26/08/2026
امام احمد رضا خانؒ کے اہم دلائل برائے حضور اکرم صلى الله علیہ و آلہ وسلم کی ولادت پرخوشی منانا مندرجہ ذیل میں :
1. میلاد کو تعظیمِ رسول ﷺ کا حصہ قرار دینا
فتاویٰ رضویہ میں ان سے منقول عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ:
حضور ﷺ کی ولادت پر خوشی منانا، مولد شریف پڑھنا، ذکرِ ولادت کے وقت قیام کرنا اور کھانا کھلانا وغیرہ تعظیمِ رسول ﷺ میں داخل ہیں۔
ان کے استدلال کا بنیادی اصول ہے: اگر کوئی عمل محبت و تعظیمِ رسول ﷺ کے اظہار کا ذریعہ ہو اور اس میں کوئی خلافِ شرع امر نہ ہو تو ناجائز نہیں کہا جا سکتا ھے-
2. مسجد میں محفلِ میلاد کا جواز
ایک سوال میں ان سے پوچھا گیا کہ مسجد میں مولود خوانی جائز ہے یا نہیں؟
انہوں نے جواب دیا:
"مجلس میلاد مبارک روایات صحیحہ سے ہوا اور اشعار کے پڑھنے کا شرع مطہر ہوا ۔مسجد میں بھی جائز ہے کہ مساجد ذکر کے لئے بنائے گئے ہیں۔"
اگر مجلس میں ذکرِ رسول ﷺ، صحیح روایات اور شرعی حدود میں اشعار/نعت ہوں تو مسجد میں بھی اس کا انعقاد جائز ہے۔
3. نعت اور اشعارِ مدحِ رسول ﷺ
امام احمد رضا خانؒ کے نزدیک نعت خوانی کی اصل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل میں موجود ہے۔
بالخصوص حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی مدح میں اشعار کہتے تھے اور نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی:
"اللّٰهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ"
"اے اللہ! روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما۔"
یہ واقعہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔
لہٰذا امام احمد رضا خانؒ کے استدلال میں نعت خوانی بذاتِ خود کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ اس کی اصل عہدِ رسالت ﷺ میں موجود ہے۔
4. ولادتِ رسول ﷺ پر خوشی منانا مسنون خوش کن عمل ہے۔
امام احمد رضا خانؒ کے استدلال میں یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت خود اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔
اسی سلسلے میں قرآن کی آیت:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا
"آپ فرما دیں کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر اسی پر خوش ہونا چاہیے کو بھی استدلال میں پیش کیا جاتا ہے۔
بلکہ یہ آیت اللہ کے فضل و رحمت پر خوشی کے عمومی اصول کی دلیل بنتی ہے۔
5. پیر کے روزے والی حدیث
اس سلسلے میں سب سے مضبوط حدیث صحیح مسلم کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
"فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ"