26/08/2024
ہمارے معاشرے میں بددیانتی، بےحیائی، اور غیرسنجیدہ رویہ عام ہو چکا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ بقایا رقم کم واپس کرتے ہیں، جیسے کہ ایک دکاندار بیس روپے کم واپس کرتا ہے اور پھر کہتا ہے "آپ نے مانگے ہی نہیں، وہ تو میں نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہیں"۔ اسی طرح ایک فاسٹ فوڈ کی دکان پر پانچ روپے کم ملتے ہیں اور وہ پانچ روپے اس طرح واپس کیے جاتے ہیں جیسے آپ بھکاری ہوں۔ پٹرول پمپ پر دس روپے کم واپس کیے جاتے ہیں اور پھر ان کے لیے ایک زرد رنگ کا سکہ دیا جاتا ہے۔ یہ سب واقعات ایک دن کے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم کس حد تک بددیانت اور بےحس ہو چکے ہیں۔ یہ رویہ صرف چھوٹے پیمانے پر نہیں، بلکہ قومی سطح پر بھی نظر آتا ہے۔ بددیانتی کی یہ وبا ہر طبقے میں پھیلی ہوئی ہے، چاہے وہ تاجر ہو، سیاست دان، یا عام شہری۔ اس پر مزید شرمناک بات یہ ہے کہ ہمارے رویے میں غیرسنجیدگی اور "مٹی پاؤ" والا رویہ بھی شامل ہے، جو ہمیں اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے سے روکتا ہے۔ اس رویے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنے حقوق سے محروم ہو رہے ہیں بلکہ ایک بددیانت معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں۔