Tasawuf Ki Dunya

Tasawuf Ki Dunya God is Love. Love is God.

23/09/2026
نادان کی دوستی,,,,,,,,,​محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ندی کے کنارے چوہے اور مینڈک کی ملاقات ہوگئی، ایک دوسرے کے...
23/09/2026

نادان کی دوستی,,,,,,,,,
​محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ندی کے کنارے چوہے اور مینڈک کی ملاقات ہوگئی، ایک دوسرے کے تعارف کے بعد ندی کے قریب خوشگوار ماحول میں کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ چند دنوں کے بعد یہ دوستی کی گرہ "محبت میں تبدیل ہوگئی"۔ "یہ محبت "عشق و آشنائی تک جا پہنچی، پھر یہ چاہت اور بے تابی اس حد تک بڑھ گئی کہ دونوں وقتِ معین پر ہر صبح کو ملاقات کے پابند ہوگئے اور دیر تک دونوں تبادلہٴ خیالات کرتے رہتے، کچھ جگ بیتی اور کچھ آپ بیتی کے متعلق آپس میں باتیں کر کے ایک دوسرے کا دل خوش کرتے، آپس میں راز گو تھے، بے زبان بھی تھے اور بازبان بھی۔

​جوشِ نطق از دل نشانِ دوستی است
بستگی نطق از بے الفتی است

​گویائی اور گفتگو کا جوش دل سے اٹھنا علامتِ محبت ہے اور گویائی میں رکاوٹ علامتِ بے الفتی ہے۔ جس نے دلبر کو دیکھ لیا تو وہ ترش رو کب رہ سکتا ہے اور جب بلبل پھول کو دیکھ لیتا ہے تو خاموش کیسے رہ سکتا ہے۔
​یار کی پیشانی لوحِ محفوظ کی مانند ہے جو عاشق پر کونین کے اسرار آشکارا کر دیتی ​ہے۔ اب عاشقِ زار پر جدائی اور فرقت کے لمحے بھاری ہو گئے۔ ایک دن چوہے نے کہا آپ تو پانی کے اندر دوڑ لگا دیتے ہیں اور ہم خشکی پر آپ کی جدائی کا غم کھاتے رہتے ہیں، ندی کے کنارے جا کر تجھے آواز دیتا ہوں تو پانی کے اندر ہماری آواز سنتا ہی نہیں، میں اب اتنے وقت کی گفتگو سے سیر نہیں ہوتا، تیرے دیدار سے اپنی آنکھوں کی پیاس بھی نہیں بجھا پاتا، سنا ہے نماز تو پانچ وقت کی فرض ہے لیکن عاشق تو ہر وقت محبوب کی یاد میں مسرور اور مست رہتا ہے۔ تیرا چہرہ دیکھے بغیر میرا کوئی لمحہ بھی اب چین سے نہیں گزرتا۔ میرے دن کی روشنی اور رات کا چین تیرے ہی دم سے ہے۔

​نیست زرغباً نشانِ عاشقاں
سخت مستقی است جانِ صادقاں

​باری باری ناخدے کر ملاقات عاشقوں کے لئے نہیں ہے صادقین کی جانیں تو سخت پیاسی ہوتی ہیں۔
​تیرا یہ احسان ہوگا کہ تُو مجھے مسرور کر دے اور وقت بے وقت ملاقات کا لطف چکھا دیا کر۔ اے بے پرواہ امیر مجھے اپنے حسن کی زکوٰۃ دے۔ اس غریب پر نظرِ عنایت فرما اور شرفِ دیدار سے فیض یاب کر۔ کاش! میں پانی کے اندر آ کر تجھ سے ملاقات کر سکتا مگر میں اس سے عاجز اور مجبور ہوں اے دوست! میں خاکی ہوں اور تو آبی...... مینڈک اپنے عاشقِ زار کی باتیں سن کر بے حد متاثر ہوا اور فرطِ محبت سے اس کا دل بھر آیا۔ دونوں دلوں کو اکٹھا رکھنے کی اب کیا تدبیر کریں؟ آخر چوہے نے یہ رائے پیش کی کہ ایک مضبوط دھاگہ لے کر جس کا ایک سرا تمہارے پاؤں میں بندھا ہوا ہو اور دوسرا میرے پاؤں میں بندھا رہے۔ جب تیری یاد مجھے تڑپانے لگے گی تو میں ڈوری کو ہلا دیا کروں گا۔ تم میرا اشارہ سمجھ کر پانی سے باہر آ جایا کرنا۔ مینڈک کو دل میں یہ ترکیب پسند نہ آئی اس کے باوجود اس نے چوہے کی درخواست قبول کر لی۔ "عقل پر جب طبعی خواہش غالب آ جاتی ہے تو یہ نہایت خطرناک مستقبل کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔"
​پھر یہ دونوں ڈوری ہلا کر بار بار ملاقات کی لذت کے عادی ہو گئے اور اس طرح ​کئی دن ملاقاتوں میں گزر گئے۔ آخر کار انجام وہی ہوا— "جو مجازی عشق و محبت والوں کا ہوتا ہے۔"
​عاشقِ زار محبت کی پینگ بڑھائے ہوئے تھے اور اپنے محبوب کو پیغامِ محبت دینے والے تھے کہ پکڑے گئے۔ چیل نے اوپر سے چھاپہ مارا اور چوہے کو اپنے پنجوں میں دبا کر اڑ گئی۔ جب چوہا فضا میں بلند ہوا تو پیغامِ رسانی والی تارِ فوراً موت کا پیغام لے کر مینڈک تک جا پہنچی۔ چیل فضا میں بلند ہوئی تو مینڈک صاحب بھی پاؤں پر باندھے ہوئے دھاگے کی وجہ سے فضا میں معلق ہو گئے۔ لوگوں نے جب یہ ماجرا دیکھا تو بڑے حیران ہوئے کہ چیل نے...... ایک تیر سے دو شکار کیسے کر لئے! ادھر مینڈک نے زبانِ حال سے لوگوں کو بتایا کہ اے لوگو! یہ تمہارے لئے عبرت کا مقام ہے۔ یہ سزا اس حماقت کی ہے جو نااہل سے محبت کی پینگیں بڑھائے۔
​پھر چیل نے ویرانے میں جا کر دونوں کو اکٹھے ہی سزائے موت دے کر دشمنانِ محبت کی طرح خوب جشن منایا۔

​درسِ حیات:
نااہل سے محبت کرنے کا انجام ہمیشہ ذلت، رسوائی اور ہلاکت کی صورت میں نکلتا ہے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

رزق کی فکر،،،،،،،،،،​ایک جنگلی گائے صبح سویرے صاف ستھرا سبز گھاس کھانے کے لئے نکل جاتی۔ سرسبز و شاداب جزیرے میں دن بھر م...
22/09/2026

رزق کی فکر،،،،،،،،،،
​ایک جنگلی گائے صبح سویرے صاف ستھرا سبز گھاس کھانے کے لئے نکل جاتی۔ سرسبز و شاداب جزیرے میں دن بھر مزے مزے سے چرتی رہتی۔ جب خوب پیٹ بھر جاتا اور اس کا جسم توانا ہو جاتا تو پھر اپنے ٹھکانے پر واپس آ جاتی۔ رات کو وہ اس فکر میں مبتلا ہو جاتی کہ آج تو میں سر سبز اور خوبصورت گھاس کھا آئی ہوں "کل کیا کروں گی ساری رات وہ اس غم میں ہی گھلتی رہتی خدا معلوم اگلے روز گھاس کھانے کو ملے یا نہ ملے، اگلے دن کی خوراک کی فکر جب اس کو دامن گیر ہو جاتی تو اس غم میں صبح تک پھر سوکھ کر کمزور ہو جاتی......
​دوسرے دن صبح سویرے جب پھر وہ جزیرے میں مریضۂ ہوس پہنچی تو بڑی حرص کے ساتھ چارہ کھانے لگی سارا دن وہ سرسبز و شاداب گھاس کھاتی رہی۔ جب واپس پہنچی تو رات کو پھر اس غم میں گھلنے لگی کہ وہ اگلے روز کیا کھائے گی، خوراک کی فکر پھر اس کو دامن گیر ہو جاتی۔ اس بخار میں رات کو پھر کمزور ہو جاتی......
​کل کی فکر میں اس کی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے ہی گزر گیا۔ اسے یہ سمجھ نہ آئی کہ وہ کسی دن بھی تو بھوکی نہیں رہی۔ وہ اس فکر سے اپنا پیچھا نہ چھڑا سکی اور اس طرح اپنے حال کو ہمیشہ مستقبل کی فکر کر کے خراب اور خستہ حال بناتی رہی۔ ”گائے نما“ اس انسان کو بھی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جب خالق کائنات ہر روز اس کی روزی کا سامان خود مہیا کر دیتا ہے تو ​پھر کل کی فکر میں گھلنے کی کیا ضرورت ہے۔
​اگر کوئی تھوڑا بہت غور کی زحمت کرے تو ہمیں پتا چل جائے گا کہ یہ گائے انسان کا نفس ہے اور سرسبز جنگل یہ دنیا ہے۔ رازق اپنی مخلوق کو ہر روز اپنے وعدے کے مطابق رزق ضرور عطا کرتا ہے لیکن یہ کم عقل، بدفطرت اور حرص و ہوس کا مارا ہوا آدمی پھر اس فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ہائے! کل کیا کھاؤں گا۔ ارے خدا کی عطا کردہ عقل سے یہ تو سوچ کہ روزِ پیدائش سے لے کر اب تک تو برابر کھا رہا ہے تیرے اس رزق میں کمی نہیں آئی تو ان شاء اللہ تعالیٰ مستقبل میں بھی تیرے رزق کا وہی ضامن ہے۔ جس نے تجھے اب تک دیا ہے آئندہ بھی دے گا۔
​سالہا خوردی و کم ناید زخورد
ترک مستقبل کن و ماضی نگرد

​درسِ حیات:
تو سالہا سال سے کھا رہا ہے اور تیرے رزق میں کمی نہیں آئی پس تو کل کی فکر کو ترک کر اور ماضی سے سبق لے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

دنیا پرست،،،،،،،،،​فریبستان کے ہوس والے علاقے میں تین قسموں کے آدم زاد رہتے تھے۔۱۔ ان میں سے ایک کی نظر اتنی تیز تھی کہ ...
21/09/2026

دنیا پرست،،،،،،،،،
​فریبستان کے ہوس والے علاقے میں تین قسموں کے آدم زاد رہتے تھے۔
۱۔ ان میں سے ایک کی نظر اتنی تیز تھی کہ چونٹی کے پاؤں تک دیکھ لیتا تھا لیکن وہ دل کی آنکھوں سے اندھا تھا۔
۲۔ دوسرا بہت تیز سننے والا تھا لیکن اس کے دل و دماغ کے کان بند تھے۔
۳۔ تیسرا مادر زاد ننگا تھا لیکن اس کے کپڑوں کے دامن بڑے دراز تھے۔
سمجھنے والے کو شاید "اس ویرانے سے کوئی خزانہ ہاتھ آجائے"
ایک دن اندھے نے کہا "یارو" آدمیوں کا ایک گروہ چلا آرہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ ہمیں نقصان پہنچائیں ہم یہاں سے بھاگ جائیں۔ بہرے نے کہا "ہاں ہاں" تُو ٹھیک کہتا ہے میں بھی ان آدمیوں کے قدموں کی آہٹ سُن رہا ہوں معلوم ہوتا ہے خاصی بڑی جماعت ہے۔
ننگے نے گھبرا کر کہا "بھائیو" مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ کہیں میرے قیمتی کپڑے ہی نہ لے لیں۔ اندھے نے کہا لو وہ تو قریب آگئے ہیں ان کے ارادے بھی کچھ اچھے نہیں لگ رہے کہیں ایسا نہ ہو یہ ہمیں نقصان ہی پہنچا دیں، بہرے نے کہا آواز نزدیک آتی جا رہی ہے ہوشیار ہو جاؤ۔ ننگے نے کہا بھاگو بھاگوں میں سب سے زیادہ خطرے میں ہوں...... تینوں ​آگے پیچھے دوڑتے بھاگتے شہر سے باہر ہانپتے ہوئے ایک گاؤں کے قریب پہنچ گئے۔ بھوک کے مارے ان کا بُرا حال ہو رہا تھا۔ اندھے نے ایک موٹا تازہ مرغا دیکھا۔ بہرے نے اس کی آواز سنی اور ننگے نے اس کو پکڑ کر اپنے دامن میں چھپا لیا۔ یہ مرغ کافی عرصے سے مرا پڑا یہاں خشک ہو چکا تھا۔ اس کے مردہ جسم پر گوشت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اس کی ہڈیوں پر کوے کے چونچوں کے نشان تھے۔
پھر یہ تینوں ایک دیگ ڈھونڈ کر لائے۔ جس کا نہ پیندا تھا اور نہ منہ، اس ہوس کی دیگ کو انھوں نے چولہے پر چڑھایا اور اس میں اس فربہ مرغ کو ڈال دیا پھر انھوں نے ظلم و زیادتی کی اس قدر آگ جلائی کہ مرغ کی ہڈیاں گل کر حلوہ بن گئیں۔ البتہ ان کے ضمیر کو حرارت چھو کر بھی نہ گئی۔ وہ تینوں اس مرغ پر ٹوٹ پڑے اور کھا کھا کر ہاتھی کی طرح موٹے ہو گئے۔ مگر ذہنیت ان کی اتنی پست کہ وہ ظالم موٹاپے کے باوجود بے شرمی کے دروازے کے باریک سوراخوں سے بھی آسانی کے ساتھ گزر جاتے۔
"صلائے عام ہے یارانِ نکتہ دان کے لئے" جھوٹی امید کی مثال بہرے کی ہے جو دوسروں کے مرنے کی خبر تو سنتا ہے مگر اسے اپنی موت یاد نہیں۔ حرص و ہوس کی مثال اندھے کی ہے جو دوسروں کے ذرا ذرا سے عیبوں پر نظر رکھتا ہے ان کی تشہیر کرتا پھرتا ہے مگر اس بد نصیب کو اپنے عیب نظر نہیں آتے۔ تیسرا سب سے بڑا بے وقوف دنیا پرست آدمی ہے۔ یہ ظالم بھول گیا کہ وہ دنیا میں ننگا آیا اور ننگا ہی دنیا سے جائے گا اس کو ساری عمر یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں کوئی میرا دامن ہی نہ چاک کر ڈالے میرا کوئی پول نہ کھول دے۔ حبّ مال اس کے رگ و پے میں اُترا ہوا ہوتا ہے ساری زندگی چور کے خوف سے اس کا جگر خون ہو ہو کے گھلتا رہتا ہے۔ ایسے آدمی کو ”موت“ کے وقت سب کچھ پتا چل جائے گا۔ صاحبِ مال سمجھے گا کہ وہ تو بالکل مفلس تھا اور صاحبِ فہم و ذکا کو محسوس ہوگا کہ وہ بالکل بے ہنر تھا۔
دنیا پرستوں کو حرص نے اندھا اور بہرا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا پرست حرام و حلال کا لحاظ کئے بغیر دونوں ہاتھوں سے اپنا دوزخ بھرتے رہتے ہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ ان سب کو یہ پتا ہے کہ ایک نہ ایک دن مرنا ضرور ہے، یہ جو ہم دونوں ہاتھوں سے سمیٹ رہے ہیں ان میں سے ایک چیز بھی ہمارے ساتھ نہیں جائے گی اور جس چیز نے ساتھ جانا ہے ​ہمیں اس کا کوئی پتا نہیں۔ اس سرائے میں کئی نسلیں ٹھہریں اور پھر اپنے اصلی وطن کو لوٹ گئیں۔ مگر ان عقل کے اندھوں کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ جہاں عارضی رہنا ہے ہم اس کا بندوبست بڑے اہتمام کے ساتھ کر رہے ہیں اور جہاں دائمی رہنا ہے وہاں کی انہیں کوئی خبر ہی نہیں۔

​درسِ حیات:
انسان کو اخلاقی اقدار کی پاسداری کرنی چاہئے ورنہ مرتے وقت پچھتاوا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

آنسو،،،،،،،،،،،،​ایک کُتا نزع کے عالم میں تھا اور اس کا مالک پاس بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔ فرطِ رنج و غم سے اس کی ہچکی بند...
20/09/2026

آنسو،،،،،،،،،،،،
​ایک کُتا نزع کے عالم میں تھا اور اس کا مالک پاس بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔ فرطِ رنج و غم سے اس کی ہچکی بندھی ہوئی تھی روتا جاتا اور کہتا جاتا کہ ہائے! مجھ پر تو آسمان ٹوٹ پڑا میں مارا گیا۔ کیا کروں کدھر جاؤں کون سا جتن کروں کہ میرے پیارے کتے کی جان بچ جائے۔ غرض اسی طرح اونچی آواز سے روتا اور بین کر رہا تھا۔ ایک فقیر ادھر سے گزر رہا تھا۔ کتے کے مالک کو یوں بے حال دیکھا تو پوچھا کہ بھائی خیر تو ہے؟ یوں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیوں رو رہا ہے؟
​کتے کے مالک نے جواب دیا: ہائے! کیا کہوں کون میری فریاد سننے والا ہے میرا یہ کتا جس پر نزع کا وقت طاری ہے بڑے اوصاف کا مالک ہے ایسا کتا تو چراغ لے کر بھی ڈھونڈوں تو نہ ملے۔ رات بھر میرے مکان کی نگہبانی کرتا ہے کیا مجال کہ کوئی پرندہ بھی ادھر پر مارے۔ کتا کیا اسے شیر کہو شیر، بڑی بڑی روشن آنکھوں والا ہیبت ناک اونچا قد، دوڑنے میں ہرن کو مات کرے، اسے دیکھ کر چوروں اچکوں کی روح فنا ہو جاتی ہے۔ شکار کے تعاقب میں نکلے ہوئے تیر کی طرح جاتا ہے۔ ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ بلا کا قانع، صابر بے غرض اور وفادار بھی۔ فقیر نے بے حد متاثر ہو کر پوچھا: "تیرے کتے کو تکلیف کیا ہے۔ کیا اس کو کوئی مہلک زخم آ گیا ہے......" مالک نے جواب دیا: "بھوک سے اس کا دم ​لبوں پر ہے اور کوئی بیماری نہیں۔ کئی دن ہو گئے اسے کھانے کو کچھ نہیں ملا"۔ فقیر نے کہا: "بھائی اب صبر کرو اس کے سوا اور چارہ ہی کیا ہے خدا کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ اللہ تعالیٰ صبر کا پھل دیتا ہے۔" اتنے میں فقیر کی نظر رونے والے شخص کی پیٹھ پر پڑی جہاں کپڑے میں کوئی چیز بندھی ہوئی لٹک رہی تھی۔ اس نے پوچھا: "میاں! اس کپڑے میں کیا لپٹا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: "یہ کل کے لئے چند روٹیاں اور کھانے پینے کا دوسرا سامان ہے یہ سُن کر مردِ فقیر کو سخت تعجب ہوا۔
​اس شخص نے کہا کہ ظالم کیوں نہیں دیتا کتے کو تُو اپنے توشۂ سفر سے، اس نے جواب دیا کہ اس حد تک اس کی محبت مجھے نہیں ہے کہ اپنی روٹی بھی اسے کھلا دوں، روٹیاں بغیر پیسے کے نہیں ملتیں اور یہ آنسو جو اس کے غم میں گرا رہا ہوں البتہ یہ میرے پاس فالتو اور بے کار ہیں کیونکہ آنسو بہانے پر کچھ خرچ نہیں ہوتا...... سو وہ میں اس کے لئے بہار رہا ہوں۔
​فقیر نے کہا "لعنت ہو تیری اس عقل اور محبت پر۔ تیری مثال تو اس مشک کی سی ہے۔ جس میں ہوا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ خاک پڑے تیرے سر پر تیرے نزدیک روٹی کا ایک ٹکڑا آنسو سے زیادہ قیمتی ہے ارے نامراد! آنسو تو وہ خون ہے جسے غم اور صدمے نے پانی بنا دیا ہے۔
"ارے ظالم‘‘ خون کی قیمت خاک کے برابر کیسے ہو سکتی ہے۔ ارے بدبخت! تُو تو خون کو خاک سے بھی کم سمجھ کر یوں بہائے جا رہا ہے حالانکہ ان کی قیمت پوری کائنات میں کہیں نہیں۔

​درسِ حیات:
اگر تم ضرورت مند کی مدد کرنے کے قابل ہو تو اس سے ہمدردی کے چند بول بولنا کافی نہیں بلکہ تم پر فرض ہے کہ اس کی مدد کرو!

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

مشورہ مفت،،،،،،،،،،،​ایک شخص کافی مدت سے بیمار اور زندگی سے لاچار و بے زار تھا۔ امید کا چراغ لے کر ایک ماہر طبیب کے پاس ...
19/09/2026

مشورہ مفت،،،،،،،،،،،
​ایک شخص کافی مدت سے بیمار اور زندگی سے لاچار و بے زار تھا۔ امید کا چراغ لے کر ایک ماہر طبیب کے پاس گیا اور عرض کرنے لگا: "جناب مجھے کوئی دوا اور بہتر مشورہ دیں تاکہ میں صحت مند ہو جاؤں اور آپ کے لئے صدقہ جاریہ بن جاؤں"۔ طبیب نے اس کے حال و احوال کو غور سے دیکھا پھر اس کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھا۔
​اس کے اندرونی حال سے واقف ہوا کہ اس کے بدن سے جان تو نکل چکی ہے۔ صحت کی امید ذرہ برابر نہیں دوا دارو کر کے مفت میں اس غریب کو اور ہلکان کرتا ہے لہذا طبیب نے مکمل تشخیص کے بعد مشورہ دیا۔ میاں! تم یہ دوا دارو چھوڑ دو اِنہی کی وجہ سے تمہاری صحت برباد ہو رہی ہے۔ جو تمہارے جی میں آئے وہ کرو ہرگز اپنی کسی خواہش سے ہاتھ نہ روکو کیونکہ "صبر اور پرہیز اس مرض کے لئے مضر ہیں"۔ انشاء اللہ آہستہ آہستہ تمہاری تمام بیماریاں جاتی رہیں گی۔ طبیب کی باتیں سُن کر اس کی آنکھوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور اس کی زندگی کا بجھتا ہوا چراغ پھر سے روشن ہو گیا۔ خوش ہو کر اس نے کہا واہ! آپ نے کیا خوب مشورہ دیا ہے آج سے اس مشورے پر دل و جان سے عمل کروں گا۔
​"مطب" سے نکل کر دردِ دل کا مریض ٹہلتا ٹہلتا ایک دریا کے کنارے جا نکلا تاکہ طبیعت بحال ہو جائے، وہاں اسے ایک اس سے بھی زیادہ دل جلا نظر آیا جو دریا کے ​کنارے بیٹھا منہ ہاتھ دھو رہا تھا۔ اس کا گنجا سر دھوپ میں چمک رہا تھا۔ مریض کا بے اختیار جی چاہا کہ اس کے چمکتے ہوئے گنج پر ایک زور دار طمانچہ مارے۔ دل میں سوچنے لگا۔ اس وقت مجھے اپنی خواہش کو روکنا نہیں چاہیے ورنہ میری صحت ٹھیک نہیں ہوگی۔ صبر اور پرہیز میرے لئے ہلاکت ہے اور طبیب کی ہدایت بھی یہی ہے کہ جو جی میں آئے وہ کرو یہ خیال آتے ہی وہ بے تکلف آگے بڑھا اور تراخ سے اس آدمی کی گدی پر طمانچہ دے مارا، اس غریب کا دماغ گھوم گیا۔ تڑپ کر اٹھا اور کہا: اے دیوث! بے ایمان میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے اور ارادہ کیا کہ چانٹا مارنے والے کو دو تین گھونسے اس زور سے لگائے کہ یہ سب کچھ کھایا پیا بھول جائے لیکن اس نے نظر جو اٹھائی تو سامنے ایک نحیف و نزار شخص دیکھا جس کی ایک ایک پسلی نمایاں نظر آرہی تھی۔ اس آدمی نے ہاتھ روک کر دل میں کہا، اگر میں اس کو ایک گھونسا بھی ماروں تو یہ برداشت نہ کر سکے گا اور یہ اسی وقت ملکِ عدم کا راستہ لے گا حالات کے مارے ہوئے کی موت کی ذمہ داری مجھ پر آجائے گی اور پھر مرض الموت نے اس بیچارے کا پہلے ہی کام تمام کر رکھا ہے۔ مرتے ہوئے کو کیا ماروں، لوگ سارا الزام مجھ پر دھریں گے۔ اس نے سوچا خود بدلہ لینا کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے لیکن اسے یوں چھوڑ دینا بھی ٹھیک نہ ہوگا۔ کیونکہ نہ جانے پھر کس کو طمانچہ مارتا پھرے۔ لہذا اس نے ارادہ کیا کہ اس بیمار کو قاضی کی عدالت میں پیش کیا جائے اور وہاں انصاف طلب کرے، اس آدمی نے بیمار کا بازو پکڑا اور قاضی کی عدالت میں لے گیا اور اپنا دعویٰ قاضی کے سامنے پیش کیا. پھر مریض نے اپنی ساری رویداد سنائی، قاضی سارے حالات و واقعات سن کر غور کرنے لگا کہ شریعت کا فیصلہ تو زندہ آدمیوں اور صاحبِ مال کے لئے ہے، نہ کہ قبرستان والوں کے لئے. قاضی نے اس آدمی سے کہا! محترم آپ شرع، حسد، قصاص اور انتقام کی حقیقت کو سمجھتے ہیں. یہ تو قبر کی مانند ہے اگر قبر کی اینٹ تیرے اوپر گر جائے تو قبر سے کیا انتقام لے گا، اس لئے تم ایسے بیمار سے جھگڑا نہ بڑھاؤ.
پھر قاضی اس قبر کے مہمان کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے پوچھا بھائی تمہارے پاس کچھ رقم ہے، اس نے کہا میرے پاس چھ درہم ہیں۔ قاضی نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ تم تین درہم اس آدمی کو دے دو اور تین درہم اپنے پاس خرچے کے لئے رکھ لو. اس آدمی ​نے کہا قاضی صاحب پھر ہر لفنگا اسی طرح ہم جیسے شریف آدمیوں پر زیادتی کرتا رہے گا. قاضی اور اس شریف آدمی کے درمیان تکرار ہو رہی تھی.
ادھر اس بیمار کے دل میں ایک اور خواہش جنم لے رہی تھی۔ اس بھٹکتے ہوئے بیمار کی نظر قاضی صاحب کے گنج پر پڑی کس وقت سے اس کے ہاتھ میں خارش ہو رہی تھی اس کے سر کا چاند اس آدمی کے گنج سے بھی زیادہ چکنا اور صاف تھا۔ اسے وہ گدی، طمانچہ مارنے کے لئے اس آدمی کی گدی سے کہیں زیادہ موزوں لگی. آخر قاضی نے نرمی سے اس آدمی کو کہا تیری بات درست ہے۔ ایسے شخص کو ضرور سزا ملنی چاہیے لیکن یہ تو دیکھ وہ بیچارہ زندگی کے آخری دن پورے کر رہا ہے۔ خون کا ایک قطرہ اس کے بدن میں نہیں ہے۔ بجائے سزا کے یہ تو ہمدردی اور رحم کے لائق ہے.
اس بیمار کو آخر دل کی بات مانی پڑی اور دوسرا اس نے دل میں سوچا کہ طمانچہ کا معاوضہ تین درہم سستا ہے وہ راز کی بات کہنے کی غرض سے قاضی کے قریب ہوا اور ایک زور دار طمانچہ قاضی کی گدی پر رسید کر دیا اور کہنے لگا تم دونوں یہ پورے چھ درہم لے لو اور میں اس کیس سے فارغ ہوا مجھے تو اس قصے سے رہائی دو. وہ یہ کہہ کر چل دیا۔ قاضی کو جب ہوش آیا تو اس آدمی نے کہا اے انصاف کے بادشاہ! آپ نے دوسرے کے لئے پسند کیا وہی آپ کو ملا. آپ کی مثال تو اس بکری کی طرح ہے جس نے بھیڑیے کے بچے کو دودھ پلایا.
قاضی نے کہا! کہ ہر وہ چیز جو قضا لے کر آئے اس میں ہماری تسلیم و رضا ضروری ہے, میں اللہ کے حکم سے باطن میں خوش ہوں اگر چہ میرے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے ہیں، میرا دل باغ اور آنکھیں ابر کی مانند ہیں کیونکہ ابر کے رونے سے باغ ہنستا ہے. قدرت الہیہ کے ہاتھ سے کسی کو زہر ملتا ہے اور کسی کو امرت، کسی کو غم اور کسی کو خوشی. انہی متضاد کیفیتوں میں چاہنے والوں کی بہتری اور اصلاح کا راز پوشیدہ ہوتا ہے.

​درسِ حیات:
اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے تسلیم و رضا سے اسے منجانب اللہ سمجھ کر اس پر صبر و شکر سے کام لینا چاہیے.

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سےخدا کا پاکستانی چینلتصوف کی دنیا Khuda Ka...
19/09/2026

"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tasawuf Ki Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share