12/09/2021
ترقی كا راز: مقبول حسین صاحب كی زبانی
پروفیسر حافظ ابوبكر صدیق ۔۔۔ 03345149405
چودہ اگست 2021 ء كی رات میں كچھ تاخیر سے گھر پہنچا تو بیٹے حافظ معوذ صاحب نے ضد كی كہ اسلام آباد كی طرف گھومنے كے لئے چلنا ہے اور كھانا بھی باہر كھانا ہے۔ اژدحام كے باعث ہم كافی دیر كے بعد ایف 8 مركز میں ایك ہوٹل پر پہنچے ، كھانے كا آرڈر كیا۔ جس ویٹر نے ہم سے آرڈر لیا اس نے آدھی رات كے بعد تھكاوٹ كے باوجود انتہائی پرتپاك انداز میں كھانا پیش كیا اور ایك دو بار آكر مزید چیزوں كے بارے میں بھی پوچھا۔ كھانا تو لذیذ تھا ہی مگر اس بندے كے چہرے پر مسكراہٹ اور شكرگزاری كے آثار نمایاں تھے۔ كھانے كے بعد بل دینے كی باری آئی تو اس نے جو رقم بتائی مجھے اس سے زیادہ سمجھ آئی ۔ میں نے وہ رقم اور اپنی طرف سے اضافی ٹپ ملا كر دی تو اس طرح اس كی ٹپ تقریباً پانچ سو روپے كے قریب بن گئی۔ اس نے بل لے كرہمیں شكریہ كے ساتھ رخصت كیا۔ میں اس كے متشكرانہ انداز پر بچوں كو سمجھانے لگا كہ دیكھو یہ شخص شكر گذار تھا اور صرف ایك گاہك سے اتنی رقم بخوشی حاصل كرنے میں كامیاب ہوگیا۔ انہوں نے مجھے بتایا كہ آپ نے صرف ٹپ نہیں دی اسے بل بھی اضافی دیا ہے۔ میں نے كہا كہ میں نے نہیں دیا اس كے شكرگزار ہونے كے باعث اللہ تعالی نے كو نوازا ہے۔
اس واقعے سے مجھے اسی دن شام كی ایك معمول كی تقریب یاد آئی جس میں J7گروپ كے چیئرمین مقبول حسین صاحب اور سی ای او یسین محسود صاحب مہمانِ خصوصی تھے۔ میزبان ہمارے مہربان دوست محمد فیاض اعوان صاحب تھے۔ تقریب سے تھوڑی دیر قبل فیاض صاحب كی جانب سے حكم ملا كہ تقریب كی نقابت میرے ذمہ ہے۔ بتاتا چلوں كہ مقبول حسین صاحب كی قیادت میں J7گروپ نے انتہائی مختصر عرصے میں اللہ تعالی كے فضل وكرم سے بہت زیادہ ترقی كی ہے۔ جبكہ اس سے قبل گروپ سے وابستہ ڈائریكٹرز راولپنڈی اور اسلام آباد میں بہت بڑے بڑے پروجیكٹ مكمل كرچكے ہیں۔ مقبول حسین صاحب كے گروپ میں موجود ان كے پارٹنرز میں سے اكثر ان كے ان دیرینہ دوستوں میں سے ہیں جو انہیں بہت عرصے سے جانتے ہیں كہ انہوں نے كس قدر محنت ، لگن اور ایمانداری كے ساتھ اپنے منصوبہ جات كو مكمل كیا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے مل كر 2018ء میں یہ گروپ تشكیل دیا اور ڈویلپمنٹ كے شعبہ میں ایك اچھا نام كمایا۔ بی 17 اسلام آباد میں 46كنال پر مشتمل J7امپوریم كے علاوہ تقریبا 10 مزید پروجیكٹس اس وقت جاری وساری ہیں جن كا مالی اربوں روپے كا ہے۔ اور ان كے پروجیكٹس كی خوبصورتی یہ ہے كہ یہ بین الاقوامی معیار كے مطابق مستقبل كی ضروریات كو سامنے ركھتے ہوئے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ یہ گروپ تعمیر كركے پروجیكٹ كو بے سہارا نہیں چھوڑ دیتا بلكہ اسے آباد بھی كرتا ہے اور مقررہ وقت سے پہلے مكمل كرنے كی تاریخ بھی ركھتا ہے۔
اس گروپ كے ہر پروجیكٹ كا ڈائریكٹر اپنے شعبے میں بہت اچھی شہرت كا حامل ہے، مذكورہ تقریب كے میزبان فیاض اعوان صاحب J7ICON كے پروجیكٹ ڈائریكٹر ہیں۔ اور تقریب بھی اس پروجیكٹ كے سائٹ آفس میں ہی منعقد ہو رہی تھی جو اسلام آباد ائیرپورٹ كے قریب سرینگر ہائی وے كے دونوں اطراف میں گروپ كے چار پروجیكٹس میں سے ایك منفرد پروجیكٹ ہے جسے این او سی مل چكا ہے اور اس كی تعمیر كا كام بھی شروع ہونے كو ہے۔ یہ پروجیكٹ سرینگر ہائی وے پر میٹرو اسٹیشن كے بالكل سامنے، موٹر وے كے سنگم ، رنگ روڈ اور سی پیك روٹ كے قریب بہترین سوسائٹیوں كے جھرمٹ میں گھری ہوئی ممتاز سٹی میں واقع ہے۔ یہاں پر تیزی سے كنسٹركشن كا كام جاری ہے كیونكہ یہ اسلام آباد كا وہ بلیو زون ہے جو مستقبل قریب میں پاكستان كا گلوبل زیروپوائنٹ بننے جا رہا ہے۔
گفتگو اس موقعہ پر بہت مختصر ہوئی مگر فیاض صاحب نے موقعہ كی مناسبت سے آزادی كی نعمت كا تذكرہ كرتے ہوئے شكرگزاری كی اہمیت پر زور دیا تو جب باری مقبول حسین صاحب كی آئی تو انہوں نے اپنی ترقی كے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے كہا مجھے اور میرے گروپ كو جو بھی ترقی ملی ہے اس كا ایك بڑا راز یہ ہے كہ ہم اللہ تعالی كا شكر ادا كرتے ہیں اور ناشكری كركے حالات كا رونا نہیں روتے بلكہ كام كركے آگے بڑھتے ہیں۔ گفتگو مختصر مگر باكمال تھی، اس لئے ہم نے نقابت كا فرض نبھاتے ہوئے سامعین كو یہ سبق پلے باندھنے كا مطالبہ كیا اور پاكستان كی خوشحالی اور ترقی كے لئے دعا كے ساتھ مہمانوں سے كیك كاٹنے كی درخواست كردی۔
یوں بظاہر یہ عام سی تقریب تھی مگر جو بات وہاں ذكر ہوئی وہ بہت اہم اور مفید تھی اس لئے ہم نے سوچا كہ ہم اپنے قارئین كے ساتھ بھی یہ راز شیئر كرلیں۔ كیونكہ قرآن وسنت میں شكرگزاری كو اپنانے اور اس كے ذریعے ترقی پانے كاتذكرہ ہمیں باربار ملتا ہے۔ شکراور شکرگزاری کا حکم قرآن مجید میں تقریباً 75 مقامات پر مختلف انداز میں آیا ہے۔ اور اس کی بڑی فضیلت ہمیں قرآن و سنت سے معلوم ہوتی ہے ۔ جیسے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناًاللہ تم سے بےنیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر ادا کرو گے تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے (سورة الزمر:7)۔ اور رسول اللہ ﷺ كا فرمانِ ذی شان ہے: بندہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے لیے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے کوئی راحت پہنچے تو اس پر وہ اپنے رب کا شکرگزار ہوتا ہے اور اس میں اس کے لیے خیر ہے اور ا گر اسے کوئی تکلیف یا رنج پہنچے اور وہ اس پر صبر کرے تو یہ اس کے لیے باعثِ خیر وبرکت ہے۔ (مسلم)
میں آخر میں ایك فرانسیسی جرنلسٹ اور ناولسٹ الفونسی كا ذكر كرنا چاہوں گا جس نے شکرگزاری كی بڑی خوبصورت تصویركشی یوں كی: کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گلاب کے پھولوں کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں جبکہ میں اس بات کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کانٹوں کے ساتھ گلاب ہیں۔