02/12/2025
1. پاکستان میں لیبر قوانین صرف دکھاوے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
2. یہ قانون کتابوں میں مضبوط ہیں مگر حقیقت میں ان کی کوئی عزت نہیں۔
3. نجی کمپنیاں ان قوانین کو اپنے پاؤں تلے روندنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھاتیں۔
4. ورکر کو حق دینا تو دور، اسے انسان سمجھنا بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
5. تنخواہ دینا احسان نہیں، قانون ہے مگر ادارے اسے زبردستی احسان بنا دیتے ہیں۔
6. دیر سے تنخواہ دینا عام معمول بن چکا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں۔
7. اوور ٹائم کروایا جاتا ہے مگر پیسہ دینا کمپنی کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
8. یہ سیدھا سیدھا قانون شکنی ہے، پھر بھی سب خاموش ہیں۔
9. سوشل سکیورٹی اور EOBI کا نام صرف رجسٹر میں ہوتا ہے، حقیقت میں کچھ نہیں ملتا۔
10. کئی ورکر برسوں کام کرتے ہیں مگر ایک دن کی سیکیورٹی تک نہیں ملتی۔
11. ادارے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ ورکر کمزور ہے اور کہیں نہیں جا سکتا۔
12. ورکر سے دستخط کروا کر فائدے چھین لیے جاتے ہیں۔
13. اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ خاموشی اختیار کرے نہیں تو دروازہ نظر دکھا دیا جائے گا۔
14. یہ دھونس، یہ دباؤ، یہ بلیک میلنگ سب کھلے عام ہو رہی ہے۔
15. قانون اس ملک میں ہے مگر اس پر عمل کوئی نہیں کرتا۔
16. ادارے اپنی مرضی کے راج چلاتے ہیں۔
17. ورکر کو محض ایک نمبر سمجھا جاتا ہے، انسان نہیں۔
18. اگر وہ حق مانگ لے تو اسے “نئے بندے آ جائیں گے” کا ڈر دکھایا جاتا ہے۔
19. یہ سوچ مزدور دشمن ہے اور ملک دشمن بھی۔
20. کیونکہ جس ملک میں مزدور کمزور ہو وہاں ترقی صرف ایک خواب رہ جاتی ہے۔
21. ادارے ورکر کا پسینہ نچوڑ کر کماتے ہیں مگر اس کا حق ادا کرنا گوارا نہیں کرتے۔
22. یہ زیادتی سالوں سے جاری ہے اور ہر سال بڑھ رہی ہے۔
23. ورکر کی آواز دبانے کے لیے انتظامیہ پوری طاقت استعمال کرتی ہے۔
24. شکایت کرنے پر ورکر کے خلاف پلان بنا دیا جاتا ہے۔
25. اس کی نوکری خطرے میں ڈال دی جاتی ہے۔
26. اسے ثبوت لانے کو کہا جاتا ہے، مگر ثبوت دینے کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
27. اس ملک میں قانون کمزور نہیں ہے، نیت کمزور ہے۔
28. ادارے جانتے ہیں کہ کوئی ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
29. اسی وجہ سے وہ کھلے عام قانون توڑتے ہیں۔
30. ورکر کو اس حق تک رسائی نہیں جس کی اسے ضمانت دی گئی ہے۔
31. ایسا لگتا ہے جیسے قانون صرف مالک کے لیے بنایا گیا ہے، مزدور کے لیے نہیں۔
32. یہ تاثر خطرناک ہے اور اداروں کی بددیانتی کا ثبوت ہے۔
33. ورکر اگر ایک دن کے لیے رک جائے تو فیکٹری رک جاتی ہے۔
34. مگر مالک کی بے حسی نہیں رکتی۔
35. جب تک قانون کو سختی سے نافذ نہیں کیا جائے گا صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔
36. اداروں کو جواب دہ بنانا پڑے گا۔
37. ورکر کو ڈر سے آزاد کرنا پڑے گا۔
38. ورکر کی عزت، حفاظت اور حق اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
39. اور جو قوم اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ دے، وہ کبھی کھڑی نہین ہو سگتی۔