21/08/2026
چوروں کا گروہ،،،،،،،
سلطان محمود غزنوی اکثر رات کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حال احوال سے باخبر رہتا اور ان کی تکالیف دُور کرتا۔ ایک رات حسبِ عادت رعایا کا حال معلوم کرنے کے لیے بادشاہ سلامت بھیس بدل کر محل سے نکلے۔ گشت کرتے ہوئے ایک ویرانے سے گزرے۔ وہاں چند آدمی بیٹھے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے۔ سلطان بھی ان کے قریب جا بیٹھا دعا سلام کے بعد پوچھا تم لوگ کون ہو اور رات گئے یہاں کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہم چور ہیں اور اب یہ بتاؤ تم کون ہو؟ سلطان نے کہا: ”بس میں بھی تمہی میں سے ہوں۔“ یہ سُن کر وہ خوش ہوئے اور خوش آمدید کہا۔ وہ آپس میں اپنے اپنے ہنر اور کمال کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ پہلے نے کہا: ”میرے کانوں میں یہ کمال حاصل ہے کہ رات کو جب کُتا بھونکتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“ سب نے سُن کر کہا: ”بھئی واہ! یہ تو بڑے کمال کی بات ہے۔“ دوسرا کہنے لگا: ”اے مال و زر کے پجاریو! میری آنکھوں میں یہ خوبی ہے کہ رات کو کیسا ہی کیوں نہ گھپ اندھیرا ہو میں جس کسی کو اس اندھیرے میں ایک مرتبہ دیکھ لوں دن کی روشنی میں دیکھتے ہی پہچان لیتا ہوں۔“ تیسرے نے کہا: ”میرے بازو میں اتنی قوت ہے کہ مضبوط سے مضبوط دیوار میں نقیب لگا لیتا ہوں۔“ چوتھے نے کہا: ”میں سونگھ کر بتا دیتا ہوں کہ خزانہ کس جگہ دبا ہوا ہے۔“ پانچواں کہنے لگا: ”میرے پنجے میں وہ زور ہے کہ اونچی سے اونچی جگہ پر کمند پھینک سکتا ہوں“۔
پھر انہوں نے سلطان کی طرف دیکھ کر کہا: ”ہاں بھائی اب تُو بھی بتا تجھ میں کیا کمال ہے۔“ سلطان نے جواب دیا: ”یارو میرا کیا پوچھتے ہو۔ اللہ کی مہربانی سے میری داڑھی میں ایک خاص وصف ہے۔ وہ مجرموں کو قید سے رہا کرا دیتی ہے۔ یا جن کو قتل کی سزا ہو جائے اس وقت اگر میں داڑھی ہلا دوں تو انھیں با عزت رہا کر دیا جاتا ہے۔“
ان عقل کے اندھوں نے یہ سُن کر خوشی سے نعرہ لگایا: ”تیرا کمال تو سب سے بڑا ہے آج سے تُو ہمارا سردار ہے۔ اب ہمیں کسی پریشانی کا خوف نہیں۔“ اس کے بعد چوری کا پروگرام طے کیا اور پھر چل پڑے۔ بادشاہ کے محل کی جانب نکلے کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ جو چور کتوں کی بولی سمجھنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ ہراساں ہو کر دبی زبان میں بولا غضب ہو گیا۔ ”یہ کُتا کہہ رہا ہے کہ بادشاہ تمہارے دائیں بائیں ہی موجود ہے۔“ یہ سُن کر دوسرے چور ہنس پڑے اور بولے ”ابے! تجھے کیا ہو گیا ہے۔ بادشاہ کا یہاں کیا کام۔ وہ اس وقت محل میں اپنے آرام دہ بستر پر خراٹے لے رہا ہو گا۔“ اتنے میں دوسرے چور نے کہا: ”دوستو!
شاہی خزانہ قریب ہی آ گیا ہے اور بس اب تم اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرو۔“ کمند پھینکنے والے نے محل کی چھت پر کمند پھینکی پھر وہ سب آہستہ آہستہ کمند کے ذریعے محل کی چھت پر جا پہنچے نقیب زن نے نقیب لگائی اور اس کمرے میں ساتھیوں کو لے گیا۔ جہاں شاہی خزانہ موجود تھا۔ جس کے جو ہاتھ لگا۔ جی بھر کر سمیٹا۔ اشرفیاں ہیرے جواہر سونے چاندی کے برتن وہاں سے نکال کر سارا مال ایک محفوظ جگہ پر چھپا دیا اور خود اپنی جائے پناہ میں جا کر بیٹھ گئے۔ سلطان موقع پا کر وہاں سے کھسک آیا دوسرے دن بادشاہ نے سپاہیوں کو اس جائے پناہ کا پتہ دے کر چوروں کی گرفتاری کا حکم دیا۔ سپاہی دوڑے گئے اور سب چوروں کو آناً فاناً گرفتار کر لیا۔ جب انہیں بادشاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو موت کے خوف سے چہرے زرد اور بدن خشک تنکے کی طرح کانپ رہے تھے۔ ان میں سے وہ آدمی جو رات کی تاریکی میں کسی کو دیکھ کر دن میں پہچان لینے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس کی نظر جونہی سلطان کے چہرے پر پڑی تو اس نے ہاتھ باندھ کر عرض کی ”ہم سب تو اپنا اپنا کمال دکھا چکے ہم میں سے کسی کا فن ہماری جان بچانے کے کام نہ آیا۔ بے شک ہمارا ہر کمال بدبختی اور آفت ہی ڈھاتا رہا۔ یہاں تک کہ ہمارے ہاتھ اور پاؤں بندھ گئے۔ جلاد ہماری گردنیں اڑا دینے کے لیے کھڑا ہے۔ ہمارے ہنر ہمیں موت کے پنجے سے نہیں چھڑا سکتے۔ اے ہمارے رات کے ساتھی اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے فن کا مظاہرہ کریں۔ اب آپ اپنی داڑھی ہلائیں تا کہ ہماری جان بچ جائے۔“ سلطان محمود کو اس کی باتیں سُن کر رحم آ گیا۔ اس نے اپنی گردن ہلا کر حکم دیا کہ ان کو رہا کر دیا جائے۔
درسِ حیات:
اچھا ہنر مصیبت میں کام آتا ہے جبکہ برا ہنر ایسے وقت کھجور کی بٹی ہوئی رسی کی مانند ثابت ہوتا ہے۔
شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya