16/07/2026
اگر حکومت آج نجی ایگریگیٹرز کے ذریعے 3,500 روپے فی 40 کلو گندم خریدنے کی بجائے یہی اختیار پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو دیتی، تو میرا پختہ یقین ہے کہ پاسکو اپنے مقررہ ہدف کو باآسانی مکمل کر لیتا۔ اس سے نہ صرف اسٹریٹجک ذخائر بروقت قائم ہو جاتے بلکہ آج حکومت کو گندم کی دستیابی کے حوالے سے تشویش کا بھی سامنا نہ کرنا پڑتا۔
گندم جیسی بنیادی غذائی فصل میں حکومت کا فعال کردار ناگزیر ہے۔ جب تک حکومت خود مارکیٹ میں بروقت مداخلت نہیں کرے گی اور قومی اسٹریٹجک ذخائر اپنی نگرانی میں برقرار نہیں رکھے گی، ہر سال یہی صورتحال جنم لیتی رہے گی۔ کبھی کاشتکار اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں پائے گا، کبھی صارف مہنگے آٹے اور گندم کا بوجھ برداشت کرے گا، جبکہ اصل فائدہ صرف مڈل مین، ذخیرہ اندوز اور سٹے باز اٹھائیں گے۔
گندم صرف ایک فصل نہیں، بلکہ قومی غذائی تحفظ (Food Security) کی بنیاد ہے۔ اس لیے اس کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور ریلیز کے نظام کو مکمل طور پر مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا طویل المدتی قومی مفاد کے مطابق نہیں۔
اگر حکومت واقعی کسان، صارف اور ملکی معیشت کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے تو ضروری ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں مؤثر حکومتی کردار بحال کیا جائے، قومی اسٹریٹجک ذخائر مضبوط کیے جائیں، اور پاسکو جیسے اداروں کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے غذائی مستقبل، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد کا معاملہ ہے۔وقت آ گیا ہے کہ گندم کو صرف ایک تجارتی جنس نہیں بلکہ قومی سلامتی کا حصہ سمجھا جائے۔ مضبوط اسٹریٹجک ذخائر، بروقت حکومتی مداخلت اور پاسکو جیسے اداروں کا مؤثر کردار ہی کسان، صارف اور ملکی معیشت تینوں کے مفاد کی ضمانت ہے۔ آج کا درست فیصلہ آنے والے کل کے غذائی بحران کو روک سکتا ہے۔" #گندم #کسان #پاسکو #پاکستان