Chitral Student's Welfare Association

Chitral Student's Welfare Association Chitral Students' Welfare Association (CSWA) was established in 1964 and reorganised in November 2008 at the University of Karachi.

Chitral Students' Welfare Association (CSWA) was established in 1964 and reorganised in November 2008 and is the only organisation of its kind in karachi for Chitrali Students support.It is operating from university of karachi. As stated in its by-laws, CSWA is a non-political and non-profit making body. Its sole aim is to facilitate Chitrali students in their educational endeavours, both in terms

of guidance about different academic programmes and provision of financial assistance to deserving students. Furthermore, the Association conducts career counselling seminars to enable graduates find appropriate professional careers.

22/02/2026
Chitral Students’ Welfare Association (CSWA) Karachi proudly invites teams and community members to participate in the I...
09/02/2026

Chitral Students’ Welfare Association (CSWA) Karachi proudly invites teams and community members to participate in the Ishfaq Lal Memorial Football & Cricket Tournament, held in the respectful memory of our late friend Ishfaq Lal, formerly information secretary CSWA and a lovely human being.
📍 Venue: Midwicket Ali Jiwani
📅 Dates: 14–15 February 2026
💰 Entry Fee: PKR 3,000
Join us to honor his memory through sportsmanship, unity, and community spirit.
📞 Registration & Details:
Shida: 0343-1737437
Zubair ul mulk: 0346-2465389
Organized by CSWA Karachi

28/01/2026

موجودہ وختو وا حالاتان پیش نظرہ اسماعیلی کمیونیٹیو روحانی پیشوا انتہای ضروری وا بو اہم پیغام دیتی اسور ای دفعہ سف ہمو لوڑی ہیہ بارا سوچ کوریکو ضرورت،،

میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ آپ کی سکرین پر بہت زیادہ گھنٹے گزارنا آپ کے دماغ کے لیے اچھا نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ہمارے دماغ کو ایسے طریقوں سے ری وائر کر رہا ہے جو نقصان دہ ہیں، اور اس کے مکمل اثرات کا ابھی کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ سمارٹ فون ہمیں کم سمارٹ بنا رہے ہیں اور ہہماری عقلی تنقیدی اور گہرائی سے سوچنے کے عمل کو بھی ختم کر رہا ہے۔

24/01/2026
19/01/2026

خوبصورت ازہان کی پرورش

از احسان کریم

آغاخان یونیورسٹی کراچی میں داخلہ /علاج کی سہولت حاصل کرنے کےلئے اسمعیلی ہونا ضروری نہیں ہے۔ میرے گلگت بلتستان کے اہلسنت اور اہل تشیع نوجوانو، دوستو ،ننانوے فی صد طالب علم آپ کے ہم مسلک ہیں۔ادھر گلگت اور چترال سے سے اک فی صد یا اس سے بھی کم جو اسمعیلی طالب علم ڈگریاں لے رہے ہیں ان کے پیچھے اغاخان ایجوکیشن سروس کی بہترین سکولنگ ہے۔جہاں ان کی پختہ بنیاد رکھی جاتی ہے۔کامیاب لوگوں کی زندگی میں اک چیز مشترک ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے کے بہترین سکولوں کے طالب علم رہے ہیں۔جی بی سی والے ابھی کچھ سالوں سے پاکستان کے دیگر شہروں کے طالب علموں سے مقابلہ کررہے ہیں۔ورنہ تو آج سے اک دو عشرے پہلے اس یونیورسٹی میں اسمعیلی مسلک کے طالب علم آٹے میں نمک کے برابر تھے۔یونیورسٹی کا نظام میرٹ پر مبنی ہے ۔شراءط پر اتریں
داخلہ لیں اور میعاری تعلیم حاصل کریں اور دنیا پر چھا جائیں ۔یہ ادارے بنے ہی ہم سب کےلئے ! عظیم باب کی عظیم بیٹی ، شہزادی زہرہ اغاخان جو کہ یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر بھی ہیں ،فرماتی ہیں
"میرے والد کا یہ مشن تھا کہ میں اس دنیا میں جتنے بھی غریب جماعت کے لوگ ہیں ان کی خدمت کروں صرف جماعت کے لوگ نہیں اس دنیا میں جتنے بھی غریب انسان بستے ہیں ان کی خدمت کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے۔ ہم نے ان کے لیے مواقع پیدا کرنے ہیں تعلیم میں صحت میں دوسرے اداروں میں ہم نے ان کو اگے لے کے انا ہے۔ ہم نے اپنے یہ ادارے ان لوگوں کے لیے بنایا ہے جو اگے انا چاہتے ہیں جو محنت کرنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ بن کے غریب کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ "

یونیورسٹی ہذا میں ایم بی بی ایس ، ،بی ایس سی این ، ایجوکیشن ، ،فیکلٹی آف آرٹس کے تحت مختلف علوم میں بیچلرز پروگرام کروائے جاتے ہیں۔اور کچھ شبعوں میں ماسٹرز اور دیگر شعبوں میں پی ایچ ڈی تک کرواتے ہیں۔پہاڑی علاقوں کے لوگوں کو سب سے بڑا مسلہ فیسوں اور رہائش کا ہوتا ہے۔اگر آپ میرٹ پر اترتے ہیں تو آپ کو فنانشل سپورٹ اور بہترین ہاسٹل کی سہولت تک دی جاتی ہے۔یہ یونیورسٹی علاج ،تعلیم اور سہولیات کی حد تک کسی ایک مسلک تک محدود نہیں ہے۔یہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اک بہترین ،نجی تعلیمی ادارے ہے جو کہ سن پچاسی میں قائم ہوا تھا ۔اب اس کے گریجویٹ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور ملک و قوم کا نام روشن کرہے ہیں۔

یونیورسٹی کے کچھ پروگراموں میں داخلہ نئے سال کے آغاز میں شروع ہیں اور کچھ پروگراموں کے داخلے سال کے وسط میں شروع ہونگے۔۔اپ اپنے بچوں ،بہن بھائیوں کو میعاری تعلیم کے حصول کےلئے راغب کرسکتے ہیں اور آپ کے بچے بھی اک بہترین ادارے سے تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم اور خاندان کا سہارا بن سکتے ہیں۔تعمیر ،ترقی اور استحکام پاکستان میں اغاخان خاندان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور اے کے ڈی این کے خدمات کو پوری دنیا تسلم کرتی ہے۔
مجھے کسی کی زبانی سنا ہوا سچا قصہ یاد آرہا ہے آج سے کافی سال پہلے چلاس ساءیڈ کے کسی طالب علم کا ایم ایڈ پروگرام میں فلی فنڈڈ اسکالرشپ پر اغاخان یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تھا اور اس طالب علم کو سیکھنے کا ماحول میں اتنی دلچسپی ہوءی کہ فرط جذبات میں اپنےہم جماعت دوستوں کو کہنے لگا کہ اغاخان صاحب کو اور تو کچھ میں نہیں دے سکتا البتہ گاؤں میں میرا اک کھیت ہے وہ میں آغا صاحب کو دینا چاہوں گا۔

اپ بہترین اذہان اور بہترین ماحول سے سیکھ کر اپنے ،اپنے ملک اور اپنے علاقے کےلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔یہ باتیں میں اپنے معلومات کی بنیاد پر کرہا ہوں اور میں ادارے یا پھر کسی مسلک کا ترجمان بن کر نہیں کرہا ہوں البتہ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ اغاخان کے تعلیمی اداروں نے شہروں کیساتھ ساتھ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے باسیوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا ہے اور ہمیں اس قابل بنایا ہے کہ ہم دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔صلاحتیں کسی اک ذات ، قد کاٹھ،رنگ ونسل اور مسلک سے وابستہ نہیں ہوتی ہیں بلکہ طالبان علم وہ ہوتے ہیں جو پیاس علم کو بجھانے کےلئے چین تک جانے سے بھی نہیں کتراتے ہیں ۔ میعاری تعلیم ، بہترین اذہان کے زیر نگرانی ،خوب صورت ماحول آپ کے ملک میں ہی ہے اور میں اک ادنی سا طالب علم/ جو کہ نظام امامت کے ویثن سے انتہائی متاثر ہوکر ، اپ کے غلط فہمیوں کو دور کرکے ،اپ کے راستے میں حائل ذہنی رکاوٹوں کو دور کررہا ہوں ۔اور حصول علم کی دعوت دے رہاہوں۔

احسان کریم

Application ProcessApplications are handled by contacts in countries where AKF ISP is available. To learn more, please v...
06/01/2026

Application Process

Applications are handled by contacts in countries where AKF ISP is available. To learn more, please visit our website in January 2026 and use the eligibility tool to verify your eligibility and learn how to contact our local team.

Award Conditions

AKF ISP awards are structured as half grant and half loan – where you need to repay 50 percent of the award amount.* Scholarships for Master’s studies are granted for the entire duration of the degree course. For PhD students, scholarships are awarded for the first two years, after which you are expected to find funding from alternative sources.

The award covers tuition expenses and student living expenses. It does not cover, for example, the cost of international travel, clothing, furniture, or living expenses for family members.

Learn about The Aga Khan Foundation’s International Scholarship Programme.

03/01/2026

مرد،عورت اور ثقافت: دہرامعیار کیوں؟

تحریر: ناظرہ بی بی

کراچی میں قشقاریان بینڈ کے میوزیکل کنسرٹ کے بعد نوجوانوں بلخصوص لڑکیوں پر شدید تنقید کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلےمیں محافظ روایات چترال کے زیرِ اہتمام ایک اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں چترال کے متعدد فنکاروں نے شرکت کی۔ ان لوگوں نے کنسرٹ کی کھل کر مذمت کی اور اسے چترال کی ثقافت کے خلاف قرار دیتے ہوئےاپنے روایات کو محفوظ رکھنے کا عزم بھی کیا۔
مجھے سب سے زیادہ حیرت اورمایوسی چترال کے معروف ستار نواز آفتاب عالم اور مشہور گلوکار منصور شباب کے خیالات سن کرہوئی۔ پچھلے کئی سالوں سے ہم ان دونوں شخصیات کو موسیقی کے میدان میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھتے اور سنتے آئے ہیں۔ اکثر یہ دونوں حضرات موسیقی کی محفلوں میں ایک ساتھ نظر آتے رہے ہیں اور چترالی موسیقی کی پہچان سمجھے جاتےہیں۔ موسیقی میں خواتین کی شمولیت پر ان کی تنقیدی تقاریر سن کر مجھے کھوار زبان کا ایک گانا یاد آگیا، جسے منصور شباب نے گایا تھا اور غالباً آفتاب عالم نے اس کی دھن ستار پر ترتیب دی تھی۔ اس گانے کا پہلا بند یہ ہے۔
جان صدقہ اے تہ ݯھیر گولو سورا
پٹیک نو پیڂے اسکیم پھورو سورا
ترجمہ:
‘تمہارے گورے دودھیا گردن پر میں قربان جاؤں
تم اپنے ریشم جیسی زلفوں کو دوپٹے کے پیچھے مت چھپانا‘
اس قسم کے کئی گانےگلگت بلتستان اور چترال کے مقامی زبانوں میں سننے کو ملتےہیں جس میں عورت کے لمبے بال، گلابی ہونٹ، گول اور سفید چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں ، آنکھوں کی پلکیں، بھوئیں، نرم و ملائم ہاتھ ، جسم کی لمبائی اور پتلی کمر کی کھل کرتعریف ہوتی ہے۔ ایسی شاعری لکھی جاتی ہے، اسے ستار کی دھن پر بجایا جاتا ہے، گایا جاتا ہے، اور محفل میں سرور کے عالم میں رقص بھی کیا جاتاہے۔ یہ سب اس معاشرے کے مردوں کے لیے جائزاور قابلِ قبول ہے۔
لیکن جیسے ہی کوئی عورت موسیقی سن کر جھومنے لگےتوخود کو ثقافت کے محافظ سمجھنے والے مرد اسے ثقافت کے لئے خطرہ قرار دیتےہیں۔ عجیب تضاد یہ ہے کہ مرد گائیں، بجائیں یا رقص کریں تو یہ قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، مگر یہی عمل عورت کرے تو اسے ثقافت اور روایات کے خلاف قرار دے دیا جاتا ہے۔

اگر کسی علاقے کے مشہورو معروف فنکاربھی کسی میوزیکل کنسرٹ پر تنقید کرے تو اسے منافقت نہیں تو کیا کہے؟؟
ایک اور بات منصور شباب نے کی کہ جو لوگ دوسروں کی بہنوں اوربیٹیوں کو نچاتے ہیں ان سے پوچھنا چاہئے کہ کیا وہ اپنی بہنوں اوربیٹیوں کو نچانا پسند کرینگے۔۔ جو لوگ اس قسم کے سوالات پوچھتے ہیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ناچنے اور نچانے میں فرق ہے۔ کوئی لڑکی اپنی مرضی سے ناچتی ہے تو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس پہ تنقید کرے۔ اسی طرح کوئی ناچنا پسند نہ کرے تو اسے زبردستی نچانے کا حق بھی کسی کو نہیں۔ کوئی اپنی خوشی سے ناچےتوان کو ناچنے سے روکنا اور زبردستی نچانا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور وہ سکہ ہے پدر شاہی کا۔
محافظ روایات چترال کے پلیٹ فارم سے ایک اورفنکار جواکثر کھوار ڈراموں میں ادا کاری کرتا ہے کہہ رہا تھا ’ہم نےبہت سارے ڈرامے کئے ہیں اور ڈراموں میں جہاں عورت کے کردار کی ضرورت ہوتی ہے ادھر ہم عورت کا کردار خود کرتے ہیں‘۔ ہمیں کبھی کسی قسم کی بدنامی کا سامنا کرنا نیہں پڑا ہے‘۔۔۔۔۔
ان لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان اورچترال کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ یہاں آج بھی عورت کےکردارکو زیادہ تر گھریلو کام کاج تک محدود کر دیا جاتا ہے، جبکہ اداکاری، موسیقی اور دیگر کئی شعبوں کو عورت کے لیے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً طاقت، اختیار اور نمائندگی پر مردوں کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ عورتوں کی زندگی کے فیصلےبھی مرد کرتے ہیں اور وہ بھی زیادہ تر اپنے فائدوں کو مد نظر رکھ کر، جس کے باعث عورتوں کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
اب اس علاقے کی خواتین مختلف شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہیں تو یہ تبدیلی اُن روایتی سوچ رکھنے والوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہے جو یا تو لاعلم ہیں یا اپنا اختیار کھونے سے خوفزدہ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان فرسودہ مفروضات کو توڑا جائے جوروایت کے نام پر عورت کی صلاحیتوں کو دبا نے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک عورت کو ایک با اختیارفرد کے طورپرتسلیم نہ کیا جائے اوراسے اپنی زندگی، اپنے کیریئر اور اپنے فیصلوں پر مکمل حق حاصل نہ ہو، معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
دعا ہے کہ نئے سال کی آمد پدر شاہی کی دیوار سے دقیانوسی روایات کےمزید کچھ اینٹے گرا دے اور ہمارا معاشرہ شعور، انصاف اور برابری کی طرف آگے بڑھے۔

نیا سال مبارک ہو۔

Address

Office No B-101 Iqra Complex Gulistan E Johar Karachi
Karachi
75290

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitral Student's Welfare Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Chitral Student's Welfare Association:

Share