11/06/2026
ہم سندھ ڈیجیٹل میڈیا فورم کے پلیٹ فارم سے مسلسل آگاہی دے رہے ہیں کہ بیشتر کال سنٹرز پاکستان سے بیرون ملک فراڈ میں ملوث ہوتے ہیں نوجوان اس کال سنٹر کا ٹارگٹ ہوتے ہیں انھیں پر کشش تنخواہیں اور مراعات اور کمیشن کا لالچ دے کر نوکریاں دی جاتی ہیں اور پھر ان سے دو نمبر کام لیا جاتا ہے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے بھی مسلسل متنبہ کیا جا رہا ہے کہ کال سنٹرز کی جاب اپنائی کرنے سے قبل کمپنی کے بارے میں تحقیق ضرور
کال سینٹر میں نوکری ملتے ہی خوش نہ ہو جائیں، پہلے یہ ضرور جان لیں کہ آپ سے کیا کروایا کیا جائے گا۔
بدقسمتی سے بعض کال سینٹرز نوجوانوں کو پرکشش تنخواہوں، بھاری کمیشن اور غیر معمولی مراعات کا لالچ دے کر بھرتی کرتے ہیں، لیکن بعد میں انہی نوجوانوں کو بیرونِ ملک شہریوں کے ساتھ فراڈ، دھوکہ دہی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
چند ہزار روپے اضافی کمانے کی خواہش نوجوانوں کا کیریئر، ساکھ اور مستقبل خطرے میں ڈال رہی ہے
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی بھی مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ کسی بھی کال سینٹر یا آن لائن جاب کو قبول کرنے سے پہلے کمپنی کی کاروباری سرگرمیوں کی مکمل جانچ پڑتال ضرور کریں۔