Kaam Ke Baatain

Kaam Ke Baatain Lets deliver better for society and burn CANDLE of our part in DARK.

26/05/2025

اچھی صحت۔ سب سے بہترین سرمایہ کاری
اچھی صحت زندگی کی سب سے بڑی اور قیمتی سرمایہ کاری ہے۔ گذشتہ دو آرٹیکلز میں، میں نے صحت کے مختلف مراحل پر گفتگو کی تھی لیکن آج جس مرحلے کا ذکر کر رہا ہوں وہ سب سے زیادہ اہم اور نازک ہے۔ یعنی ڈی جنریشن فیز۔جو کہ عموماً چالیس سے ساٹھ سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے۔
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب زندگی اپنی پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔ ہماری خاندانی، پیشہ ورانہ اور سماجی ذمہ داریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم، مستقبل، شادی، والدین کی دیکھ بھال، کاروبار یا ملازمت کے دباؤ اور سماجی تقاضوں میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ اپنی صحت کو سب سے پیچھے رکھ دیتے ہیں، سب سے کم اہمیت دیتے ہیں۔ ہماری خوراک غیر متوازن ہو جاتی ہے، جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہیں، نیند پوری نہیں ہوتی، ذہنی دباؤ مسلسل بڑھتا ہے اور ہم خود کو ''مصروفیت کی مجبوری'' کہہ کر تسلی دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم کے تمام بڑے نظام جیسے دل، جگر، گردے، ہاضمہ، دماغ، ہڈیاں، پٹھے، اعصاب اور قوتِ مدافعت، خاموشی سے کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب ہمیں اس کمزوری کا احساس ہوتا ہے تب اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔اور کھبی کھبار واپسی بھی ممکن نہیں ہوتی۔
ہم عمر کے اس حصے میں کبھی کبھار مجبور بھی ہو جاتے ہیں کہ صحت پر خرچ کرنے کے بجائے دوسرے معاملات کو ترجیح دیں۔ کبھی ہمیں مالی، خاندانی یا دیگر وقتی مجبوریوں کی بنا پر اپنی صحت کے تقاضوں کے ساتھ سمجھوتا (compromise) بھی کرنا پڑتا ہے۔ بظاہر یہ فیصلے وقتی اور معقول لگتے ہیں لیکن اکثر ہمیں ان کی بہت بھاری قیمت بعد میں ادا کرنا پڑتی ہے، جسمانی تکالیف، دوسروں پر انحصار اور بھاری مالی اخراجات کی صورت میں۔
سب سے ضروری ہے کہ ہم اپنی صحت کو ترجیح دیں اور اسے زندگی کی سب سے اہم سرمایہ کاری سمجھیں۔ ہم زندگی میں کئی چیزوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جیسے جائیداد، کاروبار، بچت، بچوں کی تعلیم، گاڑیاں، سونا وغیرہ۔ لیکن اگر صحت ساتھ نہ ہو تو یہ سب چیزیں بیکار ہو جاتی ہیں۔ بیمار انسان ان سب سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔المیہ یہ ہے کہ اکثر بیماریاں انسان کی سالوں کی جمع پونجی ختم کر دیتی ہیں۔لوگ اپنا مکان تک بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، قرضے چڑھ جاتے ہیں، آنے والی نسلیں مقروض ہو جاتی ہیں مگر صحت پھر بھی واپس نہیں آتی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان سوچتا ہے کہ کاش!!! وقت پر سمجھ جاتا، کاش!!! پہلے اپنی صحت پر توجہ دے لیتا۔
اس لیے لازم ہے کہ ہم اس درمیانی عمر میں اپنی صحت پر شعوری طور پر توجہ دیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ ہے کہ ہم اپنی خوراک کو سنجیدگی سے لیں۔ صحیح خوراک ہے کیا؟ اسے کیسے پہچانا جائے؟ اسے کیسے اپنایا جائے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہمیں اس کا علم حاصل کرنا ہوگا، سیکھنا ہوگا، تجربہ کرنا ہوگا۔ اس اہم موضوع پر میں نے صحت مند خوراک کے اصولوں، اقسام، فوائد اور عملی طریقوں پر مبنی تفصیلی آرٹیکلز کی سیریز تحریر کی ہے اسے ضرورپڑھیں۔ یہ تحریریں آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دیں گی کہ عمر کے اس اہم مرحلے میں آپ کو کیا کھانا چاہیے، کس مقدار میں کھانا چاہیے اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
خوراک میں دانشمندی ہی وہ کنجی ہے جو ڈاکٹروں، دواؤں اور اسپتالوں سے بچا سکتی ہے۔ چالیس سے ساٹھ سال کی عمر دراصل بڑھاپے کی تیاری کا سنہری وقت ہے۔ جو اس وقت میں سنجیدگی سے اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں وہ نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ خودمختار، باوقار اور بامقصد بڑھاپا گزارتے ہیں۔ آج کی دانشمندی کل کی راحت ہے، آج کی توجہ کل کی آزادی ہے اور آج کی سرمایہ کاری کل کا سکون اور اچھی صحت ہے۔

Address

Karachi
74000

Telephone

3332084923

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kaam Ke Baatain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Kaam Ke Baatain:

Share