Al Munawar Welfare Trust

Al Munawar Welfare Trust By the grace of Allah,
This organization is Serving the poor and the distressed people of our socie You also fulfill your duty by lightning a candle-.....!!

Al Munawar WelfareTrus is responsible for the duties towards the needy people of our society, join this wing now and give it your hand to fly higher.

&

My responsibility is to lighten the candle of knowledge and remove the darkness of ignorance. Jo seekha hai wo sab ko sikhao .........!!

20/03/2026
12/03/2026

بغداد کے ایک خلیفہ کا واقعہ
کہتے ہیں بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنی تھی۔
انہوں نے پورے شہر میں اعلان کروایا کہ:
“جس گھر میں جوان لڑکی ہو اور وہ قرآنِ کریم کی حافظہ بھی ہو، وہ آج رات اپنے گھر کی کھڑکی میں ایک شمع روشن کر دے۔”
رات آئی تو عجیب منظر تھا…
پورے شہر کی بے شمار کھڑکیوں میں شمعیں جل رہی تھیں۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی۔ خلیفہ کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا۔
اگلے دن انہوں نے دوبارہ اعلان کروایا:
“جس گھر میں موجود لڑکی قرآن کی حافظہ ہونے کے ساتھ ساتھ موطا امام مالک کی بھی حافظہ ہو، وہ آج رات اپنی کھڑکی میں شمع روشن کرے۔”
جب رات ہوئی تو اس مرتبہ بھی آدھے سے زیادہ شہر کی کھڑکیوں میں شمعیں روشن تھیں۔
سوچئے! کتنا حسین اور روح پرور منظر ہوگا…
یہ شمعیں صرف روشنی نہیں تھیں، بلکہ اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ اس معاشرے کی بیٹیاں علمِ دین سے آراستہ ہیں۔ یہ روشنیاں اس بات کی علامت تھیں کہ ایک ایسی نسل تیار کی جا رہی ہے جو علم، اخلاق اور دین کی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوگی۔
ان شمعوں کے لرزتے ہوئے شعلوں میں ایک مضبوط اور باوقار اسلامی معاشرے کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
مگر آج…
اگر ایسا اعلان کر دیا جائے تو شاید چند ہی گھروں میں شمع روشن ہو۔ اور اگر دوسری شرط بھی رکھ دی جائے تو ممکن ہے پورا شہر ہی تاریکی میں ڈوبا نظر آئے۔
آخر ایسا کیوں ہوا؟
کیونکہ آج ہمیں ایسی تعلیم اور مصروفیات میں الجھا دیا گیا ہے جن کا ہماری اصل ذمہ داریوں سے بہت کم تعلق رہ گیا ہے۔
عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کے نام پر اسے ایسی دوڑ میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
حالانکہ عورت کا اصل مقام صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نسل کی معمار کا ہے۔
ایک ماں، ایک مربیہ، اور ایک صالح معاشرے کی بنیاد۔
مگر آج میڈیا، ڈراموں اور بے مقصد سرگرمیوں نے ہماری ترجیحات کو بدل دیا ہے۔
جہاں کبھی علم، تربیت اور کردار کی بات ہوتی تھی، وہاں اب دکھاوا، مقابلہ بازی اور وقتی شہرت نے جگہ لے لی ہے۔
ہم سب حضرت عمر بن خطابؓ جیسی عدل والی حکومت چاہتے ہیں۔
ہم سب نبی کریم ﷺ کے نام پر جان قربان کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔
مگر افسوس…
ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو ان کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہی ہماری اصل کمزوری ہے۔
افسوس…

12/03/2026

اللہ کا دوست بننا
ہمارے محلے میں ایک شیخ صاحب کرائے دار ہو کر آئے۔ وہ ملتان کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور نمک کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ نہایت نفیس، متوازن اور شائستہ انسان تھے۔
ان کا ایک مخصوص تکیۂ کلام تھا: “میرے عزیز!”
اکثر مارننگ واک کے دوران ان سے ملاقات ہو جاتی۔ وہ بھی میری طرح خاموشی سے واک کرنے کے عادی تھے، کیونکہ واک کے دوران وہ تسبیحات پڑھتے رہتے تھے۔
چند دن میں واک پر نہ جا سکا۔ پانچویں یا چھٹے دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے خلافِ معمول تسبیح لپیٹ کر جیب میں رکھی اور مسکراتے ہوئے بولے:
“میرے عزیز! آج میرے ساتھ چلیں، اپنے ہاتھ سے چائے پلاتا ہوں۔”
میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا۔ وہ ڈرائنگ روم کم اور لائبریری زیادہ لگ رہا تھا۔ دیواروں پر قیمتی، تاریخی اور قدیم کتابیں سجی تھیں، گویا علم کا ایک خاموش خزانہ ہو۔
وہ مجھے وہاں چھوڑ کر کچن میں چلے گئے۔ میں نے کتابوں پر نگاہ ڈالنا شروع کی۔ واقعی نایاب اور قیمتی ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کی میز پر تصوف سے متعلق چند کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ایک نوٹ بک اور اس کے بیچ میں پنسل رکھی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی نوٹس لکھتے ہوئے اٹھے ہوں۔
اتنی دیر میں شیخ صاحب ایک ٹرے لے کر آ گئے، جس میں چائے کے دو کپ، نمکین بسکٹ، چند کھجوریں اور دو السی کے لڈو تھے۔
گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی علمیت، سادگی اور گہرائی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔ دین اور زندگی کے مختلف موضوعات پر بات چلتی رہی۔ پھر اچانک وہ کہنے لگے:
“میرے عزیز! زندگی میں ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب میں نے ان کتابوں میں بہت تلاش کیا۔ جواب ملے بھی، مگر دل کو وہ سکون نہ ملا۔ ایک دن ملازم چھٹی پر تھا، میں خود بیکری کا سامان لینے مارکیٹ چلا گیا۔ پیدل جا رہا تھا کہ ایک چھ سات سال کا بچہ میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ غور کیا تو اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا۔”
وہ میرے پاس آیا۔ میں نے پوچھا:
“بیٹا، تمہارے جوتے کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟”
اس کے جواب نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
وہ بس اتنا بولا:
“میرے ابو جی فوت ہو گئے ہیں…”
میں چند لمحے مبہوت رہا، پھر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:
“چلو بیٹا، میں تمہیں جوتے لے دیتا ہوں۔”
میں اسے جوتوں کی دکان پر لے گیا اور دکاندار سے کہا:
“اس بچے کو سب سے اچھے جوتے پہنا دو۔”
بچہ جوتے پہن کر خوشی سے کھل اٹھا۔ میں نے اسے کچھ نقد رقم دی اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔
چند لمحوں بعد وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا، میری ٹانگوں سے لپٹ گیا اور پوچھنے لگا:
“آپ اللہ ہو؟”
میں نے اسے اٹھا کر پیار سے کہا:
“نہیں بیٹے، میں تو عام انسان ہوں۔”
وہ بولا:
“اچھا… تو پھر آپ اللہ کے دوست ہو۔ میں نے رات دعا مانگی تھی۔ ابو کہتے تھے جو اللہ سے مانگو، اللہ دے دیتا ہے۔ میں نے کہا تھا:
اللہ جی! میرے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، مجھے نئے جوتے دے دو۔”
یہ سن کر میں شدتِ جذبات سے کانپ اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔
شیخ صاحب کی آواز بھرا گئی۔ وہ بولے:
“میرے عزیز! اس دن مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دو، کسی بیوہ کی مدد کر دو، کسی محتاج کی ضرورت پوری کر دو… بس یہی دوستی ہے۔”
وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہے تھے:
“میرے عزیز! اللہ کا دوست بننا بہت آسان ہے، بس کوئی کوشش تو کرے۔”
احبابِ گرامی!
بے شک دوسروں کے کام آنا صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ ہم اکثر اللہ کی دوستی اور قرب کے بڑے بڑے راستے تلاش کرتے ہیں، حالانکہ وہ راستہ ہمارے اردگرد ہی بکھرا ہوتا ہے۔ کسی کی ضرورت بن جانا، کسی کی دعا کا جواب بن جانا… یہی اصل عبادت ہے۔
یاد رکھیں:
اللہ تک پہنچنے کے لیے لمبے سفر نہیں کرنے پڑتے، بس کسی ضرورت مند کا سہارا بن جائیے، اللہ خود قریب آ جاتا ہے۔
ہر نماز کے بعد یہ مختصر سی دعا تین مرتبہ مانگیں:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ
(اے اللہ! مجھے اپنی محبت عطا فرما اور ان لوگوں کی محبت بھی عطا فرما جو تجھ سے محبت کرتے ہیں۔)
آخر میں ایک گزارش:
یہ تحریر بھلائی کی نیت سے لکھی گئی ہے۔ آپ بھی اسے بھلائی کی نیت سے دوسروں تک پہنچا دیں۔
شکریہ

30/03/2025

*اللَّهُمَّ أَهلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالإِسْلَامِ رَبُّنَا وَرَبُّك اللَّه".*

عید کی خوشیوں میں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کو بھی یاد رکھیں، درحقیقت عبادت، ریاضت، روزے، قیام اللیل، تقوی قربانی سب ان کی ہی ہے، ہم نے تو صرف دکھاوا کیا ہے،
کیا معلوم ان وقت کے عظیم مسلمانوں کی صرف حمایت ہی ہمارے روزوں اور عبادات کی قبولیت کا سبب بن جائے اور بخشش کا سامان ہو جائے۔
اللہم انصرنا من المجاہدین فی الغزہ
اللہم انصرنا من المجاہدین فی کل مکان

بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنی تھی... انہوں نے پورے شہر میں اعلان کروا دیا کہ جس گھر میں جوان لڑکی ہے اور ...
22/03/2025

بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنی تھی...
انہوں نے پورے شہر میں اعلان کروا دیا کہ جس گھر میں جوان لڑکی ہے اور قرآن کی حافظہ ہے... وہ اپنے گھر کی کھڑکی میں رات کو ایک شمع روشن کر دے... اس رات پورے شہر کی کھڑکیوں میں شمعیں روشن تھیں...

ان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا... اگلے دن اعلان کروایا کہ جس گھر میں موجود لڑکی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ موطا امام مالک کی بھی حافظہ ہے... وہ رات کو اپنے گھر کی کھڑکی میں شمع روشن کرے...
اور اس رات بھی آدھے سے زیادہ شہر کی کھڑکیوں پہ شمعیں روشن تھیں...
کتنا حسین منظر ہو گا نا... ہر گھر میں کھڑکی پہ روشن شمع صرف روشنی کی نوید نہیں سنا رہی تھیں بلکہ بتا رہی تھیں کہ اسلام کا مستقبل بھی بہت روشن ہے... وہ شمعیں اس بات کی نوید تھیں کہ ایک بہترین نسل کو پروان چڑھانے کے لیے مناسب اور بہترین تعلیم دی جا چکی ہے... ان تمام جلنے والی روشنیوں کے لرزتے شعلوں میں ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی جھلک نمایاں ہو رہی تھی...

آج اگر ایسا اعلان کر دیا جائے تو بہت کم گھروں میں شمع روشن گی اور اگر دوسرے اعلان والی شرط ساتھ رکھ دی جائے تو یقینا پورا شہر ہی تاریک پڑا ہو گا...

پتا ہے ایسا کیوں ہوا ہے... کیونکہ آج ہمیں فضول اور بے بنیاد تعلیم کے چکروں میں پھنسا دیا گیا ہے ... آج کی عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے خواب دکھا کر اسے حساب کتاب کے بھنور میں دھنسا دیا گیا ہے...

آج کی عورت کو ایک مضبوط کردار کی حامل نسل کی تربیت اور ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد میں اہم کردار ادا کرنے جیسے اہم مقاصد سے بھٹکا دیا گیا ہے.

آج کی عورت کو ٹی وی پہ بیٹھ کے مارننگ شوز میں فضول عنوانات پہ مباحث اور فضول اور بےمقصد کاموں کی طرف اپنی ہی جیسی عورتوں کو راغب کرنے پر لگا دیا گیا ہے...
آج کی عورت کو انعامی مقابلوں میں چھینا جھپٹی کر کے دو ٹکے کے تحفے حاصل کرنے پر لگا دیا گیا ہے...

آج کی عورت نے بھٹکنا پسند کیا تو اسے بھٹکا دیا گیا.. پاکستانی ڈرامے اور انڈین فلموں کی صورتوں میں،
عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑے کرنے کی صورت میں،
عورت کو آزادی دینے کے چکر میں،
عورت کو خود مختار اور اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی صورت میں،
اسلامی تعلیمات کو ٹھکرا کر یونیورسٹیوں کی اعلی تعلیم کی صورت میں،

عمربن خطاب(رضی اللہ تعالی عنہ) کی حکومت ہم تمام مسلمان مرد عورت بچے بوڑھے چاہتے ہیں
مگر ہم پیروکار جہنمی لوگوں کے ہیں

ہم تمام مسلمان مرد عورت بچے بوڑھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کٹ مرنے کو تیار ہیں
مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصولوں پر جینا کوئی نہیں چاہتا۔

افسوس۔۔

Address

A-1 Shamoonabad Block 13 Ghulshan-E-Iqbal
Karachi
75850

Telephone

+92 314 2090999

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Munawar Welfare Trust posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Al Munawar Welfare Trust:

Share