12/06/2026
✍️رجعت کی منتظر
امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت۔
امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب حجتِ خدا پردۂ غیبت میں ہوں گے۔ اس دور میں کچھ لوگ راستے سے ہٹ جائیں گے، کچھ شک میں پڑ جائیں گے، اور کچھ دنیا کی چکاچوند میں کھو جائیں گے۔ مگر کچھ ایسے بھی ہوں گے جو چراغِ یقین کو بجھنے نہیں دیں گے۔
اہلِ دل کہتے ہیں:
غیبت صرف امام کی آنکھوں سے اوجھل ہونے کا نام نہیں، بلکہ بندے کے دل کا امتحان ہے۔
میں یہ سوچ رکھتی ہو کہ عشق کا پہلا زینہ انتظار ہے۔
اور انتظار کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں، بلکہ اپنے دل کو امام کے قابل بنانا ہے۔
آج ہم سب اپنے گریبان میں جھانکیں۔
کیا ہمارا دل امامؑ کے آنے کے لیے تیار ہے؟
کیا ہماری زبان سچی ہے؟
کیا ہمارے اعمال پاک ہیں؟
کیا ہم ظلم سے نفرت اور عدل سے محبت کرتے ہیں؟
کیونکہ امامؑ صرف زبان کے دعویداروں کے نہیں، بلکہ دل کے وفاداروں کے امام ہیں۔
زمانۂ غیبت میں سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ انسان حق پر قائم رہے، چاہے لوگ مذاق اڑائیں، طعنہ دیں، یا کہیں:
"اگر تم سچے ہو تو تمہارے امام کب آئیں گے؟"
مگر یاد رکھو، عاشق کبھی وقت نہیں پوچھتا۔
عاشق کا کام دروازے پر چراغ جلائے رکھنا ہے۔
جیسے ایک ماں اپنے مسافر بیٹے کا انتظار کرتی ہے،
جیسے شبِ تاریک میں کوئی مسافر صبح کی روشنی کا منتظر ہوتا ہے،
ویسے ہی مومن کا دل اپنے امامؑ کے انتظار میں دھڑکتا ہے۔
اور امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ جو اس غیبت میں اذیت، تکذیب اور طعنوں پر صبر کرے، اس کا مقام ایسا ہے جیسے رسول خداؐ کے سامنے تلوار لے کر جہاد کرنے والا۔
یہ معمولی بات نہیں۔
یعنی آج اگر ہم اپنے ایمان کو بچا لیں، اپنے عقیدے کو مضبوط رکھیں، اپنے نفس سے جنگ کریں، تو یہ بھی جہاد ہے۔
مزید یہ سن لیں کہ
امامؑ کی غیبت رات ہے، اور ہمارا یقین اس رات کا چراغ۔
اگر چراغ بجھ گیا، تو راستہ کھو جائے گا۔
اگر چراغ روشن رہا، تو صبحِ ظہور یقینی ہے۔
آئیے دعا کریں:
اے اللہ! ہمارے دلوں کو شک سے محفوظ فرما،
ہمیں امامِ وقتؑ کے سچے منتظرین میں شامل فرما،
ہماری روحوں کو معرفتِ امام سے روشن فرما،
اور ہمیں وہ آنکھ عطا فرما جو ظہور کا سورج دیکھ سکے اور آج کے فتنوں سے مالک عج ہمیں بچائیں رکھیں آمین بحقِ معصومین ص۔
اللهم عجل لوليك الفرج
✍️رجعت کی منتظر