12/06/2026
اسلام اور مغرب: الزام کس پر؟
یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ جب بھی کسی مسلم معاشرے میں عورت پر ظلم کی کوئی مثال سامنے آتی ہے تو کچھ لوگ فوراً اسلام کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں، گویا ظلم کرنے والا انسان نہیں بلکہ مذہب ہے۔
اگر کاروکاری، غیرت کے نام پر قتل، جائیداد سے محرومی، ونی، قرآن سے شادی یا تیزاب گردی اسلام کی پیداوار ہیں تو قرآن و سنت میں ان کی اجازت کہاں ہے؟
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلام نے عورت کو وراثت، جان کے تحفظ اور نکاح میں رضامندی کا حق دیا، جبکہ ان حقوق کی پامالی اسلام نہیں بلکہ اس کی تعلیمات سے انحراف ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر کی ہدایات کے خلاف زہر کھا لے اور پھر بیماری کا الزام طب کے علم پر لگا دے۔
دوسری جانب مغربی لبرل کپیٹلسٹ نظریات سے پیدا ہوا نظام عورت کی آزادی کے روپ میں بیوٹی انڈسٹری، فیشن، کاسمیٹکس، سوشل میڈیا، پورنوگرافی اور دیگر شعبے عورت کے جسم کو ایک منافع بخش شے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر اس پر خوبصورت، جوان اور مارکیٹ ایبل رہنے کا مسلسل دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
اسی طرح جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد، تنہائی، ڈپریشن اور جنسی استحصال جیسے مسائل بھی مغربی معاشروں میں مسلم معاشروں سے زیادہ ہیں۔
لیکن وہاں کی خرابیاں لبرل سیکولر نظریات سے انحراف نہیں بلکہ ان کا عین نتیجہ ہیں۔ یہ بڑا فرق ہے ۔
اصل مسئلہ اسلام نہیں بلکہ طاقت کا غلط استعمال ہے، خواہ وہ فرد، ریاست، میڈیا یا سرمایہ کرے۔
فرق یہ ہے کہ اسلام اصولی طور پر ان تمام اعمال کی مخالفت کرتا ہے جو عورت کے استحصال کا سبب بنتے ہیں،
جبکہ لبرل ازم اور کپیٹل ازم کے عملی مظاہر اور معاشی ڈھانچے عورت کے جسم اور شخصیت کو منافع کے حصول کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ اس لیے اگر استحصال کی بات کی جائے تو اس کا الزام براہِ راست ان نظریات اور نظاموں پر عائد ہوتا ہے جو ایسے ماحول کو فروغ دیتے ہیں۔
اسلام عورت کو مرد کی جاگیر یا مرد کو عورت کا مالک نہیں بناتا، بلکہ دونوں کو اللہ کا بندہ قرار دیتا ہے۔ مرد کو اختیار کے ساتھ ذمہ داری، خرچ، حفاظت اور جواب دہی بھی سونپی گئی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کو بے عمل لامذہب مسلمانوں کے جرائم سے پرکھا جائے یا اس کی اصل تعلیمات سے؟
انصاف کا تقاضا ہے کہ اسلام کو قرآن و سنت سے اور مغرب کو اس کے نظریات، اقدار اور نظام سے جانچا جائے۔
شعیب مدنی
12 جون 2026