01/02/2026
واک پر فیصلہ مابین فریقین
فریقِ اوّل:
حاجی دلاور خان، عبدالمنان، محمد خلیل
فریقِ دوئم:
اسلام محمد، آدام ساز، محمد امین
مندرجہ بالا دونوں فریقین کے مابین دشمنی اور کشیدگی کے باعث 17 رکنی منیاخیل جرگہ ممبران نے قومی اصولوں کے مطابق تقریباً تین (3) سال تک (تیگہ) یعنی امن قائم رکھا۔ مذکورہ تیگہ کے دوران امن برقرار رکھنے کی غرض سے دونوں فریقین پر مشترکہ زمین بند رکھی گئی تھی۔ یہ تیگہ مورخہ 02/11/2023 سے قبل نافذ تھا، تاہم اس دوران فریقِ دوئم کی جانب سے تیگہ کی خلاف ورزی سامنے آئی، جس کے نتیجے میں تنازعہ دوبارہ پیدا ہوا۔
اس تنازعہ کے حل کے لیے دونوں فریقین بمعہ 17 رکنی منیاخیل جرگہ ممبران نے معاملہ کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی کے سامنے پیش کیا اور مکمل فائل قومی کمیٹی کے حوالے کی۔ کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی نے متفقہ طور پر 17 رکنی جرگہ ممبران کے بیانات سنے اور ان کے جمع کردہ تحریری کاغذات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
قومی کمیٹی نے مورخہ 17/12/2023 کو یہ فیصلہ صادر کیا کہ فریقِ دوئم کی جانب سے کی گئی خلاف ورزی، یعنی دیوار کی تعمیر، دس (10) دن کے اندر خود مسمار کی جائے۔ مذکورہ دیوار سات (7) دن کے اندر مسمار کی گئی اور ساتھ ہی قومی کمیٹی کی جانب سے فریقِ دوئم پر پچاس ہزار (50,000) روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
اس کے بعد دونوں فریقین نے پانچ لاکھ (500,000) روپے مچلکہ کے تحت اپنے تحریری بیانات کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی میں جمع کروائے۔ پہلے مرحلے میں قومی کمیٹی نے فریقین کے مابین دوبارہ (تیگہ) یعنی امن برقرار رکھا۔ بعد ازاں تنازعہ والی جگہ، جو وادی تیراہ، رجگل میں واقع ہے، کا باقاعدہ دورہ کیا گیا۔ موقع کے معائنے کے دوران قومی کمیٹی نے دونوں فریقین سے انہی مچلکوں کے تحت (واک) یعنی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل کیا۔
واک کے تحت قومی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ فریقِ دوئم کی آبادی سے مشرق کی جانب آٹھ (8) فٹ زمین مقرر کی جائے، مگر اس فیصلے کو بھی فریقِ دوئم نے قبول نہیں کیا۔
بعد ازاں فریقین کے تحریری بیانات کی روشنی میں مورخہ 08/12/2024 کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی نے (قومی لیار) یعنی قومی اصول تحریر کیے، جسے فریقِ دوئم نے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
کئی ماہ کی مسلسل کوششوں، انتظار اور مصالحت کے بعد فریقین نے دوبارہ (واک) پر رضامندی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں مورخہ 24/09/2025 کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی نے واک کے ذریعے حتمی فیصلہ صادر کیا۔ اس فیصلے کے مطابق فریقِ دوئم کو آبادی سے باہر مشرق کی جانب بارہ (12) فٹ زمین دی گئی، جبکہ ان بارہ فٹ کے مشرق کی جانب موجود زمین اور جائیداد فریقِ اوّل حاجی دلاور خان کی ملکیت تسلیم کی گئی۔ اسی طرح فریقِ دوئم کی جانب سے کھیت پر کیا گیا دعویٰ بھی ختم کر کے وہ کھیت فریقِ اوّل کی ملکیت قرار دیا گیا۔
مزید برآں مسجد اور کھیتوں کے لیے راستہ کھلا رکھنے کا بھی واضح فیصلہ کیا گیا۔ مندرجہ بالا تمام فیصلے تحریری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی عام طور پر تین یا چار مقررہ تاریخوں میں فیصلے صادر کرتی ہے، مگر یہ معاملہ فریقِ دوئم کی جانب سے بار بار ٹال مٹول اور عدمِ عمل کے باعث برسوں تک طول پکڑتا رہا۔ اس کے باوجود قومی کمیٹی نے صبر، تحمل اور قومی روایات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے انصاف کی راہ کو ترک نہیں کیا۔
اس پورے عمل میں کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی کے سربراہ ملک ادریس آفریدی کی قیادت، بصیرت، استقامت اور غیرجانبداری نہایت قابلِ تحسین رہی، جن کی دانشمندانہ رہنمائی میں قومی کمیٹی نے اس طویل اور حساس تنازعہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اسی طرح DRC کے انچارج عنایت اللہ آفریدی کی چار سے پانچ ماہ کی مسلسل محنت بھی قابلِ قدر ہے۔
آخر کار، مسلسل تین سال کی کوششوں، صبر اور مخلصانہ محنت کے بعد، کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی نے فریقِ اوّل حاجی دلاور خان کو قومی اصولوں کے مطابق فیصلہ مورخہ 20/01/2026 کو دیا۔
آج مورخہ 01/02/2026 فیصلے کے کاغذات پر دستخط مکمل ہوئے اور فریقِ اوّل کو قومی اصولوں کے مطابق فیصلہ کا تحریری کاغذ فراہم کر دیا گیا۔
دیر آید، درست آید۔
کوکی خیل جرگہ قومی کمیٹی