Tawheed Alliance

Tawheed Alliance ‎Tawheed Alliance is a platform dedicated to promoting unity on the foundation of pure Tawheed۔

"نفس کی اطاعت" شرک کب بنتی ہے؟۔۔۔۔برصغیر کے فکری رجحانات صوفیت کے زیرِاثر رہے ہیں۔ یہاں کے قرآنی حلقات تک اس کی چھاپ سے ...
20/07/2026

"نفس کی اطاعت" شرک کب بنتی ہے؟
۔۔۔۔
برصغیر کے فکری رجحانات صوفیت کے زیرِاثر رہے ہیں۔ یہاں کے قرآنی حلقات تک اس کی چھاپ سے محفوظ نہیں۔ یہاں شرک کا مفہوم یوں گول کرایا جاتا ہے کہ اس کی کوئی ‘نوک’ باقی نہ رہے ! دروسِ قرآن کے اِن حلقوں میں نہ صرف شرکِ اکبر کا بیان تقریباً مفقود ہے بلکہ وہ چیز جو شرکِ اصغر تک نہیں بنتی وہ "شرک" کی مطلق تفسیر کے طور پر پیش کی جارہی ہوتی ہے!
شرک کی یہ تفسیر جو ‘نفس’ کے گرد گھومتی ہے…… شرک کو کوئی "زمین دوز" چیز بنادیتی ہے۔ جس کے بعد برسرزمین شرک کی کچھ حقیقت نہیں رہ جاتی؛ بس ‘نفس’ کی پہنائیوں میں ہی اس کو تلاش کریں تو کریں! مل جائے تو ٹھیک، نہ ملے تو مسئلہ ختم، وھو المطلوب!!! رہا شرک کے خلاف وہ انبیاء والا نقارہ جو "برسرِ زمین" حقیقتوں کو للکارتا اور ان کا صاف ابطال کرتا اور مخلوق کو ان سے کھلم کھلا تائب کرواتا تھا، جیسے اللہ کے سوا کسی کو سجدہ، کسی کا طواف، کسی کا ذبیحہ، کسی سے فریاد و استغاثہ، کسی کی نذر و نیاز، تحلیل اور تحریم پر کسی کا مطلق حق ماننا، وغیرہ… تو شرک سے متعلق یہ پورا قرآنی بیانیہ بڑی مہارت کے ساتھ روپوش! وہ کہیں ملتا ہی نہیں ہے اس پورے بیانیے کے اندر۔
چنانچہ شرک کا یہ سارا موضوع اتنی سی بات میں بھگتا دیا جاتا ہے کہ : ‘بھائی اس سے مراد ہے خدا کے حکم کے مقابلے پر اپنے نفس کی ماننا’ یا ‘اپنے مفاد کو ترجیح دینا’!
اب ظاہر ہے ‘خدا کے حکم کے مقابلے پر اپنے نفس کی ماننا’ تو ایک مسلمان سے بھی ہوجاتا ہے۔ گناہ جب بھی ہوتا ہے خدا کے حکم کے مقابلے پر اپنے نفس کی مان کر ہی ہوتا ہے۔ جبکہ عقیدۂ اہلسنت اِس معاملہ میں صریح ہے کہ: آدمی کبیرہ گناہوں کا رَسیا ہو تو بھی مشرک بہرحال نہیں ہوتا۔ "شرک" تو چیز ہی ایک اور ہے: اسلام سے خارج ہو جانا، دنیوی احکام کے حوالہ سے۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم، اور بخشش کی کبھی آس نہ رہنا، اخروی احکام کے حوالہ سے۔ جبکہ کبائر کے رسیاؤں کےلیے خدا کی بخشش اور نبی کی شفاعت حق ہے، اور اس مضمون پر احادیث شمار سے باہر۔ اب یہ تو معلوم ہے کہ اصرار على الکبائر ‘خدا کے مقابلے پر نفس کی مان کر’ بلکہ ‘مانتے رہ کر’ ہی وقوع پزیر ہوتا ہے۔
اشکال کہاں ہے؟
قرآن کے بعض مقامات پر بلاشبہ "خواہش کو معبود بنانے" کا ذکر ہوا ہے۔ مگر اس کا مطلب کیا ہے؟ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شرکِ اکبر کے حوالے سے طبری اور ابن کثیر ایسے مستند مصادر سے ان قرآنی مقامات کی تفسیر ملخص کردی جائے:
أفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (الجاثیہ: 23)
"کیا تو نے اُس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنی چاہت (یا اپنے چاہے) کو اپنا الٰہ ٹھہرالیا؟ اور اللہ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی نگاہ پر پردہ ڈال دیا ہے۔ سو ایسے شخص کو بعد خدا کے (گمراہ کردینے کے) کون ہدایت کرے؟ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے؟"
ابن جریر طبریؒ:
 مفسرین کے ایک فریق کا کہنا ہے: یہ وہ شخص ہے جو خواہش کی بنیاد پر اپنا دین اختیار کرتا ہے۔ نرا منچلا جو نہ اللہ پر ایمان رکھے، نہ اللہ کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہرائے اور نہ اللہ کے حلال ٹھہرائے ہوئے کو حلال۔ اس کا دین وہی جو اس کے جی میں آئے اور یہ اسی کا پیرو۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں: یہ وہ کافر ہے جو خدا کی نازل کردہ ہدایت سے بےنیاز، اور بغیر کسی (آسمانی) دلیل کے، اپنا دین اختیار کرتا ہے۔
 مفسرین کے دوسرے فریق کا کہنا ہے: اس کا معنیٰ یہ ہے کہ کہ یہ شخص اپنی من مرضی سے جس چیز کو چاہے اپنا معبود ٹھہراتا ہے۔ سعید بن جبیرؒ اس کی تفسیر میں کہتے ہیں: قریش لوگ عزیٰ کو پوجتے۔ جس کےلیے وہ ایک سفید پتھر رکھتے، کچھ دیر اسے پوجتے رہتے پھر جب اس سے بہتر کوئی پتھر نظر آتا تو وہ پہلے کو پھینک دیتے اور نئے پتھر کو پوجنے لگتے۔
ابن کثیر:
یعنی یہ اپنی خواہش کا مامور ہے؛ اپنی عقل سے جس چیز کو خوب جانے اسی کو اختیار کرلےگا، اور جس چیز کو ناخوب جانے ترک کردے گا۔ مالکؒ سے اس کی یہ تفسیر مروی ہے: ہر وہ چیز جو اس کے دل میں آئے یہ اُسے پوجنے لگتا ہے۔
*****
أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (الفرقان:43)
’’کیا دیکھی تم نے اس شخص کی حالت جس نے اپنی چاہت (یا چاہے) کو اپنا الٰہ بنالیا ہے۔ سو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے؟‘‘
ابن کثیر:
یعنی جو بھی چیز اس کی عقل میں خوب معلوم ہوگی اور اس کے من کو بھائےگی، وہی اس کا دین اور مذہب بن جائے گی۔
*****
شیخ صالح المنجد اپنے ایک فتویٰ (متى يكون اتباع الهوى شركا أكبر ومتى يكون معصية) میں اس پورے مسئلہ کو یوں ملخص کرتے ہیں:
’’خواہش کی پیروی‘‘ کوئی ایک ہی درجہ نہیں۔ اس کی کوئی صورت کفر یا شرکِ اکبر بنے گی، کوئی صورت کبیرہ گناہ بنے گی، اور کوئی صورت صغیرہ گناہ:
• چنانچہ اگر آدمی اپنی خواہش کی پیروی میں یہاں تک چلا گیا ہو کہ وہ رسولؐ کی تکذیب کرنے لگا، یا اس کا استہزاء کرنے لگا، یا اس سے اعراض کرنے لگا –اور جوکہ سورۂ فرقان اور سورۂ جاثیہ کی ان آیات کے سیاق سے واضح ہے – تو یہ شخص مشرک ہوگا بمعنیٰ شرکِ اکبر۔ یہی حکم ہر اس شخص کا ہوگا جو خواہشِ نفس کی پیروی میں کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرے جو ازروئے دلائلِ شرعیہ شرک اکبر یا کفر اکبر بنتا ہے، جیسے مردوں کو پکارنا، یا دین کے کسی معلوم امر کا انکار کرنا، یا ترکِ نماز(۲) ، یا زنا اور شراب وغیرہ کو حلال جاننا۔
• اور اگر خواہش نفس کی پیروی میں وہ شرک اصغر ایسا کام کرے جیسے غیراللہ کی قسم کھانا یا عبادت میں ریاکاری کرنا... تو وہ شرکِ اصغر کا مرتکب ہے۔
• اور اگر خواہش کی پیروی میں وہ بدعتِ غیر مکفرہ کرے تو وہ بدعتی ہے۔
• اور اگر خواہش کی پیروی میں وہ کبیرہ گناہ کرے جیسے زنا یا شراب خوری، تاہم وہ اس کو حلال نہیں سمجھتا، تو وہ فاسق ہے۔
• اور اگر خواہش کی پیروی میں وہ صغیرہ گناہ کرے تو وہ محض گناہگار ہے، فاسق نہیں۔
پس واضح ہوا، خواہش کی پیروی مختلف درجات رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ کہہ دینا کہ خواہش کی پیروی کرنا مطلق طور پر کفر ہے، درست نہیں۔
*****
*****
نوٹ: یہ مختصر تحریر ہمارے رسالہ "شرک اکبر کا بیان" کی فصل "شرکِ اطاعت" سے اقتباس ہے، جو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ خاص اس موضوع کی ضرورت کے تحت علیحدہ مضمون کے طور پر ایقاظ میں دی جا رہی ہے۔ See less

امت کی اصل ضرورتصدیوں سے چلتے آ رہے فروعی اختلافات اور آپسی ٹکراؤ سے اب لوگ تھک چکے ہیں، دلائل کی پوری پوری لائبریریاں ا...
15/07/2026

امت کی اصل ضرورت
صدیوں سے چلتے آ رہے فروعی اختلافات اور آپسی ٹکراؤ سے اب لوگ تھک چکے ہیں، دلائل کی پوری پوری لائبریریاں ان اختلافی مسائل کے ردوقبول پر کھڑی کی جاچکی ہیں۔ ان مسائل کو اچھالنے سے اب کوئی فائدہ نہیں، لہذا اب ایسے مسائل کو کتابوں میں بند رہنے دینا ہی دانش مندی ہے۔ کیوں کہ اس وقت امت ہم سے اختلافات نہیں بلکہ فکری رہنمائی، عملی بصیرت اور ذمہ دارانہ کردار کی طالب ہے۔ اس وقت ہمارا مقابلہ الحاد و تشکیک، جدیدیت اور بے حیائی وبے دینی سے ہے۔ اور ان ہی کے تعاقب میں ہماری کوشش صرف ہونی چاہیے۔
مفتی نذیر احمد صاحب کشمیری
رکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
بتاریخ : ۲ / دسمبر ۲۰۲۴
بمقام : دار العلوم ندوۃ العلماء لكهنو

امام ابو حنیفہؒ کی عظمت اور اکابر علمائے اہل حدیثمولانا داود غزنوی رحمہ اللہ ائمہ وفقہاء  کے ادب اور احترام کے  شدت سے ق...
09/07/2026

امام ابو حنیفہؒ کی عظمت اور اکابر علمائے اہل حدیث
مولانا داود غزنوی رحمہ اللہ ائمہ وفقہاء کے ادب اور احترام کے شدت سے قائل تھے اور اس کی شد ومد سے تلقین کرتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ائمہ کرام کا ان کے دل میں انتہائی احترام تھا۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اسمِ گرامی بے حد عزت سے لیتے۔ ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر تھا کہ جماعتِ اہل حدیث کی تنظیم سے متعلق گفتگو شروع ہوئی۔ بڑے دردناک لہجے میں فرمایا: مولوی اسحاق! جماعتِ اہل حدیث کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی روحانی بددعا لے کر بیٹھ گئی ہے۔ ہر شخص ’ابو حنیفہ، ابو حنیفہ‘ کہہ رہا ہے۔ کوئی بہت ہی عزت کرتا ہے تو ’امام ابو حنیفہ‘ کہہ دیتا ہے۔ پھر ان کے بارے میں ان کی تحقیق یہ ہے کہ وہ تین حدیثیں جانتے تھے یا زیادہ سے زیادہ گیارہ۔ اگر کوئی بہت بڑا احسان کرے تو وہ انہیں سترہ حدیثوں کے عالم گردانتا ہے۔ جو لوگ اتنے جلیل القدر امام کے بارے میں یہ نقطہ نظر رکھتے ہوں، ان میں اتحاد
یک جہتی کیوں کر پیدا ہو سکتی ہے۔ ‘‘
نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۴

01/07/2026
مولانا رومی زندیق تھے!______ہمارے تصوف پر لکھنے سے بعض لوگوں کو شدید قسم کی یہ غلط فہمی ہو گئی کہ ہم تصوف کے معاملہ میں ...
27/06/2026

مولانا رومی زندیق تھے!
______ہمارے تصوف پر لکھنے سے بعض لوگوں کو شدید قسم کی یہ غلط فہمی ہو گئی کہ ہم تصوف کے معاملہ میں کسی انتہا پر ہیں
حقیقت حال کے طور پر عرض ہے کہ ہم صرف تصوف سے احسان مراد لیتے ہیں،ہمارے نزدیک امام ترمذی کی کتاب الزہد ہی تصوف کی حقیقت ہے اس کے علاوہ عجمی تصوف کے ہم سخت مخالف ہیں
تصوف کی ہزار سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ جتنی خرافات اس مذہب میں ملتی ہیں اتنی کہیں اور نہیں ملتیں، صوفیا کے بعض اعمال اور ان کے متعدد نظریات و خیالات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے ہاں کتنا جھول پایا جاتا ہے، ان کے بعض نظریات راست اسلامی تعلیمات سے سخت متصادم ہیں
حضرت شیخ یونس جونپوری چوں کہ فنا فی الحدیث تھے، علم حدیث کا بحر الکاہل تھے ،ان کے زمانہ میں حدیث و متعلقات حدیث کا علم رکھنے والا یا ان کی ہمسری کرنے والا اس پورے کرہ ارض پر کوئی نہ تھا
اسی کے ساتھ ساتھ آپ محض ایک خشک مزاج عالم دین نہ تھے بلکہ روحانیت و تقدس میں بھی بلند مقام کے حامل تھے، ذکاوت حس بے حد بڑھی ہوئی تھی، علم حدیث سے طویل ترین اشتغال ،سنتوں کے اہتمام اور خلوت و یکسوئی کی وجہ سے آپ کی ملکوتی صفات بے حد فعال ہوگئی تھیں اور لطائف ستہ بالکل تازہ تھے، سلطان الاذکار کا مقام بھی آپ نے جوانی میں ہی طے کرلیا تھا، آپ کا مزاج ،مذاق، ذہن و خیال، خواب و تصور سب نور نبوت سے روشن تھے اسی وجہ سے کشف اور تفتح قلوب کا ایسا معاملہ تھا جس کی نظیر دور دور تک نہیں ملتی
آپ حضرت تھانوی کے نامور خلیفہ مولانا شاہ اسعد اللہ رامپوری کے مجاز و خلیفہ تھے ساتھ ہی ساتھ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے سلسلۂ سلوک میں مولانا زکریا کاندھلوی کے مجاز بیعت تھے
اس تصوف کی راہ سے بھی سالکین کی تربیت فرماتے، مریدین کو سلوک طے کراتے ،مسترشدین کو روحانی فائدہ پہنچاتے
تصوف کی ان تمام روایتوں سے جڑنے کے باوجود آپ تصوف کی خرافات پر گہری نظر رکھتے تھے، آپ کی حمیت دینی اور غیرت توحید اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ بڑی سے بڑی شخصیت کو شطحیات میں مبتلا دیکھتے تو بغیر کسی خوف و مروت کے شدید نقد فرماتے
چنانچہ مولانا جلال الدین رومی کو تصوف کی دنیا میں بے حد اہمیت حاصل ہے، آپ کی مثنوی شریف تصوف کی دنیا میں بے حد مقبول ہے اور کئی صدیوں سے بڑے پیمانے پر پڑھی جارہی ہے، اکابر دیوبند کے سرخیل حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اس کا باقاعدہ درس دیتے تھے، اسی طرح مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کی شرح بھی لکھی ہمارے دور میں مولانا حکیم اختر نے بھی اس کی بہترین شرح لکھی
اس کے باوجود شیخ یونس جونپوری فرماتے ہیں
رومی زندیق ہے ،بددین ہے ،غلط نظریات کا حامل ہے حوالہ مجالس محدث العصر صفحہ ٣٢٧ مرتب مولانا فیصل بھٹکلی
اسی طرح وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے نظریے صوفیوں کی نظر میں بڑی اہمیت کے حامل.ہیں اور اکثر صوفیاء ان دنوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتے ہیں
لیکن حضرت امام یونس جونپوری ان کے تعلق سے فرماتے ہیں
وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود سب غیر اسلامی نظریے ہیں
ان خرافات کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں، یہ سب خرافات ہیں، صوفیاء کے شطحات کو آپ سخت ناپسند کرتے اور فرماتے یہ سب مشرکانہ عقائد کی بنیادیں ہیں
شیخ کی نظر میں تصوف سے مراد صرف اخلاق حسنہ اور مسنون اعمال کا اہتمام تھا، علمی و عملی اور نظریاتی اعتبار سے دین خالص پر جم جانا اور اطاعت خداوندی و اتباع رسول میں اپنے آپ کو مخلصانہ طور پر کھپا دینا ہی تصوف تھا
اس کے علاوہ وہ تمام قسم کے ڈھونگ، خرافات ، کرامات، نظریات، اوہام و ملفوظات جو توحید خالص سے ٹکراتے آپ کی نظر میں بددینی کا باعث تھے
تصوف کے تعلق سے یہی وہ مضبوط موقف ہے جو ہر موحد مومن کو اختیار کرنا چاہیے، صرف یہی ایک سلامتی کی راہ ہے
اس کے علاوہ تمام چیزیں زیغ و ضلال اور گمراہی و زندقہ ہیں
اللہ ہم سب کو توحید خالص اور حقیقت تصوف کی دولت عطا فرمائے
عبدالمالک بلندشہری
٢١ جون ٢٠٢٦ء

اختلافِ رائے اور مسلکی اخراج دینی حلقوں میں ایک تشویشناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کسی شخص کا کسی مسئلے میں مختلف رائے ا...
16/06/2026

اختلافِ رائے اور مسلکی اخراج
دینی حلقوں میں ایک تشویشناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کسی شخص کا کسی مسئلے میں مختلف رائے اختیار کرنا اب محض علمی اختلاف نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے اس کے مسلک اورجماعت سے خارج قرار دینے کا جواز بنا لیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ہر اختلاف ایک جرم ہے اور ہر مختلف الرائے شخص اپنی وابستگی ثابت کرنے کا محتاج ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کسی مسلک سے اخراج کا معیار کیا ہے؟ کیا ہر اختلاف انسان کو اپنے فکری گھرانے سے باہر کر دیتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر تاریخِ اسلام میں شاید ہی کوئی ایسا عالم ملے جو اپنے تمام اساتذہ، معاصرین اور ہم عصروں سے ہر مسئلے میں متفق رہا ہو۔
اسلامی علمی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف ہماری کمزوری نہیں بلکہ قوت رہا ہے۔ فقہ، حدیث، تفسیر، اصول، عقائد اور سیاست سمیت بے شمار میدانوں میں اہلِ علم کے درمیان اختلافات موجود رہے، لیکن ان اختلافات نے ان کی علمی نسبتوں کو ختم نہیں کیا۔ ایک ہی مکتبِ فکر کے علماء نے ایک دوسرے سے اختلاف کیااور مختلف آراء اختیار کیں، ، مگر اس کے باوجود ان کی بنیادی نسبت برقرار رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی علمی روایت چند جامد آراء کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ایک زندہ فکری سفر ہوتی ہے۔ زندہ روایتیں تنوع کو برداشت کرتی ہیں، سوالات کو جگہ دیتی ہیں اور علمی مکالمے کو فروغ دیتی ہیں۔ جب کسی روایت میں یہ گنجائش ختم ہو جائے تو وہاں تحقیق کی جگہ تقلیدِ جامد، اور استدلال کی جگہ شخصیات کی وابستگی لے لیتی ہے۔
مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب اخراج کا معیار واضح نہ ہو۔ اگر ہر اختلاف اخراج کا سبب ہے تو پھر ہر جماعت اور ہر مسلک کے اندر موجود اختلافات کو بھی اسی پیمانے سے جانچنا ہوگا۔ عمومی قاعدہ یہ ہے کہ ایسے اختلافات برداشت کیے جاتےہیں جو سلف کے اجماعی منہج کے اندر رہ کیے جائیں اور وہ اختلاف جو دین کی قطعی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے اور اجماعِ امت کے خلاف ہووہ گمراہی اور ضلالت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی گروہ نے اپنے آپ کو حق کا واحد نمائندہ سمجھ لیا اورجن مسائل میں اختلاف کی گنجائش موجود تھی ان میں اختلاف کرنے والوں پر دروازے بند کر دیے تو اس کا نتیجہ تفرقہ، تقسیم اور باہمی دشمنی کی صورت میں نکلا۔ ابتدا میں چند افراد کو باہر نکالا جاتا ہے، پھر دائرہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب ایک ہی مکتب کے لوگ ایک دوسرے کی وابستگی پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔
علمی روایتوں کی طاقت معتبر اختلاف کی وسعت میں ہوتی ہے، تنگی میں نہیں۔ سمندر اس لیے عظیم ہوتا ہے کہ وہ مختلف سمتوں سے آنے والے دریاؤں کو اپنے اندر جگہ دیتا ہے۔ اگر وہ ہر دریا کو رد کر دے تو خود بھی سکڑ جائے گا۔ اسی طرح دینی اور علمی روایتیں اس وقت مضبوط رہتی ہیں جب وہ اختلاف کو منظم کرتی ہیں، اس کی تہذیب کرتی ہیں اور اسے فکری ترقی کا ذریعہ بناتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف قابلِ قبول ہےاور کوئی شخص کیسی ہی گمراہی کا شکار کیوں نہ ہو جائے وہ مسلک سے خارج نہیں کیا جاسکتا اگرچہ کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری اور انتہائی احتیاط کی متقاضی ہے اس کے باجود سلف صالحین کے منہج سے ہٹ کر اگر کوئی نیا اصولی راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ مسلک اور جماعت سے خارج قرار پاتا ہے۔
اجتہادی مسائل میں اختلافِ رائے کو جرم بنا دینا دراصل علمی زندگی کو محدود کرنا ہے۔ جہاں سوال اٹھانے کی آزادی ختم ہو جائے، وہاں تحقیق کمزور پڑ جاتی ہے۔ جہاں صرف موافقت کو فضیلت اور اختلاف کو گناہ سمجھا جانے لگے، وہاں فکر جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، علمی وابستگی کو چند افراد کی منظوری کا محتاج نہ سمجھیں، اور علمی حلقوں کو اتنا تنگ نہ کر دیں کہ ان میں اپنے ہی لوگوں کے لیے جگہ باقی نہ رہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی روایتیں اپنے دامن کی وسعت سے زندہ رہتی ہیں اور اپنی تنگ نظری سے کمزور ہو جاتی ہیں۔

16/06/2026

دور انحطاط میں!
لوگوں کے لیے بقدر امکان "عذر" تلاش کرتے ہوئے
انحراف کا ازالہ کرنے کی دانشمندانہ کوشش کی جاتی ہے
نہ کہ انحراف کے ٹھپے لگانے اور ٹائٹل بانٹنے کی!

اسلام اور جدید مغربی نظریات________________________________________۱۔ سیکولرازم (Secularism)مفہوم:ریاست اور مذہب کو الگ ...
15/06/2026

اسلام اور جدید مغربی نظریات
________________________________________
۱۔ سیکولرازم (Secularism)
مفہوم:
ریاست اور مذہب کو الگ رکھنا ،مذہب کو فرد کی ذاتی زندگی تک محدود کرنا اور ریاست، قانون، تعلیم اور اجتماعی زندگی سے مذہب کو بے دخل رکھنا۔
اسلامی نقطۂ نظر:
اسلام صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ قرآن و سنت زندگی کے انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلوؤں کے لیے اصول فراہم کرتے ہیں، اس لیے مذہب کو ریاست اور معاشرے سے الگ کرنا اسلامی تصورِ دین سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔
________________________________________
۲۔ لبرل ازم (Liberalism)
مفہوم:
فرد کی آزادی، خود مختاری اور ذاتی انتخاب کو بنیادی قدر قرار دینا، اور زندگی کے اکثر معاملات میں فرد کو پابندیوں سے آزاد رکھنا۔
اسلامی نقطۂ نظر:
اسلام انسانی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اسے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رکھتا ہے۔ اسلام کے نزدیک حقیقی آزادی خواہشات کی پیروی نہیں بلکہ اللہ کی بندگی اور اس کے احکام کی پابندی میں ہے۔
________________________________________
۳۔ جمہوریت (Democracy)
مفہوم:
ایسا سیاسی نظام جس میں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں اور اکثریت کی رائے قانون سازی اور حکمرانی کی بنیاد بنتی ہے۔ جمہوریت میں عوامی خواہشات اور اکثریتی فیصلے کو حتمی حیثیت حاصل ہوتی ہے، خواہ وہ مذہبی تعلیمات اور الہامی ہدایات کے خلاف ہی نہ ہوں۔
اسلامی نقطۂ نظر:
اسلام میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوتی ہے۔
________________________________________
۴۔ ہیومنزم (Humanism)
مفہوم:
انسان کو مرکزِ کائنات قرار دینا اور انسانی عقل، خواہشات اور مفادات کو حق و باطل کے تعین کا بنیادی معیار سمجھنا۔
اسلامی نقطۂ نظر:
اسلام میں انسان باعزت اور مکرم مخلوق ضرور ہے، لیکن وہ مطلق اختیار کا مالک نہیں۔ حق اور باطل کا آخری معیار وحیِ الٰہی ہے، نہ کہ انسانی عقل یا خواہشات۔ اسلام میں انسان اللہ کا بندہ اور زمین پر اس کا خلیفہ ہے۔
________________________________________
۵۔ کمیونزم (Communism)
مفہوم:
ایک معاشی و سیاسی نظریہ جو طبقاتی نظام کے خاتمے، اجتماعی ملکیت اور معاشی مساوات پر زور دیتا ہے، اور مذہب کو انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے، یہ مذہب کو "عوام کی افیون" مانتا ہے،اس طرح کمیونزم کا مادہ پرستانہ تصور اسلام کے عقیدہ، عبادت اور آخرت کے بنیادی تصورات سے متصادم ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر:
اسلام عدلِ اجتماعی، غربت کے خاتمے اور معاشی توازن کی تعلیم دیتا ہے، لیکن ذاتی ملکیت کو جائز اور فطری حق تسلیم کرتا ہے۔

ماخوذ از: اظہر عبداللہ (بعض ترمیمات کے ساتھ)

Address

The Revival St:15 E-11/4
Islamabad
04403

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tawheed Alliance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share