ALL Khyber pahktunkkhaw Subject specialists association District Kohat

  • Home
  • Pakistan
  • Kohat
  • ALL Khyber pahktunkkhaw Subject specialists association District Kohat

ALL Khyber pahktunkkhaw Subject specialists association District Kohat ضلع کوہاٹ کے تمام سبجیکٹ اسپیشلسٹس کا مشترکہ پلیٹ فارم

27/05/2026

آل خیبرپختونخوا سبجیکٹ سپشلسٹ ایسوسیش ضلع کوہاٹ کی طرف سے تمام اہل اسلام کو عید الاضحیٰ مبارک ہو ،،،،،

امتحانی ڈیوٹی، انسپکشن ڈیوٹی اور بعض پرنسپل صاحبان کا رویہ حکومتِ خیبر پختونخوا نے 6 مئی سے انٹر لیول امتحانات کے انعقاد...
21/05/2026

امتحانی ڈیوٹی، انسپکشن ڈیوٹی اور بعض پرنسپل صاحبان کا رویہ
حکومتِ خیبر پختونخوا نے 6 مئی سے انٹر لیول امتحانات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ امتحانات میں شفافیت، نظم و ضبط اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے سیکرٹری ایجوکیشن، بورڈ چیئرمینز اور دیگر اعلیٰ حکام کی متعدد میٹنگز کے بعد واضح ہدایات جاری کی گئیں۔ ان ہدایات کے مطابق امتحانی ڈیوٹی اور انسپکشن ڈیوٹی تعلیمی نظام کا لازمی حصہ ہیں، لہٰذا جس بھی استاد یا افسر کو یہ ذمہ داری دی جائے، وہ اسے قومی فریضہ سمجھتے ہوئے انجام دے، جبکہ تمام پرنسپل صاحبان اساتذہ کو بروقت ریلیو کرنے اور حاضری رجسٹر میں “آن ڈیوٹی” درج کرنے کے پابند ہیں۔
تاہم بعض سکولوں سے یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ پرنسپل صاحبان امتحانی اور انسپکشن ڈیوٹی پر مامور اساتذہ کو ریلیو نہیں کرتے، ان سے غیر ضروری ایکسپلینیشن طلب کرتے ہیں، یا حاضری رجسٹر میں ان کی حاضری خالی چھوڑ دیتے ہیں تاکہ بعد میں انہیں غیر حاضر ظاہر کیا جا سکے۔ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ قانونی طور پر بھی قابلِ مواخذہ ہے۔
قانونی طور پر جب کسی استاد کو بورڈ، محکمہ تعلیم یا مجاز اتھارٹی کی طرف سے امتحانی یا انسپکشن ڈیوٹی سونپی جاتی ہے تو وہ سرکاری ڈیوٹی شمار ہوتی ہے۔ اس میں رکاوٹ ڈالنا، اساتذہ کو ہراساں کرنا، یا سرکاری احکامات پر عمل نہ کرنا “گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز” اور محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح حاضری رجسٹر میں جان بوجھ کر “آن ڈیوٹی” درج نہ کرنا یا غلط اندراج کرنا سرکاری ریکارڈ میں بے ضابطگی تصور ہو سکتی ہے، جس پر محکمانہ کارروائی، شوکاز نوٹس، انکوائری، معطلی یا دیگر قانونی اقدامات عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ کسی پرنسپل کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ بورڈ یا محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری شدہ امتحانی ڈیوٹی کے احکامات کو معطل کرے یا اساتذہ سے بلا جواز ایکسپلینیشن طلب کرے۔ اگر کوئی افسر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو اس کے خلاف متعلقہ قوانین اور سروس رولز کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ تمام پرنسپل صاحبان قانون اور حکومتی احکامات کی مکمل پاسداری کریں، کیونکہ امتحانی نظام میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف تعلیمی عمل کو متاثر کرتا ہے بلکہ متعلقہ افسران کو قانونی مشکلات سے بھی دوچار کر سکتا ہے۔ آئندہ اگر کسی ادارے میں اس قسم کی شکایات سامنے آئیں تو متعلقہ حکام، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس، سیکرٹری ایجوکیشن اور بورڈ حکام کو باقاعدہ رپورٹ کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ کوئی بھی افسر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرات نہ کرے۔

14/05/2026

تعلیمی بورڈ بنوں میں کنٹرولر امتحانات کی پوسٹ پر ڈیپوٹیشن ایک بار پھر غیر قانونی قرار:
پشاور ہائیکورٹ بنوں بینچ کے جسٹس محمد طارق آفریدی نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بنوں میں کنٹرولر امتحانات کی پوسٹ کو ڈیپوٹیشن کے ذریعے بھرنے کو دوبارہ غیر قانونی قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ عدیل خان کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا گیا، جبکہ درخواست گزار کی پیروی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پیر حمید اللہ شاہ نے کی۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ 30 ورکنگ دنوں کے اندر ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کا اجلاس بلا کر قواعد و ضوابط اور سینئرٹی کی بنیاد پر کنٹرولر امتحانات بی پی ایس 19 کی پوسٹ پر پروموشن کے ذریعے تقرری مکمل کی جائے اور عدالت میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 28 نومبر 2018 کو بھی حیدر زمان کی بطور کنٹرولر امتحانات ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی برقرار رکھا تھا۔
فیصلے کے مطابق متعلقہ حکام نے عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کے بجائے پہلے نئے عہدے تخلیق کیے، پھر پوسٹ کو بی پی ایس 18 سے بی پی ایس 19 میں اپ گریڈ کیا اور بعد میں دوبارہ ڈیپوٹیشن کے ذریعے تعیناتی کیلئے اشتہار جاری کیا، جو عدالتی احکامات کے خلاف ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ اس پوسٹ کو دوبارہ ڈیپوٹیشن کے ذریعے بھرنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی تصور ہوگی اور یہ عمل توہینِ عدالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔
ڈاکٹر اصغر خان جنرل سیکرٹری آل خیبر پختونخوا سبجیکٹ سپشلسٹ ایسوسیش ضلع کوہاٹ

13/05/2026

کنٹرولر امتحانات، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوہاٹ کے معزز افسر جناب Dr. Tahirullah Jan کی پاراچنار میں دبنگ انٹری ہوئی، جس کے بعد انہوں نے مختلف امتحانی سنٹرز (سینٹرز) کا دورہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے امتحانی انتظامات، نگرانی کے نظام، اور طلبہ کے لیے فراہم کردہ سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایات بھی جاری کیں تاکہ امتحانی عمل کو مزید شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر اصغر خان جنرل سیکرٹری آل خیبرپختونخوا سبجیکٹ سپشلسٹ ایسوسیش ضلع کوہاٹ

حکومت خیبر پختونخوا نے اساتذہ کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے جار...
13/05/2026

حکومت خیبر پختونخوا نے اساتذہ کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق اب یونین کونسل / ویلج کونسل کی بنیاد پر موجود سسٹم کو تبدیل کرکے “Educational Cluster KP” سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے۔
تمام اضلاع سے Educational Clusters کی تجاویز طلب کر لی گئی ہیں، جس سے واضح ہے کہ حکومت اس نظام کو آنے والے وقت میں بہت جلد عملی طور پر نافذ کرنے جا رہی ہے۔
اس نئے سسٹم کے تحت:
اساتذہ کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر Cluster کی بنیاد پر ہوگی۔
کئی یونین کونسلیں ملا کر ایک بڑا تعلیمی کلسٹر بنایا جائے گا۔
Rationalization اور e-Transfer نظام مزید فعال ہوگا۔
اضافی اساتذہ کو مختلف سکولوں میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔
ڈاکٹر اصغر خان جنرل سیکرٹری آل خیبر پختونخوا سبجیکٹ سپشلسٹ ایسوسیش ضلع کوہاٹ

سرکاری ملازمین کی پروموشن اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہپاکستان میں سرکاری ملازمین ہمیشہ سے ترقیوں میں تاخیر، سینیارٹی ت...
13/05/2026

سرکاری ملازمین کی پروموشن اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
پاکستان میں سرکاری ملازمین ہمیشہ سے ترقیوں میں تاخیر، سینیارٹی تنازعات اور محکمانہ ناانصافیوں کا شکار رہے ہیں۔ کئی ایسے ملازمین موجود ہیں جو برسوں تک اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ آسامیاں خالی ہوتی ہیں اور وہ تمام قانونی شرائط بھی پوری کر چکے ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا حالیہ فیصلہ ہزاروں سرکاری ملازمین کے لیے امید کی نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔
Case: Fakhar Majeed vs Punjab Government
Bench: جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم
سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کوئی ملازم ترقی کے لیے اہل ہو، متعلقہ پوسٹ خالی موجود ہو، مگر محکمہ بلاجواز تاخیر کرے، تو اس تاخیر کا نقصان ملازم کو نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے اس اصول کو مزید مضبوط کیا کہ محکمانہ سستی، نااہلی یا تاخیری حربے کسی ملازم کے قانونی حق کو ختم نہیں کر سکتے۔
یہ فیصلہ صرف ایک فرد یا ایک محکمہ تک محدود نہیں بلکہ پورے سرکاری نظام کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ پاکستان میں اکثر محکمانہ ترقیوں کے معاملات سیاسی اثر و رسوخ، ذاتی پسند و ناپسند یا انتظامی غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً اہل ملازمین کئی کئی سال ایک ہی گریڈ میں گزار دیتے ہیں جبکہ جونیئر ملازمین آگے نکل جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف ملازمین کی حق تلفی ہوتی ہے بلکہ اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ترقی کا عمل بروقت ہونا چاہیے۔ اگر محکمہ بروقت ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) منعقد نہ کرے یا دانستہ تاخیر کرے تو یہ انتظامی ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ بعض حالات میں ملازم کو “Notional” یا “Retrospective Promotion” دی جا سکتی ہے، یعنی ترقی بعد میں ملنے کے باوجود اس کی سینیارٹی اور دیگر فوائد سابقہ تاریخ سے شمار کیے جا سکتے ہیں۔
اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ خاص طور پر تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر صوبائی محکموں کے ہزاروں ملازمین اب اپنے کیسز کو زیادہ مضبوط قانونی بنیاد پر اٹھا سکیں گے۔ ایسے ملازمین جن کی ترقیوں میں برسوں تاخیر ہوئی، اب عدالتوں اور سروس ٹربیونلز سے رجوع کر کے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
تاہم اس فیصلے کا ایک دوسرا پہلو بھی موجود ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ ہر خالی پوسٹ پر خودکار ترقی لازم ہے۔ بلکہ یہ واضح کیا کہ “پروموشن کا حق” سے زیادہ اہم “پروموشن پر غور کیے جانے کا حق” ہے۔ یعنی اگر محکمہ قانون کے مطابق کارروائی کرے تو ہر ملازم سابقہ تاریخ سے ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ لیکن جہاں ناانصافی، امتیازی سلوک یا غیر ضروری تاخیر ثابت ہو جائے، وہاں عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔
یہ فیصلہ سرکاری اداروں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے کہ وہ ترقیوں کے معاملات کو سنجیدگی سے لیں۔ بروقت DPC اجلاس، شفاف سینیارٹی لسٹیں اور میرٹ پر فیصلے اب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئے ہیں۔ بصورت دیگر حکومت کو نہ صرف قانونی مقدمات بلکہ مالی بوجھ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سرکاری محکمے اپنی پروموشن پالیسیوں کو جدید، شفاف اور وقت کا پابند بنائیں تاکہ ملازمین کو انصاف مل سکے اور اداروں کی کارکردگی بہتر ہو۔ کیونکہ جب ایک اہل ملازم کو اس کا جائز حق وقت پر ملتا ہے تو اس کا اعتماد بحال ہوتا ہے، اور یہی اعتماد کسی بھی مضبوط نظام کی بنیاد بنتا ہے۔
ڈاکٹر اصغر خان جنرل سیکرٹری آل خیبر پختونخوا سبجیکٹ سپشلسٹ ایسوسیش ضلع کوہاٹ

نیو اپڈیٹس ،،،،*ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” میں نئی اصلاحات اور اہم اضافے متعارف* *محکمہ تعلیم کا تبادلوں کے نظام کو مزی...
11/05/2026

نیو اپڈیٹس ،،،،
*ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” میں نئی اصلاحات اور اہم اضافے متعارف*
*محکمہ تعلیم کا تبادلوں کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کی جانب بڑا اقدام*
پشاور: صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان اور سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان نے محکمہ تعلیم کی جدید، مزید مؤثر اور اپ گریڈ شدہ “ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔
اس موقع پر محکمہ تعلیم کے سپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ، سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈائریکٹر ای ایم آئی ایس کی جانب سے بتایا گیا کہ “ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” دراصل پہلے سے نافذ العمل ای-ٹرانسفر پالیسی کا ایک جدید، جامع اور مزید بہتر توسیعی ورژن ہے، جس میں وقت کے تقاضوں، انتظامی ضروریات اور شفافیت کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد نئی اصلاحات اور اہم اضافے شامل کئے گئے ہیں۔ نئی پالیسی میں ایسے کئی شعبوں اور معاملات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ماضی کی پالیسی میں واضح طور پر کور نہیں تھے۔
صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ نئی پالیسی میں پہلی مرتبہ پرفارمنس کی بنیاد پر ای-ٹرانسفر سسٹم کو مزید مؤثر انداز میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت سکول سربراہان، سیکنڈری سکول ٹیچرز، سبجیکٹ اسپیشلسٹس اور دیگر متعلقہ تدریسی عملے کی کارکردگی کو سکول بیس اسسمنٹ، میٹرک اور انٹر کے نتائج، طلبہ و اساتذہ کی حاضری اور دیگر تعلیمی اشاریوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار میں بہتری، احتساب کے نظام کے فروغ اور بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم مرحلہ وار تمام پوسٹنگز اور تبادلوں کو مکمل طور پر ای-ٹرانسفر پلس پالیسی کے تحت لانے کی جانب پیش رفت کر رہا ہے تاکہ ہر قسم کی تعیناتی اور تبادلہ ایک مربوط، ڈیجیٹل اور میرٹ پر مبنی نظام کے ذریعے انجام پائے۔
سیکرٹری تعلیم خالد خان نے کہا کہ “ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” میں متعدد نئے ماڈیولز، سہولیات اور حفاظتی اقدامات شامل کئے گئے ہیں جن سے تبادلوں کے نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں سپیشل پروویژن گراؤنڈ ماڈیول کو مزید وسعت دی گئی ہے، جس کے تحت بیوہ، طلاق یافتہ، معذور، میڈیکل، سکیورٹی خدشات اور زوجین پالیسی کے تحت تبادلوں کیلئے واضح طریقہ کار، آن لائن درخواست اور دستاویزی ثبوت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی میں پہلی مرتبہ اوور سائٹ کمیٹی اور پلیسمنٹ کمیٹی کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا گیا ہے تاکہ شکایات کے بروقت ازالے، ڈیٹا ویریفکیشن، نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح جعلی یا غلط دستاویزات جمع کرانے والوں کیلئے دو سالہ پابندی اور محکمانہ کارروائی کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
سیکرٹری تعلیم خالد خان نے کہا کہ نئی پالیسی میں انٹر ڈسٹرکٹ ای-ٹرانسفر کیلئے آن لائن نان آبجیکشن سرٹیفیکیٹ سسٹم، ڈیجیٹل ویریفکیشن، میرٹ بیسڈ اسکورنگ سسٹم اور واضح قواعد و ضوابط متعارف کروائے گئے ہیں، جبکہ میوچل ٹرانسفرز کو سال بھر فعال رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ اساتذہ کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی میں طلبہ و اساتذہ کے تناسب (STR) ، تعلیمی نتائج، سکول کی ضروریات، حاضری، ڈومیسائل، سروس ٹینیور اور اعلیٰ تعلیمی قابلیت جیسے عوامل کو باقاعدہ اسکورنگ سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے، جس سے تبادلوں کا عمل مزید منظم، متوازن اور میرٹ پر مبنی ہوگا۔
صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور سیکرٹری تعلیم خالد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اصلاحات اور میرٹ کے فروغ کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام کو مزید مؤثر، جوابدہ، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

اپریل 2026 کی EMA رپورٹ کے مطابق درج ذیل اساتذہ کرام، ایس ایس صاحبان، کلرک صاحبان اور لیب سپروائزر صاحبان کو مطلع کیا جا...
08/05/2026

اپریل 2026 کی EMA رپورٹ کے مطابق درج ذیل اساتذہ کرام، ایس ایس صاحبان، کلرک صاحبان اور لیب سپروائزر صاحبان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ مورخہ 11 مئی 2026 بروز پیر دوپہر 2 بجے ڈی ای او آفس میں تشریف لائیں۔
شکریہ۔
ڈاکٹر اصغر خان جنرل سیکرٹری اکسا کوہاٹ

08/05/2026

2012 کی اساتذہ بھرتیاں — میرٹ کا قتل یا نظام کی ناکامی؟
خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں 2012 کے دوران صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونے والی سیکنڈری اسکول اساتذہ کی بھرتیوں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر جعلسازی اور ریکارڈ میں ردوبدل کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے سینیارٹی لسٹ کی جانچ پڑتال کے دوران 436 خواتین اساتذہ کی تقرریوں کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ان کے نام فہرست سے خارج کر دیے ہیں، جبکہ ان کی ترقیوں پر بھی فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق مشکوک قرار دیے گئے امیدواروں میں سب سے زیادہ تعداد ضلع ہری پور سے سامنے آئی ہے، جہاں 216 امیدوار اس فہرست میں شامل ہیں۔ ضلع ایبٹ آباد سے 35، چارسدہ سے 26، بنوں سے 23، ڈیرہ اسماعیل خان سے 22، جبکہ کرک اور مردان سے 20،20 امیدواروں کے نام مشکوک قرار دیے گئے ہیں۔اسی طرح ضلع دیر سے مجموعی طور پر 13، کوہاٹ سے 13، چترال سے 11 خواتین اساتذہ جبکہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سے 9 امیدوار اس فہرست میں شامل ہیں۔ مالاکنڈ سے 6 امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں، جبکہ بٹگرام، بونیر اور باجوڑ سے بھی ایک، ایک امیدوار اس فہرست کا حصہ ہیں۔متاثرہ امیدواروں میں شامل شہر بانو (فرضی نام) نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ 14 برس سے تقرری نامے کی منتظر تھیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ریکارڈ میں آج بھی ان کا نام موجود ہے، تاہم محکمہ تعلیم نے انہیں کبھی تعیناتی نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی نئی سینیارٹی لسٹ مرتب کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ جانچ پڑتال کے دوران متعدد ایسے تقرری نامے سامنے آئے جن میں ریکارڈ اور اصل میرٹ لسٹ کے درمیان واضح تضادات پائے گئے۔ بعد ازاں محکمہ تعلیم نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے، جسے ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی تقرری ناموں، ریگولرائزیشن ریکارڈ، تنخواہوں کی ادائیگی اور خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی اصل سفارشات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ بھرتیاں عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت کے آخری سال میں کی گئی تھیں، تاہم سابق وزیر تعلیم سردار حسین بابک سمیت متعلقہ حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا۔ معاملے پر صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان، خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے بھی باضابطہ مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آج گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول پشاور سٹی نمبر 1 میں آل خیبرپختونخوا سبجیکٹ اسپیشلسٹ ایسو...
02/05/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول پشاور سٹی نمبر 1 میں آل خیبرپختونخوا سبجیکٹ اسپیشلسٹ ایسوسی ایشن (AKSSA) کا ایک اہم اور کامیاب اجلاس زیرِ صدارت ڈاکٹر الطاف خان خویشگی منعقد ہوا، جس میں صوبہ بھر سے پی سی سی ممبران اور صوبائی کابینہ کے ارکان نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس میں تنظیمی امور، نیو ٹائم ٹیبل، ایم فل اور پی ایچ ڈی الاؤنس، ایس ایس پروموٹڈ پرنسپلز کا مسئلہ، فور ٹائر اپگریڈیشن، اور پروموشن و ایڈجسٹمنٹ آرڈرز سمیت اہم معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
تنظیمی امور کے حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ بحث آئیں اور باہمی مشاورت کے بعد اہم فیصلے کیے گئے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تنظیم کا نام "آل خیبرپختونخوا سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن" سے تبدیل کرکے "آل خیبرپختونخوا سبجیکٹ اسپیشلسٹ ایسوسی ایشن" رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ ان شاء اللہ بہت جلد پرانا ٹائم ٹیبل دوبارہ بحال کر دیا جائے گا، جس پر خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے اور اس حوالے سے جلد خوشخبری متوقع ہے۔
اجلاس میں یہ خوش آئند اعلان بھی کیا گیا کہ ایس ایس پروموٹڈ پرنسپلز کا مسئلہ اللہ کے فضل و کرم سے حل کر لیا گیا ہے۔
فور ٹائر اپگریڈیشن کے نفاذ کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی اور اس کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے اور درکار وسائل کی منظوری پر اتفاق کیا گیا۔
آخر میں، اکسا کے صوبائی صدر ڈاکٹر الطاف خان خویشگی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پوری کمیونٹی کو ساتھ لے کر چلیں گے اور جمہوری روایات کو فروغ دیں گے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ اتفاق و اتحاد کے ساتھ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر اصغر خان جنرل سیکرٹری اکسا کوہاٹ

Address

Kohat
Kohat
POSTAL/ZIP CODE: 26000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ALL Khyber pahktunkkhaw Subject specialists association District Kohat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share