Son of Matrukasindh PK

Son of Matrukasindh PK اس پیج کا مقصد یہ ہے کہ مہاجروں اور دیگر کو آگاہ کیا جا?

اس پیج کا مقصد یہ ہے کہ مہاجروں اور دیگر کو آگاہ کیا جائے کہ مہاجر سندھ میں متروکہ زمین کا فرزند ہے اور یہ کہ مہاجر بے زمین نہیں ہے ۔

کراچی میں چند ہزار ڈکیت، ڈمپر ڈرائیور اور چور ہوں گے لیکن 2 کروڑ سے زیادہ مہاجر ہیں۔ مگر بجائے کوئی مربوط حفاظتی نظام تر...
21/05/2026

کراچی میں چند ہزار ڈکیت، ڈمپر ڈرائیور اور چور ہوں گے لیکن 2 کروڑ سے زیادہ مہاجر ہیں۔ مگر بجائے کوئی مربوط حفاظتی نظام ترتیب دینے کے یہ حادثات اور سانحات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھیج کر لمبی تان کر سوتے ہیں 🤔

01/05/2026

جو آج بھی اپنی بہن، بیٹی کی جائیداد ہڑپ کرنے کے لیے اسے مختلف الزامات لگا کر قتل کر ڈالتے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے بے گھروں کو زمینیں دی تھیں 🤔

01/05/2026

پچھلے تیس، چالیس برسوں سے سوگ پر سوگ منارہے ہو۔ تمھارے پاس مہاجر قوم کے مسائل کا کوئی حل بھی ہے یا "بڑے بھائی" کے چکر میں پھنسے رہوگے کہ دال روٹی بلکہ مرغ مسلم چلتا رہے۔

.                     --: ڈکیت گینگ :--سلاخوں کے پیچھے عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے ڈاکو چیلا اپنے "استاد" سے پوچھ رہا تھا ...
04/04/2026

.
--: ڈکیت گینگ :--

سلاخوں کے پیچھے عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے ڈاکو چیلا اپنے "استاد" سے پوچھ رہا تھا کہ استاد ہم نے تو اس بینک کو لوٹا ہی نہیں پھر ہمیں سزا کیوں سنادی گئی ؟؟؟

"ایک ڈکیت گینگ برسوں سے لوٹ مار کررہا تھا لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ ان کا طریقہ واردات بہت تکنیکی تھا۔ وہ ڈکیتی سے پہلے مہینوں بینک اور ارد گرد کے علاقے کی معمولات کا باریکی سے جائزہ لیتے اور پھر بھی انھیں کچھ اٹ پٹا، غیر معمولی یا موزوں نہ لگتا تو وہ بھی وہ اس بینک کو اپنی فہرست سے نہ صرف ہمیشہ کے لیے نکال دیتے بلکہ اسے مستقبل کے لیے بھی ایک معیار بنالیتے کہ یہ سب کچھ کسی اور "ٹارگٹ" میں بھی نظر آیا تو وہ اس قسم کا خطرہ کبھی مول نہیں لیں گے۔

قصہ مختصر وہ ایک کم آبادی والے قصبے میں موجود بینک کو نشان زد کرتے ہیں اور اس کی ریکی کے لیے تقریباً ایک کلومیٹر دور ایک مکان کرایہ پر حاصل کرتے ہیں جہاں سے دن رات بینک کی نگرانی کی جاسکے۔

چار مہینے کی منصوبہ بندی کے بعد وہ ایک دن بینک رابری کے لیے چن لیتے ہیں کہ اس دن بینک میں کیش زیادہ ہوتا ہے۔ مہینے کا اختتامی دن ہونے کے سبب زیادہ تر لوگ سست ہوتے ہیں۔ کیش لانے والی گاڑی کا عملہ بھی ریلیکس ہوتا ہے کیوں کہ اس ٹاؤن میں کبھی کوئی بڑی واردات نہیں ہوئی تھی۔ شریف اپنی پولیس وین کا گشت معمول کے مطابق کرتا ہوا بینک کے سامنے سے نکل جاتا ہے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے۔

اس گینگ نے لنچ کے فوراً بعد تین منٹوں کا وقت اپنے لیے چنا تھا۔ وہ جیسے ہی بینک میں ڈکیتی کے لیے اپنی گاڑی میں سامنے پہنچتے ہیں تو انھیں پیچھے سے پولیس کا ہارن سنائی دیتا ہے۔ اور ان سے آگے کھڑی ہوئی گاڑی آنا فانا غالب ہو جاتی ہے۔ اس سے پہلے یہ لوگ کچھ کرپاتے انھیں بھاگنا پڑتا ہے۔ حالانکہ پیٹرول ٹینک فل بھرا ہوتا ہے لیکن وہ کب تک بھاگتے ہائے وے پر پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے لوگ انھیں پکڑ لیتے ہیں۔
مقدمہ چلتا ہے لیکن بینک سے لوٹی ہوئی رقم برآمد نہیں ہوتی پھر بھی انھیں سزا ہوتی ہے کیوں کہ ان کے پاس سے بینک ڈکیتی کا پورا سامان برآمد ہوتا ہے۔ لوٹی ہوئی رقم کا بیگ ان سے نہیں ملتا ۔ پولیس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ بیگ انھوں نے راستے میں کہیں پھینک دیا تھا۔ "

خیر استاد اپنے چیلے کو بتاتا ہے کہ یہ سزا ہم اس ڈکیتی کی نہیں بلکہ پہلے کی گئی ڈکیتیوں کی مل رہی ہے۔

کوئی بھی برا کام کرتے ہوئے یاد رکھیں اس کا بدلہ ضرور ملے گا ۔ ساری چالاکیاں مکاریاں ایک حد تک ہی کام کرتی ہیں۔ آپ ایک کو نہیں، سینکڑوں کو، ہزاروں کو، لاکھوں کو، کروڑوں کو بے وقوف بناکر بھی کب تک بچ سکتے ہو۔ ایک نہ ایک دن تو حساب ہوگا ہی اور یہاں نہیں تو وہاں لازمی ہوگا۔
برے کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔


Son of Matrukasindh PK
MUHAJIR NATION
Matruka Sindh

17/01/2026

The history of
began with the discovery of two critical principles: The first is camera obscura image projection, the second is the discovery that some substances are visibly altered by exposure to light[2]. There are no artifacts or descriptions that indicate any attempt to capture images with light sensitive materials prior to the 18th century.
View from the Window at Le Gras 1826 or 1827, believed to be the earliest surviving camera photograph.[1] Original (left) and colorized reoriented enhancement (right).
Around 1717, Johann Heinrich Schulze used a light-sensitive slurry to capture images of cut-out letters on a bottle. However, he did not pursue making these results permanent. Around 1800, Thomas Wedgwood made the first reliably documented, although unsuccessful attempt at capturing camera images in permanent form. His experiments did produce detailed photograms, but Wedgwood and his associate Humphry Davy found no way to fix these images.
In 1826, Nicéphore Niépce first managed to fix an image that was captured with a camera, but at least eight hours or even several days of exposure in the camera were required and the earliest results were very crude. Niépce's associate Louis Daguerre went on to develop the daguerreotype process, the first publicly announced and commercially viable photographic process. The daguerreotype required only minutes of exposure in the camera, and produced clear, finely detailed results. On August 2, 1839 Daguerre demonstrated the details of the process to the Chamber of Peers in Paris. On August 19 the technical details were made public in a meeting of the Academy of Sciences and the Academy of Fine Arts in the Palace of Institute. (For granting the rights of the inventions to the public, Daguerre and Niépce were awarded generous annuities for life.)[3][4][5] When the metal based daguerreotype process was demonstrated formally to the public, the competitor approach of paper-based calotype negative and salt print proce

19/05/2025

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Son of Matrukasindh PK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share