31/05/2026
انسانی حقوق کی علمبردار قصوہ آرگنائیزیشن پاکستان کی صدر میڈم فریحہ غوری نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ تمباکو (سگریٹ، گٹکا، ماوا، نسوار، پان پراگ اور دیگر تمباکو سے بنی اشیاء) کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ اور جان لیوا ہے۔ سائنسی تحقیقات اور عالمی طبی مطالعات سے ثابت ہو چکا ہے کہ تمباکو استعمال کرنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر، منہ اور گلے کے کینسر، دل کی بیماریوں، فالج، ہائی بلڈ پریشر، پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں اور دیگر متعدد مہلک امراض کا خطرہ عام افراد کی نسبت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر کے 85 فیصد سے زائد کیسز کا تعلق سگریٹ نوشی سے ہے، جبکہ تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے تقریباً ہر دوسرا فرد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث قبل از وقت موت کا شکار ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی خطرناک تکالیف کے علاج کے دوران شدید جسمانی، ذہنی اور مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
تمباکو نہ صرف استعمال کرنے والے کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اس کا دھواں گھر کے افراد، بچوں اور آس پاس موجود لوگوں کے لیے بھی انتہائی مضر ہے۔ اس لیے تمباکو سے پاک گھروں، دفاتر، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئیے، عالمی یومِ انسدادِ تمباکو کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم تمباکو کی ہر قسم کے استعمال سے اجتناب کریں گے، اپنی نوجوان نسل کو اس خطرناک لت سے محفوظ رکھیں گے اور ایک صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔