14/08/2026
🌾 گندم بحران کا حل: کسان اور PASSCO کو مضبوط کریں
پاکستان میں 29.8 ملین ٹن گندم پیدا ہونے کے باوجود آج گندم درآمد کی جا رہی ہے۔ وفاق اور صوبے لاکھوں ٹن گندم بیرونِ ملک سے خریدنے کا فیصلہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف PASSCO کے گوداموں میں موجود 12 لاکھ ٹن گندم صوبوں کو جاری کی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مسئلہ صرف گندم کی کمی نہیں، بلکہ ذخیرہ، تقسیم اور حکومتی پالیسی کے غلط تسلسل کا ہے۔
گزشتہ سال کسان نے اپنی گندم کم قیمت پر فروخت کی، کیونکہ اس کے پاس نہ مناسب اسٹوریج تھا، نہ سستا قرض اور نہ انتظار کرنے کی مالی طاقت۔ آج وہی گندم کئی گنا زیادہ قیمت پر مارکیٹ میں آ رہی ہے اور ریاست کو مجبوراً مہنگی گندم خریدنی پڑ رہی ہے۔
ہم نے اپنے کسان کو روپے میں مناسب قیمت دینے سے انکار کیا، اب غیر ملکی گندم کے لیے ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔
اس بحران کا فوری اور عملی حل یہ ہے:
✅ PASSCO کو ختم کرنے کے بجائے مضبوط اور فعال کیا جائے۔
✅ PASSCO کو قومی اسٹریٹجک گندم ذخیرے کا مرکزی ادارہ بنایا جائے۔
✅ کسان کو فصل کے وقت فوری خریداری، اسٹوریج اور کم شرح پر قرض کی سہولت دی جائے۔
✅ ڈیجیٹل ویئر ہاؤس رسیدوں کے ذریعے کسان کو اپنی گندم رکھ کر قرض حاصل کرنے کی سہولت دی جائے۔
✅ آڑھتی کو ختم نہیں بلکہ ایک شفاف اور ریگولیٹڈ مارکیٹ کا حصہ بنایا جائے۔
✅ بحران کے وقت PASSCO اپنے ذخائر صوبوں کو بروقت جاری کرے تاکہ درآمد کی ضرورت کم ہو۔
PASSCO صرف ایک ادارہ نہیں؛ یہ پاکستان کے غذائی تحفظ اور کسان کے لیے ایک حفاظتی دیوار ہے۔
اگر آج کسان کو مضبوط نہیں کیا گیا تو کل ہمیں گندم بھی مہنگی ملے گی، درآمدی ڈالر بھی خرچ ہوں گے اور کسان بھی اگلی فصل سے دور ہوتا جائے گا۔
🌾 کسان بچائیں — PASSCO بچائیں — پاکستان کا غذائی تحفظ بچائیں۔