22/05/2026
نہ زین بدمعاش تھا اور نہ سراج محسود اصل کہانی کوچ ایسے ھے:اس نوجوان کے بقول زین اور میں بچپن کے دوست تھے ، سراج 6 سال سے اسی محلہ میں دکانداری کرتا تھا زین بھی عام سے ایک نوجوان تھا اور سراج بھی کاروباری اور امن پسند آدمی تھا معاملہ صرف 1370 روپے کا تھا ۔ ان پیسوں کا زین کے گھر سے کوئی تعلق نہ تھا محلے دار ہونے کی وجہ سے زین کبھی یار دوستوں کے ساتھ یا خود آجاتا بوتل چپس بسکٹ كها لیتا اور پیسے لکھوا دیتا تھا ۔۔۔ وقوعہ کے روز جب زین دکان پر آیا تو اس نے سراج کو کہا خان بھائی کچھ کھانے کو دینا اور ایک بوتل ۔۔۔ سراج نہ جانے کس موڈ میں تھا اس نے صاف انکار کردیا کہ تمہارے 1370 روپے ہو گئے ہیں پہلے وہ دو اسکے بعد ہی اب کوئی چیز ملے گی ۔۔۔ دو چار بندوں کے سامنے سراج کی اس بات پر زین نے برا منایا -- شیطان نے غصہ زین کے دماغ میں داخل کردیا اس نے کہا اگر لے سکو تو لے لینا 1370 یہ سن کر سراج بھی بھڑک گیا ۔ حالانکہ دکاندار آدمی تحمل والا ہوتا ہے ۔۔ وہ باہر آیا اور اسکے اور زین کے درمیان منہ ماری ہوئی جھگڑا اتنا نہ ہوا ساتھی دکانداروں نے زین اور سراج کو چھڑا لیا اور زین گھر چلا گیا وہاں جاکر اس نے پنڈی وال نوجوانوں کی طرح غصے میں اپنے دوستوں کو فون کردیا ۔ یہ سب اکٹھے ہو کر سراج کی دکان پر آئے اور اسے دو چار تھپڑ مکے مارے اسی دوران زین کی والدہ بھی پہنچ گئی اس نے اپنے بیٹے کو منہ پر تھپڑ بھی مارا اور کہا چلو دفع ہو اپنے گھر۔۔ ماں نے زین کے دوستوں کو بھی بھگا دیا اور خود سراج کو کہنے لگی بیٹا تم بھائیوں جسے ہو ، ایک محلے میں رہتے ہو ، چند سو روپے کے لیے لڑنا تمہیں زیب نہیں دیتا ۔۔۔ شاید معاملہ یہاں ختم ہو جاتا مگر شیطان اس محلے میں موجود تھا ۔۔ سراج نے بھی دکان بند کرنا شروع کی اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کوفون کر دیے ۔ زین نے ایک آدھ گھنٹہ گھر گزارا اور موقع پاکر دوبارہ دوستوں کے ساتھ سراج کی دکان پر پہنچ گیا جب وہ دکان بند کررہا تھا وہاں پھر جھگڑا ہوا ۔۔۔ لڑائی کے دوران سراج نے زین کو ڈنڈا مارا تو زین کے ایک دوست نے فائیر کر دیا جو سراج کو لگا اور وہ گر گیا اور موقع پر دم توڑ گیاغصہ اور یہ لوگ بھاگ کر گھر آگئے ۔۔۔ اب یہ پشیمان تھے کہ قتل کا ارادہ نہ تھا مگر انکے ہاتھوں قتل ہو چکا تھا آدها یا پونا گھنٹہ گزرا تو ایک ہجوم زین کے گھر کےدروازے پر اکٹھا ہو گیا ۔۔۔ ظاہری سی بات ہے جنکا جوان بھائی قتل ہوا ہو انکی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہے .
اور انتقام کی آگ سراج کے بھائی اور دوستوں پر حاوی ہو چکی تھی کافی دیر زین کی والدہ نے انہیں دروازہ نہ کھولنےدیا لیکن ہر طرح کی گالیاں سن کر زین پھر جوش میں آگیااور زبردستی دروازہ کھول کر باہر نکل آیا اسکے دوست بھی پیچھے آگئے مگر سراج کے بھائی اور یار دوست یا رشته داربہت زیادہ تھے انہوں نے زین کو پکڑا اور زبردستی ساتھ لےگئے ۔۔۔ 2 گھنٹے بعد سراج کی دکان کے قریب ہی ایک گراؤنڈمیں زین کی زخموں اور چوٹوں سے چور لاش مل گئی۔۔۔۔۔ یہ کسی قسم کا پٹھان پنجابی کا جھگڑا نہ تھا یہ کئی سالوں سے پنڈی میں رہنے والے ایک دکاندار اور اسکے گاہک
کا جھگڑا تھا دونوں نے برداشت سے کام نہ لیا اور دونوں افسوسناک انجام کو پہنچ گئے ۔ نوٹ کریں کہ قتل نہ زین نےکیا اور نہ سراج نے ۔۔یاری دوستی نے دونوں گھر برباد کردیے ۔
اب اگر اس افسوسناک واقعہ سے کوئی سبق سیکھنامقصود ہے تو حکام اور پولیس کو سراج اور زین دونوں کےاصل قاتلوں کو گرفتار کرنا چاہیے اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا گھناؤنا جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچے . لیکن اگر قاتلوں کو پیش کرنے کی بجائے نفرتیں بڑھائی گئیں اور لاشوں پر سیاست کی گئی تو اس روایت کا انجام خوفناک ہو گا ،، اللہ کریم ہم سب کو ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین