سنہری باتیں

سنہری باتیں Nothing without ALLAH

07/04/2026

" "آپ مسلمانوں میں حنفی ، شافعی ، اہل حدیث وغیرہ جو مختلف مذہب دیکھ رہے ہیں یہ سب قرآن وحدیث کو آخری سند مانتے ہیں اور اپنی اپنی سمجھ کے مطابق وہیں سے احکام نکالتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ ایک کی سمجھ صحیح ہو اور دوسرے کی غلط ہو۔ میں بھی ایک طریقے کا پیرو ہوں اور اس کو صحیح سمجھتا ہوں، اور اس کے خلاف جو لوگ ہیں ان سے بحث بھی کرتا ہوں، تا کہ جو بات میرے نزدیک صحیح ہے وہ ان کو سمجھاؤں اور جس بات کو میں غلط سمجھتا ہوں اسے غلط ثابت کروں۔

لیکن کسی شخص کی سمجھ کا غلط ہونا اور بات ہے اور اس کا دین سے خارج ہو جانا دوسری بات۔ اپنی اپنی سمجھ کے مطابق شریعت پر عمل کرنے کا ہر مسلمان کو حق ہے۔
اگر دس مسلمان دس مختلف طریقوں پر عمل کریں تو جب تک وہ شریعت کو مانتے ہیں، وہ سب مسلمان ہی ہیں۔ ایک ہی امت ہیں ، ان کی جماعتیں الگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، مگر جو لوگ اس چیز کو نہیں سمجھتے وہ ابھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر فرقے بناتے ہیں، ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں، اپنی نمازیں اور مسجدیں الگ کر لیتے ہیں، ایک دوسرے سے شادی بیاہ، میل جول اور ربط وضبط بند کر دیتے ہیں اور اپنے اپنے ہم مذہبوں کے جتھے اس طرح بنا لیتے ہیں کہ گویا ہر جتھا ایک الگ امت ہے۔

آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس فرقہ بندی سے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ کہنے کو مسلمان ایک امت ہیں۔ ہندستان میں ان کی آٹھ کروڑ کی تعداد ہے۔ اتنی بڑی جماعت اگر واقعی ایک ہو اور پورے اتفاق کے ساتھ خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کام کرے تو دنیا میں کون اتنادم رکھتا ہے جو اس کو نیچا دکھا سکے ، *مگر حقیقت میں اس فرقہ بندی کی بدولت اس امت کے سیکڑوں ٹکڑے ہو گئے ہیں۔*

ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ سخت سے سخت مصیبت کے وقت میں بھی مل کر نہیں کھڑے ہو سکتے ۔

ایک فرقے کا مسلمان دوسرے فرقے والوں سے اتنا ہی تعصب رکھتا ہے جتنا ایک یہودی ایک عیسائی سے رکھتا ہے، بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر ۔ ایسے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں کہ ایک فرقے والے نے دوسرے فرقے والے کو نیچا دکھانے کے لیے کفار کا ساتھ دیا ہے۔
ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کو آپ مغلوب دیکھ رہے ہیں تو تعجب نہ کیجیے۔ یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ ان پر وہ عذاب نازل ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں اس طرح بیان کیا ہے کہ :
اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ (الانعام 65:6) یعنی *اللہ کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ تم کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم آپس میں ہی کٹ مرو۔*
بھائیو! یہ عذاب جس میں سارے ہندستان کے مسلمان مبتلا ہیں، اس کے آثار مجھے پنجاب میں سب سے زیادہ نظر آرہے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کے فرقوں کی لڑائیاں ہندوستان کے ہر خطے سے زیادہ ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پنجاب کی آبادی میں کثیر التعداد ہونے کے باوجود آپ کی قوت بے اثر ہے۔ اگر آپ اپنی خیر چاہتے ہیں تو ان جتھوں کو توڑئیے ۔ ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہیے ، اور ایک امت بن جائیے۔

*خدا کی شریعت میں کوئی* *ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر اہل حدیث، حنفی ، دیوبندی* ، *بریلوی، شیعہ، سنی وغیرہ الگ الگ امتیں بن سکیں* ۔
یہ امتیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ *اللہ نے صرف ایک امت امت مسلمہ بنائی تھی"""۔*

(سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ ۔خطبات )
یاد رہے کہ یہ خطبات پاکستان بننے سے پہلے 1938 میں دیے گئے

05/04/2026

جب سے میں نے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھی ہے، مجھے کسی انسان سے حسد ہوتا ہے نہ جلن، نہ احساس کمتری میں جاتا ہوں اور نہ مایوسی، نہ گبھراتا ہوں نہ ہارتا ہوں، نہ اسباب کا رونا روتا ہوں اور نہ ہی کسی چیز کے حاصل کرنے میں رُکتا ہوں۔ میری تعمیر کا عمل جاری ہے اور میں سوہنے رب سے اس کی عطا مانگتا جا رہا ہوں۔ وہ آیت جس نے مجھے سب سے منفرد جینے کا طریقہ سکھایا، یہ ہے:

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَؕ-وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا

جہاں تک تمہارے رب کی عطا کا تعلق ہے ہم اُن کو بھی اس سے نوازتے ہیں، اور اِن کو بھی اور (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کسی کے لیے بند نہیں ہے۔

اس آیت سے میں نے اپنی زندگی کےلیے کئی اسباق سیکھے:

1: مجھے کسی سے مقابلہ نہیں کرنا، دنیا کے کسی بھی شخص کے پاس جو دین یا دنیا ہے، وہ میرے رب کی عطا ہے اور عطائے ربی کسی انسان کے ساتھ خاص نہیں ہے ، وہ سب کےلیے ہے شہر والوں کےلیے بھی اور دیہات والوں کے لیے بھی، امیروں کےلیے بھی اور غریبوں کےلیے بھی، ذہین افراد کےلیے بھی اور نالائقوں کےلیے بھی، دنیا داروں کےلیے بھی اور دینداروں کےلیے بھی۔ جب میرے رب کی عطا سب کےلیے ہے تو میرے لیے بھی ہے، وہ مجھے بھی دے گا اور کسی سے مقابلہ کیے بغیر دے گا۔ اس لیے میں اپنے رب سے ہمیشہ اس کی عطا کا سوال کرتا ہوں ، میں یہ نہیں کہتا کہ اے اللہ جو آپ نے فلاں کو دیا ، مجھے وہ دیجیے ، میں کہتا ہوں اے اللہ جو میرے لیے آپ کے نزدیک دنیا وآخرت میں best ہو وہ دیجیے۔

2: اس آیت نے مجھے بتایا کہ بیک گراؤنڈ matter نہیں کرتا۔ میں نے کافی دوستوں سے سنا جو کہتے ہیں بھائی آپ تو آپ ہیں، ہم کیسے آپ کی طرح کام کر سکتے ہیں، ہم آپ جیسے عالم و مفتی نہیں بن سکتے، ہم فلاں کی طرح نیک نہیں بن سکتے، ہم فلاں کی طرح ڈاکٹر، انجینئر، گرافکس ڈیزائنر اور فلاں فلاں نہیں بن سکتے۔ کچھ دوست کہتے ہیں ہم تو دیہات میں ہیں، آپ شہر میں ہیں جہاں مواقع ہیں، ہم دیہاتی لوگ کچھ نہیں بن سکتے، کچھ شہر والے دوست کہتے ہیں کہ آپ جس ادارہ میں ہیں، وہاں کام کم اور تنخواہ زیادہ ہے، اس لیے آپ منفرد سوچ سکتے ہیں اور دنیا کو نفع دینے کی بات کر سکتے ہیں، ہم تو صبح سے شام مصروف رہتے ہیں، کچھ نیا سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ایک لڑکی اپنی سہیلی سے کہتی ہے تم تو باپردہ ہو کیونکہ تمہارا خاندان دین والا ہے، میں چاہتے ہوئے بھی پردہ نہیں کر پاتی کیونکہ فیملی کی مجبوریاں ہیں۔

ہم دن بھر اس طرح کے جملے بولتے اور سنتے رہتے ہیں جن میں دوسروں کے بیک گراؤنڈ کا ذکر کر کے ان کو ٹیلنٹڈ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید یہ عطا انہی کے ساتھ خاص ہے ، ہم ایسے یا اُن سے اعلی نہیں بن سکتے، لیکن اس آیت نے مجھے بتایا کہ اللہ سب کو دیتا ہے، اس کی عطا عام ہے، اس کی کوئی انتہا اور حدود نہیں ، وہ کسی کو بھی دے سکتا ہے۔ سب انسان اس کا کنبہ ہیں اور وہ سب کو نوازتا ہے بیک گراؤنڈ دیکھے بغیر۔

ہاں ! کبھی ہم عطا سے اس لیے خالی رہ جاتے ہیں کہ طلب نہیں ہوتی ورنہ:

ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دِکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

3: اس آیت نے میرے اندر یہ حوصلہ پیدا کر دیا ہے کہ جب کسی کام کو کرنے کا ارادہ کر لوں تو پھر یہ نہیں دیکھتا کہ اس فیلڈ میں پہلے کون کون سے نامی گرامی لوگ موجود ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے مجھے کون پوچھے گا؟ میری آواز کون سنے گا؟ میرے ساتھ کون چلے گا؟ بس عزم کرتا ہوں اور اس کے بعد اس آیت کو سامنے رکھتے ہوئے میدان میں کود پڑتا ہوں کہ میرا رب سب کو بھر بھر کر دیتا ہے۔ مجھے بھی دے گا۔ اگر میری آنکھیں کسی فیلڈ میں اسکوپ نہیں دیکھ رہیں تو کوئی بات نہیں، اگر مجھے اپنے کام پر شرح صدر ہے تو میرے رب کی عطا ضرور میرے لیے کوئی اسکوپ نکال لائے گی۔

4: رب کی عطا سب کےلیے ہے لیکن کبھی وہ عطا حاصل کرنے کےلیے آپ کو آگ کے دریا میں تیر کر جانا ہوتا ہے۔ پیشانی کو زمین پر رگڑنا پڑتا ہے، رب کے سامنے آنکھوں سے آنسو بہانے پڑتے ہیں ۔ مجاہدے اور مشقت کی بھٹی میں جلنا پڑتا ہے۔ پھر جا کر انسان کندن بنتا ہے اور لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔

5: اس آیت نے مجھے یہ بھی بتلایا کہ اللہ دنیا تو سب کو دیتا ہے لیکن دین صرف انہی کو دیتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ دکان میں تجارت کےلیے صبح سے شام تک سب ہی کھڑے ہوتے ہیں لیکن نماز کےلیے وہی کھڑا ہوگا جس کو رب چاہے گا۔ تجارت سب ہی کرتے ہیں لیکن سچ وہی بولے گا جو رب کو محبوب ہوگا۔ ڈیوٹی کر کے پیسہ کمانے والے لاکھوں ہیں لیکن امانت و دیانت کے ساتھ ڈیوٹی کر کے نیکی وہی کمائے گا جس کے دل کی تاریں رب سے جڑی ہوں گی۔ اس لیے ہمیں اپنے رب سے سب سے زیادہ سوال بھی اسی عطا یعنی ہدایت کا کرنا چاہیے کیونکہ جس کو یہ عطا مل گئی ، اسے دنیا و آخرت مل گئی۔

6: اس آیت نے مجھے رب سے ڈیمانڈ کرنا سکھایا۔ مجھے جب کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے رب سے طلب کرتا ہوں اور کہتا ہوں مولا! تیری عطا تو بند نہیں ہے، سب کےلیے کھلی ہے، مجھے فلاں چیز کی ضرورت یا حاجت ہے ، میری یہ تمنا اور حسرت ہے، میری یہ یہ آرزوئیں ہیں، انہیں پورا کیجیے، میرے خوابوں کو حقیقت کی تعبیر دیجیے، ۔ رب دیتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے کہ میرے بندے نے مجھ سے میری عطا مانگی۔

7: اس آیت نے مجھے رب کی ہر عطا پر راضی رہنا سکھایا جس سے میری زندگی آسان ہوگئی۔ بسا اوقات میری تنخواہ کم ہوتی ہے اور باوجود تدبیر کے ترقی نہیں ہو رہی ہوتی تو میں کہتا ہوں یا رب یہ تھوڑی سیلری بھی تیری عطا ہے اور تیری ہر عطا ہی بڑی عطا ہے کیونکہ وہ تیری طرف سے میرے پاس آئی ہے، مجھے منظور ہے۔ یہ چیز میرے دل کو سکون دیتی ہے اور میں اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا۔ مجھے ہمیشہ مزید کی امید رہتی ہے کہ جب کافر میرے رب کی عطا سے محروم نہیں تو میں ایمان والا ہو کر کیسے محروم رہ سکتا ہوں؟

8: میں جب رات کو سونے لگتا ہوں تو یہ آیت میرے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ تو نے آج اپنے رب سے کون سی خاص عطا مانگی ہے؟ میں سوچنے لگ جاتا ہوں۔ اگر مانگی ہو تو شکر ادا کرتا ہوں اور نہ مانگی ہو تو اس وقت مانگ لیتا ہوں کہ مولی ! فلاں چیز کےلیے راستہ ہموار کیجیے۔

عطا مانگیے اور اتنی مانگیے کہ پورے شہر میں آپ سے زیادہ منگتا کوئی نہ ہو۔

إرم ذات العماد (قوم عاد)اللہ عزوجل نے حضرت نوح علیہ السلام سے ایک عظیم وعدہ کیا تھا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:"وَج...
04/04/2026

إرم ذات العماد (قوم عاد)

اللہ عزوجل نے حضرت نوح علیہ السلام سے ایک عظیم وعدہ کیا تھا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ"
(یعنی ہم نے ان کی اولاد کو ہی باقی رکھا)
یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی نسل ہی طوفان کے بعد زمین پر باقی رہے گی۔

واقعی، اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد کو نجات دی، جو کہ تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث۔
جب حضرت نوح علیہ السلام کا انتقال ہوا، تو ان کے بیٹوں نے زمین کے مختلف علاقوں میں پھیلنا شروع کیا۔

سام بن نوح اپنے بیٹے عوص کے ساتھ ایک علاقے الأحقاف میں آباد ہوئے۔ جب سام کا انتقال ہوگیا، تو عوص نے دعوت کا سلسلہ جاری رکھا۔ عوص کا ایک بیٹا تھا جس کا نام إرم تھا، جو عمارتوں کو بلند کرنے اور غرور و تکبر کرنے لگا۔

إرم نے یمن کے علاقے الأحقاف میں ایک شہر قائم کیا، جو عمان اور حضرموت کے درمیان تھا۔ اس نے اپنی بادشاہت کو وسعت دی اور اس کے بعد اس کے بیٹے عاد نے حکومت سنبھالی، جس کی نسبت سے اس شہر کو "إرم" کہا جانے لگا۔

قوم عاد کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں سب سے چھوٹا شخص بھی ساٹھ ہاتھ لمبا ہوتا تھا، تو پھر ان کے بڑے لوگوں کا اندازہ کیا ہوگا! ان کے قد حضرت آدم علیہ السلام سے بھی زیادہ تھے۔

عاد اور اس کی قوم کفر و سرکشی میں مبتلا تھی۔ جب وہ کسی بستی میں داخل ہوتے تو اسے تباہ و برباد کر دیتے اور وہاں کی تمام نعمتیں لوٹ لیتے۔ عاد نے اپنے علاقے الأحقاف کو جو ایک ویران اور بنجر زمین تھی، بتدریج دنیا کے سب سے بڑے اور مضبوط شہر میں تبدیل کر دیا، جس میں محلات، باغات اور کھیت تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
"الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَاد"
(جس کی مانند دنیا میں کوئی اور شہر نہیں بنایا گیا)

انہوں نے بڑے بڑے کارخانے، عمارتیں، عجائب گھر اور معابد تعمیر کیے۔ وہ اپنی تہذیب میں اتنے ترقی یافتہ ہو گئے کہ انہوں نے ایسی دوائیں اور مواد تیار کرنا شروع کر دیں، جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان سے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
"وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ"
(اور تم کارخانے بناتے ہو تاکہ تم ہمیشہ زندہ رہو)

عاد اور اس کے والد إرم نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد عاد نے بت پرستی کو عام کیا اور تین بڑے بت بنائے: صمود، صدأ، ہباء۔ لوگ ان کی عبادت کرنے لگے۔

تب اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا، جو خود ان ہی میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَاذْكُرْ أَخا عادٍ إِذْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقافِ"
(اور عاد کے بھائی کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم کو الأحقاف میں ڈرایا)

حضرت ہود علیہ السلام نرم خو، مہذب اور بہترین دلائل پیش کرنے والے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کو بت پرستی چھوڑ کر اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی، لیکن قوم عاد نے ان کا مذاق اڑایا اور ان سے معجزہ طلب کیا:
"أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ"
(کیا تم ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکانا چاہتے ہو؟ اگر سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کا تم وعدہ کرتے ہو)

حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کے تلخ ردِعمل کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور مسلسل اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ انہوں نے انہیں بار بار سمجھایا کہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کریں، لیکن قوم عاد کی سرکشی بڑھتی چلی گئی۔

وہ حضرت ہود علیہ السلام کو مختلف القابات سے نوازنے لگے:
"إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ"
(ہم تمہیں بے وقوف اور جھوٹا سمجھتے ہیں)

بعض لوگوں نے کہا:
"إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ"
(ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تمہیں نقصان پہنچا دیا ہے)

حضرت ہود علیہ السلام نے جواب میں کہا:
"يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ"
(اے میری قوم! مجھ میں کوئی بے وقوفی نہیں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں)

قوم عاد نے ان کی دعوت کو جھٹلایا اور کہا:
"سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ الْوَاعِظِينَ"
(ہمارے لیے برابر ہے، تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو)

ان کے کفر اور سرکشی کے باعث اللہ کا غضب قریب آ گیا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا:
"قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ"
(تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب آ چکا ہے)

اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو ہدایت دی کہ وہ شہر چھوڑ کر باہر نکل جائیں۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنے قلیل پیروکاروں کے ساتھ شہر کے باہر ایک غار میں پناہ لی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ"
(جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود اور ان کے ماننے والوں کو نجات دی)

اللہ تعالیٰ کا عذاب قوم عاد پر نازل ہوا۔
پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے بارش روک دی۔ تین سال تک زمین بنجر رہی، کوئی سبزہ نہ اگا، قحط سالی نے قوم عاد کو ہلا کر رکھ دیا۔
انہوں نے سوچا کہ شاید ان کے معبود ناراض ہو گئے ہیں، چنانچہ وہ اپنے بتوں کے سامنے جھک گئے اور ان سے مدد مانگنے لگے، لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔

ایک دن قوم عاد نے افق پر سیاہ بادل دیکھے۔
انہوں نے خوش ہو کر کہا:
"هَذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا"
(یہ بادل ہے جو ہمیں بارش دے گا)

لیکن حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا:
"بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ"
(یہ وہی چیز ہے جسے تم جلدی مانگتے تھے، یہ ایک ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے)

پھر ہوا چلنے لگی، آندھی نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ ایسی زبردست آندھی تھی کہ ہر چیز کو جڑ سے اکھاڑ کر آسمان کی طرف پھینکتی اور پھر زور سے زمین پر دے مارتی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا"
(ہم نے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل آندھی بھیجی)

یہ آندھی اتنی خوفناک تھی کہ لوگوں کے جسم ریزہ ریزہ ہو گئے، مکان اکھڑ گئے، درخت زمین بوس ہو گئے، اور پوری بستی ایک قبرستان بن گئی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ"
(تم ان لوگوں کو یوں گرا ہوا دیکھتے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے)

حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ماننے والے اس آندھی سے محفوظ رہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور انہیں حضرموت کی طرف منتقل کر دیا۔
حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے چند ماننے والے، جو اللہ کے فضل سے محفوظ رہے، آندھی کے تھمنے کے بعد باہر نکلے۔
انہوں نے دیکھا کہ پوری بستی صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ"
(پس وہ اپنی بستیوں میں گرے پڑے تھے)

قوم عاد جو اپنی طاقت اور شان و شوکت پر فخر کرتے تھے، آج ان کا نام و نشان تک نہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
"فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ"
(تو کیسا تھا میرا عذاب اور میری تنبیہات؟)

حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور حضرموت کی طرف ہجرت کر گئے۔
حضرت ہود علیہ السلام نے وہاں باقی زندگی گزاری اور اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ"
(جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا)

حضرت ہود علیہ السلام کی وفات حضرموت میں ہوئی، اور وہیں ان کا مزار آج بھی موجود ہے۔
قوم عاد کے عبرت ناک انجام کو قرآن مجید میں کئی بار بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ"
(پس اے بصیرت والو! نصیحت حاصل کرو)

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَاحِبِي،تَسْأَلُنِي: لِمَاذَا لَمْ يُعْطِنِي اللَّهُ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهُ؟فَأَقُولُ لَكَ: إِ...
19/02/2026

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَاحِبِي،
تَسْأَلُنِي: لِمَاذَا لَمْ يُعْطِنِي اللَّهُ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهُ؟
فَأَقُولُ لَكَ: إِنَّ الطَّبِيبَ لَا يُعْطِينَا الدَّوَاءَ الَّذِي نُرِيدُهُ.

السلام علیکم میرے محترم احباب،

آپ مجھ سے پوچھتے ہیں:
"اللہ نے مجھے وہ کیوں نہیں دیا جو میں نے مانگا تھا؟"
تو میں آپ سے کہتا ہوں:
معالج ہمیں وہ دوا نہیں دیتا جو ہم چاہتے ہیں،
بلکہ وہ ہمیں وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے ضروری ہے!
شاید آپ اللہ سے وہ چیز مانگ رہے ہیں جو آپ کے لیے نقصان دہ ہو!
آپ چیزوں کو اپنی انسانی، محدود نظر سے دیکھتے ہیں،
جبکہ اللہ اپنے مکمل علم کے ساتھ معاملات کو تدبیر کرتا ہے!

میرے محترم احباب،

چھوٹا بچہ جب رنگین گولیاں (دوائیاں) دیکھتا ہے تو روتا ہے اور انہیں مانگتا ہے،
لیکن والدین اسے ان سے روکتے ہیں۔
بچہ سمجھتا ہے کہ یہ محرومی ہے،
لیکن والدین جانتے ہیں کہ بعض اوقات روکنا ہی عطا ہے!
اسی طرح اللہ اپنی رحمت سے معاملات کو چلاتا ہے، پس ادب کا دامن تھامے رہیں!
یا شاید اللہ آپ کو وہی عطا کرنا چاہتا ہے جسے آپ نے مانگا،
لیکن ابھی وقت نہیں آیا،
وقت کا انتخاب بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے جو آپ نہیں دیکھ سکتے!

میرے محترم احباب،

اللہ کے اس قول کو پڑھیں:
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا
"اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور کامل ہوا،
تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا کیا" (سورۃ القصص: 14)
کچھ چیزیں ہیں جن کے لیے آپ کو پختگی کی ضرورت ہے،
تاکہ اگر وہ آپ کو دی جائیں تو آپ انہیں سنبھال سکیں!

میرے محترم احباب،

اگر اللہ یوسف علیہ السلام کو ابتدا ہی میں رہائی دے دیتا،
تو وہ اقتدار کے تخت تک نہ پہنچ پاتے،
یوسف علیہ السلام قید میں تھے،
لیکن اللہ کا طاقتور ہاتھ پردے کے پیچھے بڑے انعام کی تیاری کر رہا تھا۔

میرے محترم احباب،

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے مدین میں دس سال کا قیام ضائع نہیں تھا،
مصر میں حالات کو ان کی آمد کے لیے تیار ہونا تھا،
اور خود موسیٰ علیہ السلام کو بھی خوب تربیت حاصل کرنی تھی،
کیونکہ بعد میں بوجھ بھاری تھا،
اور تاخیر دراصل تربیت اور تیاری تھی!

میرے محترم احباب،

مسلمان چاہتے تھے کہ مکہ میں ہی تلواریں اٹھا کر ظلم کا جواب دیں،
لیکن قتال کی اجازت ہجرت کے بعد ملی!
جس نے ہجرت کے بعد ان کی مدد کی،
وہ مکہ میں بھی قادر تھا،
لیکن اللہ نے پہلے تربیت کا فیصلہ کیا؛
کیونکہ وہ تلوار جو عقیدے کے بغیر اٹھے،
جلد ہی بھٹک جاتی ہے!
اللہ چاہتا تھا کہ تلواریں اس کی کلمہ کی سربلندی کے لیے اٹھیں،
نہ کہ دشمن سے انتقام یا ذاتی غصے کے لیے!

میرے محترم احباب،

یاد رکھیں، ان کے قصوں میں عبرت ہے؛ غور کریں اور سبق حاصل کریں!
اگر آپ کو مکمل طور پر محروم کر دیا گیا تو یہ رحمت ہے،
اگر آپ کو عطا کر دیا گیا تو یہ حکمت ہے،
اور اگر عطا میں تاخیر ہوئی تو یہ اس کے مناسب وقت کا انتظار ہے!

والسلام آپ کے دل کے لیے!

ادھم شرقاوی

ضروری نہیں ہے جو ساتھ چلنا شروع کرے وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی چلتا رہے۔۔ مطلبی اور ملاوٹی لوگ اپنا موڑ آنے پر مڑ جاتے ہیں، ...
04/01/2026

ضروری نہیں ہے جو ساتھ چلنا شروع کرے وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی چلتا رہے۔۔ مطلبی اور ملاوٹی لوگ اپنا موڑ آنے پر مڑ جاتے ہیں، اور پھر مڑ کر بھی نہیں دیکھتے کہ جسے چھوڑا ہے وہ کہاں پھنس گیا ہے،

کچھ لوگ جہاں کوٸی انہیں چھوڑ کر گیا ہو وہیں پڑے رہتے ہیں ، اس خواہش میں کہ شاید چھوڑنے والا پلٹ آٸے پڑے رہنے سے بھلا۔۔۔ کوٸی کہاں پلٹ کر آتا ہے۔۔
جس نے ساتھ نبھانا ہو ، وہ چھوڑ کر ہی کہاں جاتا ہے۔۔۔؟

30/12/2025

کبھی ہم اداس بیٹھے ہوتے ہیں اور لوگ آ کر کہتے ہیں : تم بولتے کیوں نہیں؟ منہ کیوں بنائے بیٹھے ہو؟ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نخرے کر رہے ہیں، اس لیے نہیں بول رہے لیکن حقیقت میں ہمارا دل بوجھل ، زبان گنگ، انگلیوں کے پورے بے جان، دل کی دھڑکن مردہ اور وجود بے روح ہو چکا ہوتا ہے۔ کسی غم کے مارے ایک لاش کی مانند صرف آسمان کو تکتے رہتے ہیں۔ یہ آسمان کو تکتے رہنا بھی محبت کی دلیل اور ایمان کی نشانی ہے کہ جب بھی زندگی میں ٹوٹے ہیں تو تیری طرف ہی دیکھا ہے اے رب محبت!

رب محبت جواب میں فرماتے ہیں:

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ
ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ (سورت بقرہ:144)

محبت میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ جب محبوب کی راہ تکنے کے علاوہ کوئی کام کام نہیں رہتا۔ بس ایک ہی دھن سوار رہتی ہے کہ محبوب دکھائی دے:

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں

دنیا کا اصول ہے کہ اگر درد سے ٹوٹے ہوئے ہو تو بھی کسی بادشاہ کے دربار سے کچھ لینے کےلیے بولنا پڑے گا خواہ لب ہل نہ سکتے ہوں، آنکھ کی پتلی حرکت نہ کر سکتی ہو لیکن پھر بھی بتانا پڑے گا کہ مجھے یہ تکلیف ہے، میں اس الجھن کا شکار ہوں، میری زندگی کی کشتی یہاں پھنسی ہے، میری سانسیں یہاں سے اکھڑ رہی ہیں، میری زندگی کا تارہ یہاں ڈوبا ہے۔ بولو گے تو کچھ ملے گا، ورنہ بند لبوں والے دنیاوی بادشاہوں کے دربار سے عموما خالی ہاتھ ہی لوٹتے ہیں۔ لیکن رب محبت کے ہاں اصول مختلف ہے۔ اس کو صرف اتنا کہنا پڑتا ہے:

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا
بے شک تو ہمیں اچھی طرح دیکھنے والا ہے۔ (سورت طہ: 35)

آگے سے اس کا جواب آتا ہے:

قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ
تو نے جو مانگا ، تجھے دے دیا گیا۔ (سورت طہ: 36)


یہاں جملے ترتیب دینے ، غم کو الفاظ و تعبیر کی لڑی میں پرونے اور زخموں سے چور بدن کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ صرف دل میں سوچنا اور تاروں کو رب محبت سے ملانا پڑتا ہے۔ وہ ہماری سب پریشانیوں، کمزوریوں اور حاجتوں کو جانتا ہے، ہمارے دل کی آہیں سنتا ہے اور ٹھیسوں سے واقف ہے۔

لوگ کہتے ہیں دعا کےلیے ہاتھ اٹھائیں، نہیں دعا کےلیے ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے ، دعا کےلیے غفلت میں سوئے دل کو اٹھایا جاتا ہے، جس دن دل اُٹھ گیا، اس دن ہر لمحہ دعا بن جائے گا۔

سورت طہ کی یہ آیت مجھے مانگنے کا ڈھنگ سکھاتی ہے ، میری ہر دعا میں
اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا
بے شک تو ہمیں اچھی طرح دیکھنے والا ہے۔ (سورت طہ: 35)

شامل ہے۔ اور جب بھی یہ مانگا، جواب میں میرے دل کے کانوں نے
قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ
تو نے جو مانگا ، تجھے دے دیا گیا۔ (سورت طہ: 36)

سنا۔

رب محبت دیتا ضرور ہے لیکن وقت دیکھ کر ۔ کبھی پکار کے وقت ہی دے دیتا ہے اور کبھی موت کے بعد دے گا۔ منظوری میں دیر نہیں کرتا۔ اس کے ہاں بند لبوں کی خاموش دعائیں رد نہیں ہوتی۔

سورت طہ کی یہ آیت حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ اس آیت سے پہلے اللہ تعالی حضرت موسی علیہ السلام سے محبت اور بے تکلفی کی باتیں کر چکے ہیں۔ لیکن ان آیات میں تو کمال ہی ہوگیا کہ فرمایا:

قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى
جو تو نے مانگا، وہ تجھے دے دیا گیا اے موسی! (سورت طہ: 36)

اس سے بڑھ کر تکریم و محبت کیسے ہو سکتی ہے کہ پوری کائنات کی مجلس میں اللہ ایک بندے کا نام لے کر اس کے مطالبے منظور کر رہا ہے۔ "اے موسی " کے الفاظ کتنے پر لطف ہیں! اور جب کوئی شخص اللہ کو اپنا نگران سمجھ کر مانگتا ہے تو اوپر سے صدا اس کے نام کے ساتھ آتی ہے کہ اے فلاں ! تو نواز دیا گیا۔

کسی دن تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کو بتائیں کہ آپ میرے نگران ہیں، میں نے اس دنیا میں آپ کے بغیر ایک سانس بھی نہیں لینا، خواجہ غلام فرید کے الفاظ میں:

میڈا عشق وی توں ، میڈا یار وی توں
میڈا دین وی توں، میڈا ایمان وی توں
میڈا کعبہ قبلہ مسجد ممبر مُصحف تے قرآن وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں ، صوم صلاۃ اذان وی توں
میڈا ذکر وی توں میڈا فکر وی توں ، میڈا ذوق وی توں وجدان وی توں

جب دل کی گہرائی سے یہ صدا نکلتی ہے تو رب محبت نام لے کر کہتے ہیں:

قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى
جو تو نے مانگا، وہ تجھے دے دیا گیا اے موسی! (سورت طہ: 36)

محمد اکبر

16/12/2025

إن غِبتُ يوماً وغابت أخباري،
فالدُعاء وصيّة بينَنا

اگر میں کسی دن (دنیا سے) اوجھل ہو جاؤں اور میری کوئی خبر نہ پہنچے،
تو ہمارے درمیان وصیت دعاء (مغفرت) ہے.

03/08/2025


With Khalid Latif – I'm on a streak! I've been a top fan for 7 months in a row. 🎉
26/06/2025

With Khalid Latif – I'm on a streak! I've been a top fan for 7 months in a row. 🎉

10/04/2025

مسلمانو! اس جنگ کے جس جس محاذ پر لڑ سکتے ہو، اس میں کسر مت چھوڑو؛ باقی خدا کے سپرد

1۔ بائیکاٹ، نہ صرف خود بلکہ ایک ایک گھر کو اس پر پکا کرنا… اور اِس معاشی جنگ کو ہر حال میں اس کے حتمی انجام تک پہنچانا

2۔ سب سے اہم: م ج ا ھ د ی ن ق ســ ا م کی بــ نــ د و ق و ں میں گــ و لـ یا ں کم نہ پڑیں، اس کے لیے ان کو مالی امدادوں کی ترسیل، جو کہ بہر حال ممکن ہے، اگر آپ اپنے دائیں بائیں اس ترسیل کے ذرائع تلاش کرنا چاہیں

3۔ مظاہرے۔ خواہ کوئی تنظیم اور کوئی جماعت غ ز ہ کی خاطر شور اٹھانے اور مردہ ضمیروں کو بیدار کرنے کےلیے سڑکوں پر آئے، سب اس کے ہم آواز ہو جائیں۔ یہاں کا ہر جلوس ایک بڑا جلوس ہو۔ یہاں کا ہر جلوس "مسلمانوں" کا جلوس ہو۔ "امتِ اسلام" کی آواز ہو۔

4۔ سوشل میڈیا پر اس قدر شور کہ کم از کم یہ ضرور محسوس ہو کہ یہ غ ز ہ نامی ایک چھوٹی سی بستی پر نہیں ڈیڑھ ارب کی امت پر حملہ ہے اور آج صرف رفح کے گھر نہیں، بلکہ ہم میں سے ہر ہر شخص اپنا گھر مسمار ہوا دیکھ رہا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے جسم کے چیتھڑے ہوتے محسوس کر رہا ہے۔

5۔ مساجد میں باجماعت قنوتِ نازلہ۔

ہمارا یہ آواز اٹھانا دشمن کےلیے… نیز تاریخ کےلیے… ایک پیغام ضرور ہو گا کہ ہماری حکومتیں اور فوجیں آج اگر گونگے بہرے اندھے بےحس بت بنی ہوئی ہیں تو بھی ہماری مسلم قومیں اپنے بھائیوں کا درد اپنے دل پر برابر محسوس کرتی ہیں۔ اور اگر بالفرض یہ قومیں بھی مر چکی ہیں… تو تاریخ کے اِس ریکارڈ میں اتنا تو درج کروا دو کہ اِن مُردوں میں "ہم" شامل نہیں تھے!!!

کم از کم، وہ "جسم" کراہتا تو محسوس ہو جس کا ہمارے نبیﷺ کی ایک حدیث میں ذکر کر دیا گیا ہے، کہ اس کے ایک حصے میں ٹیس اٹھے تو باقی جسم "تڑپتا" ضرور ہے۔

اس جسم میں "تڑپ" تک نہ ہونے کا ایک ہی مطلب ہے: اس جسم کی موت۔ غ ز ہ کی نہیں میری اور آپ کی۔

غ ز ہ والوں کی وہ اعلىٰ باعزت موت تو ان شاء اللہ شہادت کہلائے گی، میری اور آپ کی اس "موت" کو آخر کیا نام دیا جائے گا؟؟؟

اتنا آسانی سے مت "مرو"… بولو! ہِلو! تڑپو! جب تک زندہ ہو!!!

Celebrating my 13th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
14/02/2025

Celebrating my 13th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Address

Islamabad

Telephone

+923456951102

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سنہری باتیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to سنہری باتیں:

Share