26/08/2026
🌿 سیرت النبی ﷺ
شمائلِ محمدیہ کی روشنی میں
اپنے نبی ﷺ کو پہچانیے
قسط نمبر 4
رسول اللہ ﷺ کی مبارک گفتگو
آپ ﷺ کی گفتگو مختصر، واضح، دل نشین اور حکمت سے بھرپور ہوتی تھی۔
📖 حدیث
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:
كَانَ كَلَامُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَلَامًا فَصْلًا، يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ.
🇵🇰 ترجمہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"رسول اللہ ﷺ کی گفتگو ایسی واضح اور جدا جدا ہوتی تھی کہ جو شخص اسے سنتا، اسے اچھی طرح سمجھ لیتا تھا۔"
📚 حوالہ:
الشمائل المحمدیہ للإمام الترمذی
باب: ما جاء في كلام رسول الله ﷺ
✨ پیغام
رسول اللہ ﷺ کی گفتگو میں نہ بے جا طوالت ہوتی تھی اور نہ ایسی پیچیدگی کہ بات سمجھنے میں دشواری ہو۔ آپ ﷺ نہایت واضح، حکمت بھری اور موقع کے مطابق گفتگو فرماتے تھے۔
آپ ﷺ کی مبارک سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ گفتگو صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ انسان کے اخلاق اور شخصیت کا آئینہ بھی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ بات کرتے وقت سچائی، نرمی، وضاحت اور حسنِ اخلاق کو اختیار کریں اور ایسی گفتگو سے بچیں جو کسی کے دل کو تکلیف پہنچائے۔
رسول اللہ ﷺ کی مبارک شخصیت کا ہر پہلو ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی گفتگو بھی آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق، حکمت اور شفقت کی عکاس تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی گفتگو واضح اور ایسی ہوتی تھی کہ سننے والا اسے آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔
آج ہماری گفتگو میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہو جاتی ہیں جو نہ ہمارے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں اور نہ دوسروں کے لیے۔ کبھی الفاظ کسی کے دل کو زخمی کر دیتے ہیں اور کبھی غیر ضروری گفتگو تعلقات میں دوری پیدا کر دیتی ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری زبان بھی ہمارے اخلاق کی نمائندہ ہے۔ اس لیے گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کا انتخاب، لہجہ اور مخاطب کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔
آئیے! آج ہم عہد کریں کہ اپنی گفتگو کو سچائی، نرمی اور حسنِ اخلاق سے مزین کریں گے اور اپنے نبی کریم ﷺ کے مبارک طریقۂ گفتگو کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
🤲 دعا
اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُسْنَ الْكَلَامِ، وَحُسْنَ الْأَخْلَاقِ، وَمَحَبَّةَ نَبِيِّكَ ﷺ، وَحُسْنَ اتِّبَاعِ سُنَّتِهِ. آمين۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ کی پیروی اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔