07/04/2026
" "آپ مسلمانوں میں حنفی ، شافعی ، اہل حدیث وغیرہ جو مختلف مذہب دیکھ رہے ہیں یہ سب قرآن وحدیث کو آخری سند مانتے ہیں اور اپنی اپنی سمجھ کے مطابق وہیں سے احکام نکالتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ ایک کی سمجھ صحیح ہو اور دوسرے کی غلط ہو۔ میں بھی ایک طریقے کا پیرو ہوں اور اس کو صحیح سمجھتا ہوں، اور اس کے خلاف جو لوگ ہیں ان سے بحث بھی کرتا ہوں، تا کہ جو بات میرے نزدیک صحیح ہے وہ ان کو سمجھاؤں اور جس بات کو میں غلط سمجھتا ہوں اسے غلط ثابت کروں۔
لیکن کسی شخص کی سمجھ کا غلط ہونا اور بات ہے اور اس کا دین سے خارج ہو جانا دوسری بات۔ اپنی اپنی سمجھ کے مطابق شریعت پر عمل کرنے کا ہر مسلمان کو حق ہے۔
اگر دس مسلمان دس مختلف طریقوں پر عمل کریں تو جب تک وہ شریعت کو مانتے ہیں، وہ سب مسلمان ہی ہیں۔ ایک ہی امت ہیں ، ان کی جماعتیں الگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، مگر جو لوگ اس چیز کو نہیں سمجھتے وہ ابھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر فرقے بناتے ہیں، ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں، اپنی نمازیں اور مسجدیں الگ کر لیتے ہیں، ایک دوسرے سے شادی بیاہ، میل جول اور ربط وضبط بند کر دیتے ہیں اور اپنے اپنے ہم مذہبوں کے جتھے اس طرح بنا لیتے ہیں کہ گویا ہر جتھا ایک الگ امت ہے۔
آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس فرقہ بندی سے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ کہنے کو مسلمان ایک امت ہیں۔ ہندستان میں ان کی آٹھ کروڑ کی تعداد ہے۔ اتنی بڑی جماعت اگر واقعی ایک ہو اور پورے اتفاق کے ساتھ خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کام کرے تو دنیا میں کون اتنادم رکھتا ہے جو اس کو نیچا دکھا سکے ، *مگر حقیقت میں اس فرقہ بندی کی بدولت اس امت کے سیکڑوں ٹکڑے ہو گئے ہیں۔*
ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ سخت سے سخت مصیبت کے وقت میں بھی مل کر نہیں کھڑے ہو سکتے ۔
ایک فرقے کا مسلمان دوسرے فرقے والوں سے اتنا ہی تعصب رکھتا ہے جتنا ایک یہودی ایک عیسائی سے رکھتا ہے، بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر ۔ ایسے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں کہ ایک فرقے والے نے دوسرے فرقے والے کو نیچا دکھانے کے لیے کفار کا ساتھ دیا ہے۔
ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کو آپ مغلوب دیکھ رہے ہیں تو تعجب نہ کیجیے۔ یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ ان پر وہ عذاب نازل ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں اس طرح بیان کیا ہے کہ :
اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ (الانعام 65:6) یعنی *اللہ کے عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ تم کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم آپس میں ہی کٹ مرو۔*
بھائیو! یہ عذاب جس میں سارے ہندستان کے مسلمان مبتلا ہیں، اس کے آثار مجھے پنجاب میں سب سے زیادہ نظر آرہے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کے فرقوں کی لڑائیاں ہندوستان کے ہر خطے سے زیادہ ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پنجاب کی آبادی میں کثیر التعداد ہونے کے باوجود آپ کی قوت بے اثر ہے۔ اگر آپ اپنی خیر چاہتے ہیں تو ان جتھوں کو توڑئیے ۔ ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہیے ، اور ایک امت بن جائیے۔
*خدا کی شریعت میں کوئی* *ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر اہل حدیث، حنفی ، دیوبندی* ، *بریلوی، شیعہ، سنی وغیرہ الگ الگ امتیں بن سکیں* ۔
یہ امتیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ *اللہ نے صرف ایک امت امت مسلمہ بنائی تھی"""۔*
(سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ ۔خطبات )
یاد رہے کہ یہ خطبات پاکستان بننے سے پہلے 1938 میں دیے گئے