Itehad Welfare Society Khuian IWSK

Itehad Welfare Society Khuian IWSK FRIENDS OF KHUIAN

10/08/2025

In France, an innovative “solar flower” is transforming perceptions of renewable energy. Designed like a giant sunflower, it automatically opens in the morning and rotates to follow the sun throughout the day, capturing maximum solar power. Despite its artistic appearance, it produces enough clean electricity to power an entire home.

At night or during cloudy weather, the solar flower closes neatly to protect itself from damage. Beyond its functionality, it serves as a striking garden centerpiece, seamlessly blending technology with beauty. Installation is quick, and it requires significantly less space than traditional solar panels, making it ideal for urban settings.

By uniting efficiency, elegance, and sustainability, the solar flower demonstrates that renewable energy can be both high-tech and visually captivating. It offers a glimpse into a future where green energy solutions enhance our daily surroundings.

Sources: SmartFlower Solar; French Renewable Energy Association; European Solar Energy Organization

ضرورت ۔ ایجاد
10/08/2025

ضرورت ۔ ایجاد

In Germany, self-watering city planters are transforming urban greenery into a more sustainable and low-maintenance feature. These innovative planters are equipped with underground reservoirs that store water, ensuring plants stay hydrated for extended periods without daily watering. Sensors embedded in the system monitor soil moisture levels and release water only when needed, preventing both overwatering and waste.
This smart irrigation method is especially valuable in cities where maintaining public plants can be resource-intensive. By reducing the frequency of watering, municipalities save both labor and significant amounts of water, making the approach eco-friendly and cost-effective. The system also supports plant health by providing consistent moisture, even during heatwaves or droughts, ensuring flowers and greenery thrive year-round.

Beyond efficiency, these planters enhance the urban landscape by keeping public spaces lush without relying heavily on manual maintenance. They are being adopted in parks, sidewalks, and public squares, reflecting Germany’s commitment to blending technology with environmental care. As cities worldwide face water scarcity and climate challenges, this model shows how innovation can nurture nature while conserving resources.

خدا کرے اس بچے کو اپنے رشتہ دار مل جائیں۔مہربانی سے اس  پوسٹ کو شیئر کیجیے ۔
09/08/2025

خدا کرے اس بچے کو اپنے رشتہ دار مل جائیں۔مہربانی سے اس پوسٹ کو شیئر کیجیے ۔

(ورثاء مل گئے ہیں)

اس بچے کا نام محمد ولید ہے
ولید کو اسکی پھوپھی کراچی سے اپنے ساتھ اسلام آباد لیکر گئی تھی،ان دنوں اسلام آباد میں احتجاج چل رہے تھے،ولید کو پھوپھی نے بسکٹ دئیے اور چائے لینے کے لیے گئی کچھ دیر میں آنے کا کہا، بقول ولید پھوپھی نہیں آئی میں تین دن وہیں رہا۔
ولید مختلف لوگوں کے ساتھ ہوتا ہوا مردان پہنچا اور جگہ جگہ رہائش اختیار کرتا۔
اس وقت ولید مردان میں ایک فیملی کے پاس دو ماہ سے رہ رہا ہے۔
بچے سے ہمیں جو تفصیلات موصول ہوئیں وہ درج ذیل ہیں:
بچے کا نام محمد ولید
والد کا نام احمد
والدہ راشتہ/راشدہ بی بی
ایک بہن تھی کائنات
ماموں کے نام عمران اور خالد
چچا توقیر اور فیاض
کراچی میں ریلوے بازار/ریل گاڑی بازار کے پاس گھر تھا،
گھر کے قریب مسجد میں سبق پڑھتا تھا قاری صاحب کا نام محمد علی ابوبکرتھا
دی سٹی گرامر اسکول میں پڑھتا تھا، اسکول میں ایک ٹیچر کا نام مس زینب تھا ،اسکول کے باہر دوکان والے کا نام محمد حسن نام تھا۔
چاچو توقیر کا بیٹا نعمان ولید کا دوست تھا
مادری زبان ہندکو ہے۔
ولید کی بہن کائنات کی شادی ہوچکی ہے ولید کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی بہن کے ساتھ رہنے کو تیار ہے۔
ماں باپ بہت پہلے کسی حادثے میں فوت ہوگئے تھے۔
کراچی کے دوست اس پوسٹ کو خوب وائرل کریں
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے دئیے گئے نمبر پر وٹس ایپ کریں

ورثاء مل گئے ہیں

نو اگست 2025

🥲🥲🥲🥲🥲
09/08/2025

🥲🥲🥲🥲🥲

عورت سکول کالج یونیورسٹی میں نہیں پڑھ سکتی، ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ ہماری عورت کسی دفتر یا فیکٹری میں نوکری کرے البتہ بھیک مانگ سکتی ہے

اسلام نے عورت کو حقوق دیئے ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ چند معاشروں میں عورت کو کوئی حقوق حاصل نہیں
کچھ تبدیلیوں کے ساتھ بشکریہ پوسٹ: قمر نقیب خان

08/08/2025

اس خاتون کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے 👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇A sister reached out and shared:
"My name is Alia. My father is Pakistani and my mother was from the Philippines.
I was born on 15-6-1993 in Pasay City, Philippines.
My father's name is Azhar Abbas Abidi and my mother's name is Gloria Go.
My father is from Karachi, Pakistan, and my mother is from Pasay City, Philippines.

My parents separated, and when I was around seven to eight months old, my father forcibly took me and illegally brought me to Pakistan. He handed me over to his married sister and returned to the Philippines.
My mother filed cases against my father for my recovery and custody. My father was even imprisoned, and my uncle shot him in the Philippines because of me, which left him injured.

As per court orders, I was allowed to speak to my mother only once for a few minutes when I was around five or six years old.
My father left me with his sister and never saw me again. He neither raised me nor provided education or marriage expenses. He didn’t even give me his name. I have no passport or national ID.

I want to find my mother. Please help me.
If someone can check the court records from Pasay City in 1993, where my mother filed a case, maybe she can be found.
Finding my mother might also help me get an identity. I have two children and I’m very worried for them."

To all friends in the Philippines:
Please translate this post into the local language and spread it widely in Pasay City.
This daughter is yearning to meet her mother. Please help reunite them.

Mother’s name: Gloria Go
For any information, please WhatsApp the number below:
+923162529829
Copied:

The way to go!
08/08/2025

The way to go!

08/08/2025

محمد اسلم کا والد عطاء محمد فوج میں لانس نائیک تھا، اس کا کورٹ مارشل ہوا اور وہ ملازمت سے محروم ہو گیا، ملازمت سے محرومی، مقدمے بازی اور بے روزگاری نے والد کو نشے کی لت میں مبتلا کر دیا اور یوں بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمے داری اس کی بیوی کے کندھوں پر آ گئی، والدہ نے بیٹوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا، محمد اسلم بڑا بیٹا تھا، وہ چوتھی جماعت میں تھا تو والدہ اسے بسکٹ اور ٹافیوں کے پیکٹ بنا کر دیتی تھی، وہ یہ پیکٹ اسکول بیگ میں رکھ کر اسکول جاتا اور یہ اشیاء آدھی چھٹی کے وقت اپنے دوستوں کو فروخت کر دیتا، اس نوجوان نے بچپن ہی سے خود کفالت کا سبق سیکھ لیا، محمد اسلم نے ہر جماعت پرانی کتابیں پڑھ کر پاس کی، وہ ہر کلاس میں اول آتا، اس نے چھٹی جماعت میں ایک ڈاکٹر کے کلینک پر شام کے اوقات میں ملازمت بھی کرلی۔
وہ خود پرانی کتابوں سے پڑھتا تھا لیکن وہ پیسے کمانے کے لیے اسکول فیلوز کی نئی کتابیں راتوں کو جاگ کر جلد کرتا تھا، وہ نویں جماعت میں پہنچا تو اس کی قابلیت اور گھریلو حالات دیکھ کر کلاس انچارج بدر محمود حسن نے اسے اپنے گھر رکھ لیا، وہ اسکول کے بعد اسے گھر پر پڑھا تے، کپڑے، کھانا اور رہائش بھی فراہم کرتے تھے، اس شفیق استاد کی دو سالہ محنت رنگ لائی اور محمد اسلم نے میٹرک کے امتحان میں 850 میں سے704 نمبر حاصل کر لیے مگر وہ ایف ایس سی میں داخلہ نہ لے سکا، اس نے سبزی کی دکان پر ملازمت کی اور وہ گرمیوں میں برف بیچنے لگا،
وہاڑی کے ایک نیک سیرت ڈاکٹر احمد مسعود اکبر نے اسے اپنے کلینک پر ملازمت دے دی اور گھر میں رہائش کے لیے ایک کمرہ بھی دے دیا، یوں اس باہمت نوجوان نے ڈسپنسر ڈپلومہ کیا، ایک سا ل بعد ایف ایس سی میں گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا اور یوں ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کر گیا، اس کا نام نشتر میڈیکل کالج ملتان کی داخلہ لسٹ میں بھی آ گیا، اسکول اور کالج کے اساتذہ اکرام نے اس کے داخلہ کا بندوبست کر دیا مگر اسے میڈیکل کالج کے روز مرہ تعلیمی اخراجات اور ہاسٹل میں رہائش کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، یہ بھی کاروان علم فائونڈیشن پہنچا، فائونڈیشن نے اسے پانچ سال تک مالی اعانت فراہم کی، یہ ڈاکٹر بن گیا اور یہ اب نشتر میڈیکل کالج میں ملازمت کے ساتھ ساتھ ہارٹ سرجری میں اسپیشلائزیشن بھی کر چکا ہے۔ اور اب وہ محمد اسلم نہیں بلکہ سرجن ڈاکٹر محمد اسلم بن چکاہے۔
میرے پاس ایسی سیکڑوں کہانیاں ہیں اور ہر ایسی کہانی اشکبار کر دیتی ہے۔
یہ لوگ صرف باہمت نہیں ہوتے بلکہ اپنے ٹیلنٹ پر کام کرنے کا ان کو اندھا جنون ہوتا ہے جس کے باعث یہ آخر کار کامیابی حاصل کرکے ہی رہتے ہیں۔
آپ بھی اپنا ٹیلنٹ ڈسکور کریں اس پر اندھے جنون کے ساتھ کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کامیاب نہ ہوں۔

اپنا ٹیلنٹ ڈسکور کرنے کے لیے واٹس ایپ پر میسج کیجئے ہماری ٹیم آپ سے رابطہ کرے گی۔
📞03339987384
(کیرئیر کاؤنسلر: ایچ۔ایم۔زکریا)

08/08/2025

اپنی صلاحیتوں کا صدقہ دیں — علم، ہنر اور کردار کی روشنی پھیلائیں

یقیناً! ہم میں سے ہر فرد کسی نہ کسی صلاحیت، ہنر یا علم سے مالا مال ہوتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان صلاحیتوں کا صدقہ دیتے ہیں؟ اکثر صدقہ صرف مالی مدد سمجھا جاتا ہے، لیکن وقت دینا، علم بانٹنا، مسکراہٹ بکھیردینا، مخلص مشورہ دینا یا کسی کو ہنر سکھانا — یہ سب بھی صدقے کی اعلیٰ شکلیں ہیں۔

کبھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ کی وجہ بن جائیں،
کسی کو مفت تعلیم دے دیں،
کسی کو ہنر سکھا دیں،
کسی کے روزگار کا سبب بن جائیں،
یا صرف کسی کی بات سن لیں — تو یہ سب نیکی کا وہ رنگ ہے جو معاشرے کو روشن کرتا ہے۔

یہی وہ مقصد ہے جس پر صوت الفلاح دندہ شاہ بلاول جیسے ادارے عمل پیرا ہیں۔ نہ صرف ضرورت مندوں کی مدد، بلکہ ان کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھتے ہوئے، انہیں باعزت زندگی کی راہ دکھانا اس ادارے کی پہچان بن چکی ہے۔ آپ بھی اس کارِ خیر کا حصہ بن سکتے ہیں، بس اپنی صلاحیتوں کو کسی کے لیے آسانی کا ذریعہ بنا دیجیے۔

النور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ بھی اپنی مثال آپ ہے، جو بچوں اور بچیوں کو کمپیوٹر کی جدید تعلیم و تربیت دے کر انہیں بااختیار اور باہنر بنا رہا ہے۔ آٹھواں بیچ اس وقت اپنے آخری مہینے میں داخل ہو چکا ہے — جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ادارہ لگاتار نوجوان نسل کی رہنمائی کر رہا ہے۔

یہاں تعلیم صرف نصاب کی حد تک نہیں بلکہ تربیت، کردار، اخلاق اور عملی مہارتوں کے ساتھ دی جاتی ہے۔ مزید جدید کورسز جلد شروع کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

یاد رکھیں، تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں، یہ ایک سوچ ہے، ایک روشنی ہے، جو نسلیں بدلتی ہے۔ اگر ہم نے صرف علم ہی نہیں، بلکہ تربیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دی، تو ہم نہ صرف ایک بہتر فرد بلکہ ایک روشن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

تو آئیے!
آج سے ہم سب یہ عہد کریں کہ:

🔹 اپنی صلاحیتوں کا صدقہ دیں گے۔
🔹 کسی کی زندگی آسان بنائیں گے۔
🔹 تعلیم و تربیت کو عام کریں گے۔
🔹 نیکی کے اس سفر میں صوت الفلاح اور النور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ جیسے اداروں کا ساتھ دیں گے۔

یہ چھوٹے چھوٹے اعمال کسی کی دنیا بدل سکتے ہیں — اور وہ تبدیلی آپ سے شروع ہو سکتی ہے۔

تحریر :۔مہر محمد اعوان صاحب
پچند ویلفیئر ٹرسٹ

Address

Khuian

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Itehad Welfare Society Khuian IWSK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share