12/10/2024
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ (I swear by the Fig and the Olive...95:1)
"ہم انجیر کی قسم کھاتے ہیں اور زیتون کی" القرآن۔
*عنوان: پھواڑے نے پھُل لبھی گئے*
انجیر کو انگریزی میں Fig کہتے ہیں جبکہ جنگلی انجیر کو پھگواڑا یا پھر wild fig کہا جاتا ہے۔ پہاڑی میں ایک کہاوت ہے " پھگواڑے نے پھُل ہوئی گے او" مطلب غائب ہو گئے ہو کبھی نظر نہیں آتے، کیونکہ ایسا دیکھا گیا ہے کہ انجیر یا پھگواڑے کے پھول نہیں ہوتے۔
کیا ایسا ہی ہے؟ بلکل نہیں، پھولوں کے بغیر تو پھل نہیں لگ سکتے اور انجیر کوئی non flowering plant بھی نہیں، پھر اس کے پھول کہاں ہوتے ہیں؟
تو میں آپ کو ملوانے جا رہا ہوں پھگواڑے کے پھولوں سے، جی بلکل، پھگواڑے کا ایک دانہ یا انجیر کا ایک دانہ یا فروٹ ہی اصل میں پھگواڑے کا پھول ہوتا ہے۔ جسے synconium کہا جاتا ہے۔ یہ پھول اور اس کی پتیاں اندر کی جانب کھلتی ہیں۔
ایک مکھی جسے fig wasp کہتے ہیں وہ اس پھول میں اس کے سوراخ سے داخل ہوتی ہے۔ یہ ایک مادہ مکھی ہے، یہ اندر داخل ہو گی اور انڈے دے گی، مگر چکنائی اور سوارخ تنگ ہونے کی وجہ سے باہر نہیں نکل پائے گی اور سوراخ میں ہی اٹک کر مر جائے گی، سوراخ بند ہو جائے گا ، اب مزید کوئی مکھی اندر داخل نہیں ہو سکے گی۔
انڈوں سے بچے نکلیں گے اور ان بچوں میں کچھ نر اور کچھ مادہ ہوں گے۔
نر اور مادہ آپس میں ملاپ کریں گے اور مادہ pregnant ہو جائیں گی۔ نر مکھیاں انجیر یا پھگواڑے میں سوراخ کریں گے اور باہر نکل آئیں گے، مادہ بھی باہر نکل آئیں گی۔
اب یہی مادہ مکھیاں female wasps مزید فروٹ ڈھونڈیں گی اور وہاں جا کر انڈے دیں گی یعنی یہ cycle چلتا رہے گا۔
قرآن میں انجیر اور زیتون کی قسم اس حیران کن قدرت کی جانب ہماری توجہ مبذول کرواتی ہے۔ کہ پھگواڑے کا پھول تو نظر نہیں آتا، لوگ سمجھتے ہیں کہ ہے ہی نہیں صرف پھل ہے، مگر پھل ہی اصل میں پھول ہے۔ قرآن ہمیں ان مثالوں سے ہماری عقل کو جھٹک رہا ہے کہ تم جو دیکھتے ہو، تم جو سمجھتے ہو اس میں کتنی بے ثباتی ہے، اور ہماری کاری گری دیکھو ذرا۔۔۔۔! بے ساختہ زبان سے سبحان اللہ نہ نکلے تو کہنا۔
تحریر: اسعد بشیر