River Root Valley

River Root Valley River Root Valley: Indigenous People, Environment, Rivers, Agriculture, Indigenous People Resistant

30/03/2026

A ROAD TO KHIRTHAR
Coming Soon....








22/03/2026

14 مارچ تي ”درياهن لاءِ جاکوڙ جي بين الاقوامي ڏينهن“ (International Day of Action for Rivers) جي موقعي سائين ڊاڪٽر ڪليم الله لاشاري جون فکر انگيز گھاليون
" درياهن لاءِ عمل جو هي بين الاقوامي ڏينهن رڳو ويهي ماتم ڪرڻ يا پنهنجي وسيلن جي برباديءَ تي افسوس ظاهر ڪرڻ لاءِ ناهي، بلڪہ هي ڏينهن اسان کي ياد ڏياري ٿو تہ اسان کي ماضيءَ جي غلطين تي لڙڪ وهائڻ بدران، پنهنجي درياهن، نئيَن ۽ قدرتي لنگهن کي بچائڻ لاءِ عملي جدوجھد ۽ جاکوڙ جي شروعات ڪرڻي پوندي.

تقرير جو پھريون حصو 01
پليز لائیک اينڊ شيئر













ایشیا میں ہماری تہذیب کی بنیاد ندیوں پر ہے۔ یہ تہذیب اپنے مختلف ناموں کے ساتھ پتھر کے دور سے اس خطے میں لوگوں کو شعور دی...
22/03/2026

ایشیا میں ہماری تہذیب کی بنیاد ندیوں پر ہے۔ یہ تہذیب اپنے مختلف ناموں کے ساتھ پتھر کے دور سے اس خطے میں لوگوں کو شعور دیتی چلی آئی ہے۔ انسانوں نے بہت سے تجربات کیے اور ان کی روشنی میں دیکھا کہ ندیاں ہمیں دانائی، زندگی، تحفظ اور نشوونما کے سامان مہیا کر سکتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ گروہ در گروہ ندیوں کے کناروں پر آباد ہو گئے۔

Read more click below link

(دریاؤں کی جدوجہد کے عالمی دن کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا، گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے 16 مارچ 2026 کو کونکر لائبریری گڈاپ میں ایک پر...

18/03/2026

دریاؤں کی بقا اور زمین کی مزاحمت
(14 مارچ ـ دریاؤں کے تحفظ کے عالمی دن کے موقع پر سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے مرکزی جرنل سیکٹری حفیظ بلوچ کا خطاب)


مگر دریا صرف پانی نہیں ہوتے۔
وہ زمین کی یادداشت ہوتے ہیں۔
جب زمین کے اصل لوگ اپنے دریاؤں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو دریا بھی مزاحمت کا راستہ بن جاتے ہیں۔
اسی لیے آج دنیا بھر میں دریاؤں کی تحریکیں صرف ماحولیات کی تحریکیں نہیں رہیں بلکہ انڈیجینئس مزاحمت کی تحریکیں بن چکی ہیں۔
سندھ میں بھی دریاؤں کا سوال اب صرف پانی کا سوال نہیں بلکہ زمین، شناخت اور انصاف کا سوال ہے۔

















15/03/2026

دریاؤں کے لیے جدوجہد کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی پروگرام
"مکمل پروگرام کا ویڈیو"

14 مارچ کو International Day of Action for Rivers کے موقع پر سندھ گریجیویٹس ایسوسیئیسن (گڈاپ برانچ) اور سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کی جانب سے کؤنکر پبلک لائیبریری کؤنکر گڈاپ میں ایک خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انہیں درپیش خطرات کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا تھا۔
پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، ادیبوں اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر کلیم اللّٰہ لاشاری، ڈاکٹر پرقیسر رخمان گل پالاری، ایڈوکیٹ کاظم حسین مہیسر، حفیظ بلوچ، اور رشد واڈیلو شامل تھے۔
پروگرام کے خصوصی مقرر، معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر کلیم اللّٰہ لاشاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دریاؤں کے لیے عمل کے اس بین الاقوامی دن کا مقصد صرف بیٹھ کر ماتم کرنا یا اپنے وسائل کی بربادی پر افسوس ظاہر کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں پر آنسو بہانے کے بجائے اپنے دریاؤں، ندیوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کو بچانے کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف باتوں سے ماحولیاتی تباہی نہیں رکے گی، بلکہ ہر فرد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے عملی میدان میں آنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور سرسبز سندھ دیا جا سکے۔
مقرّرین نے سندھ کی تہذیب میں دریاؤں اور ندیوں کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے گڈاپ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ندیوں پر ہونے والے قبضوں، ریت کی غیر قانونی کھدائی اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی پانی کے وسائل کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
مقرّرین نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آگے آئیں اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ دریاؤں اور ندیوں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے اور اس طرح کے پروگرام صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہ رہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی مہم کے طور پر جاری رکھے جائیں۔
یہ پروگرام گڈاپ کے علاقے میں ماحولیاتی شعور کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں مقامی لوگوں اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے قدرتی وسائل سے محبت اور وابستگی کا اظہار کیا۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس























Sindh Government CM Sindh

03/03/2026

میرا پیغام ملیر واسیوں، زمینداروں، کسانوں سندھ کے مقتدرہ حلقوں اور منتخب نمائندوں کے نام ـ
آج ملیر اپنے بقا کے سوال سے دوچار ہے، آئیئے سب مل کر ملیر کے گرین زون، ملیر کے انڈیجینئس مقامی لوگوں اور کراچی کے ماحولیاتی تحفظ کے لیئے متحد ہو آواز اٹھائیں ـ میرا یہ پیغام جہاں تک جائے جس کے سامنے آئے اسے آگے پیھلائیں ـ
حفیظ بلوچ
سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس



16/02/2026

گڏاپ "ملير" ڪراچي جو زرعي علائقو
شاهه نواز بلوچ سان ڳالهيون
شاهه نواز بلوچ هڪ پڙهيل لکيل زميندار ۽ آبادگار
گڏاپ ۾ زرعي شعبي کي درپيش مسئلا، سرڪار جي بي ڌياني، ريتي بجري جي غير قانوني کوٽائي سبب بنجر ٿيندڙ زمينون، سولر انرجي جا چئلينج، ۽ سبزي منڊي ۾ آبادگارن کي پيش ايندڙ تڪليفون ـ
مهرباني ڪري لائڪ، ڪمينٽ ۽ شيئر ڪريو.

















CM Sindh . Sindh Government

05/02/2026

The proposed M-10 project passing through Kirthar National Park will have devastating consequences for the park and the entire region. It threatens wildlife habitats, natural water channels, and fragile ecosystems that have evolved over centuries. Large-scale construction will accelerate deforestation, soil erosion, and loss of biodiversity. The project may also disrupt the livelihoods of local communities dependent on this natural environment. Overall, it poses a serious risk to the ecological balance of Kirthar and its surrounding areas.











ناکو داد رحیم بلوچ ـ داد رحیم وت زمیندارءِ، کشتءُ کشاریءِ زانت کارءِ ـ ناکوءَ گوں اے دیوان ملیرءِ ذراعتءَ بلوچ راجءِ کرد...
04/02/2026

ناکو داد رحیم بلوچ ـ داد رحیم وت زمیندارءِ، کشتءُ کشاریءِ زانت کارءِ ـ ناکوءَ گوں اے دیوان ملیرءِ ذراعتءَ بلوچ راجءِ کردءَ ابید ملیرءِ کشتءُ کشاریءِ تاریخ انیگیں جاؤر ھال ـ الما بیچاریت ـ مئے اے یوٹیوب چینلءَ سبسکرائیب کنگءَ بےھال مہ بیتءُ ویڈیوءِ شیئر کنگءَ ہم ـ

In this interview, we talk about the destruction of Malir’s agricultural lands, illegal sand and gravel mining, and the environmental threats caused by rapid...

04/02/2026

پروفيسر علي نواز جوکيو سان ڪچهري
ملير جي زرعي زمينن جي تباهي، ريتي ۽ بجري جي غيرقانوني مائيننگ،
۽ ملير جي آبادگارن کي زرعي زمينن جا مالڪانا حق نه ملڻ
۽ زرعي زمينن جي ليز جي بحالي بابت
قانوني ۽ سياسي جدوجهد تي هڪ سلسليوار ڳالهه ٻولهه۔





























CM Sindh

29/01/2026

بھٹو ایکسپریس وے، بحریہ ٹاؤن کراچی، ڈی ایچ اے کراچی اور ایجوکیشن سٹی میں آپس کا کیا کنیکشن ہے اور تباہی کس کی ہونی ہے ـ سرمایہ داروں کا سرمایہ اہمیت رکھتا ہے اور ملیر دریا، ملیر کا گرین زون اور ماحولیاتی تباہی؟

What is the connection between the Bhutto Expressway, Bahria Town Karachi, DHA Karachi, and Education City and whose destruction is actually being planned?
Does the capital of investors matter more, or the Malir River, Malir’s green zone, and the looming environmental catastrophe?















27/01/2026

میں حفیظ بلوچ، آپ سب کو اپنے نئے فیس بک پیج میں خوش آمدید کرتا ہوں.ـ اس کے ساتھ آج ہم اپنے نئے یوٹیوب چینل کا اعلان کا بھی اعلان کر رہے ہیں، ہم پچھلے بارہ سال سے جس انڈیجینئس، انوائیرمنٹ جہدوجہد سے وابسطہ ہو کر ملیر دریا، ان سے جڑے ہوئے ندیوں، کیرتھرنیشنل پارک کے تحفظ کے لیئے جہدوجہد کر رہے ہیں، آگہی کے لیئے اپنے احتجاجی اور آگہی پروگرامس کی ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے ہیں، اب ایک یوٹیوب چینل کے ذریعے آرگنائیز طرہقے سے اپنا پیغام اپنے آگہی اور جہدوجہد کے حوالے سے ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہیں گے ـ
آپ سب دوستوں سے اپیل ہے کہ ہمارے یو ٹیوب چینل کو لائیک اور سبسکرائیب کریں ـ ہمارے جہدوجہد کو سپورٹ کریں
یوٹیوب کا لنک یہاں شیئر کر رہا ہوں

https://youtube.com/?si=dTYuXJku6tlTObHT

آپ اس لنک پہ کلک کر کے ہماری یوٹیوب چینل میں ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں ـ
اس فیس بک کے ذریعے ہم اپنے ویڈیوز کے بارے میں بتاتے رہیں گے ـ
شکریہ










Address

Karachi
75350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when River Root Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share