Tasawuf Ki Dunya

Tasawuf Ki Dunya God is Love. Love is God.

22/08/2026
چوروں کا گروہ،،،،،،،​سلطان محمود غزنوی اکثر رات کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حال احوال سے باخبر رہتا اور ان کی تکالیف دُ...
21/08/2026

چوروں کا گروہ،،،،،،،
​سلطان محمود غزنوی اکثر رات کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حال احوال سے باخبر رہتا اور ان کی تکالیف دُور کرتا۔ ایک رات حسبِ عادت رعایا کا حال معلوم کرنے کے لیے بادشاہ سلامت بھیس بدل کر محل سے نکلے۔ گشت کرتے ہوئے ایک ویرانے سے گزرے۔ وہاں چند آدمی بیٹھے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے۔ سلطان بھی ان کے قریب جا بیٹھا دعا سلام کے بعد پوچھا تم لوگ کون ہو اور رات گئے یہاں کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہم چور ہیں اور اب یہ بتاؤ تم کون ہو؟ سلطان نے کہا: ”بس میں بھی تمہی میں سے ہوں۔“ یہ سُن کر وہ خوش ہوئے اور خوش آمدید کہا۔ وہ آپس میں اپنے اپنے ہنر اور کمال کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ پہلے نے کہا: ”میرے کانوں میں یہ کمال حاصل ہے کہ رات کو جب کُتا بھونکتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“ سب نے سُن کر کہا: ”بھئی واہ! یہ تو بڑے کمال کی بات ہے۔“ دوسرا کہنے لگا: ”اے مال و زر کے پجاریو! میری آنکھوں میں یہ خوبی ہے کہ رات کو کیسا ہی کیوں نہ گھپ اندھیرا ہو میں جس کسی کو اس اندھیرے میں ایک مرتبہ دیکھ لوں دن کی روشنی میں دیکھتے ہی پہچان لیتا ہوں۔“ تیسرے نے کہا: ”میرے بازو میں اتنی قوت ہے کہ مضبوط سے مضبوط دیوار میں نقیب لگا لیتا ہوں۔“ چوتھے نے کہا: ”میں سونگھ کر بتا دیتا ہوں کہ خزانہ کس جگہ دبا ہوا ہے۔“ پانچواں کہنے لگا: ”میرے پنجے میں وہ زور ​ہے کہ اونچی سے اونچی جگہ پر کمند پھینک سکتا ہوں“۔
​پھر انہوں نے سلطان کی طرف دیکھ کر کہا: ”ہاں بھائی اب تُو بھی بتا تجھ میں کیا کمال ہے۔“ سلطان نے جواب دیا: ”یارو میرا کیا پوچھتے ہو۔ اللہ کی مہربانی سے میری داڑھی میں ایک خاص وصف ہے۔ وہ مجرموں کو قید سے رہا کرا دیتی ہے۔ یا جن کو قتل کی سزا ہو جائے اس وقت اگر میں داڑھی ہلا دوں تو انھیں با عزت رہا کر دیا جاتا ہے۔“
​ان عقل کے اندھوں نے یہ سُن کر خوشی سے نعرہ لگایا: ”تیرا کمال تو سب سے بڑا ہے آج سے تُو ہمارا سردار ہے۔ اب ہمیں کسی پریشانی کا خوف نہیں۔“ اس کے بعد چوری کا پروگرام طے کیا اور پھر چل پڑے۔ بادشاہ کے محل کی جانب نکلے کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ جو چور کتوں کی بولی سمجھنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ ہراساں ہو کر دبی زبان میں بولا غضب ہو گیا۔ ”یہ کُتا کہہ رہا ہے کہ بادشاہ تمہارے دائیں بائیں ہی موجود ہے۔“ یہ سُن کر دوسرے چور ہنس پڑے اور بولے ”ابے! تجھے کیا ہو گیا ہے۔ بادشاہ کا یہاں کیا کام۔ وہ اس وقت محل میں اپنے آرام دہ بستر پر خراٹے لے رہا ہو گا۔“ اتنے میں دوسرے چور نے کہا: ”دوستو!
شاہی خزانہ قریب ہی آ گیا ہے اور بس اب تم اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرو۔“ کمند پھینکنے والے نے محل کی چھت پر کمند پھینکی پھر وہ سب آہستہ آہستہ کمند کے ذریعے محل کی چھت پر جا پہنچے نقیب زن نے نقیب لگائی اور اس کمرے میں ساتھیوں کو لے گیا۔ جہاں شاہی خزانہ موجود تھا۔ جس کے جو ہاتھ لگا۔ جی بھر کر سمیٹا۔ اشرفیاں ہیرے جواہر سونے چاندی کے برتن وہاں سے نکال کر سارا مال ایک محفوظ جگہ پر چھپا دیا اور خود اپنی جائے پناہ میں جا کر بیٹھ گئے۔ سلطان موقع پا کر وہاں سے کھسک آیا دوسرے دن بادشاہ نے سپاہیوں کو اس جائے پناہ کا پتہ دے کر چوروں کی گرفتاری کا حکم دیا۔ سپاہی دوڑے گئے اور سب چوروں کو آناً فاناً گرفتار کر لیا۔ جب انہیں بادشاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو موت کے خوف سے چہرے زرد اور بدن خشک تنکے کی طرح کانپ رہے تھے۔ ان میں سے وہ آدمی جو رات کی تاریکی میں کسی کو دیکھ کر دن میں پہچان لینے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس کی نظر جونہی سلطان کے چہرے پر پڑی تو اس نے ہاتھ باندھ کر عرض کی ”ہم سب تو اپنا اپنا کمال دکھا چکے ہم میں سے کسی کا فن ہماری جان بچانے کے کام نہ آیا۔ بے شک ہمارا ہر کمال بدبختی اور آفت ہی ​ڈھاتا رہا۔ یہاں تک کہ ہمارے ہاتھ اور پاؤں بندھ گئے۔ جلاد ہماری گردنیں اڑا دینے کے لیے کھڑا ہے۔ ہمارے ہنر ہمیں موت کے پنجے سے نہیں چھڑا سکتے۔ اے ہمارے رات کے ساتھی اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے فن کا مظاہرہ کریں۔ اب آپ اپنی داڑھی ہلائیں تا کہ ہماری جان بچ جائے۔“ سلطان محمود کو اس کی باتیں سُن کر رحم آ گیا۔ اس نے اپنی گردن ہلا کر حکم دیا کہ ان کو رہا کر دیا جائے۔

​درسِ حیات:
اچھا ہنر مصیبت میں کام آتا ہے جبکہ برا ہنر ایسے وقت کھجور کی بٹی ہوئی رسی کی مانند ثابت ہوتا ہے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

ایاز کی فراست،،،،،،،​آدمی کی خوبیاں ہی بعض اوقات اس کی دشمن بن جاتی ہیں۔ ایاز کی ذہانت، دیانت و امانت اور اپنے آقا کے سا...
20/08/2026

ایاز کی فراست،،،،،،،
​آدمی کی خوبیاں ہی بعض اوقات اس کی دشمن بن جاتی ہیں۔ ایاز کی ذہانت، دیانت و امانت اور اپنے آقا کے ساتھ وابستگی، کامل فرمانبرداری ایسے اعمال تھے جنہوں نے تمام ارکانِ دولت کو اس کا دشمن بنا دیا تھا۔ ایاز کے خلاف ان کے دلوں میں کدورت، بغض اور حسد کا مادہ روز بروز بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اُدھر سلطان کا لطف و کرم اور جود و سخا ایاز کے حق میں بڑھ رہا تھا۔ ایک دن بد باطن امراء نے بادشاہ سے عرض کی کہ ہم غلاموں کی ناقص عقل میں یہ بات نہیں آرہی کہ آپ ایک معمولی غلام ایاز کی عقل و بصیرت پر کیوں کر یقین رکھتے ہیں۔
​سلطان نے اس وقت کوئی جواب نہ دیا اور مسلسل اس معاملے میں خاموش رہا۔ چند دنوں بعد دربار کے ان حاسد امراء کو ساتھ لے کر جنگل اور پہاڑوں کی طرف نکلا۔ کوسوں میل دُور ایک قافلہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ سلطان نے ایک امیر کو حکم دیا گھوڑے پر تیزی سے جاؤ اور قافلے والوں سے پوچھو کہ کہاں سے آئے ہو؟ وہ امیر سلطان کے حکم کی تعمیل میں گیا اور کچھ دیر بعد واپس آ کر بتایا کہ قافلہ شہر ”رے“ سے آیا ہے۔ سلطان نے پوچھا قافلے والوں کی منزل مقصود کیا ہے؟ اس کا جواب امیر نہ دے سکا۔ سلطان نے ​دوسرے امیر سے کہا۔ ”اب تم جاؤ اور پوچھو کہ کارواں کدھر جائے گا۔؟ دوسرا امیر جواب لایا کہ ان کا ارادہ یمن کا ہے۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا ان کا ساز و سامان کیا ہے۔ اس بات کا جواب وہ نہ دے سکا۔ وزیر حیران ہوا کہ یہ تو اس نے معلوم ہی نہیں کیا۔ بادشاہ نے ایک اور امیر کو بھیجا اور حکم دیا کہ دریافت کر کے آؤ کہ ان کے پاس کیا سامان ہے؟ اس نے واپس آ کر کہا کہ ان کا سامان ”رے“ کے برتن ہیں۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا وہ قافلہ ”رے“ شہر سے کب نکلا تھا؟ وہ امیر اس سوال کا جواب دینے سے عاجز رہا۔ بادشاہ نے ایک اور وزیر کو بھیجا تا کہ وہ معلوم کرے کہ انہوں نے سفر کب شروع کیا۔؟ اس نے واپس آکر بتایا کہ ساتویں رجب کو یہ قافلہ ”رے“ سے روانہ ہوا۔ اور ساتھ ہی بادشاہ نے یہ بھی پوچھا کہ ”رے“ شہر میں اشیاء کا بھاؤ کیا ہے۔ وہ سلطان کے سوال کا جواب دینے سے عاجز رہا۔ اسی طرح بادشاہ نے تیس سرداروں کو بھیجا اور ایک ایک سوال دریافت کیا ان میں سے ہر ایک نے اسی ایک ہی سوال کا جواب معلوم کیا اور واپس آ گیا۔
​غرض سب امیر ناقص العقل اور پریشان ذہن ثابت ہوئے قافلے والوں کا پورا حال کسی نے جاننے کی زحمت گوارا نہ کی۔ اس مشاہدے کے بعد سلطان نے ان بد باطن امراء سے کہا تم لوگ ایاز پر اعتراض کرتے ہو کہ وہ اتنا منظورِ نظر کیوں ہے۔ سلطان نے ان پر ایک معنی خیز نظر ڈالی اور کہا میں تم سے پہلے ایاز کا امتحان لے چکا ہوں میں نے اس کو یہ دریافت کرنے کیلئے بھیجا کہ قافلہ کہاں سے آیا ہے۔ وہ گیا اور قافلے کا سارا حال دریافت کر کے واپس آیا میں نے اس سے جو سوال کیا اس نے تسلی بخش جواب دیا جو معلومات تم تیسں آدمیوں نے تیسں پھیروں میں فراہم کیں۔ اب تمھیں پتا چل گیا کہ میں اس کی اتنی قدر کیوں کرتا ہوں۔ یہ سُن کر سب امیروں کے چہرے شرم سے پانی پانی ہو گئے۔ انہوں نے اپنی گستاخی کی معافی چاہتے ہوئے کہا کہ بے شک ہم ایاز کی برابری نہیں کر سکتے۔
​ایاز کی فراست، قابلیت، ذہانت دادِ خدا دادی تھی۔

​درسِ حیات:
حسد ایک بیماری ہے اس سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

سحرِ عشق،،،،،،،،​سلطان محمود غزنوی کے محبوب وزیر ایاز نے اپنے پرانے کپڑے اور جوتے ایک کمرے میں رکھے ہوئے تھے۔ وہ روزانہ ...
19/08/2026

سحرِ عشق،،،،،،،،
​سلطان محمود غزنوی کے محبوب وزیر ایاز نے اپنے پرانے کپڑے اور جوتے ایک کمرے میں رکھے ہوئے تھے۔ وہ روزانہ اس کمرے میں جاتا، اور اپنے پرانے کپڑوں اور جوتوں کو دیکھ کر کہتا ”اے ایاز“......
​......”قدر خود بشناس“ اے ایاز اپنی قدر پہچان، بادشاہ کی خدمت میں آنے سے پہلے تیری یہ اوقات تھی۔ پیوند لگے ہوئے یہ کپڑے اور جوتے تُو پہنتا تھا۔ اپنے موجودہ مرتبے پر نازاں ہو کر اپنی اصل کو نہ بھول جانا۔
​دیکھنے والے بھی قیامت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا روزانہ اس کوٹھڑی میں جانا بھلا کب تک پوشیدہ رہ سکتا تھا۔ دوسرے امراء و وزراء اس سے حسد کرتے تھے۔ انہوں نے محمود کے دل میں شبہ ڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ ایاز نے ایک کمرہ زبردست تالوں سے بند کر رکھا ہے۔ کسی کو اس کے اندر جانے نہیں دیتا اور نہ ہی کسی کو بتاتا ہے کہ اس میں کیا بند ہے...... ہو سکتا ہے شاہی خزانے سے بیش بہا جواہر چرا چرا کر اس میں رکھتا ہو۔ اس کے کمرے کی تلاشی لی جائے۔ اس کی وفاداری کا بھرم کھل جائے گا...... بادشاہ ایاز کی وفاداری اور پاکبازی پر پورا یقین رکھتا تھا۔ بادشاہ نے کہا مجھے اس غلام پر حیرت ہے اور حکم دے دیا کہ اس کمرے کے قفل کھولے جائیں اور جتنا مال و دولت اس نے ذخیرہ کیا ہوا ہے اس کے ​متعلق مجھے آگاہ کیا جائے۔
​”ایسے گندم نما جو فروش کا پردہ ضرور چاک کرنا چاہیے“۔ بادشاہ کا حکم پاتے ہی حاسدین نے قفل توڑ ڈالا اور یوں اندر گھسے جیسے چھاچھ سے بھرے ہوئے گہرے برتن میں مکھی مچھر گھس جاتے ہیں۔ انہوں نے کوٹھڑی کا گوشہ گوشہ چپہ چپہ چھان مارا سوائے بوسیدہ کپڑوں اور جوتوں کے کچھ نہ ملا۔ آپس میں کہنے لگے ایاز بہت چالاک ہے ضرور اس نے زر و جواہر دفن کر رکھے ہوں گے۔ انہوں نے کدالیں اور پھاوڑے لے کر سارے کمرے کا فرش کھود ڈالا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔ پھر جھنجھلا کر کوٹھڑی کی دیواریں توڑنے لگے شاید وہ خزانہ اینٹوں کے اندر چھپا ہوا ہو۔ ہر اینٹ سے لاحول کی آواز آنے لگی۔ آخر ندامت اور پشیمانی کا پسینہ ان کی پیشانیوں سے بہہ بہہ کر چہرے پر آنے لگا۔ ان کی گمراہیوں اور بے ہودگیوں کا ثبوت وہ گڑھے اور ٹوٹی ہوئی دیواریں تھیں۔ جنہیں ان حاسدین نے حسد کی آگ میں اندھے ہو کر گرایا تھا۔ اس بے ہودہ کارروائی کے بعد انہیں یہ خوف دامن گیر ہوا کہ...... بادشاہ کو کیا جواب دیں گے۔ آخر کار اپنی جان سے مایوس ہو کر روتے اور چہروں پر گرد و غبار ملتے، بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بادشاہ نے پوچھا: ”تم نے یہ کیا حال بنا رکھا ہے اور وہ مال و دولت کہاں ہے جو تم ایاز کے کمرے سے لوٹ کر لائے ہو۔ تمہاری ​صورتوں پر وحشت کیوں برس رہی ہے اور تمہارے رخساروں کا خون کون چرا کر لے گیا ہے۔“ بادشاہ کے ان کلمات کی تاب نہ لا کر سب کے سب حاسد بادشاہ کے قدموں میں گر پڑے۔ ان میں اتنی ہمت نہ رہی کہ بادشاہ کے رُوبرو کھڑے رہتے سلطان نے ارشاد فرمایا: ”میں نہ تمہیں چھوڑوں گا نہ سزا دوں گا۔ یہ معاملہ ایاز کی صوابدید پر ہے۔ کیونکہ تم اس کی آبرو سے کھیلے ہو۔ گہرے گھاؤ اسی نیک دل کی رُوح پر لگے ہیں۔“ سلطان محمود نے ایاز کو طلب کر کے فرمایا: ”اے نیک بخت تُو اس امتحان میں سُرخرو نکلا۔ یہ مجرم تیرے ہیں اور تجھے پورا اختیار ہے۔ انہیں جو چاہے سزا دے۔“
​ایاز عرض کرنے لگا: ”اے بادشاہ حکمرانی تجھی کو ہی زیبا ہے۔ جب آفتاب اپنا رُخِ روشن دکھاتا ہے تب ستارے نابود ہو جاتے ہیں۔“ سلطان محمود بادشاہ کہنے لگا: ”یہ تو بتاؤ تم ہر روز اس کمرے میں اکیلے داخل ہو کر کیا کرتے ہو۔ اس بھید سے ہمیں بھی تو آگاہ کر۔ ​
تجھے ان پرانے کپڑوں اور بوسیدہ جوتوں سے کیا وابستگی ہے تم کیوں ان کے سحرِ عشق میں گرفتار ہو۔ انہیں مخاطب کر کے باتیں کرتے ہو۔ انہیں کوٹھڑی میں چھپا رکھا ہے۔ کیا وہ قمیص حضرت یوسف علیہ السلام کا پیراہن ہے؟ اور وہ جوتے کس عظیم ہستی کے ہیں؟ جنہیں تُو چھاتی سے لگاتا ہے۔ یہ کیا جنوں اور حماقت ہے۔ یہ تو نہایت ادنیٰ قسم کی بت پرستی معلوم ہوتی ہے۔“
​ایاز کی آنکھوں سے موتیوں کی لڑی جاری تھی، عرض کرنے لگا۔ ”اے شاہِ ذی جاہ! میرا موجودہ مرتبہ آپ ہی کے لطف و کرم کا مرہونِ منت ہے ورنہ میں تو حقیقت میں ایک مسکین اور بے نوا آدمی ہوں اور یہی پرانے کپڑے اور جوتے پہننے کے لائق ہوں۔’یہ میری غربت کے دنوں کی یادگار ہیں"۔ ان کی حفاظت کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ اپنے بلند منصب اور شان پر مغرور ہو کر کہیں اپنی حقیقت کو نہ بھول جاؤں۔ اصل میں میں ان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اپنی اصلی ذات کی حفاظت کرتا ہوں۔“

​درسِ حیات:
انسان کو ہر دم اپنی حقیقت سے آگاہ رہنا چاہیے۔ ورنہ بعض لوگ اپنی حقیقت کو فراموش کر کے خدا بننے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ خسارے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

خوشنما اور قیمتی موتی،،،،،،،،​دربارِ شاہی لگا ہوا تھا۔ سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے۔​تمام وزراء اور امراء...
18/08/2026

خوشنما اور قیمتی موتی،،،،،،،،
​دربارِ شاہی لگا ہوا تھا۔ سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے۔
​تمام وزراء اور امراء حاضرِ خدمت ہیں بادشاہ سلامت کے ہاتھ میں ایک موتی تھا۔
​اس نے وہ ہیرا وزیرِ دربار کو دکھا کر پوچھا: ”اس موتی کی کیا قیمت ہوگی؟“ وزیر نے اچھی طرح دیکھ بھال کر عرض کی حضور نہایت قیمتی چیز ہے۔ غلام کی رائے میں ایک من سونے کے برابر اس کی مالیت ہوگی۔”بہت خوب“! ہمارا اندازہ بھی یہی تھا۔ سلطان نے حکم دیا، اسے توڑ ڈالو۔ وزیرِ دربار نے حیرت سے سلطان کی طرف دیکھا اور ہاتھ باندھ کر بولا ”جہاں پناہ اس موتی کو کیسے توڑ دوں میں تو حضور کے مال و منال کا نگراں اور خیر خواہ ہوں۔“
​سلطان نے کہا: ”ہم آپ کی اس خیر خواہی سے خوش ہوئے......“ تھوڑی دیر بعد سلطان نے وہی موتی نائب وزیر کو دیا اور اس کی قیمت دریافت کی، وزیر نے عرض کیا۔ ”حضور عاجز ہوں اس کی قیمت کا اندازہ کرنے سے“۔ حکم دیا ”اچھا!!!! اسے توڑ دو“۔ وہ عرض کرنے لگا ”قبلہ عالم!! ایسے بیش بہا قیمتی موتی کو کیوں توڑوانا چاہتے ہیں۔ جس کا ثانی ملنا محال ہے۔ ذرا اس کی آب و تاب اور چمک دمک تو ملاحظہ فرمایئے، سورج کی روشنی اس کے سامنے ماند پڑ رہی ہے۔”میں شاہی خزانے کا نگہبان ہوں اسے توڑنے کی کیسے جرأت ​کر سکتا ہوں۔ سلطان نے اس کی...... فہم و فراست کی تعریف فرمائی۔“
​پھر چند لمحوں...... کے بعد وہی موتی امیر الامراء کو دیا اور کہا: ”اسے توڑ ڈالیے۔“ اس نے بھی عذر پیش کر کے توڑنے سے معذرت کر لی۔ بادشاہ نے سب کو انعام و اکرام دیا اور ان کی وفا شعاری اور اخلاص کی تعریف کی، بادشاہ جوں جوں درباریوں کی تعریف کر کے ان کا مرتبہ بڑھاتا گیا۔ توں توں وہ ادنیٰ درجے کے لوگ صراطِ مستقیم سے بھٹک کر اندھے کنویں میں گرتے گئے۔ وزیرِ دربار کی دیکھا دیکھی امیروں اور وزیروں نے ظاہر کیا کہ وہ دولتِ شاہی کے وفادار اور نگراں ہیں۔ ​
”آزمائش اور امتحان کے لمحوں میں تقلید کرنے والا ذلیل وخوار ہوتا ہے۔“ سلطان نے تمام درباریوں اور خیر خواہانِ دولت کی آزمائش کر لی۔ آخر میں سلطان نے وہ موتی ایاز کو دیا اور فرمایا:
​”اے نگہ باز! اب تیری باری ہے بتا اس موتی کی کیا قیمت ہوگی۔
​ایاز نے عرض کیا اے آقا! میرے ہر قیاس سے اس کی قیمت زیادہ ہے۔ ”اچھا ہمارا حکم ہے تُو اسے توڑ دے ایاز نے فوراً اس ہیرے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
​وہ غلام آقا کے طریقِ امتحان سے آگاہ تھا۔ اس لئے کسی دھوکے میں نہ آیا۔ موتی کا ٹوٹنا تھا کہ سب درباری کیا امیر کیا وزیر بُری طرح چلّا اُٹھے ارے بے وقوف تیری یہ جرأت کہ ایسا نادر و نایاب موتی توڑ ڈالا ذرا خیال نہ کیا کہ کس قدر نقصان کیا ہے۔ ان کا واویلا سن کر ایاز نے کہا:
​”اے صاحبو! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ موتی کی قیمت زیادہ ہے یا حکمِ شاہی کی؟ تمہاری نگاہ میں سلطانی فرمان زیادہ وقعت رکھتا ہے یا یہ حقیر موتی، تم نے ہیرے کو دیکھا اس کی قیمت اور چمک کو دیکھا مگر اس حکم دینے والے کو نہ دیکھا۔ وہ روحِ ناپاک اور بد خصلت ہے جو ایک حقیر پتھر کو نگاہ میں رکھے اور فرمانِ شاہی کو نظر انداز کر دے۔“ جب ایاز نے یہ بھید سرِعام کھولا تب تمام ارکانِ دولت و منصب کی آنکھیں کھلیں۔ ندامت اور ذلت سے یہ حال تھا کہ کسی کی گردن اوپر نہیں اٹھتی تھی۔...... سلطان کے سامنے یہ عذر پیش کرنا چاہا کہ وہ خیر خواہیِ مال میں شاہی فرمان کی اہمیت کو بھول گئے تھے۔
​سلطان نے کہا:
​معمولی پتھر کے مقابلے میں تم میرا حکم توڑنا زیادہ ضروری سمجھتے ہو۔ یہ کہہ کر شاہی جلاد کو حکم صادر کر دیا کہ ان سب نافرمانوں کی گردنیں اڑا دو۔ ارکانِ دولت خوف سے تھر تھر کانپنے لگے۔
​ایاز کو ان کی بے بسی پر رحم آیا، ہاتھ باندھ کر سلطان سے عرض کرنے لگا۔ ”اے آقا! اور اے معاف کر دینے والے، ان بدبختوں کی غفلت اور نادانی کا سبب محض تیرا کرم اور صفتِ عفو کی زیادتی ہے۔ آپ کی ناراضگی ان کے لیے سو موتیوں سے بھی بدتر ہے۔ تیری مہربانیاں ہم پر غالب ہیں اور ہم ان کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں میری کیا حیثیت اور کیا حقیقت مگر اتنا عرض کرتا ہوں کہ ان مجرموں کے سر بھی تیری ہی دیوار سے لگے ہیں۔ بے شک یہ بازی ہار گئے، مگر اتنا تو ہوا کہ اپنی خطا اور اپنے جرم سے آگاہ ہوئے۔ اس لئے انہیں معاف کر دے“۔ بادشاہ نے ایاز کی سفارش قبول کی اور سب کو معاف کر دیا۔

​درسِ حیات:
ایاز مزاجِ شاہی کا رمز شناس تھا۔ اس نے ہیرے کی ظاہری چمک دمک سے آگے دیکھا اور حکمِ شاہی کو ہیرے پر ترجیح دی اسی سبب سے وہ مقرب ٹھہرا۔ وزراء اور امراء نے ہیرے کی چمک دمک دیکھی وہ اس میں کھو گئے اور حکمِ شاہی کو نظر انداز کر دیا۔
انسان غفلت اور گمراہی میں پڑ کر صناعِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے جس کا نتیجہ ذلت و خواری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

دائمی زندگی،،،،،،،،،،،،​ایک دانا و بینا شخص نے بطورِ تمثیل کہا کہ برِصغیر کے علاقے میں ایک ایسا درخت ہے، جس کے سائے کا پ...
17/08/2026

دائمی زندگی،،،،،،،،،،،،
​ایک دانا و بینا شخص نے بطورِ تمثیل کہا کہ برِصغیر کے علاقے میں ایک ایسا درخت ہے، جس کے سائے کا پھیلاؤ کئی کوس تک ہے...... اس کی جڑ پاتال کی خبر لاتی ہے اور اونچائی آسمان تک پہنچتی ہے۔ اس سے مخلوقِ خدا فائدہ اٹھاتی رہتی ہے۔ اس کے پتوں کے متعلق لوگوں کا یقین ہے کہ وہ نہایت ہی تلخ ہوتے ہیں۔ مگر جس شخص کو قسمت سے کوئی پتہ ہاتھ لگ جائے اور وہ اس پتے کو کھالے تو اسے حیاتِ ابدی نصیب ہو جاتی ہے۔
​اس درخت کے نیچے مردانِ خدا سالہا سال جھولیاں پھیلائے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کب کوئی پتہ جھڑے اور ان کے ہاتھ آئے...... یہ حکایت ایک بادشاہ نے سنی اور جی میں کہا کہ اگر اس شجر کا میوہ ملے تو کیا کہنے...... بادشاہ نے اپنے مصاحبوں اور وزیروں سے اپنی اس خواہش کا ذکر کیا۔ سب نے ہاں میں ہاں ملائی۔
​الغرض بادشاہ نے برِصغیرِ پاک و ہند میں اپنے ایک ہوشیار آدمی کو اس درخت کے پھل کے لئے روانہ کر دیا۔ وہ بے چارہ مدتوں جنگل جنگل صحرا صحرا مارا مارا پھرتا رہا، لیکن گوہرِ مقصود ہاتھ نہ آیا۔ جس کسی سے ایسے درخت اور پھل کا پوچھتا وہ اس کا مذاق اڑاتا، کیوں در بدر خاک چھان رہے ہو، ٹھنڈے ٹھنڈے جدھر سے آئے ہو ادھر کو لوٹ جاؤ۔ وہ آدمی تھا، من کا پکا، ارادے میں خم نہ آنے دیا اور برابر کوہ و دشت کی خاک چھاننے لگا۔ جب برسہا برس گزر چکے پورے ہندوستان کے گوشے گوشے، چپے چپے میں پھر چکا، بقائے دوام کے شجر کا کہیں نشان نہ ملا۔ اس قدر محنت اور تکلیف اکارت جانے سے اس کے رنج و غم کی کوئی ​انتہا نہ تھی۔ بدقسمتی پر آنسو بہانے لگا۔ بے چارہ قاصد مایوس ہو گیا اور بصد حسرت و یاس وطن کو واپس چل پڑا۔
​"سچ کہتے ہیں کہ کسی کی محنت رایگاں نہیں جاتی" چلتے چلتے اس کا گزر ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں ایک خدا رسیدہ بزرگ رہتے تھے۔ ان کے علم و فضل اور کشف و کرامات کی بڑی شہرت تھی۔ قاصد نے دل میں سوچا مجھے اس بزرگ کی خدمت میں جانا چاہیے۔ ممکن ہے شیخ کی نگاہِ التفات سے بگڑا کام بن جائے اور مایوسی راحت میں بدل جائے۔ یہ سوچ کر چشمِ پُر آب لے کر شیخ کے پاس حاضر ہوا۔ ان کی نورانی صورت دیکھتے ہی اپنے آپ پر اختیار نہ رہا ضبط کا دامن ہاتھ سے نکل گیا اور روتا ہوا ان کے قدموں میں جا گرا۔ اس قدر آنسو بہائے کہ سارا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ شیخ نے اٹھا کر شفقت سے گلے لگایا اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟ پریشانی کا سبب کیا ہے۔“ اس نے عرض کیا: ”جس کام کے لئے برسوں پہلے وطن سے نکلا تھا۔ وہ کام نہیں ہوا۔۔ اب سوچتا ہوں واپس جا کر بادشاہ کو کیا جواب دوں گا۔ بادشاہ نے مجھے بقائے دوام کے شجر کی تلاش میں یہاں بھیجا تھا۔ میں نے اس کی جستجو میں اس ملک کا چپہ چپہ چھان مارا مگر "ناکامی اور مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔“
​شیخ نے سُن کر کہا: ”سبحان اللہ! بھائی تُو نے بھی سادہ لوحی کی حد کر دی، ارے اتنا وقت خواہ مخواہ ضائع کیا۔ تم لوگوں نے اصل بات کو نہیں سمجھا۔ لفظوں کو لے لیا معنی پر غور نہیں کیا...... وہ شجر علم و ہنر ہے، جس کا ثمر حیاتِ جاوداں کا اثر رکھتا ہے اور اس درخت کا پتہ، معرفتِ خداوندی ہے، جس کو علم حاصل کر کے خدا کی معرفت مل جائے وہ زندۂ جاوید ہو جاتا ہے اور اسے ہی دائمی زندگی کہتے ہیں۔“

​درسِ حیات:
اے عزیز! صرف الفاظ پر غور نہ کر معنی کے اندر غوطہ لگا۔ صورت کے پیچھے مت بھاگ سیرت دیکھ ظاہر پر نہ جا باطن دیکھ صفت پر نظر رکھ تاکہ تجھے ذات (اللّٰہ) کی طرف لے جائے...... یہ نام ہی کا جھگڑا ہے جس نے مخلوق کے اندر اختلاف کی گرہیں ڈال دی ہیں جہاں معنی پر نگاہ کی جاتی ہے وہاں اختلاف نہیں رہتا۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایتِ رومیؒ
"اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا" (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tasawuf Ki Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share