05/08/2026
میں تمام سینئر و جونیئر وکلاء، خصوصاً ہاؤسنگ، کوآپریٹو، ریونیو اور لینڈ ایکوزیشن قوانین کے ماہرین سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنی آراء، قانونی تجاویز اور عملی تجربات سے اس مسودے کو مزید مؤثر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ حکومت کے سامنے ایک جامع، قابلِ عمل اور مضبوط سفارشات پیش کی جا سکیں-
شکریہ:-
بیرسٹر قاسم محمود بابا
ممبر پنجاب بار کونسل
حکومت پنجاب کے نام
وکلاء ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام کے لیے مجوزہ قانونی و پالیسی اصلاحات
وکلا کی فلاح و بہبود اور باعزت رہائش کے بنیادی حق کے پیش نظر حکومت پنجاب سے درج ذیل اقدامات کی درخواست کی جاتی ہے:
1۔ “پنجاب لائرز ہاؤسنگ سکیم ایکٹ” کی منظوری
حکومت ایک خصوصی قانون منظور کرے جس کے تحت وکلاء کی ہاؤسنگ سکیموں کے قیام، رجسٹریشن، نگرانی اور انتظام کا واضح قانونی فریم ورک موجود ہو۔
2۔ پنجاب بار کونسل کو قانونی اختیار
پنجاب لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز سے متعلق قوانین میں ضروری ترمیم کرکے پنجاب بار کونسل کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ وکلاء کی فلاح کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم، رجسٹر، منظم اور ان کی نگرانی کر سکے۔
3۔ لینڈ بینک کا قیام
حکومت پنجاب ہر ڈویژن میں “Lawyers Housing Land Bank” قائم کرے، جہاں سے وکلاء کی سوسائٹیوں کو مناسب قیمت پر اراضی فراہم کی جا سکے۔
4۔ لینڈ ایکوزیشن میں خصوصی سہولت
جہاں عوامی مفاد اور قانونی تقاضے پورے ہوں، وہاں حکومت لینڈ ایکوزیشن کے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے مناسب معاوضے کے ساتھ اراضی حاصل کرے اور اسے وکلاء کی فلاحی ہاؤسنگ سکیموں کے لیے مختص کرے۔
5۔ نجی اراضی کی خریداری میں سہولت
اگر سوسائٹی نجی مالکان سے براہِ راست زمین خریدے تو رجسٹریشن، انتقال، کنورژن فیس اور دیگر سرکاری اخراجات میں خصوصی رعایت دی جائے۔
6۔ ون ونڈو کلیئرنس سسٹم
تمام این او سیز، ریونیو، ماحولیات، ترقیاتی اداروں، واسا، بجلی، سوئی گیس اور دیگر منظوریوں کے لیے ایک واحد ون ونڈو سسٹم قائم کیا جائے، جس کے لیے زیادہ سے زیادہ 90 دن کی قانونی مدت مقرر ہو۔
7۔ این او سی کو قانونی تحفظ
اگر متعلقہ محکمہ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ کرے تو درخواست کو قانونی اصولوں کے مطابق ترجیحی بنیاد پر نمٹانے یا مناسب قانونی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھانے کا نظام متعارف کرایا جائے، تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔
8۔ خصوصی مالی مراعات
* اسٹامپ ڈیوٹی میں رعایت۔
* رجسٹریشن فیس میں رعایت۔
* ترقیاتی چارجز میں خصوصی کمی۔
* پراپرٹی ٹیکس میں ابتدائی مدت کے لیے رعایت۔
9۔ بینک فنانسنگ
حکومت اسٹیٹ بینک اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر وکلاء کے لیے خصوصی ہاؤسنگ فنانس سکیم متعارف کروائے۔
10۔ انفراسٹرکچر سپورٹ
حکومت سڑک، بجلی، گیس، پانی، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ترقیاتی اداروں کو پابند کرے۔
11۔ غیر قانونی مداخلت کا خاتمہ
قانون میں واضح کیا جائے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے والی وکلاء کی فلاحی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، جبکہ شفاف احتساب کا نظام برقرار رہے۔
12۔ شفاف گورننس
ہر سوسائٹی کے لیے:
* سالانہ آڈٹ لازمی ہو۔
* ای ووٹنگ اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا نظام ہو۔
* تمام الاٹمنٹس میرٹ اور قرعہ اندازی کے ذریعے ہوں۔
* مالی معاملات کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
13۔ نوجوان وکلاء کے لیے خصوصی کوٹہ
پانچ سال سے کم پریکٹس رکھنے والے وکلاء کے لیے رعایتی قیمت پر مخصوص پلاٹس مختص کیے جائیں۔
14۔ شہداء، خواتین اور خصوصی افراد
شہداء وکلاء کے اہل خانہ، خواتین وکلاء اور خصوصی افراد کے لیے خصوصی کوٹہ اور مالی رعایت رکھی جائے۔
15۔ مستقل رابطہ کونسل
چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی یا نامزد نمائندے کی زیر نگرانی ایک اعلیٰ سطحی رابطہ کونسل قائم کی جائے، جس میں پنجاب بار کونسل، بار ایسوسی ایشنز اور متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل ہوں تاکہ منصوبوں پر بروقت فیصلے اور نگرانی ممکن ہو۔
یہ مطالبات کسی تجارتی منصوبے کے لیے نہیں بلکہ وکلاء کی فلاح، نظامِ انصاف کے استحکام اور آئین و قانون کی خدمت کرنے والے طبقے کو باعزت رہائش فراہم کرنے کے لیے ہیں۔ امید ہے کہ حکومت پنجاب ان سفارشات کو ترجیحی بنیادوں پر زیر غور لاتے ہوئے عملی اقدامات کرے گی۔
بیرسٹر قاسم محمود بابا
ممبر پنجاب بار کونسل
05/08/2026