Street Animal Saviour

Street Animal Saviour Promoting kindness for stray animals, raising awareness, advocating, educating and inspiring change
(1)

31/05/2026

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے بہت سی عبادات کی اصل روح کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ قربانی جو اطاعت، تقویٰ، ایثار اور اللہ کی رضا کا درس دیتی ہے، اسے بعض لوگوں نے تفریح، نمائش اور تماشے میں بدل دیا ہے۔

اس سال قربانی کے دنوں میں ایسی بے شمار ویڈیوز سامنے آئیں جنہوں نے دل کو افسردہ کر دیا

کہیں جانوروں کو زبردستی کھانا کھلایا جا رہا تھا تاکہ وہ زیادہ موٹے نظر آئیں، کہیں انہیں گھنٹوں دھوپ میں باندھ کر رکھا گیا، اور کہیں اتنی چھوٹی رسیوں سے باندھا گیا کہ وہ نہ آرام سے بیٹھ سکتے ، نہ اپنا سر اوپر کر سکتے، نہ صحیح طریقے سے کھا سکتے تھے

ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ایک بےزبان جانور کے ساتھ ایسا سلوک کرنا درست ہے؟

اور اس سے بھی زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب جانوروں پر رحم کی بات کی جائے، ان کے حقوق کی بات کی جائے، یا ان کے ساتھ بہتر سلوک کی تلقین کی جائے تو لوگوں کو یہ بات کڑوی لگتی ہے۔
حالانکہ سچ ہمیشہ میٹھا نہیں ہوتا۔

30/05/2026

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے اپنے بہت سے اسلامی تہواروں کی اصل روح کو بھلا کر انہیں رسم و رواج اور نمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
قربانی، جو حضرت ابراہیمؑ کی عظیم سنت، اطاعت، ایثار اور اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی علامت ہے، آج بہت سی جگہوں پر ایک تماشے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کی ریلیاں نکالی گئیں ، ان کے اردگرد ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا، آتش بازی کی گئی ، شور شرابہ کیا جاتا رہا
یہ سنت ابراھیمی تھی یا تماشا؟

ذرا سوچیے، کیا یہی وہ قربانی ہے جس کا درس اسلام دیتا ہے؟

26/05/2026

رحم کا تعلق صرف قربانی کے جانوروں کے ساتھ نہیں ہے، رحم ہر اُس بےزبان مخلوق کے لیے ہونا چاہیے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے۔

ہم قربانی کے دنوں میں جانوروں کو کھلاتے ہیں، ان کا خیال رکھتے ہیں، ان پر ہاتھ پھیرتے ہیں، کیونکہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ ثواب ہے۔
لیکن اسلام صرف ایک خاص دن یا ایک خاص جانور پر رحم کرنا نہیں سکھاتا، اسلام ہر جاندار پر شفقت سکھاتا ہے۔

گلی میں بھوکا کتا، پیاسی بلی، زخمی پرندہ، یا سڑک کنارے تڑپتا جانور… یہ سب بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔

ان پر ظلم کرنا، انہیں مارنا، زہر دینا، یا بھوکا رکھنا… یہ انسانیت نہیں۔

قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اور نبی ﷺ نے بھی ہر مخلوق کے ساتھ نرمی، شفقت اور اچھے سلوک کی تعلیم دی۔

24/05/2026

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ دین صرف عبادات کا نام ہے، حالانکہ اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ “رحم” ہے۔

اسلام نے جانوروں کو مارنے، بھوکا رکھنے، تکلیف دینے، اور ان پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔
ایک پیاسے کتےکو پانی پلانے والی عورت کو بخش دیا گیا، اور ایک بلی کو بھوکا مارنے والی عورت کے لیے عذاب دیا گیا۔

سوچیے… جہاں ایک جانور کی بھوک اور پیاس کا حساب ہوگا، وہاں ہم کس طرح خود کو بےقصور سمجھ لیتے ہیں؟

ہم قربانی کے جانوروں کو پیار کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ثواب چاہیے، لیکن کیا سارا سال کسی زخمی جانور کی مدد کرنا ثواب نہیں؟
کیا ایک بےزبان کو پانی دینا عبادت نہیں؟

اسلام صرف عید کے دن رحم نہیں سکھاتا، اسلام ہر دن رحم سکھاتا ہے۔
اگر آپ واقعی اللہ کی رضا چاہتے ہیں، تو صرف انسانوں پر نہیں، اللہ کی ہر مخلوق پر رحم کریں۔
کیونکہ جو زمین والوں پر رحم کرتا ہے، آسمان والا اس پر رحم کرتا ہے۔

24/05/2026
23/05/2026

لوگ جانوروں میں فرق کیوں کرتے ہیں؟
یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ لوگ جانوروں کو بھی “اہم” اور “غیر اہم” میں بانٹ دیتے ہیں۔

جو جانور مہنگا ہو، خوبصورت ہو، نسل والا ہو، یا مذہبی موقع سے جڑا ہو… اس کے لیے لوگوں کے دل نرم ہو جاتے ہیں۔
لیکن جو جانور گلی میں پیدا ہوا، جو بیمار ہے، جو بھوکا ہے، جو بےسہارا ہے… اسے لوگ حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔

حالانکہ درد سب کو ایک جیسا ہوتا ہے۔
ایک بکری کو مارا جائے تو لوگ شور مچاتے ہیں، لیکن ایک گلی کے کتے کو پتھر مار کر زخمی کر دیا جائے تو لوگ ہنستے ہیں۔

قربانی کے جانور کے لیے ٹھنڈا پانی رکھا جاتا ہے، لیکن گرمی میں پیاس سے تڑپتی بلی کو لوگ بھگا دیتے ہیں۔
یہ فرق جانوروں میں نہیں… یہ فرق انسانوں کے دلوں میں ہے۔

ہم نے رحم کو بھی موقعوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔💔
حالانکہ رحم کسی خاص جانور، نسل یا دن کا محتاج نہیں ہوتا۔
جو انسان کمزور مخلوق پر ظلم کرتا ہے، وہ دراصل اپنی انسانیت کھو دیتا ہے۔
اگر آپ واقعی اچھے انسان ہیں، تو آپ ہر بےزبان کے لیے نرم دل ہوں گے۔ چاہے وہ قربانی کا جانور ہو، یا گلی کا بھوکا کتا۔

18/05/2026

ہماری ٹیم کراچی کے مختلف علاقوں میں بے زبان جانوروں کے لیے پانی کے برتن (واٹر پوٹس) لگانےکا کام کر رہی ہے تاکہ وہ گرمی میں آسانی سے پانی پی سکیں۔ حال ہی میں ہمارے پاس موجود تمام پوٹس ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد ہم نے مارکیٹ سے نئے پوٹس خریدے۔

اس کے بعد ہم نے دو پوٹس شادمان کے علاقے، انڈا موڑ کے قریب نصب کیے۔ وہاں سے ہمیں ایک شخص نے رابطہ کیا جو “ٹیم نقاب پوش” کے نام سے پلانٹیشن کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وہاں پودے لگائے ہیں اور ہمیں کہا کہ ہم اسی جگہ بے زبان جانوروں کے لیے پانی کے پوٹ رکھ دیں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ جب وہ پودوں کو پانی دیں گے تو ساتھ ہی ان پوٹس میں بھی بھر دیا کریں گے، تاکہ یہ بے زبان جانور بھی آسانی سے پانی پی سکیں

میں سب سے گزارش ہے کہ اپنے گھروں، دکانوں یا گلی میں بھی ایک برتن پانی کا ضرور رکھیں تاکہ یہ بے زبان مخلوق اس شدید گرمی میں پیاس سے محفوظ رہ سکے۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Street Animal Saviour posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share