07/06/2026
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں دورانِ ڈیوٹی ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے انتہائی وحشیانہ اور افسوسناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بزدلانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ایک ایسے مقدس پیشے سے وابستہ خاتون، جو انسانیت کی خدمت اور جانیں بچانے کے عمل میں مصروف ہو، اسے عین جائے کار پر اس طرح کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانا نہ صرف طبی برادری بلکہ پورے معاشرے اور انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کونسل اس واقعے کو سیکیورٹی کی سنگین ترین ناکامی قرار دیتی ہے کسی بھی مہذب معاشرے میں مسیحاؤں پر ایسے حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے، اور حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہسپتالوں جیسے حساس مقامات پر طبی عملے، بالخصوص خاتون ڈاکٹروں کو فول پروف تحفظ فراہم کریں۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان حکومتِ بلوچستان، محکمہ صحت اور پولیس حکام سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ اس لرزہ خیز واقعے میں ملوث سفاک ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلا کر قانون کے مطابق سخت ترین عبرتناک سزا دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی کونسل حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو علاج معالجے کی بہترین، اعلیٰ ترین اور تمام ضروری طبی سہولیات سرکاری سطح پر فوری فراہم کی جائیں تاکہ ان کی زندگی اور صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ کونسل واضح کرتی ہے کہ اگر ملزمان کو فوری کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا تو طبی عملے کی ہڑتال سے صوبے بھر میں غریب مریضوں کا جو نقصان ہوگا، اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ مستقبل میں ایسے بھیانک واقعات کی مستقل روک تھام، ہسپتالوں کے امن کو برقرار رکھنے اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر کڑی اور جامع قانون سازی کی جائے تاکہ دوبارہ کوئی ایسی بزدلانہ جرات نہ کر سکے۔
ترجمان: ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان