01/09/2023
اصل کی طرف مراجعت-
عربی کا مقولہ ہے : ''کُلُّ شَیئٍ یَرْجِعُ اِلیٰ اَصْلِہٖ‘‘
یعنی ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے ۔
سر سید احمد خان نے محسوس کر لیا تھا کہ مسلمان جب تک انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے ترقی کے مواقع حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لٸے انہوں نے مسلمانوں کو اس راہ پر ڈالا۔
آزادی کے لٸے ہمارا نعرہ تھا " پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ“۔
بالآخر آزادی حاصل ہو گٸ لیکن ” لاالہ الا اللہ کا مطلب کیا؟“ ہم بھول گٸے۔ چاہٸے تو تھا کہ مقصد حاصل ہوتے ہی ہم اپنے اصل کی طرف لوٹتے۔ مگر آج 76 سال ہو کٸے ہیں انگریز کو گٸے ہٶے۔ ہم اُسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔
یہاں ایک حقیقی واقعہ یاد آیا:۔
ہمارے ایک ڈراٸیور نے بتایا کہ جس زمانے میں لاہور راولپنڈی کے درمیان نقل و حمل صرف سٍنگل جی ٹی روڈ پر ہی ہوتی تھی۔ بار برداری بیل گاڑیوں کے ذریٸے عموماً رات کے وقت ہوتی تھی۔ وہ کہتا ہے ” ایک رات میں جی ٹی روڈ پر کسی ڈیوٹی کے سلسلے میں گاڑی چلا رہا تھا۔ راستے میں سامان سے لدی ہوٸی بیل گاڑیوں کی لمبی قطار سے واسطہ پڑ گیا۔گاڑی بان لدے ہوے سامان کے اُوپر سو رہے تھے۔ جبکہ سب سے آگے والے بیل روزمرہ کے راستے سے واقف ہونے کی وجہ سے اپنے راستے پر خود بخور چل رہے تھے اور باقی بیل ان کے پیچھے پیچھے رواں دواں تھے۔ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کی وجہ سے بیل گاڑیوں سے آگےنکلنے میں کافی دیر لگ گٸ۔ جیسے ہی میں آگے نکلا، آگے سرائے عالمگیر والی نہر تھی, اپنا غصہ نکالنے کے لٸے میں نے اگلی بیل گڑی کے بیلو ں کی نتھ پکڑ کر انہیں نہر کے ساتھ سڑک پر ڈال دیا۔ جیسے ہی اکلی بیل گاڑی نہر کنارے چلنا شروع ہوٸی باقی بیل بھی اُس کے پیچھے نہر کے ساتھ مڑتے گۓ۔ اس طرح وہ پوری لاٸن نہر کی پٹری پر چل پڑی“۔
جب کہیں چھکڑا سواروں کی آنکھ کھلی ہو گی تو اصل منزل کی طرف لوٹے ہوں گے۔ آنکھ کھلنے میں جتنی دیر ہوٸی ہوگی اُتنی مسافت لمبی ہو گٸی ہو گی۔
ہمیں بھی اب آنکھیں کھول لینی چاہیں اور اپنے اصل کی طرف مراجعت کرنی چاہٸے-
ہمار اصل ’’لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ ‘‘ ہی ہے۔
اسلامی حکومت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام قانون سازی صرف اور صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات تک محدود ہو گی اور اس معاملے میں اسلام کے علاوہ کسی اور آئیڈیالوجی کی طرف رجوع نہیں کیا جائے گا۔لہٰذا ایک اسلامی حکومت میں تمام ریاستی معاملات بشمول عدلیہ، اقتصادیات، معاشرت، حکومت، داخلہ و خارجہ پالیسی، تعلیم، صنعت، صحت، فوج، بیت المال وغیرہ صرف اور صرف اسلامی احکامات کے
مطابق منظم ہوں گے۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا: ﴿وَمَن لَّمۡ يَحۡڪُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ﴾”اورجو اللہ کے نازل کردہ (احکامات) کے مطابق حکومت نہیں کرتے، وہی لوگ ظالم ہیں”(المائدۃ:45)۔ اور فرمایا: ﴿وَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَہُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ﴾”اور ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ (احکامات) کے مطابق حکومت کریں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں”(المائدہ:49)
ہمارا مِن حَیثُ القَوم حال تو یہ ہے۔:-
اُونْٹ رے اُونْٹ تیری کَون سی کَل سِیدھی۔
رسوم ہماری ہندوانہ۔
قومی زبان اردو۔
دفتررزبان انگریزی۔
قومی ترانہ فارسی میں۔
مادری زبان اپنی اپنی۔
_______________________________________
ہمارے نبی۔ سیدنا محمد مصطفی ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی زبان پاک عربی ہے۔ ہمارا ہدف عربی ہونا چاہٸے۔ اُوپر بیان کردہ تمام عوامل میں رفتہ رفتہ عربی آ جانی چأہٸے۔ ہماری رسوم سُنت مطہرہ کے مطابق ہونی چاہٸیں۔ پھر دیکھیں برکت کیسے آتی ہے۔
کسی فرد یأ پأرٹی کو ووٹ دیتے وقت یہ دیکھیں کہ اُن کأ ماضی بے داغ ہے؟ اُن کا ایجنڈا اسلامی اقدار کے مطابق ہے؟
جن کو اب تک آزمایا ہے، اُنہوں نے مایوس کیا ہے۔کیونکہ ہم نے کردار دیکھے بغیر دعووں اور وعدوں پر یقین کیا ہے۔
لڑکی یا لڑکے کا رشتہ طے کرنا ہو تو سو طرح کی پڑتال کرتے ہیں۔ مجوزہ لڑکے یا لڑکی کا ماضی اور حال کھنگال لیتے ہیں اور ذرہ سا شاٸبہ ہو تو کنارا کر لیتے ہیں۔ جنکے ہاتھ میں مُلک کی باگ ڈور دینا ہوتی ہے، اُن پہ اندھا اعتماد کرتے ہیں۔
سال ہا سال حکومت کرنے کے بعد بہانہ دورانیے کی کمی کا بنایا جاتا ہے۔ یہ کوٸی جواز نہیں۔ سورج طلوع ہوتے ہی سب کو نظر آنے لگتا ہے۔
نظام ثقہ کو ایک دن کی بادشاہت ملی تو اس نے چمڑے کا سکہ جاری کر دیا۔
کھڑک سنگھ انپڑھ تھا۔ نیتاً مخلص تھا۔ اسے جج تعینات کر دیا گیا۔ اُس کے پاس پہلا ہی مقدمہ قتل کا آیا۔ اس نے ایک ہی پیشی میں کیس ایسا نپٹایا کہ پھر اس کے پورے دور میں کوٸی واردات نہیں ہوٸی۔
اللہ سبحانہ وتعالی پوچھیں گے، تم نے میرے نظام کونافذ کرنے کے لٸے کیا کیا؟ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ووٹ کے ذریعے کوشش کی تھی۔