22/08/2024
مارٹن لوتھر کنگ کی طرح آر جی کار کا بھی
اک خواب تھا ۔۔۔ چکنا چور ہوا
اس نے آج سے 136 سال پہلے اک میڈیکل کالج بنایا۔
برطانوی راج کا لندن کے بعد دوسرا دارالحکومت
کلکتہ ۔۔۔ بنگال کا دل ، رابندر ناتھ ٹیگور کا شہر
اشوک کمار , مدر ٹریسا ، سبھاش چندر بوس ، بپی لہری ، آر ڈی برمن ، استاد بڑے غلام علی خان ، کشور کمار ، گوہر جان ، کمار سانو ، سوربھ گنگولی اور سنیل گواسکر کا شہر ۔۔۔
آج خون میں لت پت نظریں جھکائے شرمندہ کھڑا ھے۔
اُس کی ایک ڈاکٹر بیٹی کو
یوں روندا کُچلا مٙسلا گیا ھے کہ
اس کی عینک کے شیشے
آنکھوں میں پیوست ہیں 😥
اس کے کولہے کی ہڈی بیچ میں سے ٹوٹ کر
دو لخت ھے۔ لہو لہو بدن کے چپے چپے پر
حیوانی دانتوں سے کاٹا گیا ھے ۔۔۔
ایک سو اکاون گرام اجنبی مائع اس کے جسم میں
دونوں ٹانگیں شمالاً جنوباً ادھڑی پڑی ہیں اور
انسانوں کو تکالیف سے نجات دلانے والی مسیحا
خود اذیت میں ڈوپ کر
موت کے سمندر میں اتر گئی ھے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی قلعی
یوں اتری ھے کہ
حوا کی بیٹی کی لاش برہنہ ھے۔
چھتیس گھنٹے مسلسل جاگ کر
ایک بیڈ سے دوسرے بیڈ کی طرف بھاگ کر
ریلیف دینے والی بیٹی ڈاکٹر مومیتا نے
حکومت و سوسائٹی کے چہرے سے
نقاب نوچ لیا ھے، چاند پر جاتی ترقی
قعر مذلت میں اتر گئی ھے۔
اب گلزار اس کا نوحہ لکھے یا بالیوڈ فلم بنائے
کتھک پر ناچتے پاوؑں بھلے سفارتکاری کریں ۔۔۔
سارا بھارت بھی ،
پورا ساوؑتھ ایشیاء بھی
مومیتا کی چیخیں،
اس کی ماں کے آنسووؑں
کا خراج نہیں دے سکتا ۔۔۔
جمہوریہ کا پرچم غور سے دیکھو
اس کے سرخ رنگ نے سفید کو ڈھانپ لیا ھے
چرخے کے گھومتے پیہئے پر
مومیتا کی انٹڑیوں کے دھاگے لٹک رھے ہیں ۔۔۔
ڈاکٹر آر جے کار کے مجسمہ کی آنکھ سے
خون کے آنسو ٹپک رھے ہیں ۔۔۔
کون کہتا ھے یہ ملک سیاحوں کے لئے محفوظ نہیں تھا
یہ اپنی ہی بچیوں کے چیتھڑے کھا رہا ھے
ممتا بنیرجی جلوس مت نکالوں ۔۔۔
ملزموں کو لوھے کی کنگھیوں سے چیر دو
چیر دو ۔۔۔۔
🎯 ڈاکٹر دُرگاداس کار کے ہاں 23 اگست 1852ء کو بیٹا پیدا ہوا تو اس بچے کا نام رادھا گوبندا داس کاررکھا۔ مغربی بنگال کا شہر کلکتہ ان دنوں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مکمل تسلط میں آ چکا تھا اور لندن کے بعد دوسرا بڑا برطانوی دارالحکومت سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر درگاداس کا بیٹا باپ کی طرح ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اسے کلکتہ میڈیکل کالج میں داخل کروا دیا گیا۔ بعدازاں 1883ء میں اس نے ایڈنبرا میڈیکل کالج سے ڈگری حاصل کی اور ڈاکٹر آر جی کار کے نام سے مشہور ہوا۔ نیک دل ڈاکٹر آر جی کار کلکتہ میں پریکٹس کرنے لگا۔ برطانوی راج میں اس نے دیگر ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر کلکتہ میڈیکل سکول کی بنیاد رکھی جو اگلے سال ہی میڈیکل کالج کا درجہ پا گیا۔ 1904ء میں اسے کلکتہ میڈیکل کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز کا درجہ دے دیا گیا۔ یہی کالج 1916 میں Belgachhia Medical College بن گیا۔
9 اگست کا سانحہ اسی کالج میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ افسوس
۔۔۔ اس سانحہ پر پاکستانی ویلاگرز اور مین اسٹریم میڈیا چپ ھے، خاموش اور بےزبان ھے ۔۔۔ یوں لگتا ھے کہ مجرموں کی پشت پناہی کی جا رھی ہو , جیسے ہمارا بنگالی بیٹی سے کوئی ناطہ نہیں۔