21/02/2026
آل بلتستان موومنٹ گلگت بلتستان میں آنے والے آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں انتخابات تو ہوتے ہیں، مگر اختیار عوام کے پاس نہیں ہوتا۔ فیصلے اکثر کہیں اور طے ہوتے ہیں اور نتیجہ وہی نکلتا ہے جو طاقت کے مراکز کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اس عمل نے انتخابات کو محض ایک رسمی کارروائی بنا دیا ہے۔
گلگت بلتستان آج بھی ایک واضح شناخت سے محروم ہے۔ قانون سازی کے اختیارات اور مالی خودمختاری نہ ہونے کے برابر، اور کلیدی فیصلے مقامی اسمبلی کے بجائے بیورکریسی اور دیگر اداروں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ مقامی وسائل ، معدنیات، پانی، زمین اور سیاحت ، سے فائدہ تو اٹھایا جاتا ہے، مگر مقامی آبادی کو ان پر مکمل حق اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی حاصل نہیں۔ یہ طرزِ حکمرانی نوآبادیاتی نظام کی عکاسی کرتا ہے، جہاں علاقے کو وسائل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر سیاسی اختیار منتقل نہیں کیا جاتا۔
آل بلتستان موومنٹ درج ذیل مطالبات پیش کرتی ہے:
1. انتخابات کو مکمل طور پر آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے مؤثر نگرانی اور غیر مداخلت کی ضمانت دی جائے۔
2. گلگت بلتستان کو بااختیار آئینی حیثیت دے کر قانون سازی، مالیات اور وسائل پر مکمل اختیار دیا جائے۔
3. مقامی وسائل پر پہلا حق مقامی عوام کو دیا جائے اور رائلٹی و ریونیو کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔
4. انتظامی ڈھانچے میں ایسے اختیارات ختم کیے جائیں جو منتخب نمائندوں کو کمزور اور غیر منتخب قوتوں کو بالادست بناتے ہیں۔
5. ترقیاتی منصوبوں، زمینوں کے معاملات اور بھرتیوں میں شفافیت اور مقامی نمائندگی کو لازم قرار دیا جائے۔
ہم گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی اجتماعی طاقت کو پہچانیں، نظریاتی وابستگی اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے حقوق، شناخت اور مستقبل کے لیے آواز بلند کریں۔ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں، بلکہ اپنے سیاسی اختیار کا اعلان ہے۔
آل بلتستان موومنٹ واضح کرتی ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کو مکمل سیاسی اختیار، آئینی تحفظ اور وسائل پر حقیقی حق نہیں ملتا، اس خطے میں جمہوریت ادھوری رہے گی۔ ہم نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کے خاتمے اور باوقار، بااختیار اور عوامی نظام کے قیام تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
آل بلتستان موؤمنٹ