربان ہے! اگر تو بہروں کو خدا کی ساری آیات سنائے، تو کیا وہ اُس کا ایک حرف بھی سنیں گے؟ ہرگز نہیں، اُس کے قدیم اور پرجلال جمال کی قسم!

— حضرت بہاءُاللہ
📖 Days of Remembrance، 29.13

✨ تاثر: آج کے دور میں یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود محبت، مہربانی اور امن ہی اصل راستہ ہے۔ ہمیں دوسروں پر زبردستی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اپنے کردار اور نرم الفاظ سے حق کی طرف بلانا چاہیے۔

#امن #محبت #اتحاد #انسانیت #بہاءُاللہ #اردو

28/06/2026

قرآن و سنت کی روشنی میں فدک کا معاملہ: ایک کھلا خط سچ کی تلاش کرنے والوں کے لئے ۔

پیش لفظ:
یہ مضمون کسی بھی فرقے کو نیچا دکھانے یا تنازع بڑھانے کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے تحریر کیا جا رہا ہے تاکہ "کونوا مع الصادقین" (سچوں کا ساتھ دو) کے قرآنی حکم پر عمل کیا جا سکے۔ میرا ایمان ہے کہ حق کو چھپانا (کتمانِ حق) گناہ ہے، اور اتحاد کا مطلب جھوٹ پر پردہ ڈالنا نہیں۔ میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں کو قرآن اور عقلی دلائل کی روشنی میں اپنے مؤقف سے آگاہ کر رہا ہوں، تاکہ ہم مل کر حق کو تلاش کریں اور صرف اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھیں۔

📖 پہلی دلیل: قرآن میں انبیاء کی وراثت کا واضح ثبوت

یہ دعویٰ کہ "انبیاء کا کوئی مالی وارث نہیں ہوتا"، قرآن کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر انبیاء (ع) کی مالی اور مقامی وراثت کا ذکر آیا ہے:

1. حضرت سلیمان (ع) اور حضرت داؤد (ع):
"اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا۔" (سورۃ النمل: ۱۶)
اگر انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی تو یہ آیت بے معنی تھی۔
2. حضرت زکریا (ع) کی دعا:
"مجھے اپنے بعد وارثوں کا خوف ہے... پس میرے لیے ایک وارث عطا کر... جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث ہو۔" (سورۃ مریم: ۵-۶)
زکریا (ع) مالی وراثت کی ہی بات کر رہے تھے، ورنہ ان کا بیٹا یحییٰ (ع) تو نبوت کا وارث نہیں بنا۔
3. عام آیتِ میراث:
"مردوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔" (سورۃ النساء: ۷)
اس حکم میں انبیاء کے لیے کوئی استثنا نہیں ہے۔

🗣️ دوسری دلیل: حدیث "لا نورث" کا تنقیدی جائزہ

بعض ہم مسلمان بھائی اس حدیث کو پیش کرتے ہیں: "ہم انبیاء کی میراث نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔"

اس حدیث کے بارے میں چار اہم باتیں:

1. یہ حدیث قرآن کی مخالف ہے:
اسلامی اصول ہے کہ "حدیث اگر قرآن سے ٹکراتی ہے تو وہ مردود ہے"، چاہے وہ کسی بھی کتاب میں ہو۔
2. یہ حدیث واحد (Khabar Wahid) ہے:
اسے صرف ایک شخص (حضرت ابوبکر) نے روایت کیا ہے، کسی اور صحابی نے اس کی تائید نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ کے قریبی ترین صحابہ جیسے حضرت علی، حضرت عباس، یا خود حضرت فاطمہ (س) نے اسے نقل نہیں کیا۔
3. یہ حدیث اپنے متن میں بھی متنازع ہے:
خود اہل سنت کے نامور محدثین (جیسے امام مالک، امام شافعی) کے نزدیک اس حدیث کی تعبیر مختلف ہے؛ بعض اسے نبوت کی میراث پر محمول کرتے ہیں، مالی وراثت پر نہیں۔
4. اس حدیث کی تعبیر میں دوغلے پن کا عنصر:
اگر انبیاء کوئی مال نہیں چھوڑتے تو حضرت سلیمان (ع) اور حضرت داؤد (ع) کی وراثت کا ذکر قرآن میں کیوں آیا؟ اور حضرت زکریا (ع) کو اپنے مال کی فکر کیوں تھی؟

🎁 تیسری دلیل: فدک "وراثت" تھا یا "تحفہ"؟ (اہم نکتہ)

بہت سے مسلمان بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ میراث کا معاملہ تھا، جبکہ حضرت فاطمہ (س) نے فدک کو "وراثت" کے طور پر نہیں مانگا، بلکہ "تحفہ / عطیہ" کے طور پر مانگا جو نبی ﷺ نے اپنی حیات میں انہیں دے دیا تھا۔

· دلیل: جب حضرت فاطمہ (س) حضرت ابوبکر کے پاس گئیں، تو انہوں نے کہا: "یہ میرے باپ نے مجھے دیا تھا"، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "یہ میرے باپ کی میراث ہے"۔
· قرآنی بنیاد: سورۃ بنی اسرائیل (۱۷:۲۶) میں حکم ہے: "قرابت داروں کو ان کا حق دو"، جس پر نبی ﷺ نے فاطمہ (س) کو فدک عطا فرمایا۔

لہٰذا، یہاں "نبی کی میراث نہیں ہوتی" کا اصول لاگو ہی نہیں ہوتا، کیونکہ یہ میراث نہیں، عطیہ تھا۔

😢 چوتھی دلیل: حضرت فاطمہ (س) کا غصہ اور رضامندی کا تناقض

بعض روایات میں کہا جاتا ہے کہ حضرت فاطمہ (س) راضی ہوگئی تھیں، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات خود گواہ ہیں کہ:

· حضرت فاطمہ (س) نے حضرت ابوبکر سے بات کرنا بند کر دیا اور اس گفتگو کا سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ (صحیح بخاری، کتاب المغازی)
· آپ (س) نے فرمایا: "میں اللہ اور فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم نے مجھے ناراض کیا ہے اور راضی نہیں کیا۔"

اب عقلی سوال یہ ہے:
اگر وہ راضی ہوگئی تھیں تو پھر مرتے دم تک ان کا ناراض رہنا اور وصیت کرنا کہ مجھے علی (ع) رات کو دفن کریں اور میرے جنازے پر ابوبکر اور عمر کو آنے نہ دیں، کیوں ہے؟ کیا یہ رضامندی کی علامت ہے؟

➡️ نتیجہ: راضی ہونے کا دعویٰ ان روایات کے خلاف ہے، اور کسی کو اس کی مرضی کے خلاف راضی کہنا خود جھوٹ اور منافقت ہے۔

⚖️ پانچویں دلیل: ظلم اور اس کے ساتھیوں کا انجام

اللہ قرآن میں صاف حکم دیتا ہے:

"اور ظالموں کی طرف جھکاؤ نہ کرو، ورنہ تمہیں بھی آگ لگ جائے گی۔" (سورہ ہود: ۱۱۳)

· اگر فدک حضرت فاطمہ (س) کا حق تھا اور انہیں نہیں دیا گیا (جیسا کہ قرآنی اور تاریخی دلائل سے ثابت ہے)، تو یہ واضح ظلم ہے۔
· اس ظلم کی تائید کرنا، یا یہ کہنا کہ "اس سے فرق نہیں پڑتا"، خود اس ظلم کا حصہ بننا ہے۔
· آج اگر کوئی بندہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد بھی کہے کہ "فیصلہ درست تھا"، تو وہ اس ظلم کا ساتھی تو ہوگا ہی، لیکن یہ اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔ ہمارا کام صرف حق پہنچا دینا ہے، لوگوں کو جبراً مانوانا نہیں۔

🤝 چھٹی دلیل: اتحاد کا صحیح مفہوم (اتحاد حق پر، باطل پر نہیں)

مسلمانو! اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کی غلطیوں پر پردہ ڈال کر چپ رہیں۔ حقیقی اتحاد وہ ہے جو قرآن پر مبنی ہو۔

· نبی ﷺ نے فرمایا: "میری امت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی" - لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو سب کریں وہ حق ہے۔ حق تو قرآن میں ہے۔
· اگر ہم اتحاد کے نام پر قرآن کو چھوڑ کر کسی ایک شخص کی روایت کو مقدّم کریں، تو یہ اتحاد نہیں، گمراہی ہے۔

💔 ساتویں دلیل: اگر اب بھی بضد رہیں تو کیا کریں؟

میرے پیارے مسلمان بھائیو! میں نے اپنی طرف سے قرآن، عقل اور تاریخ کی روشنی میں آپ کو دلائل دے دیے ہیں۔
اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ خود تحقیق کریں اور قرآن کو سامنے رکھیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"جو ہدایت حاصل کر لے، تو وہ اپنے فائدے کے لیے، اور جو گمراہ ہو، تو وہ اپنے نقصان کے لیے گمراہ ہوگا۔ اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔" (سورۃ الزمر: ۴۱)

اور دوسری جگہ فرمایا:

"اگر وہ منہ موڑیں تو جان لیں کہ ہمارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔" (سورۃ المائدہ: ۹۲)

🔚 اختتامیہ

میرا مؤقف قرآن کی روشنی میں واضح ہے:

1. قرآن انبیاء کی مالی وراثت کو ثابت کرتا ہے۔
2. حدیث "لا نورث" اس کے خلاف ہے اور قابلِ قبول نہیں۔
3. فدک حضرت فاطمہ (س) کا عطیہ تھا، وراثت نہیں۔
4. حضرت فاطمہ (س) کا مرتے دم تک ناراض رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا حق ادا نہیں کیا گیا۔
5. اس ظلم کی تائید کرنا خود ظلم ہے۔

اب اس کے بعد: اگر آپ ان دلائل کو پڑھ کر بھی اپنی پرانی روایت پر بضد ہیں، تو آپ کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ میں نے اپنا فرض تبلیغ ادا کر دیا۔ ہم دونوں کے درمیان فیصلہ قیامت کے دن اللہ کرے گا، جہاں ہر ایک کو اس کی نیت اور عمل کا بدلہ ملے گا۔

اللہ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں سچوں کے ساتھ اٹھائے، جھوٹوں کے ساتھ نہیں۔

آمین یا رب العالمین! 🙏

🔥 شاگردِ بابا بلھا — صوفی راجہ اشرف ہانگ کانگ(روح کی آزادی کا زندہ ثبوت)تعارف — وہ جو بابا بلھا کی راہ پر چلاآج ہانگ کان...
25/06/2026

🔥 شاگردِ بابا بلھا — صوفی راجہ اشرف ہانگ کانگ

(روح کی آزادی کا زندہ ثبوت)

تعارف — وہ جو بابا بلھا کی راہ پر چلا

آج ہانگ کانگ کی زمین پر ایک زندہ فقیر موجود ہے، جس کا نام ہے صوفی راجہ اشرف۔
یہ کوئی معمولی شخص نہیں — یہ بابا بلھا شاہ کا شاگرد ہے، اس سلسلے کا وارث جو صدیوں پہلے عشقِ حقیقی کا اعلان کر چکا تھا۔

خود اشرف نے اس تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

"شاگرد میں بابے بلھے دا،
ہر بعید اج ایتھے کھلے دا۔
حق سچ دے نعرے وجن گے،
پاویں ککھ نہ روے کلے دا۔"

ترجمہ:
میں بابا بلھے کا شاگرد ہوں —
آج ہر راز (بعید) یہاں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
حق اور سچ کے نعرے گونجیں گے،
چاہے گھر کا ایک تنکا (ککھ) بھی باقی نہ رہے —
تب بھی میں راز کھولتا رہوں گا۔

وہ مرشد جس نے روح کو بیدار کیا

صوفی راجہ اشرف اپنے مرشد میاں صاحب کھڑی والے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اوہ میاں صاحب کھڑی والے،
اوہ سیف ملوک پری والے۔
سر ہتھ اوہناں نے رکھیا اے،
تاں عشق پیالہ چھکھیا اے۔
سر سولی اتے جھولے دا۔
شاگرد میں بابے بلھے دا۔"

ترجمہ:
وہ میاں صاحب جو کھڑی میں رہتے ہیں،
وہی سیف الملوک اور پری کے قصے والے ہیں۔
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا،
تو میں نے عشق کا پیالہ چکھ لیا،
اور سر پھر سولی پر جھولنے لگا —
کیونکہ میں بابا بلھے کا شاگرد ہوں۔

صوفی ہونے کا اعلان — اور اس کی قیمت

جس دن راجہ اشرف نے صوفی ہونے کا اعلان کیا،
اس دن سے ان کی آزمائش شروع ہو گئی۔

پہلا قدم — مناظرے:
نجی محفلوں میں ان کے ساتھ مذہبی مناظرے کئے گئے۔
ہر بار وہ اپنی دلیل اور عشق کی روشنی میں سب پر بھاری رہے۔

دوسرا قدم — فتویٰ:
پھر قریبی دوستوں، علاقے کے چوہدریوں اور مولویوں نے مل کر
ان پر کفر کا فتویٰ لگایا،
اور انہیں واجب القتل ٹھہرا دیا۔

تیسرا قدم — جھوٹا مقدمہ:
ہانگ کانگ میں انہیں قتل نہ کیا جا سکا،
تو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا،
اور 9 سال قید کی سزا سنائی گئی —
جس میں سے انہوں نے کٹ کٹا کر کے 3 سال 9 ماہ قید کاٹے۔

روح کا قتل نہیں ہو سکتا

مگر جس روح نے بابا بلھے سے عشق سیکھا ہو،
اسے جیل کی سلاخیں بھی نہیں روک سکتیں۔

راجہ اشرف جیل میں بھی صوفی رہے —
انہوں نے وہاں بھی حق سچ کے نعرے بلند کئے،
اور رازِ حقیقت کو کھولتے رہے۔

جس طرح بابا بلھا کو سولی کی دھمکی دی گئی،
اور انہوں نے کہا:

"سر سولی اتے جھولے دا — شاگرد میں بابے بلھے دا"

اسی طرح راجہ اشرف نے جیل اور فتویٰ کو گلے لگایا،
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ —
روح کو قتل نہیں کیا جا سکتا،
اسے صرف آزاد کیا جا سکتا ہے۔

ملاں کا فتویٰ اور شاگرد کا اعلان

جس طرح بابا بلھا کو کفر کا فتویٰ دیا گیا،
اسی طرح آج بھی جب کوئی روح کی آزادی کا اعلان کرتا ہے،
تو ملاں طبقہ اسے اپنے خلاف سمجھتا ہے۔

مگر صوفی راجہ اشرف بلھے کے اس شعر کو زندہ کر رہے ہیں:

"نہ میں مومن وچ مسیتاں، نہ وچ کفر دیاں ریتاں"

وہ کہتے ہیں:
"میرا تعلق کسی مذہب، کسی مسلک، کسی رسم سے نہیں — میرا تعلق صرف اس روح سے ہے جو اپنے منبع کی طرف سفر کر رہی ہے۔"

دعوت — اس شاگرد تک پہنچو

اے انسان! اگر تو نے اپنی روح کو ڈھونڈنا ہے،
اگر تو نے رسم و ریاج کے جھمیلے سے نکلنا ہے،
اگر تو نے آزادی کا وہ پیالہ پینا ہے جو بابا بلھا نے چکھا تھا —

تو آ صوفی راجہ اشرف کے پاس،
جو آج ہانگ کانگ میں زندہ فقیر بن کر
وہی تعلیم عام کر رہا ہے
جسے ملاں صدیوں سے چھپاتے آئے ہیں۔

یہ کوئی نیا مذہب نہیں —
یہ وہی پرانا عشق ہے،
جس نے بلھے کو بلھا بنایا،
اور جس نے اشرف کو اس کا شاگرد۔

"حق سچ دے نعرے وجن گے —
پاویں ککھ نہ روے کلے دا۔
چاہے گھر کا ایک تنکا بھی باقی نہ رہے،
روح جاگ اٹھے گی،
کیونکہ یہ خدا دی مرضی اے۔"

اختتام — اک روح دی پکار

"اول آخر آپ نوں جانا، نہ کوئی دوجا ہور پچھانا"

صوفی راجہ اشرف آپ کو اسی خود شناسی کی دعوت دیتے ہیں —
جس کا راستہ نہ مسجد میں ہے، نہ مندر میں،
بلکہ آپ کے اپنے دل میں ہے۔

آؤ، اس شاگرد تک پہنچو،
جو بابا بلھے دا ہے —
جس نے جیل، فتویٰ اور قید سب دیکھا،
مگر عشق سے منہ نہ موڑا —
اور تمہیں ویسا ہی بنا دے گا۔

صوفی راجہ اشرف ہانگ کانگ —
زندہ فقیر، بابا بلھا دا شاگرد،
روحانی آزادی دا علمبدار

فقیر دوست ویلفیئر کے فاؤنڈر ممبر کچھ تو وصال فرماء گئے ہیں جن میں خورشید صاحب اور صوفی صاحب سردار صاحب اللہ ان کی مغفرت ...
11/06/2026

فقیر دوست ویلفیئر کے فاؤنڈر ممبر کچھ تو وصال فرماء گئے ہیں جن میں خورشید صاحب اور صوفی صاحب سردار صاحب
اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔
اور حیات ہیں رابطے میں نہیں ہیں ۔
صوفی فیملی کیچن فقیر دوست ویلفیئر کا حصہ ہے
جو فاؤنڈر ممبرآن کی خواہش کے عین مطابق ہے ۔
اللہ نے توفیق دی تو اس سلسلے کو پایا تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کروں گا
جہاں تک مجھ سے ممکن ہوا ہے

03/06/2026

کیا میں اللہ کا دوست ہوں یا شیطان کا؟

اللہ قرآن میں فرماتا ہے:

"سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ"
(عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہوں گے، اے دو بوجھو — جن اور انسان)

یہ وقت اب شروع ہو چکا ہے۔
اب چہرے نہیں، حقیقتیں پہچانی جائیں گی۔

دو گروہ:

اولیاء اللہ (اللہ کے دوست)

"أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ"
(سورہ یونس: 62)

پہچان:

· مخلوق کی خدمت کرتے ہیں
· کسی کو مذہب کے نام پر نہیں ستاتے
· روح کو نفس کی قید سے آزاد کر لیا
· ان کے ساتھ خدا ہے

اولیاء الشیطان (شیطان کے دوست)

"إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ"
(سورہ آل عمران: 175)

پہچان:

· مذہب کی شکلوں پر جنون
· مخلوق کے لیے رحم نہیں
· خدا کا نام لے کر خدا کے بندوں کو ستاتے ہیں
· لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں

سب سے بڑا سچ:

یہ نظام اولیاء اللہ کا دشمن بن جاتا ہے۔

کیوں؟
کیونکہ آزاد انسان ان کے لیے خطرناک ہوتا ہے جو مذہب کے نام پر لوگوں کو غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔

اپنے آپ سے پوچھیں:

· کیا تمہارے دل میں مخلوق کے لیے رحم ہے؟
· یا صرف عبادتوں کی تعداد پر فخر ہے؟

اگر رحم ہے — تو تم اولیاء اللہ میں ہو، چاہے عبادت کم ہو۔

اگر صرف فخر ہے اور مخلوق تمہارے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی — تو تم اولیاء الشیطان میں ہو، چاہے کتنی ہی عبادت کر لو۔

اللہ اس کے ساتھ ہے جو مخلوق کے ساتھ ہے۔

یہ وقت آن پہنچا ہے۔
آنکھیں کھولو۔
فیصلہ کرو:

کیا میں اللہ کا دوست ہوں یا شیطان کا؟

ہیش ٹیگز:

14/05/2026

اسلام علیکم معزز ممبران

Address

Lahore

Telephone

+85254943181

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faqeer Dost Welfare Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Faqeer Dost Welfare Association:

Shortcuts

Share