Afzal O Zikr

Afzal O Zikr Wellcome to the Co Founder show
"Jahan ideas bantey hain reality"

تم ہمارا چمپئن ٹرافی خراب کرو اور ہم تمہارا ورلڈکپ سکون سے ہونے دیں ( ایسا تو نہیں ہوسکتا 🇵🇰💪) تمہارے پلیئرز کو خطرہ ہے ...
05/02/2026

تم ہمارا چمپئن ٹرافی خراب کرو اور ہم تمہارا ورلڈکپ سکون سے ہونے دیں ( ایسا تو نہیں ہوسکتا 🇵🇰💪) تمہارے پلیئرز کو خطرہ ہے اور ہمارے پلیئرز کو خطرہ نہیں ( ایسا تو نہیں ہوسکتا 🇵🇰💪) تمہارے گورنمنٹ کہیں نہیں کھیلنا پاکستان کے ساتھ اور ہمارے گورنمنٹ کہیں نہیں کھیلنا بھارت کے ساتھ اور ہم پھر بھی کھیلے ( ایسا تو نہیں ہوسکتا 🇵🇰💪) تم بنو چوہدری اور ہمیں نہ بننے دو ( ایسا تو نہیں ہوسکتا 🇵🇰💪) ایسا تو نہیں ہوسکتا 🇵🇰💪 🎉💥👏

05/02/2026

Afzal O Zikr         🌟💫🌈
04/02/2026

Afzal O Zikr 🌟💫🌈

Afzal O Zikr
04/02/2026

Afzal O Zikr

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا،تو انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئ...
03/02/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا،
تو انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟
اس نے کہا: میں لوگوں کے ساتھ قرض کا معاملہ کرتا تھا،
اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ تنگدست کو مہلت دیں
اور خوشحال کے ساتھ نرمی برتیں۔”

📚 حوالہ:
صحیح مسلم، حدیث نمبر: 3993

یہ حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اخلاقی رویّے اور بندوں کے ساتھ آسانی کتنی بڑی نیکی ہیں۔ اس شخص نے نہ کسی بڑی عبادت کا ذکر کیا، نہ کثرتِ نوافل کا، بلکہ اس نے صرف یہ بتایا کہ وہ مالی معاملات میں لوگوں پر سختی نہیں کرتا تھا۔

اسلام صرف مسجد اور عبادت گاہ تک محدود نہیں، بلکہ بازار، لین دین، قرض اور روزمرہ معاملات بھی دین کا اہم حصہ ہیں۔ جو شخص تنگدست کی مجبوری کو سمجھتا ہے، اسے مہلت دیتا ہے اور خوشحال کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آتا ہے، وہ دراصل اللہ کی صفتِ رحمت کی ایک جھلک بن جاتا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے ساتھ خاص معاملہ فرماتا ہے اور ان کی معمولی سمجھی جانے والی نیکیوں کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔

فرض کریں ایک شخص نے کسی سے قرض لیا اور وقت پر ادا نہ کر سکا۔ ایک قرض دینے والا سختی کرتا ہے، بار بار تقاضے کرتا ہے اور ذلت کا احساس دلاتا ہے۔
جبکہ دوسرا قرض دینے والا کہتا ہے:
مجھے معلوم ہے تم مشکل میں ہو، جب آسانی ہو جائے تب ادا کر دینا۔

یہ دوسرا شخص بظاہر صرف نرمی کر رہا ہے، مگر حقیقت میں وہ اللہ کی رحمت کو دعوت دے رہا ہے۔ قیامت کے دن یہی نرمی اس کے لیے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے، جیسے اس حدیث میں بیان ہوا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابنِ آدم کی سعادت (نیک بختی) ہے۔”📚 حوالہ:جامع الترمذی، حدیث نمبر: 2151...
03/02/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابنِ آدم کی سعادت (نیک بختی) ہے۔”

📚 حوالہ:
جامع الترمذی، حدیث نمبر: 2151

یہ مختصر مگر نہایت گہری حدیث ہمیں حقیقی خوش نصیبی کا راز بتاتی ہے۔ دنیا میں ہر انسان آزمائشوں، کمیوں اور ناگہانی حالات سے گزرتا ہے، مگر اصل سعادت یہ نہیں کہ انسان کو ہر چیز اپنی مرضی کے مطابق مل جائے، بلکہ اصل نیک بختی یہ ہے کہ انسان اللہ کے فیصلے پر دل سے راضی رہے۔

اللہ کے فیصلے پر راضی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے یا دکھ درد محسوس نہ کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ یہ یقین رکھے کہ جو کچھ اللہ نے اس کے لیے چنا ہے وہ حکمت اور بھلائی پر مبنی ہے، چاہے اس کی سمجھ میں فوراً نہ آئے۔ یہی رضا انسان کے دل کو سکون دیتی ہے اور اسے بے چینی، حسد اور شکوے سے بچا لیتی ہے۔

فرض کریں ایک شخص کسی اچھی ملازمت کی پوری کوشش کرتا ہے، مگر اسے وہ نوکری نہیں ملتی۔ ایک شخص اس پر شکوہ، مایوسی اور دل ہی دل میں اللہ سے ناراضی اختیار کر لیتا ہے، جبکہ دوسرا شخص یہ کہتا ہے:
میں نے کوشش کی، اب اللہ کا فیصلہ بہتر ہوگا۔
وہ دل میں اطمینان رکھتا ہے، صبر کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، اور کچھ عرصے بعد اللہ اسے اس سے بہتر راستہ عطا کر دیتا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جو حقیقت میں سعادت مند ہے، کیونکہ اس کا دل اللہ کی رضا سے جڑا ہوا ہے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کو
01/02/2026

دنیا بھر کے مسلمانوں کو

Afzal O Zikr           💕🌟👏💖
01/02/2026

Afzal O Zikr 💕🌟👏💖

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:“جس شخص نے اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا، اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) تاجِ شاہی پہنائے گا۔”حوالہ: س...
01/02/2026

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص نے اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا، اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) تاجِ شاہی پہنائے گا۔”

حوالہ: سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: 4778

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے نکاح کی نیت اور مقصد کی غیر معمولی اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔ نکاح محض ایک سماجی یا خاندانی معاہدہ نہیں بلکہ اگر اسے اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو یہ عظیم عبادت بن جاتا ہے۔ “اللہ کی رضا کے لیے نکاح” کا مطلب یہ ہے کہ انسان نکاح کے ذریعے اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرے، حرام سے بچے، سنت کو زندہ کرے اور ایک صالح خاندان کی بنیاد رکھے۔

اللہ تعالیٰ کا ایسے شخص کو “تاجِ شاہی” پہنانا اس بات کی علامت ہے کہ نکاح کو عبادت سمجھ کر اختیار کرنے والا بندہ اللہ کے نزدیک عزت، شرف اور بلند مقام پاتا ہے۔ یہ تاج دنیاوی بادشاہی کا نہیں بلکہ آخرت کی عزت اور کامیابی کا نشان ہے، جو صرف اخلاص اور صحیح نیت کے بدلے عطا کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک نوجوان نکاح اس لیے کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم پر عمل کرے، اپنی نگاہ اور کردار کی حفاظت کرے اور ایک ذمہ دار، پاکیزہ زندگی گزارے۔ وہ نکاح کو محض خواہش یا دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔ بظاہر وہ ایک عام سا کام کر رہا ہوتا ہے، مگر اللہ کے ہاں یہی عمل اسے وہ عزت دلا دیتا ہے جو بڑے بڑے دنیاوی کارنامے بھی نہیں دلا پاتے—یعنی قیامت کے دن تاجِ شاہی۔

جو شخص نکاح کو اللہ کی رضا کے لیے اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے عمل کو معمولی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے شاہانہ عزت عطا فرماتا ہے۔

  گلے شکوے زندگی سے سکون ختم کر دیتے ہیں۔     💭🌎💡
01/02/2026

گلے شکوے زندگی سے سکون ختم کر دیتے ہیں۔ 💭🌎💡

Address

Block F North Nazimabad
Karachi
74700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afzal O Zikr posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share