13/07/2020
قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ
حال حوال جنوری 6, 2019
شبیر بلوچ
اردو ادب میں بےشمار نایاب کتابیں دستیاب ہیں جن کے مطالعہ سے علم دوست افراد اپنی علمی جستجو اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھار سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب "علم و آگہی کا سفر“ اردوادب میں نمایاں اور انمول خزانے کا درجہ رکھتی ہے۔
ڈاکٹر شیر شاہ سید نے 18 کتابیں تحریر کی ہیں۔ گزشتہ عرصوں میں ان کی تین کتابیں "علم کی آگہی کا سفر“، "آگہی کاچراغ“ اور "آگہی کے نشان” شائع ہوئیں۔ ان میں پہلی کتاب علم و آگہی کا سفر دنیا کی قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ پر مشتمل ہے۔ علم و آگہی کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب میں دنیا کی 54 قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ اور ان یونیورسٹیوں کی بے شمار عظیم ہستیوں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی علمی بصیرت سے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
مصنف کا کہنا ہے حضرت عیسٰی کی پیدائش سے پہلے کی دنیا میں مختلف جگہوں پر تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ انسان نے اپنے مشاہدے، تجربے اور سمجھ بوجھ کے مطابق علم حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا ہے کہ نالندہ یونیورسٹی حضرت عیسٰی کی پیدائش سے پانچ سوسال قبل بھارت کے صوبہ بہار میں قائم کی گئی تھی۔ نالندہ یونیورسٹی میں اس زمانے میں تمام علوم کی تعلیم دی جاتی تھی اور کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے بھی اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور انہوں نے یہاں تدریس کے فرائص انجام دیے تھے۔
مصنف نانجنگ یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے یہ ادارہ 258 قبل ازم مسیح میں بادشاہ سنگ کے حکم سے عمل میں آیا۔ نانجنگ یونیورسٹی ایک بڑی علمی درس گاہ تھی۔ چین کی پانچ ہزارسال سے زیادہ تہذیبی اور سماجی تاریخ میں اس ادارے کا اہم کردار تھا۔ نانجنگ یونیورسٹی کا نعرہ ہے؛ ایمانداری اور ذہانت کے ساتھ محنت کرو اور اپنے عمل میں سچائی تلاش کرو۔ اس عظیم کارواں کی بدولت 1929 تک چین کے 50 فیصد سائنس دانوں کا تعلق نانجنگ یونیورسٹی سے تھا۔ مسلمانوں کی عظیم ریاست مراکش میں دو مسلمان بہنوں نے جامعہ القروئین کی بنیاد 859 عیسوع میں فاطمہ الفجری اور مریم الفجری نے مراکش میں رکھی لیکن آج بدقسمتی سے اسلامی ریاستوں میں عورتوں کی ا کثریت زیور تعلیم سے محروم ہے۔
جامعہ القروئین جہاں ابنِ رشد نے ارسطو کے فلسفے کو یورپ اور اسلامی دنیا میں مقبولیت عطا کی۔ ارسطو کے فلسفے کو عوامی مقبولیت دینے والوں میں ابن رشد کا نام اولین ناموں میں ہے۔
مصنف اسلامی دنیا پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ الزیتون یونیورسٹی کو اسلامی تاریخ کی پہلی باضابطہ یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس ادارے میں فلسفہ، قانون، ریاضی جیسے مضامین پڑھانے کا رواج عام تھا جہاں سے دنیا کی معروف شخصیات ابنِ خلدون، احمد بن یوسف، احمد بن بکر تضاشی، طاہر حداداد نے تعلیم حاصل کی۔
اٹلی بولوگنا یونیورسٹی دنیا کی پہلی درس گاہ ہےجسے شروع ہی سے یونیورسٹی کا نام دیا گیا۔ بولوگنا یونیورسٹی کو یورپ کی یونیورسٹیوں کی ماں کہا گیا ہے۔ اس زمانے میں بولوگنا یونیورسٹی میں 85 ہزار طلبا زیر تعلیم تھے۔ 33 شعبے اور 11مختلف کالج اس یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ مارکونی نے بولوگنا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مارکونی نے پہلا ریڈیو ایجاد کیا جو کسی تار کے بغیر کام کرتا تھا۔ ان کی ایجاد نے اُس وقت کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یورپی سماج کو ترقی اور منظم کرنے میں انقلابِ فرانس نے اہم کردار ادا کیا، اس لیے پیرس یونیورسٹی کو یورپ کا روشن خیال اور ترقی پسندانہ ادارہ کہا جاتا ہے۔ میری کیوری جس نے پیرس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، انہیں دو مرتبہ نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کا آغاز 1096 عیسوی سے جاری تھا اور بادشاہ ہنری دوم نے 1167 میں انگلستان کے طلبا کی پیرس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس پابندی کی وجہ سے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیمی نظام کو فروغ ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والی عظیم ہستیوں کا مختصر کردار بیان کرنا چاہتا ہوں؛ جان و کلیف 1384 میں پیدا ہوئے، ان کا ایک بڑا سنگین جرم یہ تھا کہ انہوں نے بائبل کے مختلف ترجموں پر زور دیا تھا اور انہوں نے 1382 میں بائبل کا انگریزی میں ترجمہ کیا تو وہ بائبل جون و کلیف کے نام سے مشہور ہوا۔ رچرڈ ڈاکنسنیر وبی کینیا میں 1941 میں پیدا ہوئے۔ وہ حیاتیاتی ارتقا کے ماہروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی مشہور کتاب the selfish gene جنیاتی طور پر ارتقا کے بارے میں ہے اور دنیا کے 30 بڑے ممالک کے بڑے وزیراعظم بھی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ آکسفورڈ یونیودسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے انسانوں کا کردار نمایاں ہے۔
پیڈووا یونیورسٹی کا شمار یورپ کی قدیم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے اور یہ ادارہ اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی فکری آزادی کا علمبردار بن گیا۔ پیڈووا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے ولیمھاروے ایک عظیم ڈاکٹر تھے جنہوں نے انسانی جسم میں دورانِ خون کا طریقہ کار دریافت کیا۔ دنیا کے عظیم سائنس دان گلیلیو نے بھی پیڈووا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ طبیعیات، ریاضیات، انجینئرنگ اور فلکیات کے ماہر تھے۔ انہیں بابائے سائنس، ؑ بابائے علمِ فلکیات اور بابائے طبیعیات کہا جاتا ہے۔ انہوں نے جیوپیٹر کے چاند دریافت کیے جنہیں گیلیلیوں کے چاند کہا جاتا ہے۔
آخر میں کیمبرج یونیورسٹی پر اپنے خلاصے کا اختتام کرتا ہوں کہ کیمبرج یونیورسٹی دنیا کی ان عظیم تعلیمی درس گاہوں میں سے ایک ہے جہاں دنیا کی عظیم ہستیوں نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کیا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے 90 سے زیادہ لوگوں کو نوبل انعام مل چکا ہے۔
حرفِ آخر یہ کہ کسی قوم ترقی میں تعلیمی اداروں کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے اپنی تاریخ، کلچر اور شناخت کو برقرار رکھا ان میں تعلیمی اداروں کا اہم کردار ہے۔ آج کے زمانے میں کسی بھی قوم کی قومی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تعلیم کے دروازے عوام کے لیے نہ کھولے جائیں۔