07/09/2026
لاکھن جو دڑو: سکّھر کے قریب دفن وہ شہر، جس نے 4 ہزار سال پرانی دنیا کا راز کھول دیا!
ذرا تصور کریں…
آپ آج کے مصروف سکّھر میں کھڑے ہیں۔
چاروں طرف سڑکیں، فیکٹریاں اور شہر ہے۔
لیکن آپ کے قدموں کے نیچے
ایک ایسی دنیا دفن ہے جہاں تقریباً 4 ہزار سال پہلے لوگ رہتے تھے، تجارت کرتے تھے، برتن بناتے تھے، دھات کا کام کرتے تھے اور مہارت سے خوبصورت موتی اور مہریں تیار کرتے تھے۔
اس جگہ کا نام ہے "لاکھن جو دڑو"!
یہ سندھ میں دریائے سندھ اور روہڑی پہاڑیوں کے قریب واقع وادیٔ سندھ تہذیب کا ایک انتہائی اہم قدیم شہری مرکز تھا۔ بعض مطالعات کے مطابق اس کا قدیم پھیلاؤ 300 ہیکٹر سے بھی زیادہ تھا یعنی ایک بہت بڑے شہر کے برابر۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ شہر صدیوں تک سکّھر کے نیچے اور اردگرد چھپا رہا!
1985ء میں یہ مقام اتفاقاً دریافت ہوا۔
پروفیسر قاصد ملاح اور ان کی ٹیم نے اس قدیم مقام کی نشاندہی کی، جس کے بعد ماہرین نے یہاں تحقیق شروع کی۔ بعد کے برسوں میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، جامعہ سندھ اور دیگر ماہرین نے مختلف اوقات میں کھدائیاں اور تحقیق کی۔
مگر اصل حیرت ابھی باقی تھی یہ صرف چند مٹی کے ٹیلے نہیں تھے!
کھدائی سے رہائشی علاقوں، دیواروں، نالیوں، کنویں، چولہوں، فرشوں اور مختلف تعمیراتی ڈھانچوں کے آثار ملے۔
اور مغربی حصے سے ایسی چیزیں سامنے آئیں جنہوں نے ماہرین کو بتایا کہ یہاں کاریگری اور صنعتی پیداوار بھی ہوتی تھی۔
یہاں اسٹیٹائٹ کے موتی اور مہریں بنانے کے شواہد بھی ملے
آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے سندھ کی اس بستی میں ایک کاریگر خام پتھر کو تراش کر موتی بناتا ہوگا، دوسرا مہر تیار کرتا ہوگا، اور کوئی تاجر شاید انہی اشیا کو دور دراز علاقوں تک لے جاتا ہوگا۔
پھر ملی ایک انتہائی عجیب چیز کھدائی کے دوران تانبے کی ایک انسانی شکل والی چھوٹی مورتی ملی۔
اس کے قریب موجود کوئلے کے نمونے کی ریڈیو کاربن تاریخ نے اس تہہ کو تقریباً 3960 ± 140 سال BP قرار دیا، جس کی کیلنڈر تاریخ تقریباً 2478 ± 215 قبل مسیح بنتی ہے۔ یعنی یہ مقام وادیٔ سندھ کی پختہ شہری تہذیب کے زمانے سے جڑا ہوا ہے۔
یہ چھوٹی سی تانبے کی شکل آج ہمارے لیے صرف ایک نوادرات نہیں یہ اس انسان کی خاموش گواہی ہے جو چار ہزار سال پہلے اسی سرزمین پر زندہ تھا۔
⚠ مگر سب سے افسوسناک حقیقت…!!!
جس قدیم شہر نے ہزاروں سال کا سفر طے کیا، آج اس کا بڑا حصہ جدید تعمیرات اور صنعتی سرگرمیوں کے دباؤ میں آ چکا ہے۔
سندھ کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق جدید تعمیرات نے مقام کے کئی حصوں کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ بعض قدیم آثار ہمیشہ کے لیے ضائع ہو چکے ہیں
ہماری آنکھوں کے سامنے ایک چار ہزار سال پرانی دنیا آہستہ آہستہ مٹ رہی ہے۔
اور شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے:
اگر لاکھن جو دڑو کی مکمل کھدائی کبھی نہ ہو سکی تو اس مٹی کے نیچے اور کتنی کہانیاں دفن ہیں؟
کیا وہاں ایسی چیزیں بھی چھپی ہیں جو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے بارے میں ہماری موجودہ تاریخ بدل سکتی ہیں؟
اپنی رائے Comment میں ضرور شیئر کریں اور کیا آپ نے لاکھن جو دڑو کا نام سنا تھا؟
اگر آپ کو تاریخ کے ایسے حیران کن راز پسند ہیں تو پوسٹ کو لائک، شیئر اور فالو کرنا نہ بھولیں!