Neki Foundation Official

Neki Foundation Official Helping Hand

نیکی فاؤنڈیشن کے مقاصد۔۔1-غریب (غرباء) فیملی کے ساتھ تعاون۔2-مستحق یتیم بچے/بچیوں کے ساتھ تعاون۔3-مستحق مریضوں کے ساتھ ت...
13/04/2025

نیکی فاؤنڈیشن کے مقاصد۔۔
1-غریب (غرباء) فیملی کے ساتھ تعاون۔
2-مستحق یتیم بچے/بچیوں کے ساتھ تعاون۔
3-مستحق مریضوں کے ساتھ تعاون۔
4-مستحق بیواء کے ساتھ تعاون۔
5-تعلیمی میدان میں مستحق بچے/بچیوں کے ساتھ تعاون۔
6-گاؤں کی بہتری کیلئے عام فلاحی کام کرنا-
7-مستحق فیملی کی بچیوں کی شادی کے موقع پر جہیز میں تعاون۔
8-سردیوں کے دنوں میں مساکین/غریب فیملی میں گرم کپڑے اور سامان تقسیم کرنا۔
9-سب سے ضروری اور اہم مقصد إنشاءاللّٰه نیکی فاونڈیشن بغیر نام اور تصاویر شائع کیے غریب اور مستحق افراد کی مدد کرے گا تمام دوست احباب اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔۔

اتنے مختصر عرصے میں نیکی فاؤنڈیشن نے ابھی تک جن کاموں کو تکمیل تک پہنچایا ان کا مختصر جائزہ آپ کے گوش گزار کرتا چلوں۔
1-نیکی فاؤنڈیشن کا آغاز فروری 2025 میں ہوا اور نیکی فاؤنڈیشن کے تعاون سے فروری 2025 میں ایک مستحق بچے کے علاج کے لیے مبلغ 71 ہزار روپے عطیہ کیے گیۓ-
2- نیکی فاونڈیشن کے تعاون سے رمضان سے قبل یعنی فروری میں ہی رمضان پیکیج کے تحت 27 مستحق فیملی کو راشن تقسیم کیا گیا جس کا کل رقم تقریبا 3 لاکھ روپے بنتی ہے ۔
3- نیکی فاؤنڈیشن کے تعاون سے اپریل 2025 میں ہی ایک مستحق فیملی کی گھر چھت ڈالنے کے لیے تقریبا 50 ہزار کی امداد کی گئی۔
4-نیکی فاؤنڈیشن کے تعاون سے اپریل میں ہی مستحق بچوں اور بچیوں میں کتابیں تقسیم کی گئی جن کی کل قیمت تقریبا 35 ہزار بنتی ہے۔

اس طرح کل ملا کر ابھی تک نیکی فاؤنڈیشن نے تقریبا 5 لاکھ 50 ہزار کی امدادی رقم فراہم کی جو مستحق افراد کو دی گئ۔
یہ سب چیزیں آپ تمام احباب کو بتانا اس لیے ضروری تھی کہ نیکی فاؤنڈیشن کا ہر فرد اپنے ایک ایک روپے کا حساب لینے کا حق رکھتا ہے تو اس نے عطیہ کیے کہ آیا دی گئی رقم مستحق افراد تک پہنچ رہی ہے یا نہیں ۔۔

سب سے ضروری اور اہم بات نیکی فاؤنڈیشن اگلا قدم ۔۔
ایک معصوم بچی کی زندگی آپ کی مدد کی منتظر ہے…

ایک ننھی سی جان، جو ابھی مسکرانا سیکھ رہی تھی، آج زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کے علاج کے لیے فوری مالی معاونت درکار ہے۔ ہم سب کی تھوڑی تھوڑی مدد، اس کے لیے ایک نئی زندگی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

آئیے، انسانیت کا مظاہرہ کریں، اور اس معصوم بچی کے لیے امید کا چراغ جلائیں۔

اپنا حصہ ڈالیں۔

آپ کی دی گئی ہر رقم اس بچی کی زندگی کے لیے قیمتی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے جذبے کو قبول فرمائے اور آپ کے رزق میں بے پناہ برکت عطا فرمائے اور جو لوگ بھی اس کار خیر میں حصہ ڈال رہے ہیں اللہ سب کی دنیا و آخرت اچھی کرے۔ آمین۔

(نیکی فاونڈیشن بنانے کا مقصد)          محتاجوں،غریبوں ، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد، معاونت ، حاجت روائی اور دلجوئی کر...
13/04/2025

(نیکی فاونڈیشن بنانے کا مقصد)
محتاجوں،غریبوں ، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد، معاونت ، حاجت روائی اور دلجوئی کرنا دین اسلام کا بنیادی درس ہے ۔ دوسروں کی مدد کرنے،ان کے ساتھ تعاون کرنے، ان کے لیے روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے کو دین اسلام نے کار ثواب اور اپنے ربّ کو راضی کرنے کانسخہ بتایا ہے ۔ خالق کائنات اللہ ربّ العزت نے امیروں کو اپنے مال میں سے غریبوں کو دینے کا حکم دیا ہے ، صاحب استطاعت پر واجب ہے کہ وہ مستحقین کی مقدور بھر مددکرے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منّہ کرو مشرق اور مغرب کی طرف ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لاؤ اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائیلوں کو، اور گردنیں چھوڑانے میں، اپنی نماز قائم رکھے اور زکوۃ دے۔(سورة البقرةآیت177)،

غریبوں کی مدد کرنی ضرور کارِ ثواب ہے مگر دورِ حاضر نے اس عظیم۔نیکی کو کھلونا بنا کے رکھ دیا اور غریبوں کی غریبی کو ایک بڑا گناہ بنا دیا۔

سیاسی،سماجی، یا مذہبی، ادارے جن کے پاس اللہ کی عطا سے مال موجود ہے اور ضرور وہ وقت ملنے پر ایسے ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد معاشرے کے محتاجوں، بے کسوں، معذوروں، بیماروں، بیواوؤں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح وبہبود ہے۔یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوروی کا خاتمہ کرکے معاشرے میں دولت وضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔جو لوگ معاشرے سے غربت وافلاس اور ضرورت واحتیاج دور کرنے کے لئے اپنا مال ودولت خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمے قرض حسنہ قرار دیتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیئے گئے مال کو کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ دوسروں کی مدد کرنا ان کی ضروریات کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔دین اسلام سراسرخیر خواہی کا مذہب ہے، اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت کو حقوق اللہ کی اہمیت سے بڑھ کر بیان کیاگیا ہے۔ دوسروں کی خیر خواہی اور مدد کرکے حقیقی خوشی اور راحت حاصل ہوتی ہے جو اطمنان قلب کے ساتھ ساتھ رضائے الٰہی کا باعث بنتی ہے ۔ محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی ہمیشہ غریبوں ،یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے یقینا صدقہ اللہ ربّ العزت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اوربری موت کو دور کرتا ہے۔ “(ترمذی) لیکن آج ہم دیکھیں اسلام کی روشن تعلیمات سے دور ہوکر ہمارا طرز زندگی، ہمارا طرز معاشرت بہت عجیب سا ہوگیا ہے، بے حسی تو آج کے معاشرے کا معمول بنتی جارہی ہے، ہمیں اپنے رشتہ داروں، ہمسایوں ، ضرورت مندوں کے دکھ درد کا احساس ہی نہیں ہے ۔ ہم خود تو پیٹ بھر کر کھاتے ہیں لیکن برابر میں رہنے والے بھوکے پڑوسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس کے بچے روٹی کو ترستے ہیں اور ہم اپنے بچے پر ضرورت سے زائد خرچ کرتے ہیں۔ ہمیں اس بے حسی اور بے جا اصراف پر شرمندگی بھی نہیں ہوتی ۔ ہمیں فلاح انسانیت کے لئے اپنا طرز زندگی بدلنا ہوگا ۔ جیسا کہ صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے کہنے پر اپنی جان ومال اپنے مسلمان بھائیوں پر نچھاور کرنے کیلئے ہمہ وقت تیا ر رہتے تھے، اسی طرح آج ہمیں بھی اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ، ہمیں غور کرنا چاہیئے کہ رشتہ داروں ، غرباء و مساکین ، ہمسایوں اور ملازمین کے ساتھ ہمارا برتاو کیسا ہے ۔ کہیں ہم اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کرکے جہنم کا ایندھن بننے کی تیاری تو نہیں کررہے ۔ آج ہمیں خود کو نکھارنے ، اور اپنے اندر اعلیٰ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیں ، کیوں نہ دوسروں کے لئے جیا جائے ، دوسروں کی مشکلات ومسائل کو محسوس کرتے ہوئے ان کا ہاتھ بٹایا جائے ۔ ہماری مدد و معاونت سے اگر کسی کی جان بچ سکتی ہے، کسی کی مشکل آسان ہوسکتی ہے ، کسی مجبور کا علاج ہوسکتا ہے ، کسی کے حصول رزق میں معاونت ہوسکتی ہے ، کسی مجبور کی بیٹی کی شادی ہوسکتی ہے ، کسی کے بچوں کا طرز زندگی بہتر ہوسکتا ہے ، کسی کو حصول علم میں مدد دی جاسکتی ہے تو یہ ہمارے لئے باعث اعزاز اور باعث راحت ہے ۔لہٰذا ہمیں اپنی زندگی کو اس انداز سے گزارنے کی کوشش کی جائے کہ دین و دنیا کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان بھی حاصل ہو ، یہی حقیقی زندگی ہے۔
آئیں مل کر اپنے حصے کی شمع جلائیں اور اس کار خیر میں حصہ ڈال کر مستحق افراد کی زندگے آسان بنائیں۔

Address

Hattian Bala Azad Kashmir
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Neki Foundation Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share