Enlighten Education

Enlighten Education We enlighten people with Knowledge of the Spiritual & Modern Sciences.

کیا آپ انسانی ذہن کی گہرائی، رویوں کے پیچھے چھپی وجوہات اور نفسیاتی مسائل کا حل سیکھنا چاہتے ہیں؟🔮 علمِ نفسیات آن لائن ک...
31/08/2026

کیا آپ انسانی ذہن کی گہرائی، رویوں کے پیچھے چھپی وجوہات اور نفسیاتی مسائل کا حل سیکھنا چاہتے ہیں؟

🔮 علمِ نفسیات آن لائن کورس (12 لائیو کلاسز + ریکارڈنگز)
بالخصوص علماء کرام اور مدارس کے طلباء کے لیے ایک نایاب تحفہ، تاکہ وہ دعوت و تدریس اور رہنمائی کا کام مزید مؤثر طریقے سے کر سکیں۔

100% حاضری اور کوز مکمل کرنے پر فیس واپس کردی جائے گی۔

💰 فیس: انتہائی معمولی
📜 شرکت کا سرٹیفیکیٹ: دستیاب

🚨 نشستیں محدود ہیں! اپنی جگہ یقینی بنانے کے لیے ابھی واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔👇👇👇

تلاشِ حق !حافظ محمد شارقاسلام زندگی گزارنے کے اس طریقے اور طرزِ فکر کا نام ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام لائے۔ اس دین ک...
26/08/2026

تلاشِ حق !

حافظ محمد شارق

اسلام زندگی گزارنے کے اس طریقے اور طرزِ فکر کا نام ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام لائے۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کی تشریح و توضیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ میں کردی ہے۔ اب یہ دین ہر صورت میں مکمل ہے اور قرآن مجید کی رو سے ہماری فلاح و نجات کا ضامن بھی صرف یہی دین ہے۔الحمدللہ ہم میں سے کوئی اس بات کا انکار نہیں کرتا اور نہ ہی کسی صورت انکار کرنا چاہتا ہے کہ ہمارے لیے صرف اسلام ہی راہِ نجات ہے۔ ہم دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی ہمارے لیے کامیابی ہے۔ ہم دین سے منحرف ہر شخص کے متعلق اپنے دل میں اس بات کی تمنا رکھتے ہیں کہ وہ دین کوصحیح طرح سمجھے ،علم حاصل کرے اور اسی راستے کو اپنائے جس کی دعوت پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ لیکن کبھی ہم نے خود اپنے ضمیر سے بھی یہ سوال پوچھنے کی زحمت کی ہے کہ ہم واقعی دین کی اُس صحیح صورت پر عمل پیرا ہیں جس کی دعوت قرآن دیتا ہے؟ دین کی جو فکر ہمیں اپنے والدین سے میراث میں ملی ہے ، اور بلا تحقیق ہم جس راستے پر برسہا برس سے چل رہے ہیں، کیا قرآن کا راستہ وہی ہے؟ یا ہم “نتبع ما ألفينا عليه آباءنا” (ہم تو اسی کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ) کا مصداق خود کو حق سمجھ رہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد اسی گروہ سےتعلق رکھتی ہے جس پر قرآن نے درج بالا تبصرہ کیا ہے ۔ہم میں سے اکثر افراد ایسے ہی ہوں گے جواپنے خاندان میں رائج دین کی صورت پر محض اس لیے عمل پیرا ہیں کہ انھوں نے اپنے ماحول سے یہی کچھ حاصل کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سےکوئی واقعی اللہ سے اتنا مخلص بھی ہے کہ وہ اُس راستے پر تنقیدی نظر ڈالنے کی ہمت رکھتا ہو جو ہمیں آباء و اجداد سے ملا ہے؟ یہ معاملہ دراصل تلاشِ حق کا ہے۔اُن عقائد کی تلاش کا جس پر دین اسلام کی عظیم الشان عمارت قائم ہے، یہ تلاش اس امر کی ہے کہ اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بندے کے درمیان کس قسم کا خوبصورت رشتہ ہے۔ یہ تلاش دراصل اس بات کو دریافت کرلینےکا نام ہے کہ قرآن کوبندے کی کیسی شخصیت مطلوب ہے۔لیکن اس تلاش میں ابلیس نے ایسی دیواریں اور رکاوٹیں بھی کھڑی کردیں ہیں جنھیں عبور کرنا ضروری ہے۔ اللہ سے مخلصانہ محبت کرنے والے کے لیے تلاشِ حق میں بنیادی طور پر صرف دو ہی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ فکری جمود اور جہالت۔

فکری جمود کیا ہے؟قرآن مجید میں (سورۃالتوبہ آیت 31) میں اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کےمتعلق یہ فرمایا ہے کہ انھوں نے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا، یعنی ان کے علماء انھیں جو کچھ کہتے ، وہ اسے مان لیتے تھے چاہے وہ اللہ کے نازل کردہ واضح احکامات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ان کا اصرار صرف اس بات پر تھا کہ وہ اپنے علماء کی اندھی تقلید نہیں چھوڑیں گے وہ ہمیں جس بات پر لگائیں ہم لگ جائیں گے اور جس بات سے روکیں ہم رک جائیں گے۔لیکن حقیقت میں یہی وہ رویہ یعنی جمود تھا جو قبولِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ذرا غور کیجیے کہ اگر قرآن اس جمود کی مخالفت نہ کرتا تو کیا ہمارے آباء و اجداد ، یا ہم خود باطل مذہبی رہنماؤں کی پیروی میں رہتے ہوئے دینِ حق تک پہنچ سکتے تھے؟قرآن مجید نے انسانی فکر سےاسی جاہلانہ جمود کو ختم کرنے کے لیے غور و فکر کی دعوت دی اور لوگوں کے ذہنوں کو وسیع کیا۔ اس آیت کو دیکھیے کہ قرآن مجید کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا صرف بڑوں اور مذہبی پیشواؤں کے لیے نہیں بلکہ ہر مومن پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

وَلَقَدْ یسرنا القرآن للذکر فھل من مُدَّکِرْ (القمر 17،22،32،40)
”اور بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟”

اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کریں کہ اس نے علماء اور آباء و اجداد کی اندھی پیروی کے بجائے خود قرآن کی دعوت کو سمجھنے کی تلقین کی ہے تاکہ ہم اس وسعت نظری تک پہنچ جائیں جو ہمیں حق کا راستہ دکھائےگی۔ آپ قرآن مجید کی ساری دعوت دیکھ لیجیے، ہرایک آیت بندے کے قلب و ذہن کو اس بات پر جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اعمال و عقائد کے متعلق فکر کرے اور غفلت کی زندگی نہ گزارے۔واضح رہے کہ یہاں یہ بیان کرنا ہرگز مقصود نہیں ہے کہ ہم علماء کرام پر بھروسہ نہ کریں بلکہ بات صرف یہ ہے ہم وہ لوگ جو “علماء” کے لبادے میں ہمیں توہمات سکھاتے ہیں، ہمیں دین کی حقیقی صورت سے دور رکھتے ہیں ہم ان سے اپنے آپ کو آزاد کرکے علمائے حق کو تسلیم کریں۔ اُس توحیدِ خالص کی طرف آئیں جو ہر قسم کے شرک اور توہمات سے پاک ہے۔

قبول حق میں دوسری بڑی رکاوٹ جہالت ہوتی ہے۔ قرآن جس دور میں نازل کیا گیا اس سے صدیوں پہلے سے اب تک دنیا کی بہت سی قوموں میں دین کا علم ایک مخصوص طبقے تک محدود رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے حق و باطل کی پہچان کرنا ناممکن تھا۔آج بھی علم دین صرف علماء کی میراث سمجھی جاتی ہے، اگر وہ علماء جو ہمیں ہمارے ماحول میں میسر ہوئے ہیں، خدانخواستہ “علماء سو” میں سےہوئے توکیا ہم بھی ان کی گمراہی کےگڑھے میں ان کے ساتھ صرف اس بناءپر چلے جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی انھیں علم دین کا عَلم بردار دیکھا ہے؟ اسی حقیقت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے علم کے دروازے بھی ہر ایک کے لیے کھول دیے، اسلام نے جس طرح ہر ایک کوقرآن سمجھنے کی دعوت دی ، اسی طرح علم سیکھنابھی ہرایک کے لیے فرض قرار دیاتاکہ صحیح علم کی بنیاد پر بندہ دین کے معاملے میں صحیح فیصلہ کرسکے ۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ (ابن ماجہ و بیہقی)
”علم حاصل کرنے کی کوشش اور طلب ہر مسلمان پر فرض ہے”۔

اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ دین کا صحیح فہم حاصل ہونے کے لیے علم ایک بنیادی ضرورت ہے۔یہ علم صرف نماز ، زکوٰۃ، حج ، روزہ اورظاہری عبادات کے متعلق نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔اسلام کے بنیادی عقائد، اوامر و نواہی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ باتوں کا علم ہونا ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے اور اس علم کا منبع قرآن ہے ۔

قرآن جوعلم پیش کرتا ہے وہ کیا ہے؟ دراصل جہالت کے زوال اور ہمارے ذہن میں موجود جمود کو توڑنے کا نام ہے۔یہ وہ مقدس مشعل ہے جس کی روشنی میں انسان بد اعتقادی، تعصب اور تشکیک کی تنگ و تاریک گھاٹیوں سے نکل کر عقائد کی درستگی ، نفس کی پاکیزگی، روشن خیالی اور فہم و ادراک کے استحکام کی طرف جاتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھنے کا حکم کم بیش بیس مرتبہ آیا ہے ۔ بات بالکل سادہ سی (لیکن اہم) ہے کہ اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے قرآن مجید انتہائی آسان اور بہترین کتاب (Guide)ہے۔یاد رکھیے کہ اس زندگی کے بعد ابدی زندگی میں نجات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آپ میں حق و صداقت کی تلاش کی آرزو کتنی تھی ؟ آپ کو جو کچھ علم تھا، آپ کی شخصیت و کردار پر اس کا کتنا عکس رہا؟ الغرض یہ کہ آپ اپنے پروردگار سے کتنے مخلص ہیں۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ تقویٰ رکھنے والوں کی یہ نشانی بتاتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ انھیں دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ...
26/08/2026

قرآن میں اللہ تعالیٰ تقویٰ رکھنے والوں کی یہ نشانی بتاتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ انھیں دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہاں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو دولت دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں بلکہ فرمایا ممّارزقناھم ینفقون۔ یعنی وہ دینے والے ہیں، یہ لوگ Giving Attitude رکھتے ہیں۔ یقینا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں پیسے خرچ کریں، لیکن یہ تو ممکن ہے کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے اس سے آپ معاشرے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ Contribute کریں۔

آپ کو اللہ نے علم دیا ہے تو آپ فری کلاسز کا انعقاد کریں لوگوں کو وہ علم دیں جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ آپ لوگوں کو انٹرٹین کرسکتے ہیں تو یہ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے، آپ کے پاس غریب کرایہ دار ہیں تو کرایہ معاف کردیں، گھریلو ملازمین کو ان کی تنخواہیں بغیر روکے بھیجوا دیں، ان پر زیادہ خرچ کرلیں، کچھ نہیں تو اپنے طور غیر مستند باتیں پھیلانے کے بجائے شعور و آگہی کی مہم چلائیں، لوگوں میں ہمت و حوصلہ تقسیم کریں۔ غرض کہ جو کچھ اللہ نے اس وقت آپ کو دیا ہے اس میں سے خرچ کیجیے۔ یقینا خدا آپ کو بھی متقین میں شمار کرے گا۔

(حافظ محمد شارق)

📱 فون ہمارے ہاتھ میں ہے یا ہم فون کے ہاتھ میں؟آج کی نوجوان نسل کے پاس وہ سہولیات موجود ہیں جن کا چند دہائیاں پہلے تصور ب...
23/08/2026

📱 فون ہمارے ہاتھ میں ہے یا ہم فون کے ہاتھ میں؟

آج کی نوجوان نسل کے پاس وہ سہولیات موجود ہیں جن کا چند دہائیاں پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ ایک چھوٹا سا موبائل فون ہمیں پوری دنیا سے جوڑ دیتا ہے، چند سیکنڈ میں معلومات فراہم کرتا ہے اور تعلیم و روزگار کے بے شمار مواقع ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم موبائل کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یا موبائل ہماری زندگی کو اپنے طریقے سے چلا رہا ہے؟

ہم صبح آنکھ کھولتے ہی فون دیکھتے ہیں، سونے سے پہلے بھی فون ہاتھ میں ہوتا ہے۔ چند منٹ کے لیے سوشل میڈیا کھولتے ہیں، لیکن پتا ہی نہیں چلتا کہ ایک، دو یا تین گھنٹے کہاں گزر گئے۔ دوسروں کی زندگی، کامیابیاں، مہنگی گاڑیاں، خوبصورت تصاویر اور خوشیاں دیکھتے دیکھتے ہم اپنی زندگی سے مطمئن ہونا بھی بھول جاتے ہیں۔

اصل مسئلہ موبائل نہیں، موبائل کا بے مقصد استعمال ہے۔

یہی فون اگر تعلیم کے لیے استعمال ہو تو علم کا ذریعہ بن سکتا ہے، کوئی ہنر سیکھنے کے لیے استعمال ہو تو مستقبل بدل سکتا ہے، کاروبار کے لیے استعمال ہو تو روزگار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی فون صرف اسکرولنگ، فضول ویڈیوز اور دوسروں کی زندگیوں کا موازنہ کرنے میں گزر جائے تو یہ ہمارے وقت، توجہ اور صلاحیتوں کا خاموش چور بن جاتا ہے۔

یاد رکھیں، آپ کی زندگی کی قیمت آپ کے فون کی اسکرین پر آنے والے لائکس، ویوز اور فالوورز سے طے نہیں ہوتی۔ آپ کی اصل قدر آپ کے کردار، علم، ہنر، اخلاق اور ان لوگوں کے ساتھ آپ کے رویے سے ہوتی ہے جو آپ کی حقیقی زندگی کا حصہ ہیں۔

اس لیے موبائل کو اپنی زندگی کا مالک نہ بنائیں۔ اسے اپنا آلہ بنائیں، اپنی عادت نہیں۔

روزانہ کچھ وقت ایسا ضرور رکھیں جب فون آپ سے دور ہو اور آپ اپنے آپ کے قریب ہوں۔ اپنے والدین سے بات کریں، کتاب پڑھیں، کوئی ہنر سیکھیں، ورزش کریں، اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں اور سب سے بڑھ کر اپنی حقیقی زندگی کو جینا سیکھیں۔

کیونکہ زندگی اسکرین کے دوسری طرف نہیں، آپ کے سامنے ہے۔

فون کو اپنے ہاتھ میں رکھیں، لیکن اپنی زندگی کی باگ ڈور ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھیں۔

Today's Thoughts 🌿زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی، لیکن ہر موڑ ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا کر ضرور جاتا ہے۔جو گزر گیا...
15/08/2026

Today's Thoughts 🌿

زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی، لیکن ہر موڑ ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا کر ضرور جاتا ہے۔
جو گزر گیا، اسے سبق سمجھ کر چھوڑ دیں، جو پاس ہے اسے شکر کے ساتھ سنبھالیں، اور جو آنے والا ہے اُس کے لیے اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ 🤍

صبر رکھیں، امید نہ چھوڑیں۔ شاید آپ کی زندگی کا بہترین باب ابھی باقی ہے۔

آزادی صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اُن عظیم قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے جن کی بدولت ہمیں ایک آزاد وطن نصیب ہو...
13/08/2026

آزادی صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اُن عظیم قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے جن کی بدولت ہمیں ایک آزاد وطن نصیب ہوا۔

آج کے دن ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے وطن کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ لاکھوں قربانیوں، امیدوں اور خوابوں کی تعبیر ہے۔ 💚

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین۔

یومِ آزادی مبارک!
پاکستان زندہ باد!

#14اگست #آزادی #پاکستان

ہر خاموشی سکون کی علامت نہیں ہوتی…کبھی کبھی انسان اپنے اندر ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے، جس کی خبر اُس کے آس پاس موجود کسی ش...
09/08/2026

ہر خاموشی سکون کی علامت نہیں ہوتی…

کبھی کبھی انسان اپنے اندر ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے، جس کی خبر اُس کے آس پاس موجود کسی شخص کو بھی نہیں ہوتی۔

اس لیے لوگوں کو اُن کے خاموش رویّے سے نہیں، بلکہ اُن کے دل کی کیفیت سمجھنے کی کوشش سے جانیں۔

کسی کے لیے آپ کے چند نرم الفاظ، اُس کی ایک مشکل گھڑی آسان کر سکتے ہیں۔ 🤍

جب اللّٰہ تعالیٰ نے محرم رشتے میں سکون رکھا ہے تو آج یہ سکون ہمارے رشتوں میں کیوں نظر نہیں آتا آج کیوں ہر کوئی نامحرم کے...
30/07/2026

جب اللّٰہ تعالیٰ نے محرم رشتے میں سکون رکھا ہے تو آج یہ سکون ہمارے رشتوں میں کیوں نظر نہیں آتا آج کیوں ہر کوئی نامحرم کے فتنے میں پڑھ گیا ہے کیسی نے کہا نامحرم سے بات کرتے وقت سکون ملتا ہے جس نے کہا واللہ عظیم وہ انسان چھوٹا ہے نامحرم سے بات کرنے میں کوئی سکون نہیں البتہ نامحرم کی محبت بے سکون ہے اس میں کوئی سکون نہیں میں سوچتی ہوں جب کوئی لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے سے محبت کا دعویٰ کرتے ہے جبکہ وہ ایک دوسرے کے لئے نامحرم ہے تو کیا تو ان کی محبت سچی ہے نہیں بلکل بھی نہیں یہ ایک خوبصورت دھوکہ ہے جب ایک لڑکا لڑکی اللہ کی محبت میں سچے نہیں ہے تو کیا وہ ایک دوسرے کے ساتھ سچے ہوسکتے ہے یہ بس جذباتی باتیں ہوتی ہے آج جب میں نامحرم کے اوپر سرچ کررہی ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے آج کا ہر نوجوان اس فتنے میں پڑھ گیا ہے یہ باتیں میں کیوں کررہی ہوں اس لئے کیونکہ کل ہی میرے پاس ایک لڑکی کا ایسے میس ایا ہے وہ ایک نامحرم کی محبت میں گرفتار ہوگئی ہے وہ اس سے نکلنا چاہتی ہے لیکن نکل نہیں پارہی اب جب بھی وہ اس ے نکلنا چاہتی ہے تو اس کو ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسے جیسے اس کے جسم پر سچ میں کیسی نے زخم لگایا ہو میری اللہ سے دعا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس لڑکی کی مدد کرے اس کو ہدایت دے آمین یارب العالمین
اور آپ کو بتانے کا مقصد یہ فتنہ بہت پڑھ گیا ہے اپنے آپ کو اس فتنے سے بچائے اپنے آپ سے خود محبت کرے کیسی کو اتنا اختیار نہ دے کہ وہ آپ کا دل توڑ دے آپ جب چاہے آپ کے دل کو جوڑ دے اور آپ اس کے سامنے ایک کھلونا بن جائے
اور ہمارے استاد محترم بتا رہے ہے ان کے پاس روز 6 سے 7 کیسزز آتے ہے کہ ہم اس کا شکار ہوگئے ہے کتنا دھوک ہوتا ہے یہ سب دیکھ کرکیا ہمارا نفس ہم سے اتنا طاقتور بن گیا ہے کہ ہم اس کے ہاتھوں ذلیل ہوکر رہے گئے ہے اے انسان ! تو بہترین امت ہے اللّٰہ تعالیٰ نے تجھے قرآن جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی ہے تو اپنی قدر کر ایک نوجوان پوری دنیا بدل سکتا ہے تو آئے آج سے ہم ان چیزوں پر کام کروں جو ہمارے سامنے بہت زیادہ سر اٹھا چکی ہے

ازقلم تشنئہ محبت الٰہی ✍🏻🧕🏻

اکثر طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ زیادہ دیر تک مسلسل پڑھتے رہیں گے تو ان کی کارکردگی بہتر ہوگی، لیکن تعلیمی نفسیات کی تح...
30/07/2026

اکثر طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ زیادہ دیر تک مسلسل پڑھتے رہیں گے تو ان کی کارکردگی بہتر ہوگی، لیکن تعلیمی نفسیات کی تحقیق اس کے برعکس اشارہ کرتی ہے۔ انسانی دماغ ایک ہی رفتار سے طویل وقت تک مؤثر انداز میں معلومات جذب نہیں کرتا۔ اسی لیے دنیا کی کئی کامیاب جامعات اور ماہرینِ تعلیم Spacing Effect یعنی وقفوں کے ساتھ سیکھنے کی تکنیک پر زور دیتے ہیں۔ اس طریقے میں ایک ہی موضوع کو ایک نشست میں ختم کرنے کے بجائے مختلف دنوں میں مختصر وقفوں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ اس سے دماغ کو معلومات کو طویل مدتی یادداشت میں منتقل کرنے کا موقع ملتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت مضبوط ہوتی ہے اور امتحان کے وقت معلومات زیادہ آسانی سے یاد آتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کم وقت میں بار بار مؤثر مطالعہ، ایک ہی دن کئی گھنٹے مسلسل پڑھنے سے زیادہ فائدہ دیتا ہے۔ اس لیے کامیاب طالب علم صرف زیادہ محنت نہیں کرتے، بلکہ اپنے دماغ کے سیکھنے کے فطری انداز کو سمجھ کر زیادہ مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ حقیقی کامیابی صرف کتاب کے سامنے زیادہ وقت گزارنے میں نہیں، بلکہ صحیح طریقے سے سیکھنے میں پوشیدہ ہے۔

(شایان)


#مطالعہ #یادداشت

*کشفِ ذات — آج رات 10 بجے*کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ واقعی کون ہیں؟اس سفر میں ہم اپنے باطن کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش ک...
10/07/2026

*کشفِ ذات — آج رات 10 بجے*

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ واقعی کون ہیں؟
اس سفر میں ہم اپنے باطن کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کریں گے، اُن سوالوں تک پہنچنے کے لیے جو شاید برسوں سے خاموشی کے ساتھ ہمارے اندر موجود ہیں۔
یہ سلسلہ خود سے ملاقات کا ایک آغاز ہے؛ ایک ایسا سفر جو آپ کی سوچ، احساسات اور زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دے سکتا ہے۔
آج رات 10 بجے
کیا آپ اپنے اندر چھپی ہوئی کہانی دریافت کرنے کے لیے تیار ہیں؟ ✨

Address

Karachi
75500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Enlighten Education posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share