12/09/2025
سیاست انسانی جمہوری اقدار میں سے ایک جمہوری ہی نہیں بلکے ایک اعلی سطح کی شعوری قدر ہے
جو شعور سے لبریز باشعور انسانوں کا طرہ امتیاز ہے
دوسری طرف معماران قوم یا اساتذہ کرام
کسی بھی معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے باشعور جینیس اور مثبت قوت فیصلہ کے حامل ہوتے ہیں
جن کا کام نہ صرف قوم کی نئی نسل میں شعور اجاگر کرنا
بلکے سسٹم اور معاشرے میں جا بجا پیدا ہونے والی برائیوں کے خلاف اور اچھائیوں کے حق میں آواز اٹھانا بھی بطور معمارقوم ان کا فرض عین ہے
حیرانگی ہوتی ہے کہ معاشرتی اور اخلاقی تنزلی کے آخری معیار کے حامل افراد جب اپنے گرے ہوئے مقام اور مرتبے سے اٹھ کر
معمار قوم کو
اپنی پست درجے کی سوچ و فکر اور اپنے جاہلانہ افکار کے ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہیں
ریاست آزاد کمشمیر میں ہر میٹرک فیل جو بدقسمتی سے اپنے میانے قد میانی عقل اور پست ترین ذہنی ابتری کی وجہ سے فوج کی خچریں ہاکنے کے محکمے میں بھی بھرتی سے ریجکٹ کر دیے گے
ان کی 99% اکثریت
کیمرے والا موبائل لے کر صحافی بنی پھرتی ہے
کوئی ایسے پست سوچ و فکر کے حامل میٹرک فیل لفافیوں اور خود ساختہ صحافیوں سے پوچھے کہ
کیا سیاست کرنا
خاکروپ کا کام ہے
سیاست کرنا ریڑھی بان کا کام ہے
یا سیاست کرنا دھوبی کا کام ہے
یا پھر سیاست کرنا
مستری اور رنگ ساز کا کام ہے
سیاست وہی کرتا ہے جس کو سمجھ بوجھ یوتی ہے
جس کو اچھے برے کا شعور ہوتا کے
جسے قوم ملک وملت معاشرے سوسائٹی کے فائدے
نقصان کا ادراک ہوتا یے
جسے اچھے برے کی تمیز ہوتی ہے
جسے کھرے کھوٹے کا کا کنسیپٹ ہوتا ہے
بس پڑھے لکھے پروفیشل تعمیری صحافی اور
میٹرک فیل بے روز گار جگاڑی صحافی کی پہچان ہوتی یے
باقی
میٹرک فیل دیہاڑی دار معلومات سے نابلد
صحافیوں بلکے لفافیوں کے لیے عرض خدمت ہے
ریاست کے اساتذہ کی منجیمنٹ کا سسٹم اور نظام و انصرام موجود ہے
ریاست میں جسے ریاست کے نامور پڑھے لکھے دماغ چلا رہے ہیں
اور وہ اب کچھ دیکھ بحال کر ہی چلا رہے ہوں گے
انہیں
قطعی طور پر کسی میٹرک فیل صحافی کے مشوروں اور آلودہ بیانی کی ضرورت نہیں ہے
برائے کرم
تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھا جاِئے
شکریہ